کرداروں کے نام مسئلہ ہوگئے ورنہ

sorya sen,hanging place

سوریا سین کی یادگار

کیا کسی کو یاد ہے کہ ستمبر کی 13 تاریخ تھی اور سال 1929ء کا تھا جب لاہور اسٹیشن پر ہزاروں لوک جمع ہوگئے تھے اور ایک ارتھی تھی پھولوں سے اٹی ہوئی اور اس ارتھی کے جلوس کی قیادت ” درگاوتی دیوی ” کررہی تھیں اور یہ ارتھی لاہور سے کلکتہ پہنچی تھی تو دس ہزار سے زائد لوگ اس ارتھی کے ساتھ کلکتہ اسٹیشن پر پہنچے ہوئے تھے اور واقعی نظارہ کچھ یوں تھا کہ

عاشق کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے

یہ جتندر ناتھ داس عرف جیتن داس کی ارتھی تھی جس نے ہندوستان سوشلسٹ انقلابی سپاہ ( ایچ ایس آر ) کے انقلابی بھگت سنگھ ، سکھ دیو راج گرو ، رام پرساد بسمل ، اشفاق اللہ خان ، روشن سنگھ اور چندر شیکھر آزاد کے ساتھ ملکر ہندوستان کی آزادی کا خواب دیکھا تھا اور لاہور جیل میں اس نے 63 دن مسلسل بھوک ہڑتال کی تھی اور ستمبر کی تیرہ تاریخ اور سال 1929ء کا تھا جب وہ اسی حالت میں وفات پاگیا تھا

 

درگاوتی دیوی عرف بھابی درگا نے یہ ارتھی کلکتہ لیجاکر بنگالیوں میں انقلاب کی نئی امنگ پیدا کردی تھی اور اس شہادت کی گونج بہت دور تک پہنچی تھی ، جس روز جیتن داس کا جنازہ لاہور ریلوے اسٹیشن تک پہنچا تھا تو اسی دن پنجاب لیجلسلیٹو اسمبلی کے دو اراکین محمد عالم اور گوپی چند بھرگوا ( جو انڈین پنجاب کے آزادی کے فوری بعد چیف منسٹر بھی بنے تھے ) نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی نشست سے استعفی دے ڈالا تھا

 

جیتن داس کی شہادت کی خبر سب سے زیادہ چٹاگانگ کے باسیوں پر بجلی بنکر گری تھی اور وہاں ایک اسکول کے استاد سوریا سین جو کہ اپنے علاقے میں ” ماسٹر دا ” کے نام سے معروف تھا نے برٹش سامراج کو چٹاگانگ سے بھگانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اس نے اپنے علاقے کے نوعمر بچوں اور جوانوں کو تربیت دی اور ہندوستان ری پبلکن آرمی تشکیل دے ڈالی تھی ، اس فوج نے چٹاگانگ سے برٹش راج کو وقتی طور پر ختم کردیا تھا اور پھر جب یہ بغاوت برٹش آرمی نے کچل دی تو سوریا سین اور باقی ماندہ ساتھی چٹاگانگ کے نواحی گاؤں میں چھپ گئے تھے اور پھر پریتی لتا دیوی کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر چٹاگانگ میں یورپی کلب پر دھاوا بولا گیا تھا ، یہ آزادی کی جنگ بعد ازاں کسانوں میں بیداری کی لہر پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوئی اور ماسٹر دا کے ہی ایک شاگرد سبودھ رائے کی قیادت میں کسانوں کی بڑی بغاوت ہوئی جس نے انگریزی راج کو ہلادیا تھا ، سوریا سین رائے کو بعدازاں پھانسی دے دی گئی تھی اور چٹاگانگ میں جہآں سوریا سین کو پھانسی دی گئی وہاں پر بنگلہ دیش کی حکومت نے سوریا سین کی یادگار بنادی

 

لیکن میں سوچتا ہوں کہ پاکستان بننے کے بعد مغربی پاکستان میں کیا ہوا ، لاہور کا ریلوے اسٹیشن جس نے جیتن داس کی ارتھی کے جلوس کا ” درگا وتی دیوی ” کی قیادت میں نظارہ کیا تھا ایک بورڑ بھی وہاں نہیں لگا جو اس تاريخی واقعہ کی یاد دلاتا ، جہاں پر ” نوجوان بھارت سبھا ” کے نوجوانوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا یعنی پرانی سنٹرل جیل جو آج کا شادمان چوک بنتا ہے وہاں پر بھگت سنگھ اور دیگر ساتھیوں کی کوئی یادگار نہ بنائی گئی ، آج ہمیں درگاوتی دیوی کے لاہور میں اس مکان کا بھی علم نہیں ہے جہآں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی انگریز پولیس افسر سنڈراس کو قتل کرنے کے بعد چھپے تھے اور بھگت سنگھ جہان فیصل آباد کے قریب جڑانوالہ کے جس گاؤں میں پیدا ہوا تھا اس گاؤں میں اس کا گھر بھی محفوظ نہ کیا گیا ، تاریخ کے ساتھ یہ کھلواڑ اس لئے کیا گیا کہ جس ” کہانی ” کے تحت پاکستان کی تشکیل ہوئی تاریخ کے یہ واقعات اس میں ” کھنڈت ” ڈال دیتے ہیں اور تاریخ کی ٹیلرنگ ویسے نہیں کرنے دیتے جیسے ہمارے ” دو قومی نظریہ ” کے شارحین کرنا چاہتے ہیں ، ہندوستان والوں نے جیتن داس کے نام کے یادگاری ٹکٹ جاری کئے اور کلکتہ کے جس کالج ” ساگر ودیا کالج ” سے وہ پڑھا تھا وہآن بھی اس کے نام کی تختی لگائی ، بنگلہ دیش والوں نے سوریا سین کی یادگار تعمیر کی اور مغربی بنگال والوں نے پریتی لتا سے لیکر سبودھ رائے چودھری تک سب کو یاد رکھا اور اس پر دو ہندی اور ایک بنگالی میں فلمیں بھی بنائی گئیں بلکہ فلم ڈائریکٹر

Bedabrata Pain

بیڈو نے تو کمال کرڈالا اور اس نے ” چٹاگانگ ” کے نام سے اپنی بیوی سونالی باندرے کے ساتھ ملکر جو فلم بنائی اس نے تو ان کرداروں کو لازوال بناڈالا ، منوج باجپائی نے ” سوریا سین ” کا کردار امر کرڈالا اور آج جب میں اس فلم کو دوبارہ دیکھ رہا تھا تو مجھے خیال آرہا تھا کہ ” سوریا سین ، جیتن داس اگر 15 اگست 1947ء کو ” آزادی کا داغ داغ اجالا ” دیکھ لیتے اور بھگت سنگھ کلکتہ ، نواکھلی ، پنجاب ، دھلی ، ممبئی میں ہوئی مار کاٹ ، عصمت دریاں اور مکانوں ، دکانوں اور بازاروں سے اٹھتے آگ کے شعلے دیکھتے تو ان پر کیا گزرتی ، ویسے سبودھ رائے چودھری ، پریتی لتا سمیت کئی ایک کرداروں نے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور سبودھ رائے نے تو 71ء کی جنگ اور چٹاگانگ سمیت پورے مشرقی بنگال میں ایک مرتبہ پھر وہی مناظر دیکھے اور اس کے دل پر کیا گزری ہوگی یہ کوئی بتانہیں سکتا

 

آج جب میں یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو بنگلہ دیش میں مسلمان ، ہندؤ ، کرسچن سب پر حملے کئے جارہے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت کو بدعتی ، مشرک کہہ کر مارا جارہا ہے ، احمدی تو کہیں محفوظ نہیں ہیں اور کمیونسٹ ، ناستکوں کے لئے تو کہیں بھی جآئے پناہ موجود نہیں ہے وہ ہندوستان میں بھی این ایم کلبرگی کی شکل میں مارے جارہے ہیں اور پاکستان میں کسی کی اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ خود کو ناستک کہنے کی ہمت سرعام کرلے ، یہاں تو کوئی ادیب ، دانشور مرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، مرنا تو دور کی بات ہے وہ ایک سرکاری ایوارڑ واپس کرنے کو تیار نہیں ہے

 

لاہور ، فیصل آباد ، ملتان سمیت پنجاب کے درجنوں شہر اور گاؤں میں تقسیم سے پہلے کی حریت پسند تاریخ کے انمٹ کرداروں کی یادوں سے بھرے پڑے تھے ان کے آثار تک مٹاڈالے گئے اور سرکاری تاریخ ہو یا نجی طور پر تیار کی جانے والی تاریخ کی کتب ان میں بھی ہمیں ان کرداروں کا تذکرہ نہیں ملتا اور پنجاب کے اکثر نوجوانوں کے پاس ” تاریخ کا سرکاری و درباری شعور ” ہی موجود ہے جس میں جن کے نام داس ، سنگھ وغیرہ ہیں ان کو اپنا ہیرو قرار دینا مشکل تو کیا ناممکن سی بات لگتی ہے ہندؤ ، سکھ کرداروں کو تو جانے دیں ، اگر تاریخ کا کوئی کردار بعد میں شیعہ یا احمدی نکل آیا تو اس کو بھی شعور تاریخ سے حذف کئے جانے کی کوششیں عروج پر ہیں جناح ، راجہ آف محمود آباد ، سر آغاخان ، نواب وقار الملک ، سرظفراللہ خان جیسے کردار بھی اس تاریخ فراموشی کا حصّہ بن گئے ہیں ، سوچتا ہوں کہ مسلم سماج نے اپنے لئے تاریخ کا کس قدر مشکل اور محال پیراڈائم گھڑا ہے جس میں کانٹ چھانٹ کرنے کا عمل اسقدر طویل ہے کہ تاریخ اپنے منہ مہاندرے سے محروم ہوجات

Advertisements

“Whoa ,Boy! “

جب برطانوی وزیراعظم انتونی ایڈن نے 1956 ء میں برطانیہ کی مصر کے خلاف فریب کن جنگ کے خاتمے کا فیصلہ کرلیا تو امریکی صدر آئزن ہاور نے اسے ایک خشک سی تجویز بھیجی تھی

Whoa,Boy !

اس کے الفاظ تھے – اور اب یہ الفاظ ان سیاست دانوں ، تاریخ دانوں اور دوسرے لچربازوں کے لئے دوھرانے چاہیں جو کہ خود کو ایک ” ابدی جنگ ” ( کی شروعات ) پیشن گوئی کرنے والے نجومیوں کے طور پر پیش کررہے ہیں

جب بھی میں صبح بیدار ہوتا ہوں تو ہالی ووڈ کی ہارر فلموں میں پیش کئے جانے والے من گھڑت ” خوفناک منصوبوں ” کو اپنے سامنے پاتا ہوں جوکہ ہماری خفیہ پولیس یا ہمارے ان سیاست دانوں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں جو پبلک ریلیشنز سے انسپائریشن پائے ہوتے ہیں

جرمنی کا جاسوس اعظم ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ایک ” دھشت گرد عالمی جنگ ” کا خطرہ سروں پر منڈلارہا ہے ” – میں پیشن گوئی کی اس مہارت کو قبول کرتا ہوں ، کیونکہ بہرحال جرمنی نے اپنے آپ کو ” عالمی جنگوں ” کو شروع کرنے کا بہترین اہل ثابت کیا ہوا ہے – جبکہ کامل معقول و دانا اور ویسے ایک شاندار مورخ ” یورپ کی حالت زار ” کا تقابل رومن امپائر کے زوال سے کرتا ہے – پیرس ہلاکتوں کے واقعے کے بعد کہا جارہا ہے کہ اس نے پیرس کو ہمیشہ کے لئے بدل کررکھ دیا ہے یا یہ کہا جارہا ہے کہ اس نے ” فرانس کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا ہے ” میں یہ تو تسلیم کرتا ہوں کہ

General Petain

کی نازی جرمنی سے اتحاد نے فرانس کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا تھا لیکن اس ماہ پیرس میں ہونے والے ظلم کا موازنہ 1940ء میں پیرس پر جرمنی کے قبضے کے دوران ہونے والے ظلم سے نہیں کیا جاسکتا – فرانسیسی فلسفیوں میں سے سب سے زیادہ تھکادینے والا فلسفی

Bernard – Henry Levy

ہمیں بتاتا ہے کہ ” داعش ” والے

Fascistislamist

ہیں مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اسی طرح سے عجیب و غریب طریقے سے اسی مسٹری لیوی نے ہمیں مسلمہ طور پر بتایا ہو  کہ 1982 میں صابرہ شتیلہ مہجر کیمپ میں  1700 فلسطینی شہریوں کے بیروت میں کرسچن لبنانی قاتل – اسرائیل کے بدکار لبنانی مسلح اتحادی ” فاشسٹ کرسچن ” تھے

 

یہ ایک دھشت گردانہ اقدام تھا جس کے ساتھ میں بھی بخوبی واقف تھا – اپنے دو ساتھی صحافیوں کے ساتھ ، میں ” زبح ہونے والوں ”  اور عصمت داری کا نشانہ بننے والی لاشوں کے درمیان چلا تھا – امریکی فوجیوں اور اسرائیل فوج نے بھی وہ ” ذبح عظیم ” دیکھا تھا —- لیکن کیا کچھ نہیں – پھر بھی ایک بھی مغربی سیاست دان کو میں نے یہ اعلان کرتے نہیں سنا تھا کہ ” اس خوفناک واقعہ نے مڈل ایسٹ کو ہمیشہ کے لئے بدل ڈالا ہے ” – اور اگر 1700 معصوم شہری 1982ء میں بیروت کے اندر بغیر ” عالمی جنگ ” کے اعلان کے مار ڈالے جائیں ، تو کیسے صدر فرانکوس الاندے 130 معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بعد یہ اعلان کرتا ہے کہ ” فرانس ” حالت جنگ ” میں ہے ؟

