کرداروں کے نام مسئلہ ہوگئے ورنہ

sorya sen,hanging place

سوریا سین کی یادگار

کیا کسی کو یاد ہے کہ ستمبر کی 13 تاریخ تھی اور سال 1929ء کا تھا جب لاہور اسٹیشن پر ہزاروں لوک جمع ہوگئے تھے اور ایک ارتھی تھی پھولوں سے اٹی ہوئی اور اس ارتھی کے جلوس کی قیادت ” درگاوتی دیوی ” کررہی تھیں اور یہ ارتھی لاہور سے کلکتہ پہنچی تھی تو دس ہزار سے زائد لوگ اس ارتھی کے ساتھ کلکتہ اسٹیشن پر پہنچے ہوئے تھے اور واقعی نظارہ کچھ یوں تھا کہ

عاشق کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے

یہ جتندر ناتھ داس عرف جیتن داس کی ارتھی تھی جس نے ہندوستان سوشلسٹ انقلابی سپاہ ( ایچ ایس آر ) کے انقلابی بھگت سنگھ ، سکھ دیو راج گرو ، رام پرساد بسمل ، اشفاق اللہ خان ، روشن سنگھ اور چندر شیکھر آزاد کے ساتھ ملکر ہندوستان کی آزادی کا خواب دیکھا تھا اور لاہور جیل میں اس نے 63 دن مسلسل بھوک ہڑتال کی تھی اور ستمبر کی تیرہ تاریخ اور سال 1929ء کا تھا جب وہ اسی حالت میں وفات پاگیا تھا

 

درگاوتی دیوی عرف بھابی درگا نے یہ ارتھی کلکتہ لیجاکر بنگالیوں میں انقلاب کی نئی امنگ پیدا کردی تھی اور اس شہادت کی گونج بہت دور تک پہنچی تھی ، جس روز جیتن داس کا جنازہ لاہور ریلوے اسٹیشن تک پہنچا تھا تو اسی دن پنجاب لیجلسلیٹو اسمبلی کے دو اراکین محمد عالم اور گوپی چند بھرگوا ( جو انڈین پنجاب کے آزادی کے فوری بعد چیف منسٹر بھی بنے تھے ) نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی نشست سے استعفی دے ڈالا تھا

 

جیتن داس کی شہادت کی خبر سب سے زیادہ چٹاگانگ کے باسیوں پر بجلی بنکر گری تھی اور وہاں ایک اسکول کے استاد سوریا سین جو کہ اپنے علاقے میں ” ماسٹر دا ” کے نام سے معروف تھا نے برٹش سامراج کو چٹاگانگ سے بھگانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اس نے اپنے علاقے کے نوعمر بچوں اور جوانوں کو تربیت دی اور ہندوستان ری پبلکن آرمی تشکیل دے ڈالی تھی ، اس فوج نے چٹاگانگ سے برٹش راج کو وقتی طور پر ختم کردیا تھا اور پھر جب یہ بغاوت برٹش آرمی نے کچل دی تو سوریا سین اور باقی ماندہ ساتھی چٹاگانگ کے نواحی گاؤں میں چھپ گئے تھے اور پھر پریتی لتا دیوی کی قیادت میں ایک مرتبہ پھر چٹاگانگ میں یورپی کلب پر دھاوا بولا گیا تھا ، یہ آزادی کی جنگ بعد ازاں کسانوں میں بیداری کی لہر پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوئی اور ماسٹر دا کے ہی ایک شاگرد سبودھ رائے کی قیادت میں کسانوں کی بڑی بغاوت ہوئی جس نے انگریزی راج کو ہلادیا تھا ، سوریا سین رائے کو بعدازاں پھانسی دے دی گئی تھی اور چٹاگانگ میں جہآں سوریا سین کو پھانسی دی گئی وہاں پر بنگلہ دیش کی حکومت نے سوریا سین کی یادگار بنادی

 

