روزا لسکمبرگ اور ہمارا زمانہ

روزا لکسمبرگ اور ہمارا زمانہ
ترجمہ وتلخیص : عامر حسینی
کیا روزا لکسمبرگ نے کوئی فیمنسٹ نظریاتی سیاسی ورثہ چهوڑا تها ؟ کیا وہ ہمیں عورت پہ جبر کو سمجهنے کے لیے نظریاتی رہنمائی دیتی ہے اگر ایسا ہے تو وہ کیا ہے ؟
یقینی بات ہے  کہ روزا لکسمبرگ ہمارے ہاں موجود ظالمانہ نظام کی فطرت کو سمجهنے اور اس کے خلاف اپنے پرجوش کمٹمنٹ کے لحاظ سے سارے زمانوں کے لیے ایک ماڈل یا نمونے کی حثیت رکهتی ہے – اور اس ظالمانہ نظام کو بدلنے کے حوالے سے بهی اس کی کمٹمنٹ ہمارے لیے کسی نمونے سے کم نہیں ہے  اور اس نے اس بحث میں جائے بغیر کہ عورتیں کیا کرسکتیں اور کیا نہیں جس طرح سے اپنی سیاسی زندگی گزاری وہ بهی ایک مثال کی حثیت رکهتی ہے

لیکن آج سوشلسٹ فیمنسٹ کے اندر جو مباحث ہیں اگر روزلکسمبرگ کو کچه کہنا پڑتا تو وہ کیا کہتی ؟ کیا ان معنوں میں وہ فیمنسٹ تهی بهی کہ نہیں ؟ کیا عورت پر جبر بارے اس کا موقف وہی تها جو اس کا قومی جبر بارے نوقف تها ؟ ( وہ لینن کے قوموں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کو طبقاتی جدوجہد سے یک گونہ انحراف خیال کرتی تهی )

اور یہ سوال کہ آج فیمنسٹ جن عملی سیاسی سوالات کا سامنا کررہے ہیں کیا روزالکسمبرگ کا کام ہمیں ان کے متعلق کوئی رہنمائی فراہم کرتا ہے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کو ہمارا پینل آج ڈسکس کرے گا

لکسمبرگ اور زیٹکن

لکسمبرگ نے عورتوں کے حوالے سے خصوصی طور پر الگ سے کوئی شئے نہیں لکهی اور وہ عورتوں کی تحریک میں متحڑک بهی نہیں تهی -کچه لوگوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ فیمنسٹ نہیں تهی یا وہ کسی بهی طرح سے ویمن ایشو میں دلچسپی نہیں لیتی ی

ظاہر ہے کہ یہ اس کی دلچسپی کا بنیادی دائرہ نہیں تها لیکن  کیوں ان کو ہونا چاہیے ؟ کیا وہاں محنت کی تقسیم نہیں ہوسکتی ؟

کلارا زیٹکن لکسمبرگ کی قریبی ساتهی اور دوست تهی اور وہ محنت کاس عورتوں کے ساته اپنے کام کے حوالے سے بہت مشہور تهی اور اس نے 1970ء کی طرح کے شعور ابهارو عورتوں کے گروپس بنائے تهے جس نے لینن کو تهوڑا بے چین کردیا تها اور مرے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ روزا نے اس کے کام سے اتفاق نہ کیا ہو

بلکہ 1818ء میں نومبر کے مہینے میں روزا نے جو آخری خطوط لکهے اس میں زیٹکن کو عورتوں پہ ایک مضمون لکهنے کا کہتی ہے  اور اس میں وہ لکهتی ہے کہ
یہ (عورتوں پہ مضمون لکهنا ) اب بہت ضروری ہے کیونکہ ہم سے کوئی بهی اس بارے  کچه بهی نہیں جانتا
” اور سپارٹیکس اخبار کے ” عورتوں کے سیکشن ” کو ایڈٹ کرنا ، یہ ایک ایسا فوری توجہ کا محتاج معاملہ ہے کہ اس میں جو بهی دن  ضایع ہوگا وہ گناہ میں شمار ہوگا “

روزالکسمبرگ کی خط و کتابت کے یہ اقتباسات اور عورتوں پہ لکهی گئی تحریریں صاف واضح کرتی ہیں کہ آج مارکسی سوشلسٹ فیمنسٹ جن معنوں میں کہا جاتا ہے ان معنوں میں روزالکسمبرگ بهی مارکسی سماج واد فیمنسٹ تهیں

سب سے پہلے میں مختصر طور پہ یہ بتاؤں گی کہ میں ایک سماج واد فیمنسٹ کو کیسے بیان کرتی ہوں  اور ان میں کچه مارکسی ہیں اور کچه  نہیں اور پهر میں یہ بتانے کی کوشش کروں گی کہ ہمارے درمیان آج جو مباحث ہیں روزالکسمبرگ اس میں کہاں کهڑی ہیں

سماج واد فیمنسٹوں کے درمیان
جتنے بهی سماج واد (سوشلسٹ ) فیمنسٹ ہیں ان کے نزدیک عورتوں کی زندگیوں میں مرکزی کردارطبقہ کا ہے ، جبکہ اسی وقت کوئی بهی سماج واد فیمنسٹ جنس ، نسل پر بنیاد رکهنے والے جبر کو معاشی استحصال تک محدود نہیں کرتا
اور ہم سب اپنی زندگیوں کے ان پہلوؤں اپنی زندگیوں کا نقابل علیحدگی جزو خیال کرتے ہیں دوسرے لفظوان میں “طبقہ ہمیشہ صنفیاتی اور نسلیاتی ” ہواکرتی ہے
یہ جو
Intersectionality
کی اصطلاح ہے یہ اسی موقف کو بیان کرنے کے لئے وضع کی گئی ہے -لکسمبرگ اسی طرح کا تناظر رکهتی تهی اور وہ یہ جان گئی تهی کہ جبر کی بعض اقسام تو تمام عورتوں میں مشترک ہیں لیکن بعض طبقہ اور قوم کی بنیاد ہر مختلف ہوتی ہیں
جبکہ خصوصی ضروریات محنت کش طبقے کی خواتین کی  روزا کی پہلی ترجیح تهیں لیکن وہ کچه ایسے موقف بهی اختیار کرتی تهیں  جو بورژوازی  ہوتی تهیں جیسے عورتوں سے امتیاز برتنے والے تمام قوانین کا خاتمہ اور ان کا ووٹ کا حق  ، جن کو وہ بطور اصول اور عملی سیاسی وجوہات  کی بنیاد پہ بهی انکی حمائت کرتی تهیں