پھر بھی اب مڈل ایسٹ کے  غریب اور ہجوم بے ترتیب پر مشتمل عوام کو مرا دوست نیل فرگوسن ایسا بیوقوفوں کا سیلاب کہتا ہے جو قدیم روما کی طرف جارہا ہے – فرگوسن مانتا ہے کہ وہ پندرھویں صدی کی رومن تاريخ بارے زیادہ نہیں جانتا کہ وہ اس موضوع پر رومن کا حوالہ درج کرنے کے قابل ہو لیکن رومن نے نئے مفتوحہ لوگوں کو رومن شہریت دی تھی ؛اور فرگوسن نیل کم از کم تیسری صدی کی رومن تاریخ کو پڑھنے کی تکلیف تو اٹھاسکتا ہے جب نیا رومن شہنشاہ ، سیزر مارکس جولیس فلیپس آگسٹس شام سے آیا تھا – وہ دمشق سے 30 میل دور ایک قصبے میں پیدا ہوا تھا اور اسی لئے وہ ” فلپ دی عرب ” کہلایا تھا  لیکن آئے ہم جدید تاریخ کو اپنے انتقام لینے کی خواہش کے راستے میں آنے کی اجازت نہ دیں

 

گزشتہ ہفتے مالی میں ہوئی ہلاکتوں کو لیں – فرانسیسوں نے وہآں شمالی مالی میں اسلامسٹوں کے قبضے کے بعد جنوری 2013 ء میں مداخلت کی تھی جبکہ وہ مالی کے دارالحکومت باماکو پر قبضہ کرنے کی طرف بڑھ رہے تھے – ” فیلڈ مارشل ” الاندے جیسا کہ فرانسیسی پریس اس پر طنز کرتے ہوئے اسے اس لقب سے مخاطب کرتا ہے ، نے اپنے جوانوں کو ” دھشت گردوں ” کو تباہ کرنے کے لئے وہاں بھیجا تھا ، وہ دھشت گرد جو کہ مالی کے شہریوں پر اپنی باغیانہ سزاؤں ” کو نافذ کررہے تھے ، اس دوران فیلڈ مارشل الاندے نے نے مالی میں دھشت پسندی بارے یہ بتانا پسند نہ کیا کہ یہ دھشت

Tuareg-Malian government Civil war

کا حصّہ بھی ہے – جنوری کے آخر میں ، یہ رپورٹش آنے لگیں کہ فرانسیسی فوج کے اتحادی مالی کی افواج ‘ نسلی منافرت کے تحت بدلے ” میں معصوم شہریوں کو بھی قتل کررہی ہیں – اس وقت کے فرنچ وزیر دفاع

Jean – Yuves Le Drian

نے تسلیم کیا کہ ” اربن گوریلا وار ” کو قابو کرنا بہت پیچیدہ کام ہے

 

ستمبر میں اسلامسٹ ان مالی باشندوں کو قتل کررہے تھے جنھوں نے فرانسیسیوں سے تعاون کیا تھا – جبکہ فرانس پہلے ہی ” دھشت گردوں ” کے خلاف فتح کا اعلان کرنے میں مشغول تھا تو اسلامسٹوں کے اس ” ترجمان ” کے اس اعلان پر کم ہی توجہ دی گئی کہ ” فرانس ہمارا دشمن ہے جوکہ مالی ، نائجر ، سینگال ، ٹوگو کی افواج کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف کاروائیاں کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ تمام ممالک ہمارے دشمن ہیں اور ہم ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرنے جارہے ہیں ”  یہ اعلان باماکو میں ہونے والے قتل عام کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے – اور وہ جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ مغرب کے سپاہی تلواروں کی جھنکار کے ساتھ افریقی ممالک جارہے ہیں تو وہ ان مالی کے باشندوں کے کے جذبہ انتقام کو نہیں جگائیں گے یہ نوٹ کرلیں کہ کیسے ہم نے بتدریج فرنچ پولیس مین اور چار فرنچ یہودیوں کے پیرس سپر مارکیٹ میں قتل کے زمہ داروں کی داعش سے وابستگی کو نظرانداز کردیا تھا

Amedy Coulibaly

فرانس میں مالی نژاد والدین کے گھر پیدا ہوا تھا  اور اب آئیے 2013ء کی ابتداء میں مالی پر شایع ہونے والی یہ رپورٹ پڑھتے ہیں : کہ فرنچ جنگی طیارے مسلسل مشکوک باغی کیمپوں ، کمانڈ پوسٹوں ، لاجسٹک اڈوں اور دھشت گرد گاڑیوں پر شمالی مالی میں بمباری کررہے ہیں – حالیہ دنوں میں ، حکام نے کہا ، 24 گھنٹوں میں انہوں نے ٹمبکٹو اور گاؤ ریجن میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا اور فضائی کاروائی کی  – —– ٹمبکٹو اور گاؤ ریجن کی جگہ رقّہ اور ادلیب لگادیں اور یہ وہ ایک جیسا سوپ ہے جو ہمیں پیرس ( اور ماسکو ) سے داعش پر فضائی حملوں کے بارے میں فراہم کیا جارہا ہے — اور اس کے اندر ہی پی آر ڈیو خود بھی اب ہماری منی ایچر ائر فورس کی قیادت کرنا چاہتا ہے

 ہمارا ردعمل ؟ سارے بلند آہنگ نعرے بازی ، بہرحال ہماری بے خبری کو ، ہماری جانب سے مڈل ایسٹ کے ساتھ ہوئی ناانصافی کو سمجھنے سے انکار کرنے اور ہماری طرف سے ” تنازعہ ” کے ساتھ سیاسی منصوبوں اور مقاصد کے ساتھ نبٹنے سے سستی برتنے کو ظاہر کرتی ہے – اگر آج ہم

“Whoa, Boy “

ایڈوائس کو اپلائی کرسکتے ہیں تو اسے مکمل طور ایک نئی اپروچ کے ساتھ اس ” کلٹ مافیا ” کی طرف ہونا چاہئیے جو کہ مڈل ایسٹ میں پایا جاتا ہے اور ایک عالمی کانفرنس اس خطے پر شاید انہی خطوط پر ہونی چاہئیے جو سان فرانسسکو میں 1945ء میں ہوئی تھی اور اس میں شریک سٹیٹس مین نے ایک ” اقوام متحدہ ” تشکیل دی تھی جس نے نئی عالمی جنگوں کو روکنے میں کردار ادا کرنا تھا اور مہاجروں کے لئے

Nansen

مہاجر پاسپورٹ 1914- 18 کی جنگ کے بعد لاکھوں بے گھر و بے دخل مہاجروں کے لئے بنایا تھا جس کو اس وقت 50 اقوام نے قبول کیا تھا ، نہ کہ دھشت گرد عالمی جنگ ، آفاقی تباہی اور قدیم روم کی پیشن گویاں کریں – ہمارے اپنے ہر ایک پی آر دیو کے نام میں یہی دوھرا سکتا ہوں

“ whoa, Boy ! “

نوٹ : یہ آرٹیکل رابرٹ فسک نے تحریر کیا جس کا ترجمہ و تلخیص عامر حسینی نے کی ہے اور اصل آرٹیکل اس لنک پر پڑھا جاسکتا ہے

http://www.independent.co.uk/voices/robert-fisk-we-remain-blindfolded-about-isis-says-the-man-who-should-know-a6735426.html

 

 

 

 

مجھے کیا برا تھا مرنا ۔۔۔۔

Art Competition

لاہور کی ایک سماجی تنظیم نے کالج اور اسکولوں کے طلباء و طالبات کو دعوت دی کہ وہ لاہور شہر کی دیواروں کو اپنے آرٹ کے نمونوں سے سجادیں اور لاہور کے شہریوں کو لاہور کی دیواروں پر نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والے نعرے اور کفرساز فتوؤں کی بجائے خلاق ذھنوں کے مالک فنکاروں کی انگلیوں کی حرکت سے ایسے پیغامات تصویر کریں کہ جس سے امن اور آشتی کا پیام نکلتا ہو تو ایسے میں چند فنکاروں نے ایک وال پر اردو ادب کے خلاق ذھن ” سعادت حسن منٹو ” کو پینٹ کیا اور اس کی جو تصویر دیوار پر بنائی ، اس میں اس کے دماغ سے روشنی کی کرنوں کو پھوٹتے دکھایا ( کم از کم منٹو کے کھڑے بالوں کا یہی تاثر مرے ذھن میں بنا جو ہوسکتا ہے تصویر بنانے والوں کا مقصود نہ ہو ) اور انہوں نے لکھا کہ ” سعادت حسن منٹو کبھی نہیں مرسکتا “

 

میں ان فنکاروں کی اس قابل قدر کاوش کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے مبہوت رہ گیا لیکن پھر مرے دماغ میں یہ سوال گونجنے لگا کہ کیا واقعی سعادت حسن منٹو مر نہیں سکتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ سعادت حسن منٹو کو اس کی زندگی میں جیتے جی ماردینے کی بڑی کوشش ہوئی اور اس کو سنسر شپ ، مقدمات سے لیکر ” نقادوں ” کے تابڑ توڑ حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اس کے دور کے ” مذھبی پنڈتوں اور ملاؤں ” نے اسے معاشرے کو بگاڑنے کا زمہ دار قرار دیکر ” راندہ درگاہ ” جانا سو جانا ، اس زمانے کے کئی ایک ترقی پسند بھی اس پر بے اختیار ” پل پڑے ” اسے ” انجمن ترقی پسند مصنفین ” سے نکال باہر کیا گیا اور اس کے افسانوں کو “چھوت چھات کا مرض ” قرار دیکر نسیا منسیا کردینے کی کوشش بھی کی گئی لیکن ” سعادت حسن منٹو ” نے نہ مرنا تھا سو وہ نہ مرا ، وہ مذھب کے ٹھیکے داروں کی اقلیم سے نکالا گیا ، اشتراکیت پسندوں کے ” کمیون ” سے خارج کیا گیا اور ” ادب برائے ادب ” والوں کے ہاں بھی ” ابتذال ” کی وجہ سے ” ردی ” ٹھہرا مگر پھر بھی زندہ رہا – کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے ” ننگی چھاتیوں ” کو اپنے تخیل کے زور پر ” چولی ” پہنے دکھانے سے انکار کردیا اور اس نے “سچ کے کڑوے پن  ” کو مصنوعی شوگر سے شریں کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور یہ ” کڑوا سچ ” اسے سماج کے جس بھی مظہر میں دکھائی دیا اس نے اس کی ” کڑواہٹ ” کو اپنے افسانوں میں ” انڈیل ” دیا ، اب اس سے کسی واعظ ، کسی پنڈٹ ، کسی پیر ، کسی مولوی ، کسی سماج واد کا منہ میں کڑواہٹ گھلتی ہے تو گھلتی رہے اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی ، کیا منٹو کی طرح کسی نے 1947ء کی تقسیم کو ” بڑے پاگل خانے ” سے تعبیر کیا تھا اور اسے ” ٹوبہ ٹیک سنگھ ” کی شکل میں مجسم کیا تھا ؟ مہاجر کیمپ جو ” مومنین ” کی طرف کا تھا اس میں ” سکینہ ” کے ساتھ جذبہ اسلام سے سرشار ” اسلامی رضاکاروں ” نے جو کیا اسے ” کھول دو ” میں بیان کرنے والا منٹو ان کی نگاہوں میں معتوب ٹھہرا جو پاکستان کے قیام کے وقت ” ہجرت کرنے والوں ” کو سرحد پار کرتے ہی ایک جنت میں آتے اور رضاکاروں کی بے مثال قربانیوں اور جذبہ ایمان سے سرشار دکھانے میں مصروف تھے ، اس پر ہونے والے عتاب اور غیظ پر حیرت کیسی ؟ لیکن منٹو ” سچائی ” کے قریب تر رہنے کی کوشش میں خود تو ” خون تھوکتا ” دنیا سے چلاگیا لیکن اپنے خلاق دماغ سے نکلنے والی کہانیوں ، مضامین ، ڈراموں کی وجہ سے آج بھی ہر اس شخص کے دل و دماغ میں زندہ اور سانس لیتا ہے جو ” حقیقت کی کڑواہٹ ” سے بھاگتا نہیں ہے اور آج بھی وہ اپنی ” حقیقت تراشنے ” والوں کے ہاں سخت معتوب اور راندہ درگاہ ہے

 

کڑوا سچ خلاقیت کے ساتھ لفظوں سے پینٹ ہو یا برش کے زریعے سے رںگوں سے مصور کیا جائے اپنے عصر کے حکمران طبقات کو کبھی پسند نہیں آتا اور وہ اپنی خدمت پر مامور خریدے ہوئے اذھان کو اس نقش کو مٹانے پر مامور کرتے ہیں اور خلاق شخض کو ” تنہائی اور بے گانگی ” کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں لیکن یہ بے گانگی و تنہائی بھی ایک اور طرح سے ” خلاقیت ” کے لئے ” عمل انگیز ” کا کام کرتی ہے

 

جس وقت لاہور کے آرٹسٹ بچّے اور بچیاں لاہور کی دیواروں پر ” منٹو ” پینٹ کررہے تھے اور ساتھ لکھ رہے تھے کہ ” منٹو مر نہیں سکتا ” تو لاہور کی ایک ” بڑی اشراف یونیورسٹی ” یعنی ” لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ ” ( لمز ) میں

