رچرڈ لیکن : وہ کہاں دفن ہے

download

رچرڈ لیکن : ایک اور چراغ گل ہوا اور بڑھی تاریکی

یہ تل ابیب ہے اسرائیل کا دارالحکومت اور 76 سالہ رچرڈ لیکن بس ٹرمینل سے بس نمبر 78 میں سوار ہوا تو اس کے دماغ میں یہ بات چل رہی تھی کہ آخر وہ کون سا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے یہودیوں اور عربوں کے درمیان پائی جانے والی نفرت کا خاتمہ ہوسکے اور وہ باہم اکٹھے رہنا سیکھ لیں ، وہ ان خیالوں میں گم تھا کہ دو لڑکے بس نمبر 78 میں داخل ہوئے اور ان میں سے ایک نے پستول نکالا اور سیدھا رچرڈ لیکن کے سر کو نشانہ بنایا ، جبکہ جیسے ہی رچرڈ لیکن گرا تو اس پر چاقوؤں سے کاری وار کرنے شروع کردئے ، رچرڈ لیکن بس میں ہی گرپڑا اور اس کے اردگرد خون کا ایک تالاب بن گیا جو کہ اس کا اپنا لہو تھا ، اس حادثے کے فوری بعد اسے ہسپتال پہنچایا گیا اور دو ہفتے وہ اپنے زخموں سے لڑنے کے بعد بالآخر جان کی بازی ہار گیا

اسرائیل اور فلسطین کے دائیں بازو کے لوگوں نے ان دنوں ایک مہم شروع کررکھی ہے اور یہ مہم اگر اسرائیلی دائیں بازو کے صہیونی جنونیوں کی جانب سے فلسطینی عربوں کو قتل کرنے کی مہم ہے تو دوسری طرف فلسطینی عرب مذھبی دائیں بازو کی جانب سے یہ ” یہودی مار پروگرام ” ہے جس کا نشانہ 76 سالہ امن کا سفیر رچرڈ لیکن بنا

رچرڈ لیکن جس نے نیوٹن میساچیوسٹس امریکہ کے اندر آنکھ کھولی اور 1960ء میں وہ امریکہ میں ” شہری آزادی ” کی تحریک سے وابستہ ہوگیا اور بہت سے امریکیوں کی طرح وہ بھی لوتھر مارٹن کنگ سے متاثر ہوا – وہ یہودی گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور اس نے امن ، محبت اور بقائے باہمی کو اپنا نصب العین بنالیا ، پھر جب 1980ء میں سوشل میڈیا پر ایک انشی ایٹو ” اسرائیل ایران سے پیار کرتا ہے ” شروع ہوا تو وہ اس انشی ایٹو کا بانی رکن تھا ، وہ پیشہ کے اعتبار سے ایک استاد تھا اور پہلے وہ کنیکٹیکٹ میں ایک ایلمینٹری اسکول میں پڑھاتا تھا اور اسے ” پڑھانے ” سے عشق تھا ، وہ امریکہ میں بچوں کو نسلی ، مذھبی تعصبات سے اوپر اٹھنے کی ترغیب دیتا رہا اور اس کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اسرائیل جائے گا اور اسرائیلی – فلسطینی عرب بچوں کو انگریزی کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ان کو باہم ملکر اکٹھے رہنے کی تعلیم بھی دے گا ، اس نے اسرائیل اور فلسطین کے بچوں کے درمیان محبت اور پیار کا تعلق پیدا کرنے کے لئے ” ایجوکیش ” کو میڈیم بنانے کا فیصلہ کیا

رچرڈ لیکن ان امن کے حامیوں میں سے تھا جو بہت پہلے یہ جان چکے تھے کہ ” اسرائیل کے یہودی ” اور فلسطینی عرب ایک دوسرے کے وجود کو مٹہ نہیں سکتے ، ان کو باہم مل جل کر رہنے کا سبق سیکھنا ہوگا اور اس حقیقت کے بغیر مڈل ایسٹ میں امن ناممکن ہے ، رچرڈ لیکن نے جو راستہ چنا تھا وہ بہت دشوار تھا ، کیونکہ اس کے اس مشن کی سب سے زیادہ مخالفت خود اسرائیلی دائیں بازو کی ” صہیونی لابی ” کررہی تھی جبکہ فلسطینی عرب مسلم دایاں بازو بھی اس کے اس مشن کا سخت ترین مخالف تھا اور اس زمانے میں فلسطینی عرب سیکولر ، سوشلسٹ ، کمیونسٹ اور قوم پرست قوتوں کو بھی رچرڈ لیکن کی بات سمجھنا دشوار تھا مگر بعد میں رچرڈ لیکن اسرائیلی ، فلسطینی عربوں کے سیکولر ، سوشلسٹ اور کمیونسٹ قوم پرستوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ، اس کو بہت سے اسرائیلی یہودیوں ، مسیحیوں اور مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوگئی اور دونوں طرف کے کئی ایک روشن خیال ، سیکولر دانشور بھی اس بارے میں بات کرنے لگ گئے ، وقت گزرنے کے ساتھ دنیا نے ایڈورڈ سعید ، محمود درویش جیسے دانشوروں کی رائے بدلتی دیکھی ، یہاں تک کہ لیلی خالد جیسے حریت پسندوں کی رائے میں بھی بدلاؤ آیا

