مجھے کیا برا تھا مرنا ۔۔۔۔

Art Competition

لاہور کی ایک سماجی تنظیم نے کالج اور اسکولوں کے طلباء و طالبات کو دعوت دی کہ وہ لاہور شہر کی دیواروں کو اپنے آرٹ کے نمونوں سے سجادیں اور لاہور کے شہریوں کو لاہور کی دیواروں پر نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والے نعرے اور کفرساز فتوؤں کی بجائے خلاق ذھنوں کے مالک فنکاروں کی انگلیوں کی حرکت سے ایسے پیغامات تصویر کریں کہ جس سے امن اور آشتی کا پیام نکلتا ہو تو ایسے میں چند فنکاروں نے ایک وال پر اردو ادب کے خلاق ذھن ” سعادت حسن منٹو ” کو پینٹ کیا اور اس کی جو تصویر دیوار پر بنائی ، اس میں اس کے دماغ سے روشنی کی کرنوں کو پھوٹتے دکھایا ( کم از کم منٹو کے کھڑے بالوں کا یہی تاثر مرے ذھن میں بنا جو ہوسکتا ہے تصویر بنانے والوں کا مقصود نہ ہو ) اور انہوں نے لکھا کہ ” سعادت حسن منٹو کبھی نہیں مرسکتا “

 

میں ان فنکاروں کی اس قابل قدر کاوش کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے مبہوت رہ گیا لیکن پھر مرے دماغ میں یہ سوال گونجنے لگا کہ کیا واقعی سعادت حسن منٹو مر نہیں سکتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ سعادت حسن منٹو کو اس کی زندگی میں جیتے جی ماردینے کی بڑی کوشش ہوئی اور اس کو سنسر شپ ، مقدمات سے لیکر ” نقادوں ” کے تابڑ توڑ حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اس کے دور کے ” مذھبی پنڈتوں اور ملاؤں ” نے اسے معاشرے کو بگاڑنے کا زمہ دار قرار دیکر ” راندہ درگاہ ” جانا سو جانا ، اس زمانے کے کئی ایک ترقی پسند بھی اس پر بے اختیار ” پل پڑے ” اسے ” انجمن ترقی پسند مصنفین ” سے نکال باہر کیا گیا اور اس کے افسانوں کو “چھوت چھات کا مرض ” قرار دیکر نسیا منسیا کردینے کی کوشش بھی کی گئی لیکن ” سعادت حسن منٹو ” نے نہ مرنا تھا سو وہ نہ مرا ، وہ مذھب کے ٹھیکے داروں کی اقلیم سے نکالا گیا ، اشتراکیت پسندوں کے ” کمیون ” سے خارج کیا گیا اور ” ادب برائے ادب ” والوں کے ہاں بھی ” ابتذال ” کی وجہ سے ” ردی ” ٹھہرا مگر پھر بھی زندہ رہا – کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے ” ننگی چھاتیوں ” کو اپنے تخیل کے زور پر ” چولی ” پہنے دکھانے سے انکار کردیا اور اس نے “سچ کے کڑوے پن  ” کو مصنوعی شوگر سے شریں کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور یہ ” کڑوا سچ ” اسے سماج کے جس بھی مظہر میں دکھائی دیا اس نے اس کی ” کڑواہٹ ” کو اپنے افسانوں میں ” انڈیل ” دیا ، اب اس سے کسی واعظ ، کسی پنڈٹ ، کسی پیر ، کسی مولوی ، کسی سماج واد کا منہ میں کڑواہٹ گھلتی ہے تو گھلتی رہے اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی ، کیا منٹو کی طرح کسی نے 1947ء کی تقسیم کو ” بڑے پاگل خانے ” سے تعبیر کیا تھا اور اسے ” ٹوبہ ٹیک سنگھ ” کی شکل میں مجسم کیا تھا ؟ مہاجر کیمپ جو ” مومنین ” کی طرف کا تھا اس میں ” سکینہ ” کے ساتھ جذبہ اسلام سے سرشار ” اسلامی رضاکاروں ” نے جو کیا اسے ” کھول دو ” میں بیان کرنے والا منٹو ان کی نگاہوں میں معتوب ٹھہرا جو پاکستان کے قیام کے وقت ” ہجرت کرنے والوں ” کو سرحد پار کرتے ہی ایک جنت میں آتے اور رضاکاروں کی بے مثال قربانیوں اور جذبہ ایمان سے سرشار دکھانے میں مصروف تھے ، اس پر ہونے والے عتاب اور غیظ پر حیرت کیسی ؟ لیکن منٹو ” سچائی ” کے قریب تر رہنے کی کوشش میں خود تو ” خون تھوکتا ” دنیا سے چلاگیا لیکن اپنے خلاق دماغ سے نکلنے والی کہانیوں ، مضامین ، ڈراموں کی وجہ سے آج بھی ہر اس شخص کے دل و دماغ میں زندہ اور سانس لیتا ہے جو ” حقیقت کی کڑواہٹ ” سے بھاگتا نہیں ہے اور آج بھی وہ اپنی ” حقیقت تراشنے ” والوں کے ہاں سخت معتوب اور راندہ درگاہ ہے