 Pakistan’s Contribution to the Muslim Intellectual Tradition

کے عنوان سے مشتاق احمد گورمانی اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنیٹز میں ایک کانفرنس ہورہی تھی جس میں ایک بھی خاتون دانشور کو سٹیج پر جگہ نہ دی گئی اور نہ ہی اسے اس موضوع پر اظہار خیال کرنے کا شرف بخشا گیا – لمز جیسی یونیورسٹی میں عمومی ” عورت دشمن ” اس طرح کے طرز عمل کی توقع کی نہیں جاتی تھی اس لئے یہ ایک بڑی خبر بنکر سامنے آئی لیکن مرے لئے ” لمز ” میں مشتاق احمد گورمانی کے نام سے ” سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹی کے اسکول ” کی موجودگی بھی ایک خبر سے کم نہیں تھی ، کیونکہ مشتاق احمد گورمانی جو کہ سرائیکی خطے کے ایک بڑے جاگیردار اور مغربی پاکستان کے گورنر بھی رہے کو ” سوشل سائنسز اور ہیومنیٹز ” سے کوئی شغف نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ وہ پنجاب کے ان جاگیردار سیاست دانوں میں شمار ہوا کرتے تھے جن کو ” سماجی علوم ” سے بلا کی نفرت تھی اور وہ سیکولر ، لبرل ، روشن خیال فکر کے سب سے بڑے مخالف اور ریڈیکل سماجی تبدیلی کے سخت دشمن تھے – انہوں نے اپنی جیب خاص سے سید مودودی کی جاگیرداری کو جائز قرار دینے والی کتاب ” اسلام میں حد ملکیت ” کی اشاعت کثیر اور تقسیم کثیر کا خشوع و خضوع کے ساتھ اہتمام کیا تھا اور جماعت اسلامی کی سپورٹ بھی بہت کی تھی ، لیکن پھر میں نے سوچا کہ ” کرنل عابد حسین ” کے برادر نسبتی  اور بیگم عابدہ حسین کے ماموں  ” سید بابر علی ” کا لمز اگر ” مشتاق گورمانی اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹیز ” کا قیام نہیں کرے گا تو کیا ” سبط حسن اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹیز ” بنائے گا ؟ اور مشتاق احمد گورمانی اسکول کے لوگ ” مسلم روایت دانش میں پاکستانی دانشوروں کا حصّہ ” کانفرنس میں اگر ” عورتوں ” مدعو نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا ؟کیونکہ عورتوں کی دانشوری قدامت پرست مسلم انٹلیکچوئل ٹریڈیشن کی بالکل مخالفت روایت کا حصّہ ہوسکتی ہے جسے ” یار لوگ سیکولر ” اور جماعت اسلامی والے ” الحاد پرست ” روایت گردانتے ہیں ، ویسے بھی کیا ترقی پسندوں کی ڈاکٹر رشیدہ جہاں ، عصمت چغتائی ، ایلس فیض ، قرۃ العین حیدر ، افضل توصیف ، کشور ناہید ، زاہدہ حنا سمیت کئی ایک عورتیں کیسے گورمانی کی جماعتی مسلم انٹلیکچوئل ٹریڈیشن کا حصّہ ہوسکتی ہیں اور قرۃ العین طاہرہ کو تو آپ رہنے ہی دیں ، مرے ایک دوست جو ” لمز ” سے پڑھے بڑی حسرت سے کہہ رہے تھے کہ ” ان کی مادر علمی لگتا ہے کہ ملائیت کے آگے سرنگوں ہوتی جاتی ہے ” ویسے تو  گزشتہ دنوں یہ یونیورسٹی ” بلوچ سوال ” پر ایک سیمینار کے سوال پر غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے دباؤ کے آگے ڈھے گئی تھی

 

ڈھے جانے کے معاملے پر مجھے خیال آگیا کہ حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف نے خانیوال کے دورے کے دوران شیڈول سے ہٹ کر شامکوٹ کے ایک گرلز اسکول کا دورہ کیا تو وہآں کی ہیڈمسٹریس سے انہوں نے پوچھا کہ ان کو کسی مسئلے کا سامنا تو نہیں ہے تو اس ہیڈمسٹریس نے جرآت کرتے ہوئے کہا

گیس نہیں ہے

تو وزیراعظم بولے بجلی تو ہے

اس پر وہ ہیڈمسٹریس بولی ” بجلی تو ہے مگر آپ نے مہنگی بہت کردی ہے ”

اس کی اتنی سی ہمت اور چاپلوسی سے گریز نے اس ہیڈ مسٹریس کو ہماری ” بابو شاہی ” کو ناراض کرڈالا ، کمشنر ملتان سمیت کئی سرکاری بابو اس اسکول پہنچے اور انہوں نے اسکول میں بجلی کی تاروں کی خرابی تک کا زمہ دار ہیڈمسٹریس کو قرار دیا اور اسے ناقص کارکردگی پر شوکاز نوٹس تک جاری کیا ، اگلے دن ڈی ایم او وہاں چلے گئے ، وہ ” آزادی سے سوال کا جواب دینے ” کی سزا بھگت رہی ہے ، اس اسکول کے دورے کے دوران ایک تصویر بھی سامنے آئی جس میں کچی زمین پر ” طالبات و خواتین ٹیچر بیٹھی ہیں ” جبکہ سامنے کرسیوں پر ظل اللہی ، بادشاہ مملکت اپنے مصاحبین کے ساتھ جلوہ افروز ہیں – یہاں بابو شاہی ، جاگیردار اور سرمایہ دار سیاست دان ” آزاد سوچ اور دانش ” کی ہلکی سی رمق کو بھی فنا کے گھاٹ اتارنے پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور ایسے میں ” منٹو ” کا زندہ رہنے کا ادعا ایک ” معجزے ” سے کم نہیں یا ہوسکتا ہے کہ ” منٹو کے دانت ” نکال کر اسے مصنوعی تنفس پر زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہو

جان آر بولٹن : مشرقی شام میں سلفی ریاست کے حامی مغربی مولویوں میں ایک اور اضافہ

Ambassador_John_Bolton_at_FITN_in_Nashua,_NH_by_Michael_Vadon_06_(cropped)

شام کی مشرقی سرحد پر ترکی کی سرحد سے چار کلومیٹر دور ترک ایف 16 جیٹ نے روسی جنگی طیارے کو گرادیا اور یہ انتہائی اقدام وہ ہے جس کی نیٹو اور امریکہ نے بھی حمائت کی ہے جبکہ روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے اس اقدام کو دھشت گردوں کے مددگاروں کی جانب سے دھشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والوں کے خلاف پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا اقدام قرار دیا ہے

 

نیویارک ٹائمز کی 25 نومبر ،2015ء کی اشاعت میں جان آر بولٹن کا ایک مضمون بعنوان

To defeat IS, Create Sunni state in Syria

جان آر بولٹن کا یہ مضمون مغرب کے اندر دائیں بازو کے نیو کانز کی اس خواہش کا آئینہ دار ہے جو مڈل ایسٹ کے اندر ‘ وہابی ازم ” کو امریکی مفادات کے آڑے آنے والی قوتوں کے خلاف ‘ ہلاکت خیز میشن ” کے طور پر استعمال کرنے یقین رکھتا ہے – یہ سلسلہ 2006ء میں شروع ہوا تھا جب امریکی بش انتظامیہ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ شام کے اندر “بشار الاسد ” کی حکومت کو ہٹانے کے لئے شام کے اندر اکثریتی ” سنّی ” آبادی کے اندر فرقہ وارانہ جذبات کو پیدا کرکے اور ایران کا غیر معمولی خوف پیدا کرکے بے چینی کی فضا پیدا کی جائے گی اور اس مقصد کے لئے سعودیہ عرب ، مصر ، ترکی ، کویت وغیرہ کے فنڈز سے چلنے والے فرقہ وارنہ مشنز کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، وکی لیکس نے اس حوالے سے امریکی خفیہ مراسلوں کو عیاں کیا ہے جس میں یہ ساری تفیصل درج ہے ، جان آر بولٹن امریکی صدر اوبامہ کی داعش کے خاتمے کے لئے شام میں پالیسی کو ” سٹرٹیجک وژن ” سے خالی قرار دیتا ہے اور پھر یہ تجویز دیتا ہے کہ شام کے مشرقی علاقے میں ایک ” سلفی وہابی ” ریاست قائم کردی جائے ( میں نے جان آر بولٹن کی ٹرم ” سنّی ریاست ” استعمال کرنے سے دانستہ گریز کیا ہے کیونکہ ری پبلکن مڈل ایسٹ کے تناظر میں یہ ٹرم جب بھی استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی مراد ” وہابی ، سلفی ، اخوانی وغیرہ ہوتے ہیں جن پر شیخ ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے نظریات غالب ہیں جن کو ” جمہور سنّی آبادی ” مسترد کردتی آئی ہے اور آج بھی مڈل ایسٹ کی 90 فیصد سنّی آبادی اس کو مسترد کرتی ہے )  جہاں پر ایک حصّہ پر داعش قابض ہے تو دوسرے علاقوں میں ” نصرہ فرنٹ اور احرار الشام ” جیسی وہابی خارجی دھشت گرد تنظیمیں قابض ہیں جبکہ ترک کی سرحد سے ملحقہ کئی علاقوں میں اب کرد قوم پرستوں کی قائم کردہ عوامی کیمٹیوں کی عملداری قائم ہے – امریکی صدر اوبامہ کرد قوم پرستوں کے ساتھ ملکر داعش کے خلاف شام میں کاروائی کرنے پر زیادہ فوکس دئے ہوئے ہیں جبکہ امریکہ کے اتحادی سعودی عرب نے اپنا ہاتھ ” نصرہ فرنٹ اور احرارالشام ” پر رکھا ہوا ہے ، ترکی اگرچہ ” داعش ” کے خلاف زبانی بیان بازی کررہا ہے لیکن حقیقت میں وہ اب بھی مشرقی شام پر کردوں کے غلبے اور مشرقی شام کا کنٹرول ” کردستان ورکرز پارٹی ” کے بانی عبداللہ اوکلان کے خیالات سے متاثر وائی جے پی کے ہاتھوں میں جانے کا سخت محالف ہے –امریکی صدر اوبامہ کا بظاہر یہ خیال ہے کہ جس طرح شمالی عراق کے اندر کردستان کے قیام کا تجربہ امریکی مفادات کے لئے درست ثابت ہوا اسی طرح سے مشرقی شام کے اندر ” کردوں کے کنٹرول میں قائم ہونے والا علاقہ ” ایک بفر زون شامی رجیم – روس – ایران الائنس کے زیر کنٹرول شام اور ترکی کے درمیان کام کرے گا لیکن اس منصوبہ سے امریکہ کے اتحادی گلف ریاستیں اور خود ترکی بھی راضی دکھائی نہیں دیتے اور ری پبلکن کے اندر بھی اس کی مخالفت نظر آرہی ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ پینٹاگان کے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو مشرقی شام کے اندر بش انتظامیہ کے دور میں بننے والے شام کے اندر ایک ” سلفی وہابی ریاست ” کے قیام کے حامی نظر آتے ہیں

 

المانیٹر اخبار نے ترکی کے ایک کالمسٹ

 

Fahem Tastkien

 

کا ایک مضمون

 

Pakistan Warns Turkey: Don’t make our mistake

 

کے عنوان سے  شایع کیا ہے ، اس کالم میں ترکی کے فاہیم تاسکتین  نے بتایا ہے کہ امریکہ کے سابق جنرل مولن جو داعش کے خاتمے کے پروجیکٹ کا انچارج بن ہوا ہے ترکی میں 1500 سے 2000 نام نہاد اعتدال پسند باغی شامی فوج کی تربیت کرنے میں مصروف ہے اور یہ دو سال میں تیار ہوگی ، میں نے اسے نام نہاد ماڈریٹ فورس اس لئے کہا کہ اس کے جو سربراہ جنرل سالم ہیں وہ اپنے منہ سے ” نصرہ فرنٹ اور احرار الشام ” کی تعریف کررہے ہیں اور ان کے ساتھ اتحاد بھی بنائے ہوئے ہیں تو ایسی صورت حال میں نظر یہ آرہا ہے کہ مغربی حکومتیں ” داعش ” کی جگہ اپنی تابعدار ” سلفی وہابی ہلاکت خیز مشین ” کو بشار الاسد ہٹاؤ مہم میں ایک کارآمد پراکسی کے طور پر استعمال کرنے پر متفق ہیں جبکہ مڈل ایسٹ میں مغربی حکومتوں کے اتحادی سعودی عرب سمیت گلف ریاستیں اور ترکی و لبنان کی حکومتیں امریکہ کے اںدر ایسی لابنگ کرنے میں مصروف ہیں جس سے امریکی انتظامیہ مشرقی شام میں ایک سلفی سٹیٹ کے قیام پر راضی ہوجائے جو اس حظے میں وہی کردار ادا کرے جو سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کرنے کے بعد آل سعود کی سربراہی میں قائم ہونے والی وہابی ریاست نے ادا کیا تھا

جان بولٹن نے اپنے مضمون میں اس مجوزہ ” وہابی ریاست ” کو سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے فنانشل اور دیگر ضروری امداد پہنچانے کی تجویز دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ایسی ریاست امریکہ میں بابائے جمہوریت ” جیفری سن ” کے کی جمہوری ریاست کے تصور سے بالکل مختلف ہوگی ، یعنی اس کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ ریاست ایک آمرانہ اور غیر جمہوری ریاست ہوگی لیکن بشار ، پیوٹن ، روحانی کی حکومتوں کے اتحاد کو شکست دینے کے لئے یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا اور یہ مجوزہ فرقہ پرست ریاست شام ، لبنان میں درپیش امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو چیلنچز سے نبردآزما ہونے میں مدد دے گی

