بڈھا ان ٹریفک جیم

dc-Cover-n229ndahn24s4rvj0uevvtsms7-20160506211500.Medi

میں خاصی بوریت محسوس کررہا تھا اور دماغ کی کھڑکی بھی بند سی ہورہی تھی-ایسے میں بہت کوشش کی کہ اس کھڑکی کو کھول ڈالوں کسی طرح مگر نہیں کھولنا تھی سو نہ کھلی تو میں نے ڈارک روم کا رخ کیا-یہاں کا اندھیرا مجھے تھوڑی دیر کے لئے پرسکون کرتا ہے اور میں کرتا یہ ہوں کہ ایل ای ڈی سکرین پہ کوئی بھی فلم  لگادیتا ہوں اور کسی حد تک یہ عمل مرے لئے عمل انگیز کا کام کرتا ہے-یو ایس بی سے ایک فلم سلیکٹ کی اسے دیکھتا گیا اور مجھ پہ یہ عقدہ کھلتا گیا کہ کبھی کبھی آپ کا ضمیر کارپوریٹ سرمائے کی جیم ٹریفک میں ایسے پھنستا ہے کہ سامنے کی حقیقت بھی آپ کو نظر نہیں آتی –اور کچھ الگ الگ سے مناظر جن کو میں یہ نہیں کہوں گا کہ ان جیسے واقعات کا دنیا میں وجود نہیں ہے مگر یہ ضرور کہوں کہ پوری تصویر میں ان کا حصّہ بہت کم تھا لیکن اسے بہت بڑا کرکے دکھایا گیا-” بڈھا ان ٹریفک جیم ” وویک اگنوتری کی لکھی ، بنائی ہوئی ایک فلم ہے- یہ فلم گجرات کے قصائی نریندرا مودی کے دور حکومت میں بننا شروع ہوئی اور اسی زمانے میں اس کی نمائش بھی ہوئی-یہ مئی 2016ء میں ریلیز ہوئی تھی-وویک اگنی وتری اس سے پہلے اشتہاری فلمیں بنانے کے کھلاڑی ہیں اور ان کا اشتہاری فلموں کا بزنس زیادہ تر ایسے سرمایہ کاروں کے بل بوتے پہ چلتا رہا ہے جن کی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصّہ ہندوستان کے ان علاقوں میں لگا ہوا ہے جہاں پہ آدی واسی قبائلی  بڑی تعداد میں آباد ہیں اور یہ علاقہ نکسلائٹ ماؤسٹ تحریک کے گڑھ بھی خیال کئے جاتے ہیں-اس لئے “بڈھا ان ٹریفک جیم ” میں وویک اگنی وتری کا اپنا ضمیر بھی جیم جیم سا نظر آتا ہے-اور یہ اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہے جس کو دیکھ کر مجھے یہ بات تو بخوبی سمجھ میں آگئی کہ ہندوستان کا سرمایہ دار طبقہ اور اس کی تنخواہ دار نئی ابھرنے والی مڈل کلاس کا ایک بڑا حصّہ ہندوستان میں سرمایہ داری ترقی کی ناہمواریت ترقی کے سرمایہ دارانہ ماڈل کا لازمی نتیجہ ماننے کی بجائے اسے سرمایہ داری ناہمواریت کے خلاف لڑنے والوں کو ہی قصوروار ٹھہرانے میں اتنا ہی تیز ہے جتنا پاکستان کی سرمایہ دار کلاس نے آج تک اپنے سرمایہ داری کے ترقی کے ماڈل کی ناہمواریت کو اپنے ماڈل کا قصور نہیں مانا بلکہ وہ اسے بلوچستان میں سرداروں کے زمے ، سرائیکی وسیب ، سندھ میں جاگیرداروں اور  خیبرپشتون خوا میں خوانین کے ذمے  ڈالتی ہے-اور آج کل وہ یہ سارا ملبہ بلوچوں کی مزاحمت پہ ڈال رکھتی ہے-

یہ فلم ہندوستان کے بہت ہی اہم اور نازک موقعہ پہ سامنے آئی جب ہندوستان میں مودی کا نیشنل ازم ایک طرف تو آزادی اظہار اور  نقل وحمل کی آزادی پہ حملہ آور تھا تو دوسری طرف مودی سرکار جنوبی ہندوستان میں معشیت کی لبرلائزیشن کے نام پہ اور سرمایہ کی آزادانہ ،باآسانی نقل و حمل کے لئے اور ان علاقوں میں نام نہاد میگا ترقیاتی پروجیکٹ کی تکمیل کے نام پہ ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں کو فری ہینڈ دیا جارہا تھا-اور پہلی مرتبہ ماؤاسٹ تحریک ، آدی واسیوں کی تحریک کو قومی بلکہ بین الاقوامی تناظر میں جگہ مل رہی تھی-اور مجھے نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ یہ فلم زیادہ تر ارون دھتی رائے کی دانش اور ایکٹو ازم کا جواب بھی تھا –خاص طور پہ ارون دھتی رائے نے ” واکنگ ود کامریڈز ” میں جس طرح ماؤاسٹ کوریڈور میں قبائلیوں کا مقدمہ پیش کیا اور اس سے ایشو کو جتنی اہمیت اور شہرت ملی اس نے ہندوستان میں کارپوریٹ سرمایہ داروں کے ایوانوں میں ایک زلزلہ سا برپا کردیا تھا-اور پھر جیسے آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیوکوں نے اس فلم کی نمائش مہاراشٹر ، بنگال اور دہلی کی مرکزی یونیورسٹیوں میں اپنے پلیٹ فارم سے نوجوان طلباء کو دکھانے کی کوشش کی اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی جامعات کے اندر نوجوانوں کے اندر انقلابی سوشلسٹ خیالات اور نکسلائٹ تحریک کے اندر جو کشش محسوس ہورہی تھی اس پہ ہندوستان کی کارپوریٹ سرمایہ کی لابی خاصی پریشان تھی اور وہ چاہتی تھی کہ اس مقبول رجحان کے خلاف فلم میڈیم کو استعمال کرکے بند باندھا جائے-اس فلم میں سب سے زیادہ نکسلائٹوں کو بدنام کیا گیا ہے-اور بظاہر قبائلی آدی واسیوں سے بڑی ہمدردی دکھلائی گئی ہے-اور آدی واسیوں کو مصیبتوں کا حل کارپوریٹ بزنس کو آدی واسیوں کے اندر فروغ دینا بتایا جارہا ہے- یعنی قبائلی علاقے کے لوگ ٹاٹا اور امبانیوں کو وہاں کام کرنے دیں اور ان کے وسائل کی لوٹ مار کرنے دیں اور وہاں کی ماحولیات کو تباہ و برباد کردیں-اس فلم میں ماؤاسٹ کوریڈور کے اندر سماجی تنظیموں پہ بھی تنقید شاؤنسٹ طریفے سے کی گئی ہےاور پھر مڈل کلاس کے ماڈرن نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو بے راہ رو دکھانے کی کوشش بھی کی گئی ہے اور ہندوستان کے اندر پروان چڑھتے لبرل ازم جوکہ ہندوستان کی ابھرتی پروفیشنل مڈل کلاس میں اکثر کا طرہ امتیاز ہے پہ تنقید ویسی ہے جیسے یہاں جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں پیش کرتی ہیں-اور فرسٹریشن کو نشے ، سیکس اور ہر دوسرے استعارے کے زریعے سے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اپر مڈل کلاس کے ایک نوجوان کی ریڈیکلائزیشن کو بگاڑ کر فرسٹریشن میں ظاہر کیا گیا ہے اور اسے صبح کا بھولا قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے-اگر دیکھا جائے تو ہندوتوا کی ترجمانی کرنے والی یہ فلم آخری نتیجے میں سرمایہ داری کے گڑھے میں گرجاتی ہے-اور ریاست کیا کرتی ہے ؟اس کی کیا شکل ہے؟ اس سارے راز کو راز ہی رکھا گیا ہے-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s