لیکن میں سوچتا ہوں کہ پاکستان بننے کے بعد مغربی پاکستان میں کیا ہوا ، لاہور کا ریلوے اسٹیشن جس نے جیتن داس کی ارتھی کے جلوس کا ” درگا وتی دیوی ” کی قیادت میں نظارہ کیا تھا ایک بورڑ بھی وہاں نہیں لگا جو اس تاريخی واقعہ کی یاد دلاتا ، جہاں پر ” نوجوان بھارت سبھا ” کے نوجوانوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا تھا یعنی پرانی سنٹرل جیل جو آج کا شادمان چوک بنتا ہے وہاں پر بھگت سنگھ اور دیگر ساتھیوں کی کوئی یادگار نہ بنائی گئی ، آج ہمیں درگاوتی دیوی کے لاہور میں اس مکان کا بھی علم نہیں ہے جہآں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی انگریز پولیس افسر سنڈراس کو قتل کرنے کے بعد چھپے تھے اور بھگت سنگھ جہان فیصل آباد کے قریب جڑانوالہ کے جس گاؤں میں پیدا ہوا تھا اس گاؤں میں اس کا گھر بھی محفوظ نہ کیا گیا ، تاریخ کے ساتھ یہ کھلواڑ اس لئے کیا گیا کہ جس ” کہانی ” کے تحت پاکستان کی تشکیل ہوئی تاریخ کے یہ واقعات اس میں ” کھنڈت ” ڈال دیتے ہیں اور تاریخ کی ٹیلرنگ ویسے نہیں کرنے دیتے جیسے ہمارے ” دو قومی نظریہ ” کے شارحین کرنا چاہتے ہیں ، ہندوستان والوں نے جیتن داس کے نام کے یادگاری ٹکٹ جاری کئے اور کلکتہ کے جس کالج ” ساگر ودیا کالج ” سے وہ پڑھا تھا وہآن بھی اس کے نام کی تختی لگائی ، بنگلہ دیش والوں نے سوریا سین کی یادگار تعمیر کی اور مغربی بنگال والوں نے پریتی لتا سے لیکر سبودھ رائے چودھری تک سب کو یاد رکھا اور اس پر دو ہندی اور ایک بنگالی میں فلمیں بھی بنائی گئیں بلکہ فلم ڈائریکٹر

Bedabrata Pain

بیڈو نے تو کمال کرڈالا اور اس نے ” چٹاگانگ ” کے نام سے اپنی بیوی سونالی باندرے کے ساتھ ملکر جو فلم بنائی اس نے تو ان کرداروں کو لازوال بناڈالا ، منوج باجپائی نے ” سوریا سین ” کا کردار امر کرڈالا اور آج جب میں اس فلم کو دوبارہ دیکھ رہا تھا تو مجھے خیال آرہا تھا کہ ” سوریا سین ، جیتن داس اگر 15 اگست 1947ء کو ” آزادی کا داغ داغ اجالا ” دیکھ لیتے اور بھگت سنگھ کلکتہ ، نواکھلی ، پنجاب ، دھلی ، ممبئی میں ہوئی مار کاٹ ، عصمت دریاں اور مکانوں ، دکانوں اور بازاروں سے اٹھتے آگ کے شعلے دیکھتے تو ان پر کیا گزرتی ، ویسے سبودھ رائے چودھری ، پریتی لتا سمیت کئی ایک کرداروں نے یہ مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور سبودھ رائے نے تو 71ء کی جنگ اور چٹاگانگ سمیت پورے مشرقی بنگال میں ایک مرتبہ پھر وہی مناظر دیکھے اور اس کے دل پر کیا گزری ہوگی یہ کوئی بتانہیں سکتا

 

آج جب میں یہ سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو بنگلہ دیش میں مسلمان ، ہندؤ ، کرسچن سب پر حملے کئے جارہے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت کو بدعتی ، مشرک کہہ کر مارا جارہا ہے ، احمدی تو کہیں محفوظ نہیں ہیں اور کمیونسٹ ، ناستکوں کے لئے تو کہیں بھی جآئے پناہ موجود نہیں ہے وہ ہندوستان میں بھی این ایم کلبرگی کی شکل میں مارے جارہے ہیں اور پاکستان میں کسی کی اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ خود کو ناستک کہنے کی ہمت سرعام کرلے ، یہاں تو کوئی ادیب ، دانشور مرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، مرنا تو دور کی بات ہے وہ ایک سرکاری ایوارڑ واپس کرنے کو تیار نہیں ہے

 

لاہور ، فیصل آباد ، ملتان سمیت پنجاب کے درجنوں شہر اور گاؤں میں تقسیم سے پہلے کی حریت پسند تاریخ کے انمٹ کرداروں کی یادوں سے بھرے پڑے تھے ان کے آثار تک مٹاڈالے گئے اور سرکاری تاریخ ہو یا نجی طور پر تیار کی جانے والی تاریخ کی کتب ان میں بھی ہمیں ان کرداروں کا تذکرہ نہیں ملتا اور پنجاب کے اکثر نوجوانوں کے پاس ” تاریخ کا سرکاری و درباری شعور ” ہی موجود ہے جس میں جن کے نام داس ، سنگھ وغیرہ ہیں ان کو اپنا ہیرو قرار دینا مشکل تو کیا ناممکن سی بات لگتی ہے ہندؤ ، سکھ کرداروں کو تو جانے دیں ، اگر تاریخ کا کوئی کردار بعد میں شیعہ یا احمدی نکل آیا تو اس کو بھی شعور تاریخ سے حذف کئے جانے کی کوششیں عروج پر ہیں جناح ، راجہ آف محمود آباد ، سر آغاخان ، نواب وقار الملک ، سرظفراللہ خان جیسے کردار بھی اس تاریخ فراموشی کا حصّہ بن گئے ہیں ، سوچتا ہوں کہ مسلم سماج نے اپنے لئے تاریخ کا کس قدر مشکل اور محال پیراڈائم گھڑا ہے جس میں کانٹ چھانٹ کرنے کا عمل اسقدر طویل ہے کہ تاریخ اپنے منہ مہاندرے سے محروم ہوجات

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s