 

سامراجی طاقتیں ، ترکی ، سعودی عرب اور دیگر گلف ریاستیں شام ، عراق کی سنّی آبادی بشمول کردوں کو یہ فریب دینے کی کوششیں کررہی ہیں کہ وہ بشار الاسد کے خلاف ان کی آزادی کی جنگ لڑرہی ہیں جبکہ اس سے پہلے انھوں نے یہ فریب عراق کی شیعہ آبادی کو بھی دیا تھا کہ صدام کے خلاف ان کا سامراجی حملہ ان کو نجات دلادے گا اور مڈل ایسٹ میں انھوں نے سیکولر خیال کی قوتوں کو یہ فریب بھی دیا تھا کہ ان کا ” جمہوریت لانے ” کا پروگرام ان کو آمریتوں سے نجات اور ان کی شہری آزادیوں کی ضمانت لیکر آئے گا مگر ہوا اس کے بالکل برعکس ، مڈل ایسٹ ” وہابی تکفیری فاشزم ” کے شعلوں میں جل رہا ہے ، مصر ، تیونس ، شام اور یمن کی بہار عرب خزاں رسیدگی کا شکار ہوئی ہے اور فرقہ واریت کی قوتیں غالب آگئی ہیں اور ” سنّیوں ” کی نجات کا نعوہ دینے والوں نے ” سنّی آبادی ” کو داعش ، القائدہ ، نصرہ فرنٹ ، اور احرارالشام ” کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور اب جو داعش کے خلاف امریکہ ، نیٹو ، سعودی اتحاد اور ترکی کی فضائی کاروائیآں ہیں اس نے داعش کو نقصان کم پہنچایا وہاں کی سنّی ، شیعہ ، کرد ، عیسائی سویلین آبادی کی تباہی زیادہ کی ہے

 

رجب طیب اردوغان جن کی پروجیکشن کرنے میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، پنجاب کے وزیراعلی میاں محمد شہباز شریف تو آگے آگے ہیں ہی جبکہ ” جماعت اسلامی ” کا حلقہ بھی اپنے پاکستانی حلقہ اثر میں رجب طیب اردوغان کی پروجیکشن کرنے اور اسے عالم اسلام کا ” ہیرو ” بناکر پيش کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے ، اپنے پاکستانی حلقہ اثر کو یہ بتانے کی زرا کوشش نہیں کرتا کہ اردوغان نے ” داعش ” کی سپلائی لائن ترکی کو بنایا اور آج داعش شام میں جتنی طاقتور ہے اس میں رجب طیب اردوغان کا بڑا ہاتھ ہے اور ایک عرصہ کے بعد پھر سے کردوں کی جو نسل کشی ہورہی ہے اس میں طیب اردوغان کا بہت بڑا ہاتھ ہے ، پاکستان میں دائیں بازو کے جماعتی ، کئی ایک سلفی اور دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اسلامسٹ خود کو امریکی سامراج اور ان کے پاکستان و افغانستان میں حامیوں کا سب سے بڑا دشمن کہتے ہیں وہ رجب طیب اردوغان کی امریکی کیمپ اور نیٹو سے وابستگی اور ژڈل ایسٹ میں امریکی سامراج سے سٹریٹجک اتحاد پر ” پراسرار خاموشی ” اختیار کئے ہوئے ہيں اور شام و عراق و یمن کے سوال پر ان کی پوزیشن ” فرقہ وارانہ ” ہی نہیں بلکہ امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور نیٹو اتحاد سے مختلف نہیں ہے ، یہ دوغلی پالیسی ان کی ” نظریاتی نعرے ” بازی کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتی ہے ، کیا جماعت اسلامی کو نہیں معلوم کہ مڈل ایسٹ مين تکفیری فاشزم اور اس کے بطن سے جنم لینے والی داعش کی تخلیق کے زمہ داران مغربی حکومتوں کے ساتھ ساتھ گلف ریاستوں ، ترکی ، اردن ، لبنان وغیرہ کی حکومتیں نہیں ہیں جنھوں نے اپنی حکومتوں اور اقتدار کو باقی رکھنے کے لئے ” بہار عرب ” کو فرقہ پرستی کی تیز دھاری تلوار سے کاٹا ہے

 

رجب طیب اردوغان ترکی کے کالمسٹ فاہیم کے مطابق  طرح شام ، عراق ، لبنان سمیت مڈل ایسٹ تک ترکی ریاست کے اثر کو پھیلانے اور ” نئے ‏‏عثمانی ازم ” کا علمبردار ہے  اور وہ ترکی کا نام نہاد ” مرد مومن ” بننے کی کوشش کررہا ہے ، جیسے ضیاء الحق افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک کا ” ان داتا ” بننے کی کوشش کررہا تھا اور اس نے امریکی فنڈڈ ” جہاد افغانستان ” پروجیکٹ کے زیر سایہ ” تزویراتی گہرائی ” کی پالیسی تخلیق کی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ پہلے گلبدین حکمت یار نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے افغانستان کے کئی علاقے بشمول جلال آباد و کابل کو کھنڈرات میں بدلا اور جب وہ مطلوبہ ہدف نہ پاسکا تو اس کی جگہ ” طالبان ” تخلیق ہوئے اور پھر اس پورے خطے ميں علاقائی طاقتوں نے اپنے ” طالبان ” جنم دینے شروع کرڈالے اور پاکستان اس آگ ميں جلا اور ایک لاکھ کے قریب پاکستانی اس نام نہاد ” جہاد ” کی نذر ہوگئے

 

کالمسٹ فاہیم کہتا ہے کہ المانیٹر نے جب اسلام آباد میں سینٹر مشاہد حسین سے پوچھا تو اس نے کہا کہ انھوں نے ترکی کے وزیراعظم کو تنبیہ کی تھی کہ وہ مڈل ایسٹ میں وہ غلطی نہ دوھرائے جو پاکستان نے افغان وار کے دوران کی تھی اور رجب طیب اردوغان کو “دوسرا ضیاء الحق ” بننے سے منع کیا تھا ، لیکن صاف نظر آتا ہے کہ رجب طیب اردوغان اس نصحیت پر عمل کرنے سے دور نظر آرہے ہیں

 

پیرس حملوں کے بعد روس ، ترکی ، فرانس کے درمیان فاصلے کم ہونے کی جو امید پیدا ہوئی تھی وہ ترکی کے روسی طیارہ مارگرانے سے ختم ہوگئی ہے اور امریکی میڈیا اور گلف ميڈیا سے مڈل ایسٹ میں ” نئی سردجنگ ” کی شروعات سے تعبیر کررہا ہے اور مجھے کارل مارکس کی بات یاد آرہی ہے جو اس نے ” لوئی بونا پارٹ کی اٹھارویں برومیئر ” کے آغاز میں لکھی تھی کہ

ہیگل نے کہا تھا کہ تاريخ اپنے آپ کو دوھراتی ہے مگر میں کہتا ہوں کہ تاریخ اپنے آپ کو دوھراتی تو ضرور ہے مگر پہلے وہ ” ٹریجڈی ” یعنی المیہ ہوتی ہے اور دوھرائی کے وقت وہ ” کامیڈی ” یعنی ” طربیہ ” ہوا کرتی ہے – تاریخ ترکی اور رجب طیب اردوغان کے باب میں ” نیو ‏عثمانی ازم ” کے نعرے کی شکل میں دوھرانے کے دوران سوائے ” مضحکہ خیزی ” کے کچھ بھی نہیں ہے اور جسے ‘ سرد جنگ دوئم ” کہا جارہا ہے وہ بھی ” طربیہ ” ہے –مڈل ایسٹ میں برسرپیکار طاقتوں نے اپنی اپنی تاریخ کے سورماؤں / ہیروز کے کاسٹیوم پہن رکھے ہیں اور وہ اپنی عوام کو ” نجات دھندہ ” بناکر پیش کررہے ہیں – شام کی عوام کو نجاہت دلانے کا امریکہ ، برطانیہ ، سعودی عرب ، ترکی اور دیگر ملکوں کی حکومتوں کا ایجنڈا ڈھائی لاکھ شامیوں کی بلی لے چکا ہے اور دس لاکھ سے زیادہ شامیوں کو مہاجر کیمپوں میں لاکر پھینک چکا ہے اور جو شام کے
کنفلکٹ زون ” میں ہیں ان پر جنگی جہازوں کی بمباری کا عذاب اترا ہوا ہے اور یہ بم اگر ان کو نہ ماریں تو داعش کے جلادوں کی چھری ان کو ذبح کرڈالتی ہے ، یمن کو نجات دلانے کا سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا حملہ یمن کے سارے انفراسٹرکچر کی تباہی کا سبب بن گیا ہے ، عام عرب ، کرد سب کے سب بس مر رہے ہیں یا ” مہاجر ” ہونے پر مجبور ہیں –نجات کا یہ خوفناک تصور ہے جو ری پبلکن نے پہلے افغانستان پر اور پھر عراق پر حملے کے دور سے متعارف کرایا تھا اور اس کے مقابلے میں نجات کا دوسرا تصور نام نہاد جہادیوں نے متعارف کرایا جس کی خوفناک تعبیر کا خمیازہ سنّی ، شیعہ ، کرسچن ، یزیدی ، کرد سب نے بھگتا ہے اور اب یہ مشرقی شام کے اندر ” سلفی ریاست ” کے قیام کو ” نجات ” کا ” صائب راستہ ” بتلانے پر تلے بیٹھے ہیں اور مسلم معاشروں میں درندوں نے کہیں محمد بن عبدالوہاب ، کہیں شیخ ابن تیمیہ ، کہیں مختار ثقفی ، کسی نے صلاح الدین ایوبی تو کسی نے نورالدین زنگی ، کسی نے مسلم بن عقبہ کا کاسٹیوم پہن رکھا اور کوئی سنّیوں کی نجات کی دھائی دیتا ہے تو کوئی شیعہ کی ، کوئی خود کو یزیدیوں کے غم میں گھلا بتلاتا ہے تو کوئی کردوں کے اور سب کی اصل ” سامراج اور اس کے اتحادیوں ”  کی پراکسی سے زیادہ کچھ نہیں ہے

http://www.nytimes.com/2015/11/25/opinion/john-bolton-to-defeat-isis-create-a-sunni-state.html?ref=world

http://www.al-monitor.com/pulse/originals/2015/03/turkey-pakistan-friendly-warning-mistakes.html#

 

امریکی خفیہ مراسلے : شام کیسے لہو رنگ ہوا-آخری حصّہ

130223174704-78-syria-unrest-horizontal-large-gallery

آخری حصّہ

فروری 21 ، 2006ء کا ایک مراسلہ بتاتا ہے

پس پردہ رابطے ( شام میں امریکی سفارت خانے کے روابط ) امریکی حکومت کی جانب سے شامی حزب اختلاف کے لئے 5 ملین ڈالر کی امداد کے اعلان کی مذمت کررہے ہیں اور اسے ‘ سادہ لوحی اور نقصان دہ قرار دے رہے ہیں – روابط نے زور دیا کہ اس بیان نے اپوزیشن کو پہلے ہی نقصان پہنچایا ہے اور شامی حکومت اپنے مخالفوں کو اب مزید امریکی ایجنٹ کہہ کر بے اعتبار بنائے گی – کئی ایک روابط نے زور دیا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ نے اپوزیشن کی پرواہ نہیں کی بلکہ انہیں اس گھیل میں ایک چپ کے طور پر استعمال کیا – 2006 ء کے امریکی مراسلے اور اس کیبل کو ملاکر  دیکھا جائے تو امریکہ کے شامی روابط کا یہ تجزیہ غلط نہیں تھا

فروری 2006ء کا مراسلہ مزید وضاحت کرتا ہے

بساّم اشک ایک شامی نژاد امریکی ایکٹوسٹ جس نے 2003 ء میں پیپلز اسمبلی میں آزاد امیدوار کی خثیت سے حصّہ لیا نے کہا کہ

سول سوسائٹی اور اپوزیشن کے ساتھوں میں یہ عمومی اتفاق رائے ہے کہ امریکی حکومت ہمارے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے اور ہماری مالی مدد کے بارے میں پبلک اعلان اپوزیشن کی حثیت کا کوئی لحاظ نہ کرتے ہوئے شامی حکومت پر دباؤ کے سواء کچھ بھی نہیں ہے – اس گیم میں ہم صرف ایک چپ ہیں

یہاں پر خود امریکہ کے شام میں سفارت خانے نے اپنے روابط کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ کی جانب سے شامی حزب اختلاف کو فنڈنگ کرنے کے پبلک اعتراف نے ان پر حکومتی دباؤ بڑھا ریا ہے اور ان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور ان کا خیال تھا کہ اگر یہ پبلک بیان نہ آتا تو ان کی ساکھ بھی برقرار رہتی اور شام کے اندر زیبادہ شراکتی حکومت میں ان کی شمولیت کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا لیکن بعض ناقدین کا یہ بھی خیال تھا اگر امریکی ایسا نہ کرتے تو خود شامی حکومت اس کا سراغ لگالیتی اور ایسی صورت میں شامی اپوزیشن کی امداد کے صیغہ رراز میں رہنے نہ رہنے کا سوال بے معنی ہوکر رہ جاتا

ایک اور ناقد نے کہا کہ امریکہ تو پہلے ہی خفیہ طور پر شامی اپوزیشن کی مدد کررہا تھا : ممبر پارلیمنٹ نومر الغنیم جئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور نے فنڈنگ پلان کو سیاسی سٹنٹ کہہ کر مسترد کردیا اور کہا کہ جو رقم مختص کی گئی ہے وہ بہت تھوڑی ہے اس سے جو امریکہ پہلے ہی خفیہ طور پر اپوزیشن کو دے رہا ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں ہے – نیا قدم بھی کوئی تبدیلی نہں لائے گا – اس کے خیال میں اس اعلان نے شامیوں کو غضہ دلایا ہے جنھوں نے اسے شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا ہے – یہ ایسی ہی مداخلت ہے جیسی امریکہ ہمیشہ سے شام کو لبنان کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلنے پر زور دیتا رہا ہے – الغنیم کا کہنا تھا کہ امریکہ شامی حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں اور آہستہ آہستہ ملک کو مکمل جمہوریت کی طرف لیجانے والے پروسس کی حمایت کرنی چاہئیے نہ کہ اس پروس میں روکاوٹ ڈالنی چاہئیے

اپریل 28، 2009ء  امریکی خفیہ مراسلہ ” رويے میں اصلاح : ہیومن رائٹس کے لئے اگلی حکمت عملی ” – پالیسی ریویو کے ایک پیریڈ سے لیکر جس میں نئی اوبامہ ایڈمنسٹر؛یشن شام کی طرف کم حریفانہ پالیسی کو دریافت کررہی تھی – شام میں امریکی فنڈڈ سول سوسائٹی کی پیش بندی ، نے تسلیم کیا کہ بی ہیور ریفارم پروگرام کے برخلاف  بعض پروگرام  کو پبلک کیا گیا تاکہ اسد حکومت کو کمزور کیا جاسکے- یہ بھی بیان کیا گیا کہ شامی حکومت کا بلاشک و شبہ یہ خیال تھا کہ امریکی امریکہ کی کالعدم سیاسی گروپوں کو فنڈنگ شامی حکومت کو گرانے کے لئے کی جارہی ہے – اس فنڈنگ میں تارکین وطن شامیوں کے کچھ ایسے گروپ بھی شامل تھے جن کا شامی سول سوسائٹی یا ہیومن رائٹس کی تحریکوں پر کوئی اثر نہیں تھا – اس مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا جو ایو ایس – مڈل ایسٹ پارٹنرشپ انشی ایٹو – ایم ای پی آئی تھا اس نے آٹھ بڑے شام سے خاص انی شیٹو کو سپانسر کیا جن کا سلسلہ 2005ء تک جاتا ہے اور ان پروگراموں کو 12 ملین ڈالر 201ء ستمبر تک ادا کئے گئے

ان انی شیٹو میں سے درج ذیل کا زکر کیا گیا : ڈیموکریسی کونسل آف کیلی فورنیا ، سول سوسائٹ؛ی سٹرینتھننگ انی شیٹو – سی ایس ایس آئی ( ستمبر 2006ء – ستمبر 2010ء  6،300،562، ڈالر ) ، سی ایس ایس آئی ایک مشترکہ پروگرام تھا جو ڈیموکریسی کونسل اور مقامی شراکت داروں نے ملکر شروع کیا اور انہوں نے اعلامیہ دمشق تیار کیا اور ایک ویب سائٹ ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ڈاٹ ندائے سیریا ڈاٹ اوآرجیاور کئی براڈکاسٹ کانسپٹس آن آئر کرنے کے لئے تیار کئے اپریل میں

فروری 7، 2010ء کیبل ، ہیومن رائٹس اپ ڈیٹس – شامی حکومت زرا سی پیچھے ہٹی ہے مگر زیادہ نہیں ” اشارہ دیتا ہے کہ بہت سے براڈکاسٹ کانسپٹس شامی اپوزیشن کے ایک سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک برادہ ٹی وی کو فراہم کئے گئے – برادہ ٹی وی کو فروری 2010ء کا امریکی خفیہ مراسلہ ایم ای پی آئی ( امریکہ کا شام کے حوالے سے ایک فنڈڈ پروجیکٹ ) سے حمایت شدہ بتاتا ہے – اور اس میں کہا گیا کہ آکر شامی حکومت کو پختہ یقین ہوجاتا ہے کہ امریکہ برادہ ٹی وی کو فنڈنگ جاری رکھے ہوئے ہے تو وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ امریکہ کا  شام کی حکومت  رویہ  خفیہ ، جارحانہ انداز کے ساتھ ہے – لیکن اپریل 2009ء کا امریکی خفیہ مراسلہ یہ پہلے ہی بتا چکا تھا کہ امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی فنڈنگ کالعدم سیاسی گروپوں کو رجیم تبدیلی کی کوشش سمجھی جائے گی اور امریکہ جو کم معاندانہ پالیسی شام سے اپنانا چاہتا ہے اسے امریکہ کی یو ایس سپانسرڈ سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس پروگرامنگ کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کیا جائے گا اور یہ ایک ایسا کور ایشو تھا جو امریکہ شام کے حوالے اپنی ہیومن رائٹس سٹریٹجی کے حوالے سے فیس کررہا تھا

اپریل 2009ء کا مراسلہ  بتاتا ہے

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا بیورو آف ڈیموکریسی ، ہیومن رائٹس اینڈ لیبر ا‌فئیر کی اکثریت اور ایم ای پی آئی پروگرامز امریکہ کے عزائم کی طرف شامی حکومت کے شکوک میں اضافہ کرتے ہیں – اگر ہم شام سے انسانی حقوق پر اپنے مذاکرات کو کامیاب دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو ہمیں شام کے ساتھ ملکر غیر دھمکی انداز میں کام کرنا ہوگا

یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل میں جس پالیسی شفٹ کی بات کی گئی تھی وہ کبھی نہیں ہوئی – اور 2009ء میں ہی امریکی سفارت خانے نے کہا تھا کہ امریکی سرگرمیاں شام کے حوالے سے شامی حکومت کو پتہ چلیں تو امریکہ کے ساتھ اس کے مذاکرات طے نہیں ہوسکیں گے

جولائی 2008ء کا امریکی سفاارتی مراسلہ بارے شامی اپوزیشن ، دھندلے اتحاد : اخوان المسلمون ، تحریک برائے انصاف و جمہوریت ، اور اعلامیہ دمشق ، ” پریشان کن حقیقت تازہ ترین معلومات سے یہ پتہ چلی کہ شامی حکومت ایم جی ڈی کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اسے امریکی حکومت کا حساس ترین پروگرام برائے شام پتہ چل چکا ہے – مراسلہ اس ایشو پر مزید بات یوں کرتا ہے

ایم جے ڈی : شگاف شدہ کشتی

ہشتم : (س ) اعلامیہ دمشق کے رکن فواز طلوع نے ہمیں ماضی میں بتایا تھا کہ تحریک برائے جمہوریت و انصاف ( ایم جے ڈی ( نے اپنی سیکورٹی ڈھیلی رکھی ہے اور انتہائی حساس ایشوز پر یہ اکثر کھلے عام بات کرتی ہے —— آخری نکتہ ایک قانون دان / صحافی اور انسانکی حقوق کی کارکن رضان زیتونہ کی ایک رپورٹ سے متعلقہ ہے جو کہ ہم سے یکم جولائی کو ملی اور اس نے وہ گفتگو ہم سے ڈسکس کی جو کہ اس سے سیکورٹی سروسز نے 29 جون کو کی تھی

نہم : ( ایس / این ایف ) زیتونہ نے ہمیں بتایا کہ سیکورٹی سروسز نے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ ہماری فارن منسٹری کے کسی آدمی سے ملی ہے ؟ اور کسی بھی ایسے آدمی سے جس کا تعلق ڈییموکریسی کونسل سے ہو ( ایم جی ڈی اور برادا ٹی وی کے لئے امریکی فنڈنگ وصول کرنے والی آرگنائزیشن ) – [  کامنٹ : سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ فارن افئیر آفیسر جوزف براوفٹ حال ہی میں شام میں تھا اور وہ زیتونہ سے ملا تھا ؛ ہمارا خیال ہے کہ شامی حکومت نے معلومات کے لئے اسے چارے کے طور پر استعمال کیا – براوفٹ شام کے دورے پر گیا تو اس وقت جم پرنس بھی 25 فروری کو دمشق میں موجود تھا اور ہماری انڈرسٹینڈنگ ہے کہ وہ وہ اس وقت زیتونہ سے ملا یا اس نے ایسا الگ سے دورے کے دوران کیا –  تبصرہ ختم شد ) اس نے یہ بھی مزید کہا کہ پوچھ تاچھ کرنے والوں نے اس سے براوفٹ بارے نام لیکر نہیں پوچھا لیکن انہوں نے جم پرنس کا نام لیا – [جم پرنس دیموکریسی کونسل کا سرابرہ ہے ]  یازدہ – ( ایس / این ایف ) : زیتونہ کی رپورٹ یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ شامی حکومت شام میں ڈیموکریسی کونسل بارے کتنے عرصے سے واقف ہے اور اور ایم جی ڈی کی اس میں شرکت سے کب سے واقف ہے ؟ یہ رپورٹ دوسرے معنوں میں یہ بھی بتاتی ہے کہ شامی ” مہا بھارت ” شاید پہلے ہی ایم جے ڈی میں داخل ہوچکی ہے اور ایم جے ڈی کے رابطوں کو امریکی جمہوری پروگرامنگ کو ٹریک کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے

 

 

ستمبر 23، 2009ء مراسلہ ، ” مینوں نوٹ وکھا ! شامی حکومت کو امریکی فنڈنگ کا شک ہے ،” یہ مزید اس بات کا ثبوت ہے کہ شامی حکومت امریکہ جو فنڈنگ کررہا ہے اس سے باخبر ہے

اول : ( ایس / این ایف ) خلاصہ : شامی حکومت ، گزشتہ چھے سال

شامی سیکورٹی ایجنٹوں کی شام اور خطّے میں امریکی پروگرامنگ بارے  سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس کارکنوں سے پوچھ گچھ بڑھتی جارہی ہے اور اس تفتیشش میں یو ایس سپیکر اور ایم ای پی آئی انی شیٹو بارے سوالات بھی شامل ہیں – اس کے علاوہ پوچھ تاچھ کرنے والوں نے شامی مرکز برائے آزادی اظہار و میڈیا اور امریکی حکومت فنڈڈ آی ثی آے این اے پریس کے ڈائریکٹر اور ملازمین سے بھی پوچھ پڑتال کی ہے اور انسانی حقوق کے وکیل محمد الحسنی کے خلاف مزید الزامات لگائے گئے ہیں جو کہ غیرقانونی طریقہ سے امریکی فنڈنگ کے الزام میں نظربند ہیں اور اس سے شامی حکومت کی جانب سے انوسٹی گیشن میں سنجیدگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

دوم – ( ایس / این ایف ) گزشتہ چھے ماہ سے سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے سیکورٹی افسران نے جو سوالات کئے ہیں اس میں انہوں نے خاص طور پر ان کے امریکی سفارت خانے اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے روابط بارے پوچھا ہے – جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ رضان زیتونہ نے جون میں اپنے ساتھ ہونے والی انٹروگیشن بارے بتایا تھا جس کے دوران اس سے ایم ای پی آئی فنڈڈ ڈیموکریسی کونسل کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آفیشل بارے بھی پوچھا گیا تھا – کردش فیوچر موومنٹ کی کارکن ہروین اوسے سے اگست میں پوچھ گچھ کی گئی اور اس سے بھی غیر ملکی سفارت خانوں سے فنڈنگ بارے پوچھا گیا – ایم ای پی آئی سے گرانٹ لینے والے عبدالسلام نے بتایا کہ حال ہی میں اس کے ایک ایمپلائی کو 4 ستمبر کوبلایا گیا جس میں سیکورٹی ایجنٹس نے اس سے آٹھ ماہ قبل ای ای پی آئی فنڈ سے ہونے والے “ّپی آئی این ” پراگ سیمنار میں شرکت بارے سوال کیا گیا

چہارم ( سی ) انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے شامی نژاد وکیل مہند الحسنی کے کیس نے ایک اور برا ٹرن لیا ہے کہ اس کے خلاف شامی حکومت نے ایک اور نیا الزام لگایا ہے – 18 ستمبر کو الحسنی کی ساتھی کیتھرائن التعالی نے ہمیں ایک ای میل روانہ کی جس میں بتایا کہ ملزم حسنی نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اس کو امریکی حکومت کی فنڈنگ قاہرہ میں موجود اندلس سنٹر کے زریعے سے ملتی تی ۔۔۔۔۔۔ قاہرہ میں امریکی سفارت خانے نے ہمیں خبر دی ہے کہ یہ سنٹر اب سفارت خانے یا ایم ای پی آئی سے کوئی امداد نہیں لے رہا اگرچہ پہلے یہ لیتا رہا ہے

ہشتم – ( ایس / این ایف ) تبھرہ : یہ اب بہت واضح ہوچکا ہے کہ شام کی انٹیلی جنس سروسز یہ سمجھ گئے ہیں کہ امریکی حکومت کیسے شام میں پیسہ داخل کرتی ہے اور وہ کیسے اس کی آلہ کار ایجنسیوں تک پہنچتا ہے – جو بات صاف ہے تاہم یہ ہے کہ سیکورٹی ایجنٹس اب زیادہ سے زیادہ  اس ایشو پر فوکس دوران تفتیش رکھے ہوئے ہیں – اور وہ زیادہ سے زیادہ خاص ناموں پر اپنا فوکس رکھنے میں بھی کامیاب ہورہے ہیں – یہ الزام کہ حسنی امریکی حکومت سے فنڈنگ اندلس سنٹر کے زریعے سے وصول کررہا ہے پریشان کن ہے اور یہ بتاتا کہ شامی حکومت خاص طور پر ایم ای پی آئی کے آپریشن کے اندر داخل ہوچکی ہے  