عورتوں کو سیاست میں لانے سے پدر سری نظام سے تشکیل پانے والی دم گهونٹنے والی خاندانی تشکیل جو کہ سماج واد مردوں تک کو متاثر کرتی ہے  سے مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے سوشل ڈیموکریٹک فورسز کی صفوں کی تعمیر کرنے میں بهی آسانی ہوگی -یہ موقف اور پوزیشن اس زمانے کی سرمایہ دار /بورژوا ویمن تنظیموں میں بہت آگے کے موقف تهے
ایک موقعہ پہ روزا نے سوشل ڈیموکریٹس پہ تنقید کی جو لبرلز کے ساته الائنس بنانے کے لئے عورتوں کے حق ووٹ پہ سمجهوتہ کرنے پہ تیار تهے جبکہ جو انقلابی سوشلسٹ تهے ان کی اکثریت بہترین عورتوں کے حقوق کی حامی بهی تهی یعنی وہ بہترین فیمنسٹ بهی تهے
Intersectionality
کی وسیع تر تعریف کے لحاظ سے ان جبر کی اقسام کی تفہیم اور ان کے آپس میں تعلقات کے تعین میں اختلافات بہرحال موجود ہیں
کچه سماج واد فیمنسٹ سرمایہ داری اور سیکس ازم (ایسا نظام جو جنس اورصنف کی بنیاد پہ امتیازی ضابطوں کا حامی ہو اور اسے عمومی طور پہ پدرسری نظام کہا جاتا ہےجس میں مردوں کی بالا دستی ہوتی ہے  )دو الگ اور ممیزنظام خیال کرتے ہیں اور دونوں کی تشریح کی برابر اہمیت کے قائل ہیں (دوسرے نظام نسلی و ایتهنک جبر کی کہانی بیان کرنے کو اسی منظر کا حصہ خیال کرتے ہیں )
جیسے سرمایہ داری نظام سرمایہ داروں اور مزدوروں کے درمیان جبر اور استحصال پہ مبنی رشتوں کا نام ہے ایسے ہی پدرسری نظام وہ ہے جس میں مرد عورت پہ جبر کرتا ہے کچه یہ بهی کہتے ہیں کہ مردعورت کا استحصال کرتا ہے اور وہ اسے کئی طرح سے بیان کرتے ہیں اور اسے “دو نظاموں والا موقف ” بهی کہا جاتا ہے
مارکسی  فیمن ازم
دوسری طرف دوسرے مارکسی /سوشلسٹ فیمنسٹ یہ یقین رکهتے ہیں کہ موجودہ دور میں استحصال  اور جبر کی صرف ایک ہی قسم ہے جو حقیقی طور پہ مکمل طاقت رکهنے والے ایک نظام کی تشکیل کرتی ہے اور وہ ہے سرمایہ داری نظام
تاہم مختلف اوقات و مقامات میں جبر کی جو دیگر واضح اور ممتاز شکلیں ہیں بشمول پدرسری نظام وہ اس نظام کے فریم ورک کے اندر رہ کر اہم کردار ادا کرتی ہیں
ایک نظام یا دو نظام -یا زیادہ -یہ انتہائی تجریدی نظریاتی سوال ہے ،لیکن اکثر ایک لحاظ سے عملی سیاست سے بهی جڑا ہوا ہے : کس قسم کی سیاسی تنظیم کاری کو ترجیح ہونی چاہئیے ؟ کیا ترجیح ہمیشہ طبقاتی ایشوز، مزدور جدوجہد اور دیگر معاشی ایشوز کو ملنی چاہئیے اور کیا ان ایشوزکو صنفی خطوط پہ ممیز نہیں کیا جانا چاہئیے ؟ یا سوشلسٹ نکتہ نظر سے کیا یہ بات جائز ہے کہ ہم ویمن ایشوز کو برابر کی سیاسی اہمیت دیں
دونظام والےموقف کے حامل سماج واد فیمنسٹ طبقہ اور جنس دونوں کے گرد منظم کرنے کو برابر کی سیاسی اہمیت دیتے ہیں اور وہ کیوں نہ دیں ؟ لیکن ون سسٹم نظریاتی پوزیشن سے کیا سیاسی نتائج نکلتے ہیں جس کو میں وبول کرتی ہوں ؟  مری رائے میں -اور میں اس پہ زور دیتی ہوں کہ صنفی جبر کے خلاف  ہونے والی جدوجہد کو لازمی کم سیاسی  ترجیح دی جائے -سوشلسٹ فیمنسٹ چاہے ان کا تعلق تجریدی نظریاتی اعتبار  دو-سسٹم سے ہو یا ون سسٹم سے ہو طبقاتی اور صنفی دونوں جدوجہد کوباہم جوڑنے اور اکٹها کرنے کا کام کرتے ہیں
مثال کے طور پہ آج جو سماج واد فیمنسٹ ہیں وہ اسقاط حمل کے لیگل حق کی حمائت ویسے ہی کرتے ہیں جیسے لبرل کرتے ہیں ،لیکن ہم اس کے ساته پیدائش کنٹرول کے حق ، میڈیکل کئیر ، چائلڈ کئیر ، زیادہ اور برابر تنخواہ سمیت ان تمام حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں جو محنت کش طبقے کی خواتین کو حقیقی طور پر ری پروڈکشن بارے اختیار دیں
لکسمبرگ ، مجهے پورا یقین ہے کہ ون-سسٹم والا موقف رکهتی تهیں اور نظریاتی طور پہ ان کا یہ خیال تها کہ یہ سرمایہ داری نظام ہے جس کے فریم ورک کے اندر جبر کی دوسری اشکال کام کرتی ہیں -عملی سیاسی سوال پر روزا کا موقف کیا تها ،میں اس بارے میں یقین سے کچه نہیں کہہ سکتی لیکن میں یہ خیال کرنا پسند کروں گی کہ روزا کو سیاسی ترجیحات کے تعین میں لچکدار ہونا چاہئیے تها -شاید یہ میرا اپنا خیال ہے

جبر اور استحصال
عورتوں کا حق رائے دہی اور طبقاتی جدوجہد
روزالکسمبرگ نے یہ مضمون 1912ء میں لکها تها اور اس میں روزا کی ایک دلیل معاصر مباحث کے ساته بہت جڑتی ہے اور اسکی افادیت آج بهی قائم ہے ،وہ لکهتی ہے

وہی کام پیداواری ہے جوکہ قدرزائد پیدا کرتا اور سرمایہ داروں کا منافع بناتا ہو -جب تک سرمسیہ کی حکمرانی قائم ہے اور اجرتوں کانظام قائم ہے – اس نکتہ نظر سے ایک کیفے میں ناچنے والی /ڈانسر ،جوکہ اپنی ٹانگوں کو حرکت دیکر اپنے آجر کو منافع کماکر دیتی ہے وہ ایک پیداواری کام کرنے والی عورت ہے جبکہ ہماری وہ تمام عورتیں اور مائیں پرولتاریہ کی جو گهر کی چار دیواری میں رہتی ہیں ان کے کام کو غیر پیداواری خیال کیا جاتا ہے
یہ خیال بہت خام اور کریزی لگتا ہے ،لیکن یہ آج کے سرمایہ دارانہ معاشی نظم کے خام پن اور پاگل پن کا اظہار ہے
میں نے اس اقتباس کو ایک سے زیادہ مرتبہ سرمایہ داری نظام میں غیرپیداواری محنت کے معانی کی وضاحت اور جبر کو سرمایہ داری استحصال سے ممیز کرکے دکهانے کے لیے استعمال کیا ہے
کئی ایک فیمنسٹ اس وقت بہت سیخ پا ہوتے ہیں جب مارکسی گهریلو کام کو غیرپیداواری کہتے ہیں اور کچه تو گهریلو کام کے لئے اجرت کامطالبہ بهی کرتے ہیں لیکن لکسمبرگ کا اقتباس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو اس کام کو غیرپیداواری بناتا ہے جیسا کہ ایک کارپینٹر جوکہ حکومت کے لیے کام کرتا ہے یا ایک اسکول ٹیچر جو پڑهاتا ہے وہ سرمایہ داری نظام کے نزدیک غیرپیداواری کام کرتے ہیں حالانکہ عمومی معنی میں ان کا کام پیداواری ہی ہوتا ہے

سرمایہ داری کی اصطلاح میں پیدواری ہونے کا مطلب جاننا ضروری ہے کیونکہ اس سے ہی تو سرمایہ داری پہ ضرب پڑتی ہے
ڈومیسٹک لیبر کے بارے میں اور بهی بہت کچه ہے کہنے کو لیکن اہم بات یہ ہے کہ 1912 ء میں ہی روزالکسمبرگ نے لکها تها کہ لاکهوں پرولتاری عورتیں مردوں کی طرح سرمایہ دارانہ منافع پیدا کرتی ہیں جبکہ وہ کارخانوں ، ورکشاپس ، زراعت ، گهریلو صنعت ، دفاتر اور سٹورز میں کام کرتی ہیں اور وہ آج کے تنگ قسم کے معاشی بیانئے کےمطابق پیدواری کام سرانجام دیتی ہیں

لکسمبرگ نے خواتین کے اس پیداواری کام کی حقیقت کو بنیاد بناکر ان کے حق رائے دہی اورووٹ کے حق کی حمائت کی اور اس دلیل کی بنیاد پہ اس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پدرسری نظام کی بنیاد پہ عورتوں کا جو نام نہاد اصلی کردار اور کام کا تعین کیا جاتا تها اس کی بنیاد ہی منہدم ہوگئی ہے
میں روزالکسمبرگ کے اس نظریاتی استدلال سے اتفاق کرتی ہوں لیکن میں یہ بهی رائے رکهتی ہوں کہ ہمیں اس کی سیاسی اہمیت کو بڑهاچڑهاکر پیش نہیں کرنا چاہئیے
حتی کہ اگر گهریلو کامقدر زائد پیدا کرنے والا پیداواری کام بهی ہوتا تو سوشلسٹوں کو گهریلو بیویوں کو منظم کرنے کے کام کو ترجیح نہیں دینی چاہئیے -نجی قید خانوں کےگارڈز کا موازانہ کریں وہ بهی تو قدر زائد کی پیداوار میں معاون ہوتے ہیں لیکن کیا ان کو منظم کرنا سوشلسٹوںکے ترجیحی سیاسی کاموں میں شامل ہوسکتا ہے
ان معنوں میں پبلک سیکٹر کے ورکرز پیداواری نہیں ہیں  لیکن لیبر کو منظم کرنے کے کام میں وہ ایک بنیادی اور اہم سیکٹر ہے اور ان کو پبلک سیکٹر پہ حملہ کرنے کے لئے منظم کرنا بہت ہی اہمیت کا حامل ہونا چاہئیے -سوشلسٹوں کو اپنی بہترین توانائیاں کہاں صرف کرنی ہیں یہ کئی ایک عوامل پہ منحصر ہے اور ہمیں بدلتے حالات پر نظر رکهنی چاہئیے
لکسمبرگ کا اس پاگل پن کے حامل سرمایہ داری میں پیداواری محنت کی تعریف پہ زور ہماری مدد اس بات کی وضاحت کرنے میں بهی کرتا ہے کہ کیسے سرمایہ داری ہمارے کرہ ارض کو تباہی کی جانب لیکر جارہی ہے اور ہمیں انسانی ضرورتوں پہ بنیاد رکهنے والے ایک نئے معاشرے و سماج کی تعمیر کی ضرورت کیوں ہے ، ایسا معاشرہ جس کی بنیاد منافع پہ نہ ہو تو اس اصول کے تحت لوگوں کو منظم کرنا آج ہر ایک لیے بہت ضروری ہے
عورتوں کی ایک ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو محنت کش عورتوں کی ہو اور ان کی خاص ضرورتوں کے لیے لڑائی کرے  اور وہ بورژوا عورتوں کی تحریک سے آزاد ہو جبکہ ساته ساته عالمگیر عورتوں کے مفادات  کی حمائت بهی کی جائے
زیادہ کنٹرورسیل یا  متنازعہ بات یہ ہے کہ روزا نے محنت کش طبقے ییاں تک کہ خود سوشلسٹوں کے اندر بهی عورتوں کی خودمختار تنظیموں کے قیام کی حمائت کی اور کلارازیٹکن کو جرمن سپارٹیکس لیگ میں عورتوں کا سیکشن بنانے کو کہا -یہ وہ تجویز ہے جسکا بہت سے مارکسیوں کو آج سامنا ہے
تو آخر میں اس ساری بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ روزالکسمبرگ کی زندگی اور اس کے کام میں آج کے سماج واد فیمنسٹوں کو پانے کے لئے بہت کچه ہے ،ہمیں تمام سوالوں کے جواب کے لئے اس کی طرف دیکهنے کی ضرورت نہیں ہے اور بعض جگہوں پہ ہماس سے اختلاف بهی کرسکتے ہیں

