کوفہ اور اس کی سیاسی سماجی اجتماعیت

kufa

کوفہ  : ایک چھاؤنی سے طاقتور سیاسی تحریکوں کا مرکز بننے تک

ابتدائیہ

کوفہ کے بارے میں ،میں نے بچپن سے ایک جملہ اکثر لوگوں سے سنا کہ یہ “عہد شکنوں ” کا شہر ہے-اور “کوفی لا یعوفی ” کی اصطلاح بھی میں نے اکثر لوگوں کو بولتے سنا-مولانا شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی تقاریر کا زمانہ تھا اور جب بھی محرم کا پہلا عشرہ آتا تو ان کو شہادت امام حسین کا قصّہ بیان کرنے کے لئے بلایا جاتا تو وہ جب اسیران کربلاء کا قصّہ بیان کرتے تو جناب شریکۃ الحسین ، ام المصائب بی بی زینب بنت فاطمہ الزھراء رضی اللہ عنھا کا خطاب کا تذکرہ کرتے جس میں “کوفہ ” والوں سے عمومی خطاب کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور اس بنیاد پہ کوفیوں کی مذمت کی جاتی –اس زمانے میں بھی مرے ذہن میں یہ سوال اٹھا کرتا تھا کہ کوفہ وہ شہر ہے جہاں فقہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بنیادیں رکھی گئیں اور یہی وہ شہر ہے جہاں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فکر کو مدون کیا گیا اور اسی سے آگے چل کر فقہ حنفیہ ، فقہ امام اوزاعی اور فقہ امام جعفر صادق کا وجود سامنے آیا-اور پھر کوفہ شہر کسی بھی لحاظ سے عجمیوں کا شہر تو تھا نہیں بلکہ یہ خالص عرب شہر تھا اور یہاں پہ جو لوگ آکر بسے وہ حجاز سے اسلامی تعلیمات کا براہ راست تجربہ کرکے یہاں آئے تھے اور ان کے اور رسالت مآب کے درمیان کوئی واسطہ نہیں تھا-تو یہ شہر کیسے صرف بے وفاؤں کا شہر ہوسکتا تھا؟ اور پھر مرے ذہن میں یہ سوال بھی اٹھتا تھا کہ عراقی فقہ کے بارے میں اہلسنت چاہے بریلوی ہوں یا دیوبندی ان کے اہل علم فقہا کی کتابیں تعریف و مدح سے بھری پڑی تھیں اور وہ عراقی فقہ کو رد کرنے والے ” غیر مقلدین ” کے خلاف علمی جہاد میں مصروف تھے لیکن جیسے ہی وہ تاریخ سے معاملہ کرنے پہ آتے تو ان کے رویے بھی عراق بارے بالعموم اور کوفہ بارے بالخصوص ” غیر مقلدین ” جیسے ہوجاتے تھے-دیوبندی علماء تو اس سے بھی آگے جاتے تھے اور وہ امویوں کو چھوڑ کر اہل بیت اطہار پہ مصائب کا زمہ دار ہی اہل کوفہ کو ٹھہرادیتے تھے-اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے تکفیری خیالات خارجی فکر کی حدود کو چھوجاتے تھے یزید کے ظلم کی توجیہ پیش کرنے لگتے تھے-