 

فروری 7 ، 2010ء مراسلہ پہلے ” ہیومن رائٹس اپ ڈیٹس میں یہ بتا چکا تھا کہ شامی حکومت تھوڑا سا ہلی ہے مگر زیادہ نہیں اور اس نے یہ بھی بتایا کہ شامی حکومت برادا ٹی وی کو امریکی فنڈنگ سے واقف ہوچکی ہے

 

برادا ٹی وی : روشنی میں نہائی شامی اپوزیشن

نہم – ( س ) دمشق سے تعلق رکھنے والے ایم ای پی آئی فنڈڈ برادا ٹی وی کے ڈائریکٹر سھیر اتاسی نے دسمبر 23 کی ملاقات میں چینل کو درپیش کئی ایک چیلنچز پر روشنی ڈالی

دہم – (س ) اتاسی نے ان رپورٹس کی تصدیق جس میں ہم نے دوسرے رابطوں سے سنا تھا کہ شامی حکومت برادا کے پیچھے فنانشل اور سیاسی سپورٹ میں گہری دلچسپی لے رہی ہے اور سیکورٹی ایجنٹس نے اس کو اکتوبر میں بلایا اور اس سے بار بار اس کے امریکی سفارت خانے  سے تعلق اور جم پرنس سے شناسائی بارے سوال کیا – اگر شامی حکومت کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ برادا ٹی وی کو امریکی مسلسل فند کررہے ہیں تو اسے يہ یقین بھی ہوجائے گا کہ امریکی حکومت خفیہ طور پر شامی حکومت کے خلاف سرگرم اور اس کا رویہ اس کے خلاف جارحانہ ہے – حال ہی میں شامی حکومت نے امریکہ کی آپریشن کاسٹ لیڈ اینڈ گولڈ سٹون رپورٹ پر پوزیشن کو استعمال کیا ہے اور ہیومن رائٹس پر مذاکرات بند کردئے ہیں ، اسی طرح  یہ برادا ٹی وی کے ایشو کو استعمال کرتا ہوا ہماری ساکھ کو مسترد کرتے ہوئے یہ سب ختم کردے گا  

جولائی سے ستمبر 2009ء تک اور پھر فروری 2010ء کے شام بارے امریکی سفارتی مراسلے اسی سچوئشن بارے بات چیت کررہے ہیں جس بارے اپریل 2009ء میں امریکی خفیہ مراسلے میں خبردار گیا گیا تھا کہ شامی حکومت کو امریکی فنڈنگ کا پتہ چل جائے گا لیکن ان مراسلوں میں 2009ء کے مراسلے کی وہ بات زیر بحث نہیں آئی کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے کہ شامی حکومت سے امریکی حکومت کے کم مزاحمتی رویہ کے ساتھ مذاکرات اور شامی حکومت سے رابطے ختم ہوجائیں گے ، اس لئے امریکی فنڈنگ کو نئی انگیجمنٹ پالیسی سے مطابقت میں لانے کی ضرروت ہے – ان سفارتی مراسلوں سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ بش ایڈمنسٹریشن کی 2005ء میں جو پالیسی تھی

اس سے اوبامہ انتظامیہ کی شامی حکومت کے سوال کے حوالے سے جو پالیسی تھی وہ قدرے بدلی ہوئی تھی اور اس بدلاؤ کو عوام کے اندر زیادہ مشتہر نہیں کیا گیا تھا – امریکہ نے شامی اپوزیشن کو فنڈ کرنا جاری رکھا اور ان کو یہ یقین تھا کہ اگر شامی حکومت اس سے واقف ہوئی تو اسے پتہ چل جائے گا کہ امریکہ انگیجمنٹ پالیسی میں سنجیدہ نہیں ہے ؛ امریکہ نے ان سرگرمیوں کو فنڈ کرنا جاری رکھا جبکہ ان کے علم میں یہ آرہا تھا کہ شامی حکومت زیادہ سے زیادہ اس بارے میں معلومات حاصل کرتی جارہی ہے – جب یہ فنڈنگ پبلک کو پتہ چلی تو امریکی حکومت نے اس بات سے انکار کیا کہ اس فنڈنگ کا مقصد حکومت گرانا ہے لیکن اب ہم امریکیوں کی اندرونی کمیونیکشن سے یہ بات جانتے ہیں کہ امریکیوں کے اس انکار کی شامی حکومت کے نزدیک کوئی حثیت نہ تھی

یہ بات ایک اور سوال کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اوبامہ ایڈمنسٹریشن کس حد تک اپنی پالیسی کو انگیجمنٹ کی طرف شفٹ کررہی تھی اور کتنا زیادہ اس نے اپنی پالیسی کو اس طرف موڑا جبکہ سعودیہ عرب اور دوسرے ممالک 2011ء میں ہی کھلے عام ” اسد حکومت گراؤ” پالیسی اختیار کرچکے تھے – حقیقت یہ ہے کہ جیسے ہی امریکی انۃطامیہ نے پالیسی شفٹ کا اعلان کیا ویسے ہی سعودی عرب اور دوسرے ممالک نے ” اسد حکومت گراؤ ” پالیسی کا دروازہ کھول دیا جبکہ امریکہ نے اس حقیقت کو چھپاتے ہوئے ایک اور علط کہانی اپنی عوام کو سنائی کہ امریکہ نے شامی حکومت سے ملکر شام کے اندر مسائل کے حل کی تلاش کی مگر جب 2011ء میں شامی حکومت نے اپنے خلاف ہونے والے احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تو امریکہ کے پاس کوئی اور گنجائش نہیں رہ گئی تھی کہ وہ اپنی پالیسی بدل ڈالے

لیکن امریکہ کے خفیہ سفارتی مراسلوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ امریکہ کبھی بھی شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی میں سنجیدہ نہ تھا – ایک طرف یہ شامی حکومت کے ساتھ رابطے کی پالیسی رکھتا تھا تو دوسری طرف یہ حکوم گراؤ پالیسی پر بھی عمل پیرا تھا –ایرانی حکومت نے اپنے ہاں اٹھنے والی احتجاجی لہر کے خلاف 2009ء میں کریک ڈاؤن کیا لیکن امریکی حکومت نے ایرانی حکومت سے اپنے رابطے مکمل منقطع نہیں کئے ، شاید ان کو یہ خطرہ تھا کہ ایرانیوں سے مکمل انقطاع کی قیمت بہت زیادہ ہوگی اور ایران یورینیم افزدوگی مزید تیز کردے گا اور ڈپلومیسی ناکام ہوئی تو اوبامہ پر ایران کے خلاف فوجی کاروائی کا دباؤ مزید بڑھے گا اور شامی حکومت بارے شاید ان کا کمان یہ تھا کہ وہ امور اس کے اتحادی طاقت سے آسانی سے اسے ہٹانے میں کامیاب ہوجائین گے اور ایرانی حکومت بھی  اس میں اپنا کردار ادا نہیں کرسکے گی

یہ بات حان لینے کے بعد کہ امریکہ نے کبھی بھی شام میں حکومت گرانے کی پالیسی ترک نہیں کی تھی ہمیں باخر کرتا ہے کہ آج کے شام میں امریکی فوجی مداخلت کا سوال کیا ہے ؟ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ امریکہ حالات کا مارا ہوا نہیں ہے کہ اسے طاقت کا استعمال اس لئے کرنا پڑرہا ہو کہ ڈپلومیسی کا راستہ بند ہوگیا تھا بلکہ امریکہ ان حالات کا گرفتار ہے جن کو پیدا کرنے میں خود اس نے مدد دی ہے کہ یہ کئی سالوں سے ” اسد حکومت گراؤ ” کی پالیسی پوری طاقت سے چلارہا تھا جبکہ اس نے ” سفارت کاری ” کے چینل کو کبھی پوری طرح سے استعمال ہی نہیں کیا

Copyright of (2015) of Robert Naiman. Not to be reposted without permission of the publisher, Verso Books.

Source : http://www.truth-out.org/progressivepicks/item/33180-wikileaks-reveals-how-the-us-aggressively-pursued-regime-change-in-syria-igniting-a-bloodbath

 

امریکی خفیہ مراسلے : شام کیسے لہو رنگ ہوا -تیسرا حصّہ

130223174704-78-syria-unrest-horizontal-large-gallery

یہ تسلیم کرنے میں ناکام رہنا کہ امریکہ کے حریفوں کے تحفظات ریشنل ہیں یہ ایک ایسے عالمی نظریہ کو سامنے  لاتے ہیں  جس میں امریکی دھمکیاں نارمل ، ناقابل زکر اور ایک لینڈ سکیپ کا ناگزیر حصّہ ہیں جن پر صرف دماغی طور پر بیمار لوگ ہی اعتراض کرسکتے ہیں اور ان کے تحفظات ہی ان کی نامعقولیت کا ثبوت بن جاتے ہیں – 1980ء میں امریکہ کی نکاراگوا کے خلاف منظم کانٹرا وار کے دوران ایک یو ایس کانگریس مین کے نکاراگوا کے بارے میں خیالات کے  الیگزینڈر کوک برن یوں یاد کرتا ہے

نکاراگوا کے باشندے ان امریکی فیکٹ فائنڈرز کے بارے میں ایک حاص قسم کی کجرو بے اعتباری کے ساتھ کہانیاں سناتے ہیں – ایک کانگریس مین نے ایک سردار کو کانٹرا کے دیوانہ وار قتل عام بارے بات کرتے سنا اور پھر وہ پھٹ پڑا ، ‘ فرض کرتے ہیں 5000 کانٹرا آپ کا باڈر کراس کرتے ہیں ، تمہارے اوپر پوری ہنڈراس کی فوج حملہ آور ہوجاتی ہے ، تو تم کیوں پریشان ہوتے ہو ، کیا تم غیر محفوظ ہو ؟ اسی طرح روئے بک بھی اقتصادی اصطلاحات کو ایک کمزوری ( جس کو بنیاد بناکر حملہ کیا جاسکے ) کے طور پر نشان زد کرتے ہوئے لکھتا ہے

   کمزوری

اصلاح پسند فورسز بمقابلہ اہلیان بعث – دوسرے بدعنوان اشراف

بشار بتدریج اقتصادی اصلاح کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور یہ یقینی طور پر ممکن ہے کہ اسے یقین ہے کہ شام کے لئے یہ اس کا ورثہ ہے – شامی تارکین وطن کی جانب سے شام میں سرمایہ کاری دوبارہ کرنے کے لئے یہ محدود اور غیر موثر اقدام ہیں لیکن انہوں نے بڑھتے ہوئے کھلے پن کے بارے میں ایک ابہام کو جنم دیا ہے تو ایسے طریقہ کار کی تلاش جس سے بشار کے اصلاحی کوششوں پر عوام کے اندر قابل اعتراض ٹھہرادیا جائے – مثال کے طور پر اس کے ریفارم ایجنڈے کو کرونی ازم ( اقرباء پروری ) کے لئے ایک نقاب ٹھہرادیا جائے ( تو یہ امریکی مقصد کو آگے بڑھانے میں مدد کرے گا )  یہ بشار الاسد کو خفت سے دوچار کرے گا اور اس کے جواز حکمرانی حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مددگار ہوگا

بظاہر یہ مانتے ہوئے کہ اقتصادی اصلاحات کا ایک مقصد شامی تارکین وطن کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا تھا تو تو اگر ان کا کوئی اثر تھا تو پھر وہ غیر موثر تو نہ تھے – یہ ایک مرتبہ پھر واضح کرتا ہے کہ روئے بک کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ، اس کو شام کی اقتصادی اصلاحات کی نجی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے سے کوئی دلچسپی یا لگاؤ نہیں تھا بلکہ اسے تو ان کی ناکامی میں دلچسپی تھی – اگر ان سے کسی بہتری کی امید بھی پیدا ہونے کا امکان ہوتا تو وہ اسے ناکام کرنا چاہتا تھا اور وہ ان کوششوں کو برباد کرنا چاہتا تھا تاکہ بشار الاسد اس کو اپنے اقتدار کے جواز کے لئے استعمال نہ کرسکے

جواز جکمرانی امریکی حکومت کی ان ملکوں کی  اپنی حریف حکومتوں  جن سے اسے کوئی فوجی خطرہ نہیں ہوتا کے بارے میں بنائی پالیسی کی اہم کلید ہے – امریکی خارجہ پالیسی کے تناظر میں ” جوآز حکمرانی ”  اس آرٹ کی ایک ٹرم ہے جس کے خاص معانی ہیں –بین الاقوامی قانون یا سفارت کاری میں ” جائز حکومت ” کی عمومی اصطلاح جسے امریکہ کسی بھی سوال کے بغیر اپنے اتحادیوں کی حکومتوں پر منطبق کرتا ہے اس کا اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ آپ اس حکومت کی پالیسیوں کو پسند کرتے ہیں یا نہیں یا ان کو جائز تصور کرتے ہیں یا نہیں – آیا آپ اییسی حکومت ہیں جس کو تسلیم کیا جارہا ہو اور وہ اقوام متحدہ کی رکن ہو یا آپ ایسے نہیں ہو – واشنگٹن میں کوئی ایسا آدمی مشکل سے مہے گا جوکہ سعودی عرب ، بحرین ، اردن یا اسرائیل کو ناجائز حکومت کہے اس بنا پر کہ ان کو ان کی عوام نے منتخب نہیں کیا یا وہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں – نہ ہی واشنگٹن میں آپ کو ایسے لوگ اب کثرت میں ملیں گے جو روس یا چین کی حکومتوں کو ان کے ہآں جمہوریت کی کمی کی وجہ سے قانونی جائز حکومتیں ماننے سے انکاری ہوں  –  یہ ممالک ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں – اور ان کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل نشستیں ہیں اور ویٹو کا حق ان کے پاس ہے تو ان کے جواز حکمرانی کو چیلنج کرنے کے حطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں –  امریکہ ان کی پالسیوں پر شکایت تو کرساکتا ہے لیکن ان کے جواز حکمرانی کو چیلنج کرنے کا کوئی چانس نہیں ہے