رچرڈ لیکن جیسے لوگوں نے ” صہیونیت ” اور ” اسلامی فاشسٹوں ” دونوں کے ڈسکورس کو رد کیا اور وہ تکفیری فاشزم کے سب سے بڑے مخالف بنکر سامنے آئے ، یہی وجہ ہے کہ ان کو ” اسرائیلی رائٹ ونگ ” اور ” فلسطینی عرب ” رائٹ ونگ دونوں سخت ناپسند کرتے بلکہ ان کو اپنی نفرت کا نشانہ بھی بناتے تھے ، رچرڈ لیکن سوشل میڈیا پر اسرائیلی دائیں بازو کی نفرت کا نشانہ اسی طرح سے بن رہا تھا ، جیسے وہ فلسطینی مذھبی انتہا پسندوں کا نشانہ بن رہا تھا ، حماس کے اکثر حامی جن کا فکری رہبر ” سید قطب ” ہے اور اسی راستے تھے محمد بن عبدالوہاب نجدی ان کا ہیرو ہے اور وہ ” اسامہ بن لادن ” ” ایمن الزھراوی ”  ” مصعب زرقاوی ” ” شیخ التونسی ”  ” ابو بکر البغدادی ” کے خیالات کی پوجا کرتے ہیں – اس کے ساتھ ساتھ وہ داعش ، القائدہ جیسی تنظیموں کو اپنا آئیڈیل گردانتے ہیں نے بھی ” رچرڈ لیکن ” جیسے اسرائیل – عرب دوستی ” کے سفیر کے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ کھول رکھا تھا

رچرڈ لیکن پر قاتلانہ حملے اور پھر اس کے موت کی خبر عام ہوئی تو اسرائیلی دایاں بازو کے سوشل میڈیا پر بیٹھے مجاہدوں میں جیسے خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اس کا جشن منانا شروع کردیا ، اسرائیلی دایاں بازو رچرڈ لیکن کی موت کا جشن منارہا تھا اور سوشل میڈی پر مبارکبادوں کا سلسلہ تھا اور اس کو ” عرب فلسطینیوں کے مذھبی جنونیوں کا ایک ٹھیک اقدام ” گردانا جارہا تھا لیکن اسرائیل کے دائیں بازو کے حلقوں میں بپا اس جشن کی جھلکیاں ” سوشل میڈیا ” سے نہ تو اسرائیلی مین سٹریم میڈیا دکھا رہا تھا اور نہ ہی امریکی یا یوروپی میڈیا – مگر ان کی جانب سے فلسطینی عرب مذھبی جنونیوں کی سوشل میڈیا ” ٹوئٹر ، فیس بک ، یو ٹیوب ” پر اپ لوڈ کی جانے والی وڈیوز اور پوسٹیں باقاعدگی سے دکھائی جارہی تھیں اور پوری دنیا میں ” عرب فلسطینی سوال ” کو بس : اسلامو عرب فوبک ” آئینے میں دکھائے جانے کی کوشش کی جارہی تھی

Mondoweiss

ایک آزاد آرگنائزیشن ہے جوکہ اسرائیل – فلسطین ایشو پر غیر جانبدار ، معروضی حقائق کو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کرتی ہے – اس نے رچرڈ لیکن کے قتل پر اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی دائیں بازو کی جانب سے جشن منائے جانے کی خبروں کو منکشف کیا ، اس نے ” نیوز نوش ” اے پی این کے حوالے سے خبر دی

APN’s daily news review from Israel

Thursday October 29, 2015
Quote of the day:

It shocks me how the first thing the government did was to deny any connection between the wave of terror and the occupation. That is part of the racism and dehumanization that again turns an Arab into a person whose nature is murderous and who has a perverted sense of morals.” 
-Israeli actor Itay Tiran opens his mouth in interview to Yedioth ahead of the broadcasting of the suspense series he stars in.