Advertisements

کیا تم جانتے ہو کون تھا یہ مرد جری؟/تنویر عارف

نوٹ: ڈاکٹر حسن ظفر عارف جن کی لاش پراسرار حالت میں ان کی گاڑی میں الیاس گوٹھ کراچی میں پچھلی نشست پہ ملی۔ان کی موت کیسے ہوئی؟گاڑی وہ خود چلارہے تھے جبکہ وہ ڈی ایچ اے میں ایم کیو ایم کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ عبدالمجید کے فرید چیمبرز سے شام کے پہلے پہر میں گھر کی طرف روانہ ہوئے اور الیاس گوٹھ ان کے گھر کے راستے میں نہیں پڑتا۔ہفتے کی شام وہ گھر کی جانب روانہ ہوئے اور اتوار کو دوپہر کے وقت ان کی لاش بارے معلوم ہوا۔ڈاکٹر سیمی جمالی ترجمان جناح ہسپتال کراچی ان کی موت کو طبعی قرار دے رہی ہیں۔ان کے اہل خانہ بھی ابھی اسے قتل کہنے سے گریز کررہے ہیں۔لیکن شکوک و شبہات موجود ہیں۔انہوں نے اکتوبر 2016ء سے اپریل 2017ء کا دورانیہ سندھ رینجرز کی حراست میں گزارا تھا۔اس دوران ان پہ سب سے بڑا الزام غداری، ملک کے خلاف کام کرنے وغیرہ کا لگا۔لیکن ثابت کچھ نہ ہوسکا۔ہائیکورٹ سندھ نے ان کی ضمانت لی اور وہ رہا ہوئے۔ان کے خلاف نادیدہ قوتوں نے کام کرنا ترک نہیں کیا تھا۔ان کے خلاف نہ صرف مین سٹریم میڈیا میں پروپیگنڈا کیا جارہا تھا بلکہ سوشل میڈیا پہ بھی ان کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا جاری تھا۔انہوں نے ایم کیو ایم (لندن) جوائن کی ہوئی تھی اور اس کے مرکزی ڈپٹی کنوئیر تھے۔الطاف حسین اور ان کی جماعت کو وہ ایسے وقت میں سپورٹ کرنے میں لگے ہوئے تھے جب الطاف حسین کے اپنے ساتھیوں اور بڑے بڑے ان کے ناموں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف مارکس واد، لیفٹ واد اور کرانتی کاری کے کس اصول،ضابطے اور استدلال کے تحت ایم کیو ایم لندن میں گئے تھے اس کا تو شاید ہمیں کبھی معلوم نہ ہوسکے لیکن اس کا سبب بہرحال موقعہ پرستی نہیں تھی۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف شاید 80ء کی دہائی کے واحد کراچی یونیورسٹی کے استاد تھے جو ہمیشہ جینز پہن کر یونیورسٹی آیا کرتے تھے اور جنھوں نے کاندھوں تک آنے والی زلفیں رکھی ہوئی تھیں۔80ء کی دہائی میں جب وہ گرفتار ہوئے تو عقیل عباس جعفری کے انسائیکلوپیڈیا دماغ نے ہمیں یاد دلایا کہ ایک انگریزی اخبار میں ان کی تصویر شایع ہوئی اور اس کے نیچے کیپشن لکھا تھا:

DSP Vs PhD

لیکن 2016ء میں اکتوبر میں جب وہ گرفتار ہوئے تو ان کو گرفتار کرنے والے سپاہی اور حوالدار رینک کے رینجرز کے لوگ تھے۔ان کے ہزاروں شاگرد تھے اور ہزاروں کی تعداد میں ان سے سیاسی ایکٹوسٹ ،دانشور،صحافی اور ادیب متاثر تھے۔جب ان کے سیاسی عمل اور دانشوری کا سورج نصف النھار پہ تھا تو ان کی شخصیت کیسی تھی؟ اس بارے میں تنویر عارف نے اپنی یادوں کو تازہ تو کیا ہی ساتھ ہی ہمیں بھی ماضی کے اس پرآشوب دور میں لے گئے جس میں حسن ظفر عارف کا کردار یادگار تھا۔انھوں نے یہ تذکرہ انگریزی میں تحریر کیا۔میں نے اسے اردو میں ڈھال کر استاد کا کچھ قرض اتارنے کی کوشش کی ہے۔

آج سوشل ميڈیا پہ ان کی ناگہانی موت پہ ہزاروں لوگ سوگ کا اظہار کررہے ہیں اور ان سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا جارہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان ہزاروں لوگوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو ایم کیو ایم اور اس کے سیاسی خیالات سے سخت اختلاف رکھتے ہیں۔ان کی شرافت اور کمٹمنٹ کی گواہی ان کے  خیالات سے سخت ترین اختلاف کرنے والے اور دائیں بازو کے بڑے بڑے نام بھی دے رہے ہیں۔جیسے لوگ پروفیسر غفور ، مولانا شاہ احمد نورانی  سے اختلاف کے باوجود ان کی تعریف کرتے رہے۔ڈاکٹر حسن ظفر عارف صاحب کردار سیاسی دانشور تھے۔ع-ح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ مقناطیسی شخصیت کا حامل تھا۔کراچی یونیورسٹی میں فلسفے کا پروفیسر تھا۔جب وہ ڈیپارٹمنٹ آتا تھا تو ہر کوئی اپنے اندر ایک قسم کی گرمی عمل، جوش اور خوشی محسوس کرتا اور طلباء کے درمیان وہ آب و تاب سے موجود ہوتا تھا۔ہم گھنٹوں اس کا انتظار کرتے کہ کب وہ آئے اور ہمیں لیکچر دے۔جب وہ فلسفے کے مختلف موضوعات پہ ہموار لہجے میں بولتا تو کلاس میں اسقدر سناٹا ہوتا کہ سوئی بھی گرتی تو آواز سنائی دے جاتی۔میں ہمیشہ ان کی انگلیوں میں دبی سگریٹ کو دیکھتا رہتا جو ان کے کسی بھی پف کے بغیر تیزی سے راکھ ہوتا چلا جاتا تھا۔

وہ سب سے زیادہ کرشماتی،ورسٹائل اور ایک ہالی ووڈ ہیرو ٹائپ کردار تھے،میں نے جب کبھی ان کو دیکھا تو لمبے بالوں،نیلی جینز،سرخ شرٹ اور چمکدار مسکان کے ساتھ انتہائی سادگی سے کبھی سیڑھیوں پہ تو کبھی فرش پہ طلباء کے ساتھ آئیڈیالوجیز اور معاصر جدید فلسفے پہ بات کرتے ہوئے دیکھا۔وہ ایک دوست کی طرح، ایک انقلابی جیسے ،چی گیویرا جیسے لگتے تھے۔

ضیاء کے سب سے سخت ترین مارشل لاء کے دوران،جنرل جہانداد خان، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سندھ نے کالجز اور یونیورسٹیز کو ایک مراسلہ بھیجا کہ کوئی استاد مارشل لاء کی مذمت نہیں کرے گا۔ اور تب یہ وہی تھے،بنھوں نے جنرل کو ایک خط کے زریعے سے جواب دیا،جو کہ چند گھنٹوں میں ہی میں تمام ترقی پسند طالب علموں میں تقسیم ہورہا تھا۔اس کی نقول تمام جامعات و کلیات میں ان دنوں ایسے پہنچ گئی تھیں ،جیسے آج کل فیس بک اور ٹوئٹر پہ ٹرینڈز وائرل ہوجاتے ہیں۔خط میں کہا گیا تھا کہ کیسے ایک جنرل کو یہ ہمت ہوئی کہ وہ اساتذہ سے مخاطب ہو اور ان کو یہ ہدایت دے کہ انہیں کیا پڑھانا ہے اور کیا نہیں۔ان دنوں کی مارشل لاء حکومت کو دیا گیا سب سے سخت ترین جواب تھا۔جن لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ مارشل لاء کے قوانین کا خوف کس چیز کا نام ان دنوں ہوا کرتا تھا،وہ لیفٹ کے اور ایم آرڈی کے لوگوں سے پوچھ لیں۔