ممالک جیسے شام ، عراق ہیں وہ 2003ء  میں امریکی حملے سے پہلے اور لیبیاء وہ 2011ء میں امیکی – نیٹو کی قذافی گراؤ مہم سے پہلے ایک مختلف کیٹگری کے ممالک سے تعلق رکھتے تھے – اگر امریکی حکومت کو یہ خیال ہوتا کہ ان ملکوں کی حکومتوں کو کرایا جاسکتا ہے تو وہ ان کو اسی وقت ” جواز حکمرانی ” سے محروم حکومتیں قرار دے ڈالتے – امریکہ کا کسی حکومت کو ” غیر قانونی ” قرار دینے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس کو گرانے کی کوشش کرے گا

روئے بک اس نکتہ کو ایسے بیان کرتا ہے

گلف سے براہ راست فارن انوسٹمنٹ کی حوصلہ شکنی

شام گوشتہ دو سال سے برہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ژزے لوٹ رہا ہے اور اب اس میں مزید اصافہ ہونے کے آثار ہیں – اور سب سے اہم یہ ہے کہ یہ ایف ڈی آئی بلاشک و شبہ گلف ریاستوں سے آرہی ہے

روئے بک کا یہ تسلیم کرنا کہ شام کے اندر سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے اس بات کا ثبوت تھا کہ اقتصادی اصلاحات کام کرتے ہوئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کررہی تھیں – لیکن روئے بک اس کو برا شگون مانتا ہے – اگر زیادہ ایف ڈی آئی گلف ممالک سے ہورہی تھی جیسا کہ اس نے بتایا تو امریکہ اور شام کے منحرف سابق نائب صدر خدام کے دعوؤں کے برعکس یہ بات تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام کی پالیسی عرب ملکزں سے اپنے تعلقات خراب کرنا ہے – سرمایہ کاری کا گلف ریاستوں سے ہونا روئ بک کے ںزدیک بہتر نہ تھا اور اس نے امریکہ کو اسے روکنے کے لئے کہا

روئے بک شامی حکومت کے خلاف پرتشدد احتجاج پر خوشی سے تالیاں پیٹتے ہوئے کہتا ہے

کمزوری

کرد : بہت منظم اور شجاع

سیاسی اپوزیشن اور سول سوسائٹی گروپ نسلی اقلیتی گروپ کردوں ( جوکہ شام کے شمال مشرقی حصّے میں اکثریت میں ہیں ) اور دمشق و الیپو کی کمیونٹیز سے آرہے ہیں – یہ گروپ اپنے آبائی شہروں میں پرتشدد احتجاج پر تیار ہیں جبکہ دوسرے ایسی جرآت نہیں کرتے (زور دیکر کہا )

Daring

کا جو انگریزی میں لفظ ہے یہ مثالی جرآت کے لئے بولا جاتا ہے – امریکی اخبارات مثال کے طور پر فلسطینیوں کے امریکی قبضے کے خلاف تشدد کو اس لفظ کے ساتھ بیان نہیں کرتے کیونکہ اس لفظ کے ساتھ تشدد کو بیان کرنا ظاہر سی بات ہے حوصلہ مندی کا تقاضا کرتا ہے اور اسے امریکہ میں مثالی خیال نہیں کیا جاتا – اس سے یہ بات بھی پتہ جلتی ہے کہ روئے بک جیسے امریکی سفارت کار دنیا کو کیسے دیکھتے ہیں : آکر آپ امریکہ کی اتحادی حکومتوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جیسے بحرین ، مصر یا اسرائیل ہیں تو پھر آپ کے احتجاج میں تشدد نہیں ہونا چاہئیے – لیکن اگر آپ کا احتجاج ایک ایسی حکومت کے خلاف ہے جس کو امریکہ گرانا چاہتا ہے تو ایسے احتجاجوں میں تشدد کا استعمال ” شجاعانہ اور جرآت مندانہ ” ہوگا اور روئے بک اس کمزوری سفے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیتا ہے

ممکنہ اقدام :

کرد شکایات کو نمایاں کریں : کردوں کی شکایات کو عوامی بیانات میں نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی پامالی کی شہرت کرنے سے شامی حکومت کے کرد آبادی کے بارے میں تحفظات بڑھتے جائیں گے – اس اقدام کا مقصد شامی حکومت کو کردوں کے انسانی حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرنے کا یہاں کوئی اشارہ نہیں ہے – اس کا مقصد شامی حکومت کو غیر مستحکم کرنا ہوگا – روئے بک نے اپنا یہ رویہ شام میں دھشت گردی کی طرف بھی ظاہر کیا

کمزوری :انتہا پسند عناصر تیزی سے شام کو اپنے ایک اڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں – جبکہ شام کی حکومت ایسے گروپوں کے خلاف کاروائی شروع کرتے ہوئے ان کے القائدہ سے روابط کا بیان دے چکی ہے – دسمبر کے شروع میں القائدہ لیڈر کے لبنان کی سرحد کے ساتھ مارے جانا اور ستمبر 12 میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد شام کے اندر دھشت گرد حملوں میں تیزی آرہی ہے اور شام نے عراق کے اندر دھشت گردوں کی مدد جیسی پالیسیاں جو اختیار کی تھیں اب اس کا خمیازہ اسے اپنی سرزمین پر بھگتنا پڑرہا ہے

ممکنہ اقدام

شام میں دنیا بھر سے آئے انتہا پسند گروپوں کا شہرہ کیا جائے اور یہ صرف حماس اور پی آئی جے تک محدود نہیں ہونا چاہئیے – شامی حکومت کے ان انتہا پسندوں کے خلاف اقدام کی شہرت ایسے طریقے سے کی جائے جس سے شامی حکومت کی کمزوری ظاہر ہو ، اس کے عدم استکام کی علامتیں ظاہر ہوں اور اس کے ردعمل کو کنٹرول نہ کرنے کی اہلیت ظاہر ہو – اور شامی اکثر دھشت گرد حملوں کے بعد جب یہ دلیل دیتی ہے کہ وہ خود دھشت گردی کی متاثرہ ہے تو اسے خود شام کے اندر پھیلتے ہوئے عدم استحکام کو ظاہر کرنے کے لئے اس کے خلاف استعمال کیا جائے

اس بات کو نوٹ کریں کہ خفیہ مراسلت میں روئے بک شام کے دھشت گردی سے متاثرہ ہونے کو تسلیم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور اسے یہ ماننے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کہ شامی حکومت دھشت گردوں کے حلاف اقدام اٹھارہی ہے – لیکن اگر شام دھشت گردی کا شکار ہے اور وہ اس بارے کچھ کرنے کی کوشش کررہا ہے تو ری بک کے خیال میں امریکہ کو اسے دنیا کے سامنے اس بات کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا چاہئیے کہ شام کمزور اور غیر مستحکم جو ہے اور یہ جن چیزوں کا سامنا کررہا ہے تو اس کی وجہ ہرجگہ دھشت گردوں کی حمایت بناکر دکھائی جائے

فرض کریں اگر کسی ایسے ملک کا سفارت کار جوکہ امریکہ کا حریف ہو یہ کہتا کہ 11 ستمبر 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گان پر دھشت گردانہ حملے اور مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنے کی امریکی کوششیں امریکہ کے کمزور اور غیر مستحکم ہونے کا ثبوت ہیں اور امریکہ یہ ماضی میں امریکہ کی ہر جگہ دھشت گردوں کی سپورٹ کی وجہ سے بھگت رہا ہے جو اب اس کے اپنے گھر کو جلانے آگئے ہیں تو اس کو امریکہ میں کیسے دیکھا جاتا ؟

اس بارے میں قیاس ارائی کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ جب مئی 2007ء میں ریپلکن صدارتی امیدوار ران پال نے 11 سمتر کے واقعات کو امریکی خارجہ پالیسی کا شاخسانہ قرار دیا تو ریپبلکن کے فرنٹ رنر روڈی جولیانی نے اس کو سازشی نظریہ ساز کہہ کر رد کیا – جب 2010ء میں امریکہ میں ایک تقریر میں ایرانی صدر نے یہ کہا کہ ایک بڑی اقلیت کا خیال یہ ہے کہ نائن الیون حملے خود امریکی حکومت نے کرائے تھے تو امریکہ نے اس تقریر کی مذمت کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا تھا – تو یہ معقول بات ہے کہ اگر شامی حکومت کو شام میں دھشت گردی کا خود زمہ دار امریکہ قرار دے گا تو وہ اسے بہت ہی جارحانہ اقدام خیال کرے گی

اس مراسلے سے پتہ چلتا ہے کہ دسمبر 2006ء میں ٹاپ امریکی ڈپلومیٹ کو یہ یقین تھا کہ امریکہ کی شام میں پالیسی کا مقصد شامی حکومت کو غیرمستحکم کرنا ہے چاہے وہ کسی بھی دستیاب زریعہ سے ہو ؛ اور یہ یقین بھی تھا کہ امریکہ کو شام کے اندر سنّی آبادی کے اندر ایرانیوں کی کاروباری سرگرمیوں اور مساجد کی تعمیر بارے پروپیگنڈے کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں مدد دیتے ہوئے ، شامی سنّی آبادی کے تحفظات کو تیلی دکھاتے ہوئے شیعہ – سنّی فرقہ واریت کو بڑھانا چاہئیے – امریکہ کو عرب اتحادیوں پر زور دینا چاہئیے کہ وہ شامی منحرف نائب صدر کو زیادہ سے زیادہ اپنے زیر کنٹرول عرب میڈیا تک رسائی دے تاکہ وہ امریکی حکومت کا تختہ الٹنے کی شامی عوام سے اپیل کرسکیں – امریکہ کو عرب ممالک اور شامی حکومت کے درمیان خلیج بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئیے اور پھر اس تناؤ و کھچاؤ کا الزام بھی شامی حکومت کو دنیا چاہئیے – امریکہ کو شامی حکومت کے اقتصادی ریفارم ایجنڈے میں کھنڈت ڈال دینی چاہئیے – اور بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئیے – اور امریکی حکومت کو شامی حکومت کو ناجائز حکومت قرار دینے کی کوششیں تیز کردینی چاہیں ، شام میں احتجاجوں کو قابل تعریف قرار دینا چاہئیے اور شام کو ہی شام میں دھشت گردی کا زمہ دار ٹھہرانا چاہئیے اور اس کے لئے اس کی خارجہ پالیسی کو الزام دینا چاہئیے

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے کی نظر میں شام امریکہ سے تعلقات بہتر بنانا چاہتا تھا جبکہ امریکہ یہ اس صورت میں چاہتا تھا جب اسد ایران سے دور ہوجائے

ہم دوسرے امریکی خفیہ مراسلوں سے جانتے ہیں کہ امریکی حکومت شامی حزب اختلاف کو فنڈنگ کررہی تھیں – امریکی حکومت نے اس فنڈنگ کا اعتراف ویکی لیکس کی جانب سے امریاکی خفیہ مراسلت کے شایع ہونے کے بعد کیا – امریکہ نے پہلے شام میں جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے فنڈنگ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پہلے ہ پبلک کو معلوم نہیں تھا کہ امریکی حکومت کس حد تک اپوزیشن گروپوں کے ساتھ کام کررہی تھی اور وہ کیا سرگرمیاں تھیں جن میں امریکہ مصروف تھا جسے شامی حکومت اپنے آپ کو گرانے کی کوششیں خیال کرتی تھی

فروری 21 ، 2006ء کا ایک مراسلہ بتاتا ہے

پس پردہ رابطے ( شام میں امریکی سفارت خانے کے روابط ) امریکی حکومت کی جانب سے شامی حزب اختلاف کے لئے 5 ملین ڈالر کی امداد کے اعلان کی مذمت کررہے ہیں اور اسے ‘ سادہ لوحی ” اور نقصان دہ قرار دے رہے ہیں – روابط نے زور دیا کہ اس بیان نے اپوزیشن کو پہلے ہی نقصان پہنچایا ہے اور شامی حکومت اپنے مخالفوں کو اب مزید امریکی ایجنٹ کہہ کر بے اعتبار بنائے گی – کئی ایک روابط نے زور دیا کہ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ نے اپوزیشن کی پرواہ نہیں کی بلکہ انہیں اس گھیل میں ایک چپ کے طور پر استعمال کیا – 2006 ء کے امریکی مراسلے اور اس کیبل کو ملاکر  دیکھا جائے تو امریکہ کے شامی روابط کا یہ تجزیہ غلط نہیں تھا

امریکی خفیہ مراسلے : شام کیسے لہو رنگ ہوا- دوسرا حصّہ

130223174704-78-syria-unrest-horizontal-large-gallery

امریکی خفیہ مراسلے : شام کیسے لہو رنگ ہوا – دوسرا حصّہ

 

 

مارچ 22 ، 2009ء – سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے سے ایک مراسلہ امریکی حکومت کو ” سعودی انٹیلی جنس چیف سے جان برینان کی علاقائی سلامتی بارے بات چیت ” کے عنوان سے ارسال کیا گیا – اس مراسلے میں بھی ” شام میں سعودیہ عرب کے ساتھ ملکر شیعہ – سنّی فرقہ واریت کے پھیلاؤ ” اور ” ایران – شام تعلقات پر فوکس ” پر زور دینے کی امریکی پالیسی کی جھلک بخوبی نظر آتی ہے

 

امریکی سفیر برائے سعودی عرب فورڑ فریکر اس مراسلے میں امریکی مشیر برائے انسداد دھشت گردی ( اب سی آئی اے کے ڈائریکٹر )  جان برینان کی سعودی انٹیلی جنس کے سرابرہ مقرن بن عبدالعزیز کے درمیان بات چیت کا خلاصہ یوں بیان کرتا ہے

 

 

ایرانی مداخلت : پرنس مقرن نے ( اپنی پالیسی میں بطور دشمن کے ) ایران کو ٹاپ آف دی لسٹ قرار دیا اور کہا کہ ” شیعہ ہلال اب پورا چاند بنتا جارہا ہے – اس نے عراق ، بحرین ، کویت اور یمن کو ایران کے ” اہداف ” قرار دیا – اس نے کہا کہ ہمیں مدینہ اور مشرقی سعودی صوبے میں مسائل کا سامنا ہے –جب اس سے کہا گیا کہ کہ مدینہ میں گزشتہ ماہ ہونے والے ہنگاموں میں کیا ایرانی ہاتھ کارفرما تھا ؟ تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ ہاں ! اس میں ایرانی حمایت شامل تھی ( تبصرہ : مقرن کا تبصرہ ضروری نہیں ہے کہ ہمارے شیعہ سورسز کے زریعے سے مصدقہ ہو ) مقرن نے بے باکی سے کہا کہ اب ایران ۔۔۔۔۔۔ میں درد کا سبب بن رہا ہے ، اس نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ایران سے سیدھے ہوسکتے ہیں یا سیدھے سبھاؤ اسے نکال باہر کرسکتے ہیں

 

 

امریکی سفیر کا یہ کہنا کہ مقرن کا ایرانی مداخلت کے بارے بیان ہوسکتا ہے کہ ہمارے شیعہ سورسز کی تصدیق نہ پاسکے اس کے فروری 24 ، 2009ء کو امریکی حکومت کو سعودی شیعہ اور سعودی پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم بارے بھیجے گئے مراسلے میں کی گئی بات پر پردہ ڈالنے کے مترادف تھا ، اس مراسلے میں امریکی سفیر نے لکھا تھا

 

 

مدینہ میں سعودی شیعہ اور سعودی سیکورٹی اداروں کے درمیان تصادم کی وجہ یہ تھی کہ سعودی پولیس نے سعودی شیعہ حجاج کو مسجد نبوی سے ملحقہ جنت البقیع میں داخلے سے روک دیا تھا اور اس تصادم کی دوسری وجہ سعودی شیعہ کمیونٹی کی تاریخی محرومیوں کے سبب ان میں پنپنے والا غصّہ بھی تھی

 

اس مراسلے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکومت کو اچھی طرح سے علم تھا کہ سعودی عرب اپنے ملک کے اندر جن ایشوز پر ایران کو مورد الزام ٹھہرارہی ہے اس کا ایران سے کچھ لینا دینا نہیں تھا اور امریکی مراسلہ بھی ” مدینہ فسادات ” میں ایرانی مداخلت کارفرما ہونے کی نفی کرتا ہے لیکن 2009ء کا یہ مراسلہ اور اس سے پہلے 2006ء کا مراسلہ دونوں امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ ملکر سعودی عرب اور شام کے اندر پائی جانے والی بے چینی کا زمہ دار ایران کو ٹھہرائے جانے کی پالیسی کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں ، 2009ء کا امریکی مراسلہ اگلے پیرا گراف اس بارے میں مزید اقدامات اٹھانے کی تجویز دیتا نظر آتا ہے

 

ایران سے شام کو دور کرنا : مقرن سے برینان نے سوال کیا کہ ان کا کیا خیال ہے کہ شامی حکومت امریکہ سے بہتر تعلقات بنانے کی خواہاں ہے ؟ مقرن نے جواب میں کہا کہ میں اس کا حتمی جواب ہآں یا نہ میں نہیں دے سکتا اور کوئی رائے ظاہر کرنے سے معذرت کرلی ، لیکن مقرن نے یہ ضرور کہا کہ شامی حکومت ایرانیوں کو ” کسی رشوت ” کے بغیر چھوڑیں گے نہیں

 

 

اس پیراگراف سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکومت مارچ 2009ء میں شام کا مفاد امریکہ سے بہتر تعلقات میں دیکھتی تھی اور اس کا مطلب ایران کو شام سے دور کرنا تھا – اس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ امریکہ کو شامی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے کہیں زیادہ ایران اور شام کے درمیان تعلقات کو توڑنے سے دلچسپی تھی اور اگر شامی یہ امریکہ کی دوستی کے ساتھ کرتے تو امریکہ کو یہ منظور ہوتا

 

 

دسمبر 2006ء میں امریکی سفارتی مراسلے میں یہ کہا گیا تھا کہ امریکہ کو ایسے اقدامات کرنے چاہيں جس پر شامی حکومت مشتعل ہوکر ایسے اقدامات کرے جس سے وہ مزید تنہا ہو – امریکہ کو مشورہ دیا گیا شام کے منحرف سابق سیئنر نائب صدر عبدالحلیم خدام جو کہ نیشنل سالویشن فرنٹ کے سربراہ تھے اور اس وقت جلاوطن تھے کی شامی حکومت سے لڑائی کا فائدہ اٹھائے ، مراسلہ میں ” شامی حکومت کی کمزوریوں ” کے عنوان کے نیچے لکھا گیا

 

 

خدام فیکٹر : عبدالحلیم خدام بشار الاسد حکومت کی کمزوریوں سے واقف ہے – وہ جانتا ہے کہ بشار الاسد کو کیا چیز مشتعل کرتی ہے – اس کی سپورٹ شام کے اندر موجود ہے – بشار الاسد ” خدام ” بارے ہر ایک خبر میں دلچسپی لیتا ہے اور خدام کو جب کوئی دوسرا عرب ملک اپنے ہاں بطور سرکاری مہمان کے مدعو کرتا ہے اور اس کا جب کسی بھی عرب میڈیا گروپ کے اخبارات و جرائد میں انٹرویو  شایع ہوتا ہے تو وہ اسے اپنی شکست خیال کرتا ہے

 

ممکنہ اقدام : ہمیں سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں کی خدام کو عرب ميڈیا تک رسائی دیتے رہنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے تاکہ وہ شام کے گندے کپڑے بیچ چوراہے میں دھوتا رہے ، اس طرح سے شامی حکومت اس پر اور زیادہ مشتعل ہوگی اور اوور ری ایکٹ کرے گی اور اس سے عرب ملکوں سے اس کے فاصلوں میں اضافہ ہوگا اور اس کی علاقائی سطح پر تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا

 

 

اس مراسلے کے مذکورہ بالا پیراگراف کا تجزیہ ہمیں بتاسکتا ہے کہ شامی حکومت کے مخالف عبدالحلیم خدام کو سعودی عرب اور دوسرے عرب ملکوں کے ميڈیا تک رسائی دینے کا مقصد شام میں انسانی حقوق کی صورت حال بارے عوام کو آگاہی دینا یا وہاں پر جمہوریت لانے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنا نہ تھا بلکہ اس کا مقصد بشار الاسد کی حکومت کو اشتعال دلانا تھا تاکہ امریکہ کو یہ ثابت کرنے کا موقعہ مل سکے کہ شامی حکومت واقعی ایک ” بدمعاش حکومت ” ہے اور وہ عالمی برادری کے قائم کردہ معیارات کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں ہے یا وہ ایسا کرنے پر راضی نہیں ہے – وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خطرہ بن گئی ہے ، اس لئے امریکہ کو اس کے حلاف ایکش لینا پڑا تو امریکی خارجہ پالیسی شام کے حوالے سے یہ تھی کہ خود ایسے حالات پیدا کئے جائیں جس سے شامی حکومت کو ہٹانے کا موقعہ ہاتھ آسکے

امریکی مراسلے کے آٹھ ماہ بعد منحرف شامی نائب صدر عبدالحلیم خدام نے سعودی حکومت کے اخبار ” الوطن ” کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شام کے نائب صدر فاروق الاشراء نے سعودی عرب پر جو شدید تنقید کی ہے وہ حکمران ٹولے کی پالیسی کا حصّہ ہے جس کا مقصد شام کے سعودی عرب سے تعلقات کو انتہائی خراب کرنا ہے – جبکہ بیروت سے شایع ہونے والے ڈیلی سٹار نے اپنی ایک رپورٹ میں واضح کردیا تھا کہ ” شامی حکومت تو سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے اور فاروق کا کہنا ہے کہ ان کے بیان کو توڑ مروڑ کے شایع کیا گیا ہے ” – یہ امریکی حکام اور خدام تھے جو سعودی عرب اور شام کے درمیان معاملات کو مزید کشیدہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے – 2006ء میں شامی حکومت کو عرب میڈیا میں عبدالحلیم خدام کی کوریج کرکے مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی اور ظاہر عرب حکومتیں اپنے میڈیا پر جیسا کنٹرول رکھتی ہیں تو یہ کوریج ان کی مرضی کے ساتھ ہوئی ہوگی اور جیسا کہ خود روئے بک نے بتایا تھا کہ کیسے سعودی حکومت نے مدینہ میں سعودی شیعہ حجاج اور سعودی سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم کی خبروں کو سعودی میڈیا میں شایع ہونے سے روکا گیا تھا

 

 

خدام نے 2006ء میں سعودی حکومت کی ملک اخبار ” اشراق الاوسط ” کو ایک انٹرویو اس وقت دیا جب وہ پیرس میں مقیم تھا – اس کا ایک حصّہ ملاحظہ کرنے کے قابل ہے

 

س : آپ کی موجودہ ترجیحات کیا ہیں ؟ کیا آپ حکومت کی اصلاح چاہتے ہیں یا اسے گرانے کے خواہش مند ہیں ؟

جواب : اس حکومت میں اصلاح کی گنجائش نہیں ہے – اس کو گرانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے

 

کوئی بھی اس سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایرانی حکومت مصر یا بحرین کے کسی نائب صدر کو اپنے میڈیا کا پلیٹ فارم فراہم کرتی اور وہ کہتا کہ مصر یا بحرین کی حکومتوں میں کسی اصلاح کی گنجائش نہیں ہے ، اسے اٹھا کر باہر پھینک دنیا چاہئیے تو امریکہ اس بیان پر اتنی توجہ نہ دیتا

 

تو روئے بک کے مراسلے سے 11 ماہ قبل اور شام میں بہار عرب سے تقریبا 5 سال پہلے کی بات ہے کہ امریکہ اور اس کے عرب اتحادی شامی حکومت کو غیر مستحکم کرکے گرانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوچکے تھے جبکہ عوام کو مغرب میں یہ بتایا جاتا ہے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شامی حکومت کو کمزور کرنے اور اسے گرانے کی کوششیں 2011ء میں اس وقت شروع کیں جب شامی حکومت نے اپنے مخالفین کو دبانے ، ان پر جبر کرنے کی ہر ایک حد پار کرلی

 

 

روئے بک کی ایک اور تجویز ” شام کی کمزوریوں ” سے فائدہ اٹھانے پر مشتمل ہے ، اور وہ بھی یہی تجویز کرتا ہے

 

 

ممکنہ اقدام :

شامی حکومت کو گرائے جانے کے بیرونی منصوبوں کی افواہوں اور اشاروں کی حوصلہ افزائی کریے-

شامی حکومت ” حکومت گرائے جانے کے منصوبوں ” یا شامی سیکورٹی سروسز یا افواج میں بے چینی کے منصوبوں بارے بہت حساس ہے – علاقائی اتحادی جیسے مصر اور سعودی عرب کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے کہ وہ خدام اور رفعت جیسوں کو استعمال کرتے ہوئے یہ سگنل شامی حکومت تک پہنچائیں کہ ان کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے کیونکہ اس سے شامی حکومت کے پاگل پن میں اضافہ ہوگا اور اس کے شکست خوردہ اوور ریکشن میں بھی بڑھوتری آئے گی

 

روئے بک گویا ” فرضی قسم کے شامی حکومت کو گرائے جانے کے منصوبوں کی خبریں خود ہی پھیلانے کی تجویز دے رہا تھا اور اس کے لئے شامی حکومت کے منحرفین کے کندھے استعمال کرنے کی تجویز تھی کہ ان سے سعودی عرب اور مصر کے حکام سے ملاقاتیں ہوں اور ان کی خبریں لیک کی جائیں کہ یہ ملاقاتیں شامی حکومت گرانے کے منصوبے تیار کرنے کے لئے ہورہی تھیں – 2014ء میں امریکہ ان باغیوں کو مسلح کررہا تھا جو کہ شامی حکام کو قتل کرنے کی کوشش کررہے تھے – تو کیا شامی حکومت کو امریکیوں سے جو خوف تھا کیا وہ غیر معقول تھا ؟