اسرائیلی اداکار اٹے تیران نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا

مرے لئے یہ ایک شاک ہے کہ اسرائیلی حکومت نے حالیہ دھشت کی ایک لہر اور فلسطین پر قبضے کے درمیان جو ” ربط ” پایا جاتا ہے اس کا انکار کرڈالا ہے – نسل پرستی اور غیر انسانی بنانے کا یہ جو پارٹ ہے ، یہ ایک عرب کو ایک ایسے شخض کی تصویر میں بدلتا ہے جس کی فطرت قاتلانہ ہو اور اس کی اخلاقیات ریزہ ریزہ ہوگئی ہو

اے پی این نے اپنے ڈیلی ریویو فرام اسرائیل میں خبر دی کہ جوں ہی رچرڈ لیکن کی موت کی خبر عام ہوئی تو سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پوسٹوں کا ایک سیلاب آگیا اور ایک اسرائیلی رائٹ ونگر نے رچرڈ لیکن کی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن لگایا

“He needs to be buried in Gaza and people should shit on his graveston – See more at: http://mondoweiss.net/2015/10/rightwing-celebrate-activist#sthash.KtMIL2FX.dpuf

اس کو غزہ میں دفن کرنا چاہئیے اور لوگوں کو اس کے قبر کے کتبے پر گندگی پھینکنی چاہئیے

حیرت انگیز طور پر امریکی اخبار ” دی نیویارک ٹائمز ” نے رچرڈ لیکن کے بارے میں اپنی شایع کردہ رپورٹ میں اسرائیلی دائیں بازو کے اس ردعمل کی کوئی خبر نہیں دی بلکہ اس نے صرف فیس بک پر فلسطینی عرب دائیں بازو کی مذھبی جنونیت سے بھری پوسٹوں کا زکر بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیا – بلکہ آج جب میں تین نومبر 2015ء کو یہ آرٹیکل لکھنے بیٹھا ہوں تو نیویارک ٹائمز نے رچرڈ لیکن کے بیٹے

Micah Lakin AVNI

کا ایک آرٹیکل شایع کیا ہے جس کا عنوان ہے

Facebook Intifada

ایم ۔لیکن ایونی کے اس آرٹیکل کا عنوان ہی گمراہ کن ہے اور یہ اسی فاش غلطی کا ارتکاب کرتا نظر آتا ہے جس کی طرف اشارہ اسرائیلی اداکار اٹے تیران نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ، یعنی یہ آرٹیکل اسرائیل کے اندر ” دھشت گردی کی تازہ لہر ” کے ” اسرائیل کے فلسطین پر ناجائز قبضے ” سے تعلق کا انکار کرتا ہے اور اور یک طرفہ طور پر یہ صرف فلسطینی عرب دائیں بازو کی ” انتہا پسندی ” پر فوکس کرتا ہے ، فیس بک انتفادہ نہیں بلکہ ” فیس بک فاشزم ” اگر عنوان ہوتا تو سمجھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ، ایم لیکن ایونی اپنے اس آرٹیکل میں امریکی اور مغربی حکومتوں کے ” گلف عرب ریاستوں کے وہابی فاشسٹ حکومتوں ” کے ساتھ تعلقات کو بالکل نظر انداز کرگیا ہے اور اس میں اس نے اسرائیلی صہیونی فسطائیوں اور عرب وہابی حکومتوں کے درمیان ” پیار محبت ” کے رشتوں کو بھی نظر انداز کرڈالا ہے جس کے نتیجے میں حماس پیدا ہوئی اور فلسطینی عرب سیکولر ، لبرل ، روشن خیال ، انسان دوست ڈسکورس کی حامل قوتوں کو دیوار سے لگایا گیا

رچرڈ لیکن اسرائیلی – فلسطینی بچوں میں امن کا خواب لئے منوں مٹی میں اترگیا ، مگر اس کے اپنے گھر میں اس کا بیٹا اس راستے پر چل نکلا ہے جس سے وہ اسرائیلی اور فلسطینی بچوں کو ہٹانے میساچیوسٹس سے اسرائیل آیا تھا اور زبان حال سے کہتا ہے شاید

لاؤ کہیں سے بیلچہ

اور کھودو تو زمین کو

میں دیکھوں تو سہی

میں کہاں دفن ہوں

03Avni-1446510087001-master675 12028868-475454029282308-3203009832283353081-o-1445980270

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s