مرے ایک دوست ہیں مولانا محمد شوکت سیالوی ،وہ جب جامعہ نظامیہ لاہور سے فارغ التحصیل ہوکر آئے اور انہوں نے فقہ کوفہ پہ خاص مہارت حاصل کرنے کی ٹھانی اور غیر مقلدین کی “کوفہ ” بارے پھیلائی چیزوں کا کافی شافی رد کرنے کی ٹھان لی تو مجھے بھی ان کے ساتھ اس بارے میں کافی کچھ سیکھنے کا موقعہ ملا-کوفہ کے بارے میں ” افواہیں ” اور ” مبالغہ آرائی ” پہ مبنی چیزیں اس شہر کی ” تہذیبی اور اقتصادی و فکری ” پرداخت اور پرشکوہ تاریخ کو دبانے کا سبب بن گئیں-اور المیہ یہ ہوا کہ اردو میں کسی بھی صاحب نے اس شہر کی سنجیدگی سے ایک علمی و فکری تاریخ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی-مولانا شوکت سیالوی کی مناظرہ بازی نے ان کو ایک انتہائی ضروری کام سے روک دیا –لیکن میں نہیں رکا-میں مسلسل اس موضوع پہ مواد ڈھونڈتا ہی رہا-عرب دنیا کو اس لحاظ سے خوش قسمت کہا جاسکتا ہے کہ وہاں دانشور طبقہ کوفہ کی اجتماعی حیات ، اقتصادیات بارے کافی سنجیدہ تحقیقی کام سامنے لاتا رہا-لیکن المیہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے  وہابی تاریخی بیانیہ کے شور میں مسلم تاریخ کے متبادل تحقیقی کام  کو دبادیا گیا-خود کوفہ کی فقہی روایت کے علمبردار وں نے اس علمی کام کو برصغیر پاک و ہند کی مقامی زبانوں میں ڈھالنے یا اس بارے لوگوں کی رائے کو بہتر بنانے کے لئے کوئی کام نہ کیا-بلکہ کوفہ کے اور اس کے مکینوں کے بارے میں جو ” فکری مغالطے ” زبان زدعام کردئے گئے تھے ان کو ہی پروموٹ کرنے کے کام میں جت گئے-1966ء کے لگ بھگ عرب دنیا کے اندر بالخصوص اور مغرب کے دانشکدوں میں ایک کتاب کا بہت شہرہ ہوا تھا اور یہ کتاب اب

” کوفہ شہر ” کی اجتماعی زندگی اور معاشی زندگی پہ ایک حوالہ کتاب بن چکی ہے-اور یہ کتاب لکھنے والے محمد حسین الزبیدی تھے-اور کتاب کا نام تھا ” الحياة الاجتماعية و الاقتصادية في الكوفة في القرن الاول الهجري” انگریزی میں اس کا ترجمہ بنتا ” سوشو-اکنامک لائف آف کوفہ ان فرسٹ  ہجری ” اور کوفہ کی قبائلی تاریخ بارے تفصیل سے جاننے کے لئے دمشق سے 1949ء میں عمر رضا کہالہ کی کتاب ” معجم قبا‏ئل العرب “شایع ہوئی –اور اسی طرح سے ایک اور بہت ہی تحقیقی مقالہ یوسف خالف کا کتابی شکل میں 1968ء میں قاہرہ سے شایع ہوا جس کا نام تھا ” حیات الشعر فی الکوفۃ “-ایم ہند کا ایک تحقیقی مقالہ ” کوفی سیاسی اتحاد 7ویں صدی عیسوی میں ” انٹرنیشنل جرنل آف مڈل ایسٹ اسٹڈیز ” کے اکتوبر 1971ء میں شایع ہوا-اور اسی طرح سے ایک بہت ہی مشہور مورخ سید محمد صادق نے “تاريخ الكوفة” لکھی اور یہ 1985ء ميں شایع ہوئی تھی-کوفہ کی تاریخ بارے جزو ، جزو بکھرا ہوا مواد تاریخ طبری ، تاریخ البلاذری ، تاریخ حموی ، تاریخ یعقوبی میں موجود ہے اور کم از کم عربی ، فارسی ، انگريزی میں اس کو کمپائل یا مرتب کرنے والوں کی کمی نہیں ہے-اور اسی طرح کوفہ کی سماجی زندگی پہ سید حسین محمد جعفری کی کتاب ” دی اورجینز اینڈ ارلی ڈویلپمنٹ آف اسلام “کا پانچواں باب “کوفہ : سٹیج آف شیعی ایکٹویٹیز ” بہت ہی زبردست تحقیق پہ مشتمل ہے –کوفہ اور عراق بارے سنجیدہ تاریخی مطالعوں کا آغاز عرب دنیا میں اس لئے بھی ہوا کہ” سعودی وہابی تاریخی بیانیہ” بے پناہ فنڈنگ کے سبب تاریخ کو مسخ کرنے کا سبب بن رہا تھا اور اس کا اگر فکری رجحان کا کوئی ٹھوس مظاہرہ دیکھنا مقصود ہو تو ہمیں مصر کے اندر ہی محمد امین مصری جیسے لوگ مل جاتے ہیں جنھوں نے پوری تاریخ کو گھڑی ہوئی اور فرضی قرار دے ڈالا-فجرالاسلام نامی کتاب کو آپ پڑھتے جائیں تو آپ کو اس رجحان کی ٹھیک ٹھیک جڑیں ملتی چلی جائیں گی-یہ سعودی وہابی تاریخی بیانیہ کے پیچھے بڑی فنڈنگ تھی جس نے شیخ ابن تیمیہ کی ” منھاج السنۃ ” کو پھر سے زندہ کیا اور اسی کتاب کی بنیاد پہ ایک ” تکفیری تاریخی بیانیہ ” بھی تشکیل پایا جس میں کوفہ کے لوگ “ولن ” ٹھہرادئے گئے-اور کیا یہ محض اتفاق تھا کہ خود دیوبندی روایت سے جڑے کئی بڑے بڑے نامور دانشور اور محققین نے

 شیخ ابن تیمیہ ، شیخ ابن قیم  جوزی ، محمد بن عبدالوہاب تمیمی نجدی کا تاریخی بیانیہ اپناتے ہوئے کوفہ کی سماجی-معاشی زندگی کو بس عہد شکنی تک محدود کردیا-اور آج بھی ” سعودی وہابی تاریخی بیانیہ ” ریڈیکل وہابی ازم اور ریڈیکل دیوبندی ازم کے ہاں مقبول ترین پروڈکٹ ہے-عراق میں بالخصوص کوفہ کی تہذیبی زندگی کی تشکیل میں زہاد ، صوفیاء ، عابدین ، عالم باعمل کا کس قدر کردار تھا ؟ اس سوال کا جواب آج بھی “بے وفائی ” کے شور میں نظر نہیں آتا-کوفہ کی تاریخ کو مسخ کرنے کا کام ویسے ہی کیا گیا جیسے تاریخ مدینہ کو مسخ کرنے کا کام شیخ ابن تیمیہ نے بخوبی کیا تھا اور اس کے لئے اس کی کتاب ” مذہب امام مالک ” اور اجماع اہل مدینہ ” کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے-مدینہ کی  سعودیائے جانے کی تاریخ بہت دلچسپ ہے-اور اس سے صرف شیعی تاریخ کا مین سٹریم بیانیہ ہی رد کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ خود مین سٹریم سنّی تاریخی بیانیہ بھی مسخ کردیا گیا-مجھے اپنی تحقیق کے دوران بار بار یہ احساس بھی ستاتا رہا کہ سلفی اور دیوبندی سعودی نواز تاریخی بیانیہ اصل میں سرے سے “تاریخ ” کا ہی انکار کرنے والا بیانیہ ہے-اور یہ اپنے جوہر کے اعتبار سے ‘اے ہسٹاریکل ‘ ہے-کوفہ کے بارے میں اس ‘بیانیہ ‘ کی طاقت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے خود کئی ایک شیعی اور اکثریتی صوفی سنّی ذہنوں کو بھی تسخیر کرلیا-کوفہ سارے کا سارا ہی مذمت کے دائرے میں آگیا-اور اس کا اندازہ مجھے اس طرح سے بھی ہوا کہ کئی ایک شیعہ اور صوفی سنّی انتہائی پڑھے لکھے خواتین و مرد نے مجھے کوفہ کے بارے میں تحسین کے جملے کہنے اور لکھنے پہ معتوب کیا اور اس حوالے سے جناب بی بی زینب اور اس سے پہلے جناب علی المرتضی کے کئی جملوں کے اجمالی اور عمومی خطاب سے انہوں نے یہ کہنے کی جسارت بھی کی کہ ‘کوفہ ‘ سارے کا سارا مذمت کے دائرے میں لانا خود مکتب اہل بیت کا شعار ہے-میں نے 12 سال اسی تگ و دود میں گزارے اور مسلسل چیزیں پڑھنا شروع کیں اور اپنے اس مقالے کو رنگ و روپ میں ڈھالنا شروع کردیا-مری تفہیم حرف آخر کا درجہ تو نہیں رکھتی لیکن پھر بھی میں یہ ضرور کہوں گا کہ میں نے کوفہ کے سارے رنگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرکے جس تصویر کو بنانے کی کوشش کی ہے وہ کم از کم آنے والے محققین کی راہ آسان ضرور بنائے گی-اور مرے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ میں نے نصر بن مزاحم بارے متبادل نکتہ نظر پیش کرنے کی کوشش کی تھی ایسے ہی کوفہ بارے یہ متبادل نکتہ نظر کم از کم اردو پڑھنے والوں کے ڈہنوں کو صاف شفاف کرنے کا موقعہ فراہم کرے گا-اگر اوپر بیان کردہ کتب اور مقالہ جات کو اردو میں منتقل کرنے کا بیڑا کوئی تحقیقی بورڈ سنبھال لے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ جنوبی ایشیا کے اندر اردو پڑھنے والی کمیونٹی کے اندر ‘تکفیری آئیڈیالوجی ” کا رام رام ستے ہوجائے گا-اور ریڈیکل سلفی ازم و دیوبندی ازم کے لئے کے بہت بڑے چیلنج کا سبب بنے گا-اور ہمارے ہاں یہ جو کوفہ کی مادی سماجی تاریخی جڑوں سے عدم آگاہی کے سبب ‘مارکسی وہابیت ‘ یا ‘نام نہاد لبرل وہابیت ‘ جیسی انہونیاں ہورہی ہیں اس کا سدباب بھی کیا جاسکتا ہے-کوفہ کی مادی –سماجی جدلیاتی جڑوں کی ازسرنو تلاش خود یورپ اور امریکہ کے معاشروں میں سعودی فنڈنگ سے پھیلتی سلفی –دیوبندی ریڈکلائزیشن سے پیدا ہونے والی خوفناک صورت حال سے نکلنے کی سبیل بھی بن سکتی ہے –

کوفہ کی سماجی –سیاسی اجتماعیت

کوفہ کی سوشو-پولیٹکل زندگی کے بارے میں اگر ہمیں بات کرنی ہے تو ہمیں کوفہ کی حیات اجتماعی کے تین بڑے رجحانات کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے-کوفہ میں ایک طرف تو وہ گروہ تھا جسے ہم سیاسی طور پہ شیعان علی کہہ سکتے ہیں اور اس سے ایک گروہ ٹوٹ کر الگ ہوا جسے دنیا خوارج کے نام سے جانتی ہے اور تیسرا گروہ قبائلی اشراف کا گردانا جاتا ہے-کوفہ کی اجتماعی سیاسی زندگی کا یہ تین بڑے گروہ ہی مظہر تھے-اور ان تینوں گروہوں نے اگر دیکھا جائے تو جناب عمر کے زمانے ہی میں ‘سیاسی مزاحمت ‘ دکھانا شروع کردی تھی اور پھر بنوامیہ کے خلاف کوفہ کا جو سیاسی کردار ہے وہ انہی تین گروہوں کی روش سے شکل وصورت پاتