بڈھا ان ٹریفک جیم

dc-Cover-n229ndahn24s4rvj0uevvtsms7-20160506211500.Medi

میں خاصی بوریت محسوس کررہا تھا اور دماغ کی کھڑکی بھی بند سی ہورہی تھی-ایسے میں بہت کوشش کی کہ اس کھڑکی کو کھول ڈالوں کسی طرح مگر نہیں کھولنا تھی سو نہ کھلی تو میں نے ڈارک روم کا رخ کیا-یہاں کا اندھیرا مجھے تھوڑی دیر کے لئے پرسکون کرتا ہے اور میں کرتا یہ ہوں کہ ایل ای ڈی سکرین پہ کوئی بھی فلم  لگادیتا ہوں اور کسی حد تک یہ عمل مرے لئے عمل انگیز کا کام کرتا ہے-یو ایس بی سے ایک فلم سلیکٹ کی اسے دیکھتا گیا اور مجھ پہ یہ عقدہ کھلتا گیا کہ کبھی کبھی آپ کا ضمیر کارپوریٹ سرمائے کی جیم ٹریفک میں ایسے پھنستا ہے کہ سامنے کی حقیقت بھی آپ کو نظر نہیں آتی –اور کچھ الگ الگ سے مناظر جن کو میں یہ نہیں کہوں گا کہ ان جیسے واقعات کا دنیا میں وجود نہیں ہے مگر یہ ضرور کہوں کہ پوری تصویر میں ان کا حصّہ بہت کم تھا لیکن اسے بہت بڑا کرکے دکھایا گیا-” بڈھا ان ٹریفک جیم ” وویک اگنوتری کی لکھی ، بنائی ہوئی ایک فلم ہے- یہ فلم گجرات کے قصائی نریندرا مودی کے دور حکومت میں بننا شروع ہوئی اور اسی زمانے میں اس کی نمائش بھی ہوئی-یہ مئی 2016ء میں ریلیز ہوئی تھی-وویک اگنی وتری اس سے پہلے اشتہاری فلمیں بنانے کے کھلاڑی ہیں اور ان کا اشتہاری فلموں کا بزنس زیادہ تر ایسے سرمایہ کاروں کے بل بوتے پہ چلتا رہا ہے جن کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصّہ ہندوستان کے ان علاقوں میں لگا ہوا ہے جہاں پہ آدی واسی قبائلی  بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ علاقہ نکسلائٹ ماؤسٹ تحریک کے گڑھ بھی خیال کئے جاتے ہیں-اس لئے “بڈھا ان ٹریفک جیم ” میں وویک اگنی وتری کا اپنا ضمیر بھی جیم جیم سا نظر آتا ہے-اور یہ اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہے جس کو دیکھ کر مجھے یہ بات تو بخوبی سمجھ میں آگئی کہ ہندوستان کا سرمایہ دار طبقہ اور اس کی تنخواہ دار نئی ابھرنے والی مڈل کلاس کا ایک بڑا حصّہ ہندوستان میں سرمایہ داری ترقی کی ناہمواریت ترقی کے سرمایہ دارانہ ماڈل کا لازمی نتیجہ ماننے کی بجائے اسے سرمایہ داری ناہمواریت کے خلاف لڑنے والوں کو ہی قصوروار ٹھہرانے میں اتنا ہی تیز ہے جتنا پاکستان کی سرمایہ دار کلاس نے آج تک اپنے سرمایہ داری کے ترقی کے ماڈل کی ناہمواریت کو اپنے ماڈل کا قصور نہیں مانا بلکہ وہ اسے بلوچستان میں سرداروں کے زمے ، سرائیکی وسیب ، سندھ میں جاگیرداروں اور  خیبرپشتون خوا میں خوانین کے ذمے  ڈالتی ہے-اور آج کل وہ یہ سارا ملبہ بلوچوں کی مزاحمت پہ ڈال رکھتی ہے-

یہ فلم ہندوستان کے بہت ہی اہم اور نازک موقعہ پہ سامنے آئی جب ہندوستان میں مودی کا نیشنل ازم ایک طرف تو آزادی اظہار اور  نقل وحمل کی آزادی پہ حملہ آور تھا تو دوسری طرف مودی سرکار جنوبی ہندوستان میں معشیت کی لبرلائزیشن کے نام پہ اور سرمایہ کی آزادانہ ،باآسانی نقل و حمل کے لئے اور ان علاقوں میں نام نہاد میگا ترقیاتی پروجیکٹ کی تکمیل کے نام پہ ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں کو فری ہینڈ دیا جارہا تھا-اور پہلی مرتبہ ماؤاسٹ تحریک ، آدی واسیوں کی تحریک کو قومی بلکہ بین الاقوامی تناظر میں جگہ مل رہی تھی-اور مجھے نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ یہ فلم زیادہ تر ارون دھتی رائے کی دانش اور ایکٹو ازم کا جواب بھی تھا –خاص طور پہ ارون دھتی رائے نے ” واکنگ ود کامریڈز ” میں جس طرح ماؤاسٹ کوریڈور میں قبائلیوں کا مقدمہ پیش کیا اور اس سے ایشو کو جتنی اہمیت اور شہرت ملی اس نے ہندوستان میں کارپوریٹ سرمایہ داروں کے ایوانوں میں ایک زلزلہ سا برپا کردیا تھا-اور پھر جیسے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیوکوں نے اس فلم کی نمائش مہاراشٹر ، بنگال اور دہلی کی مرکزی یونیورسٹیوں میں اپنے پلیٹ فارم سے نوجوان طلباء کو دکھانے کی کوشش کی اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی جامعات کے اندر نوجوانوں کے اندر انقلابی سوشلسٹ خیالات اور نکسلائٹ تحریک کے اندر جو کشش محسوس ہورہی تھی اس پہ ہندوستان کی کارپوریٹ سرمایہ کی لابی خاصی پریشان تھی اور وہ چاہتی تھی کہ اس مقبول رجحان کے خلاف فلم میڈیم کو استعمال کرکے بند باندھا جائے-اس فلم میں سب سے زیادہ نکسلائٹوں کو بدنام کیا گیا ہے-اور بظاہر قبائلی آدی واسیوں سے بڑی ہمدردی دکھلائی گئی ہے-اور آدی واسیوں کو مصیبتوں کا حل کارپوریٹ بزنس کو آدی واسیوں کے اندر فروغ دینا بتایا جارہا ہے- یعنی قبائلی علاقے کے لوگ ٹاٹا اور امبانیوں کو وہاں کام کرنے دیں اور ان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے دیں اور وہاں کی ماحولیات کو تباہ و برباد کردیں-اس فلم میں ماؤاسٹ کوریڈور کے اندر سماجی تنظیموں پہ بھی تنقید شاؤنسٹ طریفے سے کی گئی ہےاور پھر مڈل کلاس کے ماڈرن نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو بے راہ رو دکھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور ہندوستان کے اندر پروان چڑھتے لبرل ازم جوکہ ہندوستان کی ابھرتی پروفیشنل مڈل کلاس میں اکثر کا طرہ امتیاز ہے پہ تنقید ویسی ہے جیسے یہاں جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں پیش کرتی ہیں-اور فرسٹریشن کو نشے ، سیکس اور ہر دوسرے استعارے کے زریعے سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اپر مڈل کلاس کے ایک نوجوان کی ریڈیکلائزیشن کو بگاڑ کر فرسٹریشن میں ظاہر کیا گیا ہے اور اسے صبح کا بھولا قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے-اگر دیکھا جائے تو ہندوتوا کی ترجمانی کرنے والی یہ فلم آخری نتیجے میں سرمایہ داری کے گڑھے میں گرجاتی ہے-اور ریاست کیا کرتی ہے ؟اس کی کیا شکل ہے؟ اس سارے راز کو راز ہی رکھا گیا ہے-

لا تکفیر کانفرنس : کوفہ ایک زہنیت کا نام ہے پیارے

La takfir

 

سولہ جولائی 2016ء کو سید خرم زکی کے چہلم کی تقریب انچولی گراؤنڈ مین ہونے جارہی ہے – اور صوفیاء کی روایات سے وابستہ لوگوں کا طریق یہ ہے کہ اس روز کی مناسبت سے وہ قرآن خوانی کرتے ہیں ، زکر و ازکار کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور ان سب کا ثواب وہ اپنے جانے والے کی روح کو ایسے عطیہ کرتے ہیں کہ پہلے اسے ہدیہ ، تحفہ کے طور پہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ان کے رفقاء، اہل بیت اطہار ، تابعین و تبع تابعین و دیگر اولیائے عظام کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے اور پھر اپنے عزیز کی روح کو اور اس کے بعد جتنے مسلمان اس دنیا سے گزر گئے  ہوتے ہیں ان کی ارواح کو ثواب پہنچایا جاتا ہے-اس جنوبی ایشیاء ، مشرق بعید و مشرق قریب اور وسط ایشیاء ، شمالی افریقہ مسلمانوں کی اکثریت چاہے وہ سنّی ہیں یا شیعہ اسی رسم پہ عمل پیرا ہیں اور جب سعودی وہابیت نے اس پوری مسلم دنیا پہ اپنا اثر اس طرح سے نہیں ڈالا تھا تب تک یہاں پہ کوئی بھی اس رسم بارے میں منفی رویہ نہیں اپناتا تھا اور یہاں تک کہ دیوبندی مین سٹریم دھارا بھی ان رسوم کے اپنے تئیں اعتدال پسندانہ عمل درآمد پہ معترض نہیں تھا –ہمارے سماج کے اندر جو ملحد ، کمیونسٹ ، سوشلسٹ اور لبرل تھے ان کی بھاری اکثریت اسے کلچرل روایت کے طور پہ لیتے اور ان کی تنقید اگر سامنے آتی تو اس کا مدّعا بھی ان جیسی رسموں پہ طاقت سے بڑھ کر اسراف وغیرہ ہوتا تھا-لیکن وہ کلچر میں شامل ان مذہبی لہروں کو اپنے لیے نقصان دہ خیال نہیں کرتے تھے –لیکن آج صورت حال زرا بدل چکی ہے-ہندوستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان  میں ان رسوم پہ عمل پیرا  مذہبی برادریوں کے بارے میں ایک طرف تو ” نیو دیوبندی ازم ” کا ردعمل بھی ” سلفی ازم ” سے مختلف نہیں رہا ہے-بلکہ پاکستان میں یہ ‘نیودیوبندی ازم ” ہے جو ان مذہبی برادریوں کے شعائر مذہبی کو یکسر مسترد کرتا ہے اور اس حوالے سے تشدد ، عسکریت پسندی کے راستے سے اسے ختم کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے-اور اس نیو دیوبندی ازم اور سعودی فنڈڈ سلفی وہابی ازم کی شیعہ اور صوفی سنّیوں کی تکفیر اور ان کو مشرک اور مرتکب ارتداد قرار دینے کی روش سے تکفیری دہشت گردی کا ظہور ہوا ہے-جبکہ دوسری طرف ایسے لبرل ، مارکسسٹ ، سوشلسٹ بھی ہیں جو اس معاملے پہ تھیولوجیکل تناظر میں تو بحث نہیں کرتے لیکن وہ ایک ماہر معشیت و عمرانیات  کے طور پہ سامنے آتے ہیں اور بجائے اس کے ان رسوم میں جو اشراف پن کے  مظاہر ہکں ان پہ تنقید کریں وہ ان کلچرل لہروں کو ہی مسترد کرتے ہیں اور ان کی جانب سے سے آخری جو مطالبہ سامنے آتا ہے وہ براہ راست اس ملک میں اہل تشیع اور اہل سنت کے شعائر مذہبی پہ پابندی یا چاردیواری کے اندر ان کو محدود کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور یہ جاکر تکفیریت اور نیو دیوبندی ازم کے مطالبات سے جاکر مل جاتا ہے-

سید خرم زکی ایڈیٹر بلاگ تعمیر پاکستان اپنی قلمی اور سماجی سرگرمیوں کے زریعے سے نیودیوبندی ازم کے زیر اثر پاکستان کے اندر تکفیریت کے ابھار اور اس کے نتیجے میں مذہبی پابندیوں کے خلاف جدوجہد کررہے تھے اور انہوں نے اس جدوجہد کے دوران یہ بات پالی تھی کہ نیو دیوبندی ازم اور تکفیریت جو خود کو سنّی اسلام کا نمائندہ بتلاتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ اپنی فسطائیت اور انتہاپسندی کا جواز انتہائی گمراہ کن بائنری اور نامعقول برابری پہ مبنی نظریات کا جواز پیدا کرے-اس وقت پاکستان کے اندر جہادی کیمپ ، دیوبند اور سلفی مکتبہ فکر کو تو جانے دیجئے خود سیکولر ، لبرل اور لیفٹ کے اندر ایسے لوگ موجود تھے جنھوں نے پاکستان میں تکفیری دہشت گردی کو سعودی-ایران بائنری اور شیعہ – سنّی تنازعہ کی روشنی میں بیان کرنے کی روش اپنالی تھی-اور پاکستان کا کوئی تجزیہ نگار ، کوئی صحافی اور کوئی اخبار جب بھی تکفیری دہشت گردی کی واردات پہ اظہار خیال کرتا تو اس کا زمہ دار سنّی شدت پسند یا سنّی دہشت گرد گروپ یا تنظیم لکھا جاتا تھا-اور اس حوالے سے کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں تھا جو یہ بیان کرتا کہ یہ بائنری اور مساوات گمراہ کن ہے- بلاگ تعمیر پاکستان مری نظر میں وہ پہلا بلاگ تھا جس نے ایک طرف تو پاکستان کے اندر اور باہر اپنے بلاگ کے زریعے اس بات پہ زور دینا شروع کیا کہ پاکستان کے اندر ایک تو اکثریت شیعہ اور سنّی آبادی کے اندر کوئی لڑائی موجود نہیں ہے اور نہ ہی ان دونوں مکاتب فکر کے درمیان کوئی جنگ ہورہی ہے-دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے اندر جتنی بھی منظم  مذہبی دہشت گردی ہے ان کے پیچھے جتنی بھی عسکری تنظیمیں اور نیٹ ورک ہیں ان کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے اٹھنے والی تکفیری لہر کی نمائندہ قوت سے ہے اور اسے ہم سپاہ صحابہ پاکستان یا آج اہلسنت والجماعت کے نام سے جانتے ہیں اور یہ اہلسنت کے مین سٹریم رجحان کی نمائندہ نہیں ہے بلکہ خود دیوبندی عوام کی اکثریت کی بھی یہ نمائندہ نہیں ہے –یہ دریافت کرنا اور اس پہ زور دینا اور اسے باور کرانا کوئی چھوٹا کام یا معمولی کارنامہ نہیں تھا – بطور مدیر بلاگ تعمیر پاکستان سید خرم زکی نے بلاگ پہ اعداد و شمار سامنے لانے ، ڈیٹا بیس اکٹھا کرنے اور اس مقدمے کو مضبوط کرنے کے لئے کافی محنت کی – تعمیر پاکستان بلاگ نے پہلی مرتبہ تکفیری دیوبندی گروپوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شیعہ ، صوفی سنّی ، مسیحی ، احمدی ، ہندؤ ، سکھ ، اسماعیلی ، سیکولر سیاست دانوں ، مذہبی سکالرز ، ڈاکٹر ، پروفیشنل کا ڈیٹا بیس تیار کیا اور اس دوران مساجد ، مزارات ، گرجا گھروں ، مندروں اور مراکز احمدیہ وغیرہ پہ حملوں اور ان کے زمہ دار عناصر کا ڈیٹا بیس بھی تیار کیا گیا-یہ بہت بڑا کارنامہ تھا جس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ نیودیوبندی ازم اور تکفیری فاشزم نہ صرف شیعہ اور سنّی دونوں کو برابر نشانہ بنارہے ہیں بلکہ غیر مسلم اقلیتوں پہ حملوں میں بھی یہی گروپ ملوث ہیں اور ان کی دہشت گردی کو سنّی شدت پسندی ، سنّی –شیعہ تنازعہ قرار دینا گمراہ کن ہے-سید خرم زکی نے تحریری قلمی جہاد تک خود کو محدود نہ کیا بلکہ اس کے بعد وہ ایک قدم اور آگے گئے اور انہوں نے تکفیری فاشزم کے طاقتور مراکز کے سامنے احتجاج کرنے اور ان کو بے نقاب کرنے کی مہم شروع کی –وہ لال مسجد ، جامعہ بنوری کے سامنے جاکر کھڑے ہوگئے- انہوں نے تکفیری فاشسٹ جماعت سپاہ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت کے خلاف احتجاجی مارچ کیا اور سندھ چیف منسٹر ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا –اور اس حوالے سے دھرنا دیا بھی –گرفتار بھی ہوئے اور انھوں نے پولیس سے لیکر عدالت تک سب دروازے بھی کھٹکھٹائے اور انھوں نے سول سوسائٹی کے لوگوں کے ساتھ بھی روابط پیدا کئے اور اس دوران ان کو اگرچہ ان کو لبرل صحافتی سیکشن کی ایک پرت اور سول سوسائٹی کے اندر بھی ایک لبرل سیکشن کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا ہوا اور ان کی مخالفت کی گئی اور یہ سیکشن بھی وہی تھا جو یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ پاکستان میں شیعہ ، سنّی ، مسیحی ، احمدی ، ہندؤ ، اور سیکولرو لبرل و لیفٹ پہ جتنے انتہا پسند اور دہشت گرد حملے ہیں ان کی جڑیں 99 فیصد تکفیری دیوبندی ازم کے اندر پیوست ہیں – اور وہ اسے شیعہ –سنّی اور سعودی عرب-ایران بائنری کے اندر ہی تشریح کرنے پہ مصر تھے اور ان میں ایسے انتہا پسند بھی تھے جو تکفیری دیوبندی فاشزم کے برابر سنّی بریلوی تھیاکریسی یا شیعہ تھیاکریسی کے برابر ٹھہرادیتے تھے اور اس طرح سے اپنے تجزيے وہ تکفیری فاشزم کی شنااخت کو بے چہرہ کرنے کی کوشش کئے جاتے تھے –یہ وہ لبرل اور نام نہاد ماڈریٹ حلقہ تھا جس نے یہ ظلم تک کیا کہ طاہر اشرفی ، مولوی احمد لدھیانوی ، اورنگ زیب فاروقی جیسوں کو اعتدال پسند ، لبرل ملّا بناکر پیش کردیا- طاہر اشرفی کو نجم سیٹھی پہلے اپنے رسالے میں پروجیکٹ کرتے رہے پھر وہ جیو ، ایکسپریس پہ نظر آئے اور اسی طرح ہم نے طلعت حسین ، حامد میر سمیت کئی ایک بڑے اینکر پرسنز کے پروگرام میں محمد احمد لدھیانوی کو بطور مہمان دیکھا اور اورنگ زیب فاروقی بھی پرائم ٹائم ٹی وی پروگراموں میں نظر آئے-مولوی عبدالعزیز کو بھی پوری کوریج ملی اور ایسے اوریا مقبول جان جیسے داعش کے حامی ہمارے مین سٹریم میڈیا پہ براجمان ہوگئے-ایسے میں سید خرم زکی اور بلاگ تعمیر پاکستان نے بہت اصولی موقف اپناتے ہوئے ان سب کو بے نقاب کرنے کی ٹھان لی –اور لبرل ازم اور روشن خیالی کے نقاب پہنے نیودیوبندی ازم ، تکفیر ازم اور تکفیری فاشسٹوں کے معذرت خواہوں –اپالوجسٹ اور ان کے لئے محفوظ راستہ تلاش کرنے والے جغادری بڑے صحافیوں اور نام نہاد سماجی ورکرز کو بے نقاب کرنے کا کام آسان نہیں تھا – یہ پاکستان کے بڑے بڑے میڈیا گروپوں کے ساتھ کھڑے تھے اور ان کے پاس عوام کی رائے پہ اثر انداز ہونے کے زیادہ مواقع تھے-اور ان کے پاس کئی پیدل سپاہی تھے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے – سید خرم زکی نے بے سروسامانی کے عالم میں نجم سیٹھی ، بینا سرور ، المانہ فصیح ،حامد میر سمیت بگ گنز کے ساتھ لڑائی لڑی اور انہوں نے ان کی گمراہ کن سوچ اور تجزیے کے تاروپود کھول کے رکھ دئے تھے-اور یہآں یہ بھی ہوا کہ جعلی کمرشل لبرل مافیا کو بے نقاب کرنے کی اس مہم کے دوران کچھ نوجوان ایسے بھی تھے جن کو اپنا صحافتی یا بطور سول سوسائٹی ایکٹوسٹ خرم زکی کے کیمپ میں کھڑے ہونے سے مستقبل خطرے میں نظر آیا تو انھوں نے ان سے اپنی راہ الگ کرلی اور خرم زکی جس بلاگ کے ایڈیٹر تھے اس کے خلاف توپوں کے دھانے کھول دئے-ایسا ہی ایک نوجوان خرم زکی کی شہادت کے بعد آج ان کی فکری و سماجی میراث کے وارث ہونے کا دعویدار بنا پھر رہا ہے اور سید خرم زکی جس بلاگ کے ایڈیٹر تھے اس بلاگ کو آج بھی وہ منہ بھر بھر گالیاں دیتا ہے-سید خرم زکی کا ورثہ جو آج پاکستان کے شیعہ ، سنّی ، مسیحی ، احمدی ، ہندؤ ، سیکولر ، لبرل ، لیفٹ کے نوجوانوں کو متاثر کررہا ہے تو سید خرم زکی کے نام پہ نوجوانوں کے کھنچے چلے آتے دیکھ کر جعلی کمرشل لبرل مافیا کے کچھ حصّے اس میراث پہ قبضہ کرکے اس پوری تحریک کو برباد کرنے کی کوشش میں ہیں-لیکن یہ بات طے ہے کہ سید خرم زکی کے نطریات و افکار میں اتنی آگ ہے کہ اس کو  بزدل ، ڈرپوک ، موقعہ پرست اور کمرشل ازم کے دلدادہ لوگ اپنے سینوں میں فروزاں نہیں کرسکیں گے-

سید خرم زکی کی جیت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ ان کی آواز کو بازگشت میں بدلنے والوں میں ایک طرف تو اہلسنت کے عالم بے مثل ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کے فرزند ڈاکٹر راغب نعیمی ، شاگرد رشید شہید ملت اہلسنت مفتی گلزار نعیمی ، جگر گوشہ غزالی زماں صاحبزادہ حامد سعید کاظمی ، چئیرمین سنّی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا قادری ہیں تو دوسری طرف ان کے ہم آواز سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر ہیں – ان کو شہباز بھٹی کے سیاسی ورثے کے وارثان کی حمایت بھی حاصل ہے-اور سید خرم زکی کا شمار ان لوگوں میں کیا جآئے گا جنھوں نے انتہائی پرآشوب دور میں پاکستانی سماج کو شیعہ-سنّی خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کی سازش کرنے والوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کی اور جعلی اہل سنت والجماعت کے تکفیری فاشزم کے خلاف بین المذاہب اتحاد بنانے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اس کی راہ ہموار کی –

میں ایسے سینکڑوں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں ، مرد و خواتین سے واقف ہوں جن کی کایا کلپ ہوئی اور انہوں نے ” سپاہ صحابہ پاکستان سے لیکر نیو دیوبندی ازم ، سعودئزائشن ، دیوبندائزیشن ، تکفیر ازم ” کو محض فرقہ پرستی سمجھنے کا رویہ ترک کیا اور اس کو پاکستان کے لئے سم قاتل سمجھنے کی روش سید خرم زکی اور ان کے رفقاء کی تحریروں اور ان سے سوشل میڈیا پہ ہوئے انٹریکشن کے زریعے سے اختیار کیا-

سید خرم زکی کی شہادت کے چالیس روز مکمل ہونے پہ انچولی گراؤنڈ مين ہونے والی ” لاتکفیر کانفرنس ایک اہم سنگ میل ہے لیکن اس کانفرنس کے منتظم اور اس میں شامل ہونے والوں کو یہ بات ضرور ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ سید خرم زکی کی لڑائی کا مرکز و محور یہ تھا کہ تکفیری فاشزم کے مراکز کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نظریاتی پہچان کو عام کیا جائے اور اس پہچان کو ” بے چہرہ ” کرنے والوں سے بھی رعایت نہ کی جائے- یہی وجہ ہے کہ سید خرم زکی کی تنقید سے جبران ناصر بھی بچ نہين پائے تھے جب انہوں نے ” تکفیری دیوبندی ” اصطلاح پہ جھجک دکھائی تھی اور یہ سوچا تھا کہ ایسے شاید وہ کمرشل لبرل مافیا کے اندر ” معتبر ” ہوجائیں گے –میں سچ بولنے سے کسی مصلحت کے تحت گريز کرنے والا نہیں ہوں- لاتکفیر کانفرنس میں کئی مقررین ایسے ہیں جنھوں نے خود اس راقم الحروف کو یہ کہا تھا کہ سید خرم زکی ایک شیعہ جنونی ہے اور فرقہ پرست ہے- انتہا پسند ہے- اور ایسے بھی تھے جنھوں نے یہ بھی کہنے کی کوشش کی تھی کہ سید خرم زکی کی تحریریں حد اعتدال سے باہر تھیں اور انھوں نے سید خرم زکی کو ایک لبرل ایکٹوسٹ ماننے سے انکار تک کردیا تھا-اور 16 جولائی ،2016ء کو انچولی گراؤنڈ میں وہ سید خرم زکی کے چہلم کی تقریب میں سید خرم زکی شان میں رطب اللسان ہوں گے اور اس طرح سے خود اپنے تھوکے کو چاٹنے والا کام کریں گے-اس تقریب میں ایسے سیاستدان بھی مدعو ہیں جو سندھ اسمبلی کے اندر حکمران پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ اسمبلی کے اندر آج تک یا پارلیمانی اجلاس میں آج تک انھوں نے اپنی حکومت سے یہ نہیں پوچھا کہ سید خرم زکی شہید کے قتل پہ جوائنٹ انوسٹی گيشن ٹیم کیوں نہیں بنی ؟ اورنگ زیب فاروقی ابتک کیوں آزاد پھررہا ہے اور ایک کالعدم تنظیم کو سندھ مين سرگرمیوں کی اجازت کیوں ملی ہوئی ہے ؟ اور سندھ مين حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ایم کیو ایم نے آج تک خرم زکی کے قتل میں نامزد ملزم اورنگ زیب فارومی اور مولوی عبدالعزیز کی گرفتاری نہ ہونے پہ اسمبلی سیشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیوں نہیں کیا ؟یہ سوال تلخ ضرور ہیں لیکن ان کو اٹھانا میں سید خرم زکی کی روش کی پیروی سمجھتا ہوں اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ہمیں بار بار مصلحت پسندی اور سمجھوتہ بازیوں کے خلاف وقت پہ آواز اٹھانے کی روش اپنانا ہوگی تبھی سید خرم زکی کی روح شاد کام ہوگی –