اس خط کی پاداش میں ان کو فوری طور پہ نوکری سے برخاست کردیا گیا تھا اور پھر ان کو جیل بھیج دیا گیا۔پھر میں نے ان کو دس سال بعد دیکھا۔وہ بے روزگار تھے اور رزق کے لئے کتابیں لکھ رہے تھے،بعد ازاں میں نے سنا کہ وہ لندن چلے گئے۔

وہ کرشماتی سورما ڈاکٹر حسن ظفر عارف تھے۔

استادجی! آپ کو سلام

 

‘Death to the dictator!’ is new rallying cry in Iran as anti-government protests spread to capital

la-1514650106-hfeckf1u0t-snap-image

An Iranian woman raises her fist amid the smoke of tear gas during an anti-government protest at the University of Tehran. (AFP/Getty Images)

 

Iranian police and plainclothes security officers mobilized Saturday to quell a third straight day of nationwide anti-government demonstrations that for the first time reached the capital, where the chants among protesters included: “Death to the dictator!” The bold reference to Supreme Leader Ayatollah Ali Khamenei — the all-powerful leader of a theocracy that for 38 years has stage-managed street demonstrations and stifled public expression — reflected the depth of frustration driving the biggest show of public discontent that Iran has seen in years. Anti-riot police on motorcycles broke up an unauthorized gathering of about 200 people at Tehran’s Engelab Square while authorities in the central city of Shahreh Kord fired tear gas as the government tried to keep the apparently spontaneous demonstrations from gaining momentum.Witnesses said police detained at least 12 demonstrators and stationed water cannons near Engelab Square (Englelab means “revolution” in Farsi) after dozens were arrested in other cities a day earlier. Interior Minister Abdolreza Rahmani Fazli, cautioned Iranians against taking part in “illegal gatherings.” “Police and law enforcement have tried to manage the situation,” Fazli said. At the same time, thousands of pro-government demonstrators took to the streets to commemorate the suppression of the last major street protests in Iran, in 2009, following the disputed reelection of former President Mahmoud Ahmadinejad. The annual rallies had been planned earlier, but the choreographed chants of “Death to America!” took on added significance as a counterweight to the unauthorized economic protests. The anti-government demonstrations that began Thursday in Mashhad, Iran’s second largest city, have now spread to more than 10 cities and appear to be driven by frustration over a stagnant economy, official corruption and soaring prices for eggs and other basic goods. As the rallies gathered steam, protesters — most in their 20s and 30s — also called for the release of political prisoners and chanted against both the hard-line Khamenei and President Hassan Rouhani, a relative moderate who has failed to deliver on promises of economic and social reform. Many analysts expected police and the government’s feared Basij volunteer militia to clamp down hard. Ahmad Khatami, a firebrand cleric who is close to the ruling establishment, called on Friday for a heavy-handed crackdown against “anarchists who violate the law.” But the security presence did not deter demonstrators in Engelab Square, near Tehran University. They chanted, “Death to this deceitful government,” and “We will die, we will die, we will take back Iran.” Plans for further protests Saturday night and Sunday were ricocheting across Telegram, a widely used messaging app. “People ask me what will happen next,” Abbas Abdi, a leader of the 1979 seizure of the American Embassy in Tehran who is now an influential advocate of political reforms, wrote in a newspaper column. “And I can say that people can tolerate economic pressure but not humiliation.” Analysts said one of the anti-government protests had been organized by Ahmadinejad, a populist who sought to highlight Rouhani’s handling of the economy. Another occurred in the western province of Kermanshah, where more than 500 people died in a magnitude 7.3 earthquake last month and victims have accused the government of being slow to deliver relief. But what began as economic protests quickly revealed broad anger at a ruling establishment that has failed to rein in corruption while funding costly military adventures abroad, including sponsoring Houthi rebels in Yemen and pro-government forces in Syria. The protesters have not spared Rouhani, who won reelection this year in large part because of his opposition to the hard-line social restrictions backed by Khamenei and his championing of the 2015 nuclear deal that improved relations with the West. Until now, most of Iran’s pro-reform crowd placed its hopes in Rouhani and the jailed leaders of the Green Movement, which led the mass 2009 protests. The anger against Rouhani and the absence of Green Movement slogans in these demonstrations suggested they were coming from a new and undefined political force. “As an activist who participated in many post-2009 protests, now I am skeptical about the motives of these protesters and their targets,” Milad Waseli, a writer and pro-reform activist, said inside his shop near Engelab Square “I am surprised. In the past, when we were in a much direr economic situation with even more severe inflation, we did not witness protests like these.” The government sought to discredit the rallies. A news anchor on state-run television aligned the protesters with President Trump, one of the Iranian government’s loudest critics, who tweeted support late Friday for the “peaceful protests by Iranian citizens fed up with regime’s corruption & its squandering of the nation’s wealth to fund terrorism abroad.” Trump called on Iran to respect demonstrators’ rights, saying, “The world is watching!” Donald J. Trump ✔ @realDonaldTrump Many reports of peaceful protests by Iranian citizens fed up with regime’s corruption & its squandering of the nation’s wealth to fund terrorism abroad. Iranian govt should respect their people’s rights, including right to express themselves. The world is watching! #IranProtests 7:42 PM – Dec 29, 2017 25,138 25,138 Replies 50,380 50,380 Retweets 102,716 102,716 likes Twitter Ads info and privacy The State Department issued a statement urging countries “to publicly support the Iranian people and their demands for basic rights and an end to corruption.” Hesameddin Ashna, the media manager of Iran’s presidential office, tweeted that he sympathized with the protesters’ economic demands but warned that the demonstrations could end in violence. Iran’s telecommunications minister, Mohammad-Javad Azari Jahromi, appealed to Telegram Chief Executive Pavel Durov, tweeting that one of the social network’s channels was “encouraging hateful conduct, use of Molotov cocktails, armed uprising and social unrest.” Many Iranians saw the comments as a pretext for the government to block the app, one of the main ways that protesters have organized. MJ Azari Jahromi ✔ @azarijahromi @Durov: A Telegram channel is encouraging hateful conduct, use of Molotov cocktails, armed uprising, and social unrest. NOW is the time to stop such encouragements via Telegram. 5:33 AM – Dec 30, 2017 200 200 Replies 177 177 Retweets 497 497 likes Twitter Ads info and privacy A former lawmaker, Ahmad Tavakoli, told the reformist news outlet Jamaran: “The starters of the protests, in these cases, are the people, but the ones who end them are not the people.”

 

 

How Bengali Intellectuals were Killed on 1971?

 

7th November,1971, students front of Jamaat Islami ‘ Islami Chhatra Sangha’  ( Islami Jamiat Tulba) declared as ‘Badar Day’ brining out a procession from Baitul Mukrram of Dhaka clearly proved Al-Badar connection with Jamaat and its Chhatra Sangha.

 

everal notable intellectuals who were killed from the time period of 25 March to 16 December 1971 in different parts of the country include Dhaka University professors Dr. Govinda Chandra Dev (Philosophy), Dr. Munier Chowdhury (Bengali Literature), Dr. Mufazzal Haider Chaudhury (Bengali Literature), Dr. Anwar Pasha (Bengali Literature), Dr M Abul Khair (History), Dr. Jyotirmoy Guhathakurta (English Literature), Humayun Kabir (English Literature), Rashidul Hasan (English Literature) and Saidul Hassan (Physics), Rajshahi University professors Dr. Hobibur Rahman (Mathematics), Prof Sukhranjan Somaddar (Sanskrit), Prof Mir Abdul Quaiyum (Psychology) as well as Dr. Mohammed Fazle Rabbee (Cardiologist), Dr. Alim Chowdhury (Ophthalmologist), Shahidullah Kaiser (Journalist), Nizamuddin Ahmed (Journalist), Selina Parvin (Journalist), Altaf Mahmud (Lyricist and musician), Dhirendranath Datta (Politician), and Ranadaprasad Saha (Philanthropist).

 

سات نومبر 1971ء کو جماعت اسلامی پاکستان کے طلباء ونگ اسلامی جمعیت طلباء نے ‘یوم البدر’ قرار دے ڈالا۔ اور بیت المکرم ڈھاکہ سے ایک جلوس نکالا۔اس نے البدر کا تعلق جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلباء سے ثابت کردیا۔

 

This procession was led by East Pakistan Chaatra President Ali Ahsan Mujahid.

اس جلوس کی قیادت مشرقی پاکستان کی اسلامی جمعیت طلباء کے صدر علی احسن مجاہد نے کی۔

 

“Here War-crime is associated with name Mujahid as he was the on of main pioneer architects of Al-Badar. His working area of Fakirapul of Dhaka. This Razakar Camp was run by Firoz alias Firo member.His house was within hundred yards from ours, in another lane. His house, in fact was a Razakar Camp, training camp, and it was simultaneously conversion camp also. This conversion camp was acting as selection center to sort more committed to Pakistan Cause and recruit them in Al-Badar. It is very evident that Mr.Mujahid was very frequent at that camp. He recruited many for his Al-Badar force. We occupied that place on 16th December and turned it into Freedom Camp from Razakar Camp. The papers recovered from there reveal a horrifying plan, a blue print for killing, torturing and looting freedom lover people,” Mahbub Kamal, a Bengali Journalist.