 

کڑوا سچ خلاقیت کے ساتھ لفظوں سے پینٹ ہو یا برش کے زریعے سے رںگوں سے مصور کیا جائے اپنے عصر کے حکمران طبقات کو کبھی پسند نہیں آتا اور وہ اپنی خدمت پر مامور خریدے ہوئے اذھان کو اس نقش کو مٹانے پر مامور کرتے ہیں اور خلاق شخض کو ” تنہائی اور بے گانگی ” کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں لیکن یہ بے گانگی و تنہائی بھی ایک اور طرح سے ” خلاقیت ” کے لئے ” عمل انگیز ” کا کام کرتی ہے

 

جس وقت لاہور کے آرٹسٹ بچّے اور بچیاں لاہور کی دیواروں پر ” منٹو ” پینٹ کررہے تھے اور ساتھ لکھ رہے تھے کہ ” منٹو مر نہیں سکتا ” تو لاہور کی ایک ” بڑی اشراف یونیورسٹی ” یعنی ” لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ ” ( لمز ) میں

 Pakistan’s Contribution to the Muslim Intellectual Tradition

کے عنوان سے مشتاق احمد گورمانی اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنیٹز میں ایک کانفرنس ہورہی تھی جس میں ایک بھی خاتون دانشور کو سٹیج پر جگہ نہ دی گئی اور نہ ہی اسے اس موضوع پر اظہار خیال کرنے کا شرف بخشا گیا – لمز جیسی یونیورسٹی میں عمومی ” عورت دشمن ” اس طرح کے طرز عمل کی توقع کی نہیں جاتی تھی اس لئے یہ ایک بڑی خبر بنکر سامنے آئی لیکن مرے لئے ” لمز ” میں مشتاق احمد گورمانی کے نام سے ” سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹی کے اسکول ” کی موجودگی بھی ایک خبر سے کم نہیں تھی ، کیونکہ مشتاق احمد گورمانی جو کہ سرائیکی خطے کے ایک بڑے جاگیردار اور مغربی پاکستان کے گورنر بھی رہے کو ” سوشل سائنسز اور ہیومنیٹز ” سے کوئی شغف نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ وہ پنجاب کے ان جاگیردار سیاست دانوں میں شمار ہوا کرتے تھے جن کو ” سماجی علوم ” سے بلا کی نفرت تھی اور وہ سیکولر ، لبرل ، روشن خیال فکر کے سب سے بڑے مخالف اور ریڈیکل سماجی تبدیلی کے سخت دشمن تھے – انہوں نے اپنی جیب خاص سے سید مودودی کی جاگیرداری کو جائز قرار دینے والی کتاب ” اسلام میں حد ملکیت ” کی اشاعت کثیر اور تقسیم کثیر کا خشوع و خضوع کے ساتھ اہتمام کیا تھا اور جماعت اسلامی کی سپورٹ بھی بہت کی تھی ، لیکن پھر میں نے سوچا کہ ” کرنل عابد حسین ” کے برادر نسبتی  اور بیگم عابدہ حسین کے ماموں  ” سید بابر علی ” کا لمز اگر ” مشتاق گورمانی اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹیز ” کا قیام نہیں کرے گا تو کیا ” سبط حسن اسکول آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومنٹیز ” بنائے گا ؟ اور مشتاق احمد گورمانی اسکول کے لوگ ” مسلم روایت دانش میں پاکستانی دانشوروں کا حصّہ ” کانفرنس میں اگر ” عورتوں ” مدعو نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا ؟کیونکہ عورتوں کی دانشوری قدامت پرست مسلم انٹلیکچوئل ٹریڈیشن کی بالکل مخالفت روایت کا حصّہ ہوسکتی ہے جسے ” یار لوگ سیکولر ” اور جماعت اسلامی والے ” الحاد پرست ” روایت گردانتے ہیں ، ویسے بھی کیا ترقی پسندوں کی ڈاکٹر رشیدہ جہاں ، عصمت چغتائی ، ایلس فیض ، قرۃ العین حیدر ، افضل توصیف ، کشور ناہید ، زاہدہ حنا سمیت کئی ایک عورتیں کیسے گورمانی کی جماعتی مسلم انٹلیکچوئل ٹریڈیشن کا حصّہ ہوسکتی ہیں اور قرۃ العین طاہرہ کو تو آپ رہنے ہی دیں ، مرے ایک دوست جو ” لمز ” سے پڑھے بڑی حسرت سے کہہ رہے تھے کہ ” ان کی مادر علمی لگتا ہے کہ ملائیت کے آگے سرنگوں ہوتی جاتی ہے ” ویسے تو  گزشتہ دنوں یہ یونیورسٹی ” بلوچ سوال ” پر ایک سیمینار کے سوال پر غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے دباؤ کے آگے ڈھے گئی تھی