البدر کے مرکزی تخلیق کاروں میں سے ایک مجاہد تھا۔اس کے کام کا علاقہ فقیرا پل ڈھاکہ تھا۔اس کا گھر رضاکار کیمپ/تربیت کیمپ اور تبدیلی کیمپ تھا جہاں پاکستان کاز کے ساتھ سب سے زیادہ مخلص لوگوں کو بھرتی کیا جاتا تھا۔16 دسمبر 1971ء کو ہم نے اس کیمپ کو آزادی کیمپ سے بدل دیا اور یہاں سے ایسے کاغذات ملے جو کہ آزادی پسندوں کے قتل،لوٹ مار اور اذیت رسانی کا بلیو پرنٹ تھا۔

 

On 14th November,1971, an article written by Motiur Rahman Nizami was published in daily Sangram which stated that The days are not far ahead when Al-Badar youths standing beside our armed forces ,will defeat Hindu forces wiping out existence of Hindustani forces and uphold of victorious flag of Islam worldwide.

مطیع الرحمان نظامی (بنگلہ دیش حکومت نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے اس سابق مرکزی امیر کو 71ء میں بنگالی قوم کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں پھانسی چڑھادیا) نے 14 نومبر 1971ء کو روزنامہ سنگرام میں ایک مضمون میں لکھا کہ وہ دن دور نہیں ہے جب البدر کے نوجوان ہماری افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور ہندوستانی افواج کو صف ہستی سے مٹادیں گی اور اسلام کا کی فتح کا جھنڈا پوری دنیا پہ لہرائے گا۔

 

“Behind the creation of this Al-Badar squads Pakistan Army played most important role and Rao Farman Ali was a patroniser of Al-Badar. He helped al-Badar with money, arms, intelligence and transport. Similarly Maj.General Jamshed Ali, as Chief of East Pakistan Civilian armed forces also helped them in every possible way in all their heinous acts. And they all as team backed Al-Badar squads throughout nine months.

Motiur Rahman Nizami,Chief of Al_badar ( Pakistan) 71

Ali Ahsan Mujahid, Chief of Al-Badar (Pakistan) 71

Muhammad Kamaruzzaman, Chief Organizer of Al-Badar

Ashraf Hossain, founder,organizer Mymensingh Al-Badar

Abdul Bari, Chief Al-Badar Subdivision Jamalpur

Ashrufuzzaman, member high command Al-Badar

Chowdhury Moinuddin Operan In-charge Killing of intellectuals 71

 

Source: Where are the killers and warriors of 1971? (একটাররের ঘাতক ও দালালরা কে কোথায়)

 

In mid-November the Al-Badar planned to kill intelligentsia through the killing started earlier and its clear indication was found in the speech of   Motiur Rahman Nizami on 23 September,1971, where he indirectly hinted killing of political intellectuals.

“Who love Islam, love Pakistan. We’ll have to take all out efforts lest the intellectual should not forget the truth,” said Motiur Rahman Nizami.

“Our basic principle were Secularism, democracy and socialism but they were against these and called this apostasy and they killed every that intellectual, who was promoting these principle and standing with Awami Legaue,”

On 23rd November Pakistan Government declared a state of Emergency. Al-Badar started their killing mission, up to 15 December, they abducted intellectuals from their houses, killed them after inhuman torture. It is evidently proved that during this operation Chowdhury Moinuddin, Ashrafuzzaman Khan, Abdul Kaleque and Shawakat Imran were directly involved in killing.

نومبر 23 تاریخ کو حکومت پاکستان نے امیرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا تو ساتھ البدر نے قتل و غارت گری شروع کردی۔15 دسمبر تک دانشوروں کو اغوا کرنے بعد غیر انسانی تشدد کے بعد قتل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔اور اس بات کے واقعاتی ثبوت ہیں کہ چوہدری معین الدین،اشرف الزمان خان اور عبدالخالق و شوکت عمران براہ راست قتل و غارت گری میں ملوث تھے۔

 

During this two incidents panicked the whole city Dahaka. The first one was a meeting organizing with jeep and threatening freedom aspiring people. Other one was a letter sent to Bengali intellectuals in which they were advised to get ready for death.

اس دوران دو واقعات نے ڈھاکہ شہر میں سراسیمگی پھیلادی تھی۔ایک واقعہ وہ ہے جس میں جیپ کے ساتھ ایک ریلی نکلی جس نے آزادی پسندوں کو دھمکانا شروع کردیا۔جبکہ ایک خط بنگالی دانشوروں کو بھیجا گیا جس میں ان کو مرنے کے لئے تیار رہنے کو کہا گیا۔

 

One of such letters threatened journalist Sirrajuddin Hossain. Later at 3:00 AM on 10 december, 1971, holding his house-owner on gun-point the Al-Badar knocked at his door.

Shaheen Reza Noor,son of killed journalist described:

“Opening the door, I saw some seven to eight youths with four to five rifles rushed into the room. They shouted, “Hands Up”. They took us to Sirrajuddin Hossain’s bedroom on gunpoint and again shouted “Hands Up”. They wanted a towel perhaps to blind fold him. My mother gave them one, while crying and running around the room. Later we heard a voice of vehicle leaving. And we realized that they took him with them. Neither Mirpur killing field nor at Rayer Bazar Prof.Sirrajuddin Hossain’s body was found. And body of Dhaka University Bangla Professor Munier Chowdhury was not found.

 

One page of Maj.General Rao Farman Ali’s desk diary which contains a list of twenty Bengali intellectuals among who eleven were abducted and killed within 14th December 1971. Prof.Munier Chowdhury was one of the listed.

Brother of Prof.Munier Chowdhury says with tears:

“I opened the door and saw my brother seeing the incidents. Taking him out, gently they wish him”Salamu Alikum’, Sir.” You have to come with us to Dhanmandi Police Station for a moment. My brother stepped back two steps and said. “I can’t go with you.” Then just a young man pointed a gun at his back and ordered him to move. Still I can remember him leaving through half opened Iron Gate. While leaving he said,”I am going brother”. I replied,”Go”. That is all. He left us forever. We never found his body even after 36 years. We never knew his whereabouts. Once I wrote,” Rest in Peace my brother wherever you are.”

 

Turning corpses one after another at Rayer Bazar killing field Panna Kaiser could not find her husband Shahidullah Kaiser’s body. She revealed that when her sister-in-law pulled down the hood of an abductor that was Kaleque Mojumder.

 

 

 

ماڈل ٹاؤن رپورٹ اور میڈیا ڈسکورس

پانچ دسمبر،2017ء بروز منگل، لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے سترہ جون،2014ء کو منھاج القرآن سیکرٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ پہ پولیس کی فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں پہ قائم یک رکنی ٹربیونل کی رپورٹ پبلک کرنے کے ہائیکورٹ کے حکم کو ختم کرنے کی دو درخواستوں کو مسترد کردیا اور رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا۔

 

وزیر قانون و وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو رپورٹ ڈی جی پی آر پنجاب کو دینے کا حکم دیا اور ڈی جی پی آر کی ویب سائٹ پہ جسٹس باقر نجفی کی سانحہ ماڈل ٹاؤن پہ مرتب کی گئی رپورٹ پہلی بار پبلک ہوگئی۔

چھے دسمبر،2017 بروز بدھ کے تمام اہم اردو اخبارات اور انگریزی اخبارات نے ماڈل ٹاؤن رپورٹ  کو نمایاں جگہ دی ہے۔روزنامہ جنگ کو چھوڑ کر باقی تمام نمایاں اردو قومی روزناموں نے اپنے تمام شہروں سے شایع ہونے والے ایڈیشنوں میں اس رپورٹ کے مندرجات کو اپنی سرخی بنایا ہے۔جبکہ اس کےاڑوس پڑوس میں رانا ثناء اللہ کی پریس کانفرنس کو بھی نمایاں شایع کیا گیا۔

اکثر اردو اخبارات ذیلی سرخیوں میں ڈی جی پی آر کی آفیشل ویب سائٹ پہ موجود یک رکنی ریویو کمیٹی کی تنقیدی رپورٹ کے بھی پبلک کئے جانے کا تذکرہ چھوڑ گئے ہیں۔جبکہ انگریزی رپورٹنگ میں بھی اس کا تذکرہ خبر کی تفصیل میں کیا گیا ہے۔

ڈی جی پی آر پنجاب کی آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کرتے ہی ویب سائٹ پہ ایک پورٹل سامنے آتا ہے۔اور پورٹل میں سب سے اوپر سپریم کورٹ کے سابق جسٹس خلیل الرحمان خاں کی جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ پہ تنقیدی جائزہ موجود ہے۔یہ باقاعدہ ایک رپورٹ ہے جو یک رکنی کمیٹی کو مرتب کرنے کا فرض سونپا گیا۔

یاد رہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے کبھی بھی پریس اور عوام کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس نے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے تنقیدی جائزے کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل دی ہے۔اور اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں سے بھی کوئی مشاورت کی گئی تھی کہ نہیں۔

یہاں یہ سوال بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ  اگر پنجاب حکومت جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے کسی جج کی تقرری کرنا ہی چاہتی تھی تو اس نے لاہور ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے کیوں نہ کہا کہ وہ ان کو تین ججز دیں جو اس رپورٹ کا جائزہ لیں۔

اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ 16 جون 2014ء کو پنجاب سیکرٹریٹ میں جو اجلاس رانا ثناء اللہ کی صدارت میں ہوا تھا،کیا اس میں رانا ثناء اللہ کی جانب سے تجاوزات ہٹانے کے لئے جس آپریشن کا حکم دیا گیا،اس میں پولیس کو فائرنگ کرنے کی اجازت بھی دی گئی تھی کہ نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس اجلاس میں موجود چیف منسٹر پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری جن کے بقول وہ اجلاس میں دیر سے پہنچے،اس سے پہلے تجاوزات ہٹائے جانے کے لئے آپریشن کا فیصلہ ہوچکا تھا اور انھوں نے چیف منسٹر کی جانب سے اس پہ رضامندی ظاہر کی تھی،تو کیا واقعی چیف منسٹر کو اس کا علم تھا؟ توقیر شاہ کہتے ہیں وہ اس آپریشن بارے چیف منسٹر کو آگاہ نہیں کرسکے تھے۔

جسٹس نجفی کی ماڈل ٹاؤن رپورٹ کا  آخری اور فیصلہ کن نتیجہ یہ ہے کہ جن 14 افراد کی ہلاکتیں ہوئیں اور جو 50 افراد  گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے،ان سب کو پنجاب پولیس کی گولیاں لگیں۔ اور خون ریزی پنجاب پولیس نے کی۔

جسٹس نجفی کہتے ہیں کہ اگر وہ پنجاب پولیس کو فائرنگ کا حکم دینے والے شخص کا پتا نہیں لگاسکے تو اس کی ایک بڑی ذمہ داری تو خود پنجاب حکومت پہ ہے،جس نے اس ٹربیونل کو  فیکٹ فائنڈنگ سے آگے جاکر انوسٹی گیشن نہیں کرنے دی۔ اور اس کی دوسری بڑی ذمہ داری ان تمام پولیس حکام اور اس ٹربیونل کے سامنے پیش ہونے والے  حکومتی عہدے داروں پہ عائد ہوتی ہے جنھوں نے بالکل یہ بتانے سے انکار کیا کہ فائرنگ کا حکم کس نے دیا؟ اور ان سب نے ایک دوسرے کو قانون کی زد میں آنے سے بچانے کی کوشش میں حقائق چھپائے۔

جسٹس نجفی کی ماڈل ٹاؤن رپورٹ ایک اور خوفناک عنصر کی نشاندہی کرتی ہے۔اور وہ نشاندہی یہ ہے کہ پنجاب پولیس کے جو اہلکار وہاں بلائے گئے تھے،وہ بادی النظر میں فرقہ واریت کے زہر میں بجھے دکھائی دئے۔جب انہوں نے عورتوں کو گھسیٹا،لاٹھیوں سے مارا، اور کہا کہ ‘علی،حسین’ کو پکارو کہ تمہیں آگے بچائیں۔اور پھر شازیہ و تنزیلہ دو عورتوں کو گولیاں مار دی گئیں۔

شاید جسٹس باقر نجفی رپورٹ کا یہ وہ حصّہ ہے جس کی جانب رانا ثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں یہ کہہ کر اشارہ دیا تھا کہ اگر یہ رپورٹ شایع ہوئی تو فرقہ واریت کا اندیشہ بڑھ جائے گا۔

جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے یہ الفاظ اس طرح سے ادا کئے گئے ہیں کہ ان کو یا تو یہ الفاظ میڈیا کی جانب سے فراہم کی گئی سی ڈیز میں کہیں سنائی دئے، یا پھر ایجنسیوں نے ان کو ایسی وڈیو ٹیپ فراہم کیں جن سے یہ بات سامنے آئی۔

اب اس بات کے تناظر میں دو امکانات ہیں۔یا تو پنجاب پولیس ، ایلیٹ فورس میں ایسے اہلکار بھرتی کئے گئے جن کا تعلق مسلم لیگ نواز کی اتحادی تکفیری فرقہ پرست تنظیم سپاہ صحابہ پاکستان سے ہے اور ان کو اس آپریشن میں استعمال کیا گیا یا پھر یہ لوگ سرے سے پنجاب پولیس کا حصّہ نہ تھے،ان کو پولیس کی وردیاں پہناکر اس آپریشن میں استعمال کیا گیا۔

چیف منسٹر پنجاب  کا حلفیہ بیان اس رپورٹ کی رو سے تضاد پہ مبنی ہے۔ان کی جانب سے ڈاکٹر توقیر شاہ کو ان کے فرائض منصبی کی ادائیگی سے الگ کرنے کا حلف میں جو ذکر ہے ،اس کی کسی بھی زریعہ سے تصدیق نہیں ہوئی،یہاں تک کہ ان کی اس واقعے کے فوری بعد  چیف منسٹر کی پہلی پریس کانفرنس میں بھی اس کا ذکر نہیں ہے۔

جسٹس باقر نجفی کہتے ہیں کہ 17جون،2014ء کو ساڑھے دس سے 12 بجے کے درمیان جب عملی طور پہ نئے آئی جی پنجاب نے اپنے عہدے کا چارج نہیں لیا تھا اور نئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ حلف لینے جارہے تھے،اس دوران کیا ہوا؟ کون ان معاملات کا نگران تھا؟ ان دو سوالوں کے جواب میں ہی ذمہ داری کا تعین ہوسکتا

ہے،جس کا جواب پنجاب حکومت  اور کسی بھی اہلکار نے نہيں دیا۔

 

 

‏Media discourse on #ModelTownReport

 

ماڈل ٹاؤن رپورٹ میں جسٹس باقر رضوی نے  انٹیلی جنس رپورٹوں کا ذکر کیا ہے۔آئی ایس آئی نے مظاہرین پہ فائرنگ کا ذمہ پولیس کو قرار دیا۔اور یہ بھی کہا کہ اس نے ہائی کورٹ کے حکم امتناعی کو بھی خاطر میں نہیں لیا اور پیش قدمی جاری رکھی۔جبکہ آئی بی نے اپنی رپورٹ میں پولیس کی جانب سے فائرنگ کا ذکر سرے سے کیا ہی نہیں بلکہ اس نے چھت سے منھاج القرآن کے دو سیکورٹی گارڈ کی جانب سے پولیس پہ سیدھے فائر کئے جانے کا ذکر کیا ہے۔جبکہ اس نے یہ نہیں بتایا کہ 14 لوگ کیسے اور کن کی گولیوں سے ہلاک ہوئے؟

 

LAHORE: The Justice Najafi report on the Model Town case presents conflicting claims of premier intelligence agencies – the Inter-Services Intelligence (ISI) and Intelligence Bureau (IB) – into the incident. The Special Branch report only shares Pakistan Awami Tehreek’s (PAT’s) political activities prior to the incident. The ISI in its report held the police responsible for the killings, saying the police resorted to straight fire at the protesters, leaving 10 dead and 70 injured, of them 51 sustained bullet wounds. The ISI report, however, says they found no evidence of firing by the guards or activists of the Idara Minhajul Quran on the police. The IB, however, stated in its report that the guards manning the post at the residence of PAT chief Tahirul Qadri opened straight fire on the police, leaving two policemen injured. ADVERTISEMENT The Special Branch remained silent about the clash between the police and the protesters. The ISI reported that PAT leader Khurram Nawaz Gandapur had produced the Lahore High Court orders for the placement of security barriers in the locality to them, but the police did not pay any heed to it and remained firm to remove the barriers. PAT workers pelted them with stones when the police attempted to remove the barriers. “At this juncture, a sub-inspector of police in the company of the Model Town SP fired three rounds from his pistol in the air which resulted in a stampede in the workers,” the ISI states in the report submitted to the inquiry tribunal. At about 9:30am, a heavy police contingent moved towards Mr Qadri’s residence in the presence of then senior superintendent of police Rana Abdul Jabbar. This was strongly resisted by PAT workers. The IB report stated when the police advanced towards the Minhajul Quran Secretariat, a guard manning the post on the first floor of the terrace of Mr Qadri house opened straight fire which left two policemen injured. This created an impression on the police circle that their colleagues had been killed by the PAT workers. On this, when the police contingent advanced, the sympathisers of the PAT started pelting them with stones and bricks. “The police as retaliation resorted to firing towards the protesters/agitators, leaving many persons injured at the site of the incident, and some of them succumbed to their injuries later,” the IB report states in the report made public on Tuesday. Ten PAT workers were killed and 96 others wounded, including 26 police officials, the IB report claims. The Special Branch reports about meetings in London where Chaudhry Shujaat Husain and Mr Qadri decided to form an alliance of opposition parties against the government and a committee was formed to finalise the modalities. The committee contacted several leaders to launch a campaign against the government and corrupt system, the IB report states.

 

پاکستانی میڈیا کے پنڈت اور عام آدمی کا شعور -پہلا حصّہ

 

پاکستان میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پہ ہمیں اس وقت ایک ایسے دو قسم کے مین سٹریم بیانیہ  کا سامنا ہے۔

  ایک جسے بظاہر تو سٹیٹس کو مخالف اور اینٹی اسٹبلشمنٹ اور ترقی پسند، لبرل بیانیہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔لیکن یہ بیانیہ حقیقت میں اپنے جوہر اور مغز کے اعتبار سے کمرشل ازم اور جھوٹ زیادہ سچ کم والی کیفیت سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہمارا سامنا ایک انتہائی رجعت پسند،ردی خیالات اور بہت زیادہ جابرانہ اور فسطائی رجحانات لئے ہوئے بیانیہ سے بھی ہے۔

 

 دیکھا جائے تو پاکستان کا کمرشل لبرل اور کمرشل رائٹ ونگ دونوں بیانئے اصل میں کسی نہ کسی صورت سٹیٹس کو قائم رکھنے والے بیانئے ہی ہیں۔ان دونوں بیانیوں کا حقیقت میں اس ملک کی عام جنتا کو گمراہ کرنے اور ان کے اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کرلینے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔ اور کسی نے شاید ٹھیک ہی کہا ہے کہ یہ ‘ذہنی مشت زنی’ کے اور کچھ بھی نہیں ہیں۔

ان میں لبرل کمرشل بیانیہ نے پاکستان کے سوشل میڈیا اور کسی حد تک انگریزی لبرل پریس کے اندر ایک فضا پیدا کررکھی ہے جیسے پاکستان میں یہ بیانیہ کوئی بہت بڑی جمہوریت،روشن خیالی کی لڑائی لڑ رہا ہے۔جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے۔پاکستان میں مین سٹریم میڈیا کے اندر تو ویسے اردو اور انگریزی سیکشن میں کوئی ایسا غالب تجزیہ کار نہیں ہے جو اس کمرشل بیانیہ کو کاؤنٹر کررہا ہو۔لیکن سوشل میڈیا میں بھی اس کے انسداد میں کوئی بہت بڑی تعداد میں رجحان ساز لوگ سامنے نہیں آئے ہیں۔

اس رجحان پہ ہم ریاض ملک،حیدر جاوید سید اور پیجا مستری کو کسی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک تنقیدی انداز اپنایا ہے۔لیکن میری خواہش ہے کہ جیسے مغرب کے اندر اشراف لبرل مافیا کے بیانیہ کو ایکسپوز کرنے والے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا بریگیڈ تیار ہوا ہے،ایسے ہی پاکستان کے اندر تیار ہونا چاہئیے۔

کیٹلن جان سٹون مغرب کی ایک ایسی ہی بلاگر ہے جس نے بین الاقوامی کمرشل لبرل مافیا کے بیانیہ کے پرخچے اڑا کر رکھ دئے ہیں۔

It Is Your Human Duty To Stand Unapologetically In Your Own Authority

By  Caitlin Johnstone

کیٹلن جان سٹون غیر ارادی طور پہ برطانوی اخبار ڈیلی انڈی پینڈیٹ میں چھپے ٹم ڈالنگ کا ایک مضمون ‘ میں نے چند ہفتے رشیا ٹوڈے چینل دیکھا،تاکہ آپ کو نہ دیکھنا پڑے’ کے عنوان سے ایک مضمون پڑھا۔یہ مضمون ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو مین سٹریم بیانیوں کے پوری طرح زیر اثر ہے اور اسے ایک ہفتہ ایسے گزارنا پڑتا ہے کہ اچانک سے وہ ایسی خبر کہانیاں سنتا ہے جو کہ اس کے ہاں بازگشت کرنے والی کہانیوں سے بالکل الگ ہوتی ہیں۔اگرچہ ڈالنگ کا آر ٹی بارے موقف متعصبانہ ہے لیکن وہ وہ اس حقیقت کو چھپا نہیں پایا اس نے آر ٹی پہ وہ چیزیں دیکھیں جو بی بی سی نیوز پہ دیکھیں تھی سے مختلف تھیں۔اگرچہ وہ یہ بھی مانتا ہے کہ پروگرامنگ بہرحال  خرد افروز تھی۔

پاکستان کے ٹی وی چینلز اور اردو و انگریزی اخبارات میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے،جسے ہم کہہ سکیں کہ اس نے اپنے ناظر اور قاری کو کسی اور راہ پہ گامزن کیا ہے۔

ٹم ڈالنگ کا یہ مضمون اس تبصرے پہ ختم ہوتا ہے:

” سب سے پریشان کن چیز جو آر ٹی بارے لگتی ہے وہ اس کی بعض رپورٹنگ بہت ہی اچھی اور حقیقی ہیں۔اس آرٹیکل میں مشا جلینی سے یہ بات سامنے آتی ہے،”

 یہ فریب پہ مشتمل داؤ ہے جس کا مقصد پروپیگںڈے کو پروپیگنڈے کی بجائے حقیقی خبر بناکر دکھانا ہے۔جوکہ بہرحال سبھی مین سٹریم  نیوز میڈیا  کے بارے میں سچ ہے، لیکن اکثر مغربی میڈیا اپنے پروپیگنڈے کو خبریں قرار دیتا ہے۔

ذرا کیٹلن جون سٹون کی یہ عبارت پڑھیں:

 ‘ان کو اعتماد،پر یقین لہجے کے ساتھ کروڑ پتی مین سٹریم میڈیا پہ جو بتاتے ہیں، یہ اس پہ گہرا یقین رکھتے ہیں،اور پھر ان کو کانوں میں انگلیاں ٹھونسے رکھنا اور بے عقلی سے ‘ پروپیگنڈا،پروپیگنڈا چلانا’ سکھایا جاتا ہے،یہاں تک کہ مین سٹریم ميڈیا کے بیانیہ سے اختلاف کرنے والی آوازیں تھم نہ جائيں’

اگر آپ نے پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں جیو نیوز ،ڈان نیوز  جیسی لائن رکھنے والے ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز،خبرناموں کو فالو کیا ہو  یا اس کے برعکس اے آر وائی نیوز ، بول نیوز ،24 نیوز، 92 نیوز چینل کو فالو کیا ہو تو ان دونوں طرف کیمپوں میں پہلا کیمپ خود کو جمہوریت، اینٹی اسٹبلشمنٹ کیمپ اور دوسرا کیمپ پاکستان کی قومی وعلاقائی سالمیت  اور اس کی نظریاتی بنیادوں کا خود کو محافظ سمجھتا ہے۔جبکہ یہ دونوں کیمپ ہی کسی نہ کسی سٹیٹس کو کو بچانے کا کردار ادا کررہے ہیں۔

 

mediafj

انفارمیشن کے نام پہ پروپیگنڈا اور آپ کے اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کرنے کا نام مین سٹریم میڈیا رکھ دیا گیا ہے

کیٹلن جون سٹون آگے لکھتی ہیں،’ ان کا قیام اپنی اختیار کے ساتھ نہیں ہوتا۔وہ تو اپنے اختیار کو کسی اور کے لئے چھوڑتے ہوئے انسانیت کے خلاف انتہائی بھیانک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔’

روزمرہ کے انسانی تجربے کا سب سے زیادہ روٹین کے ساتھ غفلت سے جائزہ اور اس بارے ناشکرے پن کے تین پہلو میں ایک تو شعور خود ہے،دوسرا وہ حد جس تک ذہنی عادات غلبہ کرتی اور ہماری زندگی بارے بتاتی ہیں اور تیسرا وہ حد جہاں تک دوسرے لوگ جو ہم سوچتے ہیں اسے خراب کرنے کوشش کرتے ہیں اور  یہاں ہمارا فوکس تیسرے نکتے جزو کی طرف ہے۔

روایتی مغربی کارپوریٹ میڈیا پروپیگنڈے میں شرابور ہوتا ہے،جو ان کو بتاتا ہے کہ اپنی دنیا کے بارے میں ان کو کیا یقین کرنا ہے، اپنے معاشرے بارے کیا سوچ رکھنی ہے، اپنے لیڈروں بارے کیا رائے بنانی ہے۔لیکن یہ اس سے بھی بہت کچھ زیادہ ہے۔مذاہب، نظریات اور لامحدود ایجنڈے ہیں،جو سب آپ کے دماغ کے میدان میں گھسنے کے لئے جگہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔کہیں آپ اشتہارات دیکھتے ہیں جو آپ کو اشیاء خرینے کے لئے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔آپ کے زیادہ ذاتی تعلقات ان لوگوں سے گہرے بنتے ہیں جنھوں نے ایک خاص طریقے سے آپ کے اندر سرمایہ کاری کی ہوتی ہے،اور وہ ہمیشہ آپ کو بہت سارے پہلے سے متعین کردہ بہت مخصوص چنے راستوں کی سمت دھکیلتے ہیں۔

خادم رضوی کو سنی بریلوی مکتبہ فکر کا پوسٹر بوائے بنانے والوں کا اصل چہرہ

17861657_10212889012848460_5914205509738996442_n

58ea3e4f9e35b

NOWSHERA, PAKISTAN, APR 09: Jamiat Ulema-e-Islam (JUI-F) Chief, Maulana Fazal-ur- Rehman along with Imam-e-Kaaba Sheikh Saleh Bin Muhammad Ibrahim and others sit on stage during the centennial celebrations of the Jamiat Ulema-e-Islam Fazal held in Nowshera on Sunday, April 09, 2017. (Fahad Pervez/PPI Images).

 

پاکستانی کمرشل لبرل پریس سیکشن کا متعصب اور جانبدار رویہ

محمد عامر حسینی

نیوز ویک پاکستان میں تحریک لبیک یارسول اللہ ، پاکستان سنّ تحریک کے حالیہ دھرنے پہ پے در پے جو نیوز  سٹوریز سامنے آئیں ان کے عنوان کو زرا ملاحظہ کیجئے:

Barelvi Brawn

اس کے انگریزی میں معنی ‘ذہانت استعمال کرنے کی بجائے جسمانی طاقت استعمال کرنے والا ہوتا ہے، اور اس کا اگر ہم کوئی مناسب ترجمہ کریں تو ہوگا’ بریلوی سانڈ’

http://newsweekpakistan.com/barelvi-brawn/

اس کے بعد دوسرا عنوان ہے:

THE BARELVI BEAST

بریلوی درندہ

http://newsweekpakistan.com/the-barelvi-beast/

پھر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں :

DEMISE OF THE WARRIOR STATE

SLEEPWALKING TO ANOTHER SURRENDER

جیسے عنوانات کے تحت بھی سنّی بریلویوں کو  بہت بڑے دہشت گرد،جنونی، پاگل، درندے اور جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہا گیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا یہ کمرشل لبرل مافیا ماضی میں جب کبھی مجبوری کے تحت دیوبندی اور اہل حدیث کے اندر سے سامنے آنے والی دہشت گردی ، انتہا پسندی ، مذہبی جنونیت بارے بات کرنے پہ مجبور ہوتا تو یہ ہمیں ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا نہ بھولتا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور بانی جمعیت علمائے ہند محمود حسن دیوبندی، حسین احمد مدنی دیوبندی کتنے بڑے نیشنلسٹ سیکولر تھے۔یہ عبید اللہ سندھی کی مثال بھی سامنے لیکر آتا۔اور یہ کہتا کیونکہ سب دیوبندی انتہا پسند نہ ہیں، دہشت گرد نہ ہیں، تکفیری نہیں ہیں تو ‘تکفیری دیوبندی’ ‘دیوبندی عسکریت پسندی’ اور ‘ دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاحیں فرقہ پرستی ہیں۔

لیکن جیسے ہی سنّی بریلوی /صوفی سنّی مکتبہ فکر/فرقہ کی بات آتی ہے تو ایک دم سے یہ لوگ اپنے ہی طے کردہ اصول سے منکر ہوجاتے ہیں۔جس کا ایک ثبوت تو میں نے اوپر نیوز ویک پاکستان کی ویب سائٹ پہ نمودار ہونے والے تجزیوں میں پیش کیا ہے۔

فرائیڈے ٹائمز، دی نیوز انٹرنیشنل اور پھر ڈیلی ٹائمز میں چھپنے والے کمرشل لبرل صحافی اعجاز حیدر نے 2016ء میں اسی نیوز ویک میں سلمان تاثیر کے ایک پولیس مین کے ہاتھوں مارے جانے پہ ایک آرٹیکل لکھا تھا:

 GAZING INTO THE VOID

http://newsweekpakistan.com/gazing-into-the-void/

اس پورے آرٹیکل میں انھوں نے ایک بھی جگہ سلمان تاثیر کے خلاف جو اشتعال انگیز مہم دیوبندی سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنماؤں بشمول مولوی طاہر اشرفی نجم سیٹھی سمیت کمرشل لبرل مافیا کا بنایا ہوا جعلی ماڈریٹ مولوی کے کردار کا کوئی ذکر نہ کیا۔اور برصغیر کے اندر انہوں نے تاریخی بددیانتی کرتے ہوئے یہ کہا کہ احمد رضا خان بریلوی نے تکفیری مہم شروع کی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے اندر مسلمانوں کی اکثریت کے خلاف کافر، مشرک ، بدعتی ہونے کے اعلانات سب سے پہلے شاہ ولی اللہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی اور شاہ عبدالعزیز کے داماد کے شاگرد سید احمد بریلوی نے کیا تھا اور باقاعدہ ایک مسلح تحریک بھی چلائی تھی۔جبکہ احمد رضا خان بریلوی کے فتوے تو ویسے ہی ہیں جیسے فتاوے، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شیعہ کی کتب میں صدیوں سے موجود ہیں۔اعجاز حیدر کا  جو متعصب اور بددیانتی پہ رویہ سنّی بریلوی فرقے کے باب میں نظر آتا ہے اور دیوبندیوں  کے لئے جانبداری ایک نمونہ اور ماڈل ہے جو ہر ایک کمرشل لبرل صحافی و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ہاں نظر آتی ہے۔

ان کے تجزیوں میں آپ کو کسی بھی جگہ مسلم لیگ نواز اور اس کے گاڈ فادر نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ ، چوہدری نثار علی خاں وغیرہ کے مذہبی جنونی، دہشت گردوں جیسے سپاہ صحابہ پاکستان/اہلسنت والجماعت/لال مسجد/مولوی عبدالعزیز اینڈ کمپنی  سے تعلقات پہ زرا روشنی نہیں ڈالتا، بلکہ مسلم لیگ نواز کو ایک مجبور، محکوم ، سازشوں میں گھری ہوئی جماعت اور حکومت بتاتا ہے:

http://newsweekpakistan.com/wheels-of-change/

شہباز شریف کو ‘تبدیلی کے پہیوں’ سے تعبیر کیا گیا یہ مضمون ان کے کمرشل ازم پہ روشنی ڈالتا ہے۔

اور یہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے جہادیوں اور فرقہ پرستوں سے رشتے تو بہت کھل کر بیان کرتا ہے،لیکن جیسے ہی نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کی بات آئے تو ایک دم سے بریک لگ جاتی ہے۔ایسی بریک اسے پاکستان تحریک انصاف کے دیوبندی تکفیری سمیع الحق سے رشتوں اور تعلق کو بے نقاب کرتے ہوئے نہیں لگتی۔

اب تھوڑا نیوز ویک پاکستان کی اس وقت کام کرنے والی ٹیم بارے کچھ بات ہوجائے۔اس کی ٹیم بارے ساری تفصیل ذیل میں معلوم ہوجائے گی :

http://newsweekpakistan.com/about-us/

امریکی جریدہ نیوز ویک جو پاکستان کی نام نہاد سیکولر،لبرل اشرافیہ کا سرد جنگ کے زمانے سے پسندیدہ رسالہ رہا ہے،پاکستانی کمرشل لبرل مافیا کے سب سے بڑے سمبل نجم سیٹھی کے تربیت یافتہ پاکستانی کمرشل لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے ساتھ پاکستانی ایڈیشن اور پاکستان بیسڈ ویب سائٹ کے طور پہ ایک نئے روپ میں جلوہ گر ہے۔

پاکستان نیوز ویک کی ساری ٹیم ان پاکستانی لبرل صحافیوں اور تجزیہ نگاروں پہ مشتمل ہے،جن کی فکر اور خیالات کو ہم نجم سیٹھی،حسین حقانی،عاصمہ جہانگیر، شیری رحمان، بینا سرور جیسے کمرشل لبرل سے مستعار لی ہوئی کہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ایک بڑا حصّہ پاکستان نیوز ویک میں دی نیوز انٹرنیشنل، فرائیڈے ٹائمز ویکلی،ڈیلی ٹائمز سے آئی ہوئی ہے۔

یہ وہی کمرشل لبرل مافیا ہے جو پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے بارے میں ان کی ‘دیوبندی شناخت’ بارے فوری طور پہ ‘ فرقہ پرستی’ کا فتوی ٹھونکتا رہا ہے۔اور جیسے ہی آپ ‘تکفیری دیوبندی دہشت گرد’ ‘دیوبندی انتہا پسند’ ‘دیوبندی جہادی’ جیسی اصطلاح استعمال کرتے تو یہ فوری آپ کو ان اصطلاحوں کے استعمال سے روکتا تھا۔اور آج بھی ان کی یہی روش موجود ہے۔

اس کمرشل لبرل مافیا نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی بنیادوں پہ ہونے والی وائلنس اور دیوبندی عسکریت پسندی،انتہا پسندی، دہشت گردی بارے جس قدر ابہام اور الجھاؤ پیدا کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

پاکستان کے لبرل انگریزی پریس میں یہی کمرشل لبرل مافیا ہے جس نے انگریزی پریس میں تکفیری دیوبندی کی شناخت کے ساتھ شیعہ نسل کشی پہ پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور ایک لمبے عرصے تک تو مرنے والوں کی شیعہ شناخت تک کو رپورٹنگ میں زکر نہ کیا،جبکہ دیوبندی عسکریت پسندی ، دہشت گردانہ اقدام کو یہ ‘سنّی عسکریت پسندی’ اور ‘سنّی دہشت گرد گروپ’ کے الفاظ کے ساتھ بیان کرتا رہا جبکہ سنّی بریلوی مسلمانوں پہ ہونے والے حملوں میں بھی مارے جانے والوں کی ‘بریلوی سنّی شناخت’ کو بلیک آؤٹ کئے رکھا۔

False Binaries making

کا یہ کمرشل لبرل مافیا کاریگر ہے۔