 

ڈھے جانے کے معاملے پر مجھے خیال آگیا کہ حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف نے خانیوال کے دورے کے دوران شیڈول سے ہٹ کر شامکوٹ کے ایک گرلز اسکول کا دورہ کیا تو وہآں کی ہیڈمسٹریس سے انہوں نے پوچھا کہ ان کو کسی مسئلے کا سامنا تو نہیں ہے تو اس ہیڈمسٹریس نے جرآت کرتے ہوئے کہا

گیس نہیں ہے

تو وزیراعظم بولے بجلی تو ہے

اس پر وہ ہیڈمسٹریس بولی ” بجلی تو ہے مگر آپ نے مہنگی بہت کردی ہے ”

اس کی اتنی سی ہمت اور چاپلوسی سے گریز نے اس ہیڈ مسٹریس کو ہماری ” بابو شاہی ” کو ناراض کرڈالا ، کمشنر ملتان سمیت کئی سرکاری بابو اس اسکول پہنچے اور انہوں نے اسکول میں بجلی کی تاروں کی خرابی تک کا زمہ دار ہیڈمسٹریس کو قرار دیا اور اسے ناقص کارکردگی پر شوکاز نوٹس تک جاری کیا ، اگلے دن ڈی ایم او وہاں چلے گئے ، وہ ” آزادی سے سوال کا جواب دینے ” کی سزا بھگت رہی ہے ، اس اسکول کے دورے کے دوران ایک تصویر بھی سامنے آئی جس میں کچی زمین پر ” طالبات و خواتین ٹیچر بیٹھی ہیں ” جبکہ سامنے کرسیوں پر ظل اللہی ، بادشاہ مملکت اپنے مصاحبین کے ساتھ جلوہ افروز ہیں – یہاں بابو شاہی ، جاگیردار اور سرمایہ دار سیاست دان ” آزاد سوچ اور دانش ” کی ہلکی سی رمق کو بھی فنا کے گھاٹ اتارنے پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور ایسے میں ” منٹو ” کا زندہ رہنے کا ادعا ایک ” معجزے ” سے کم نہیں یا ہوسکتا ہے کہ ” منٹو کے دانت ” نکال کر اسے مصنوعی تنفس پر زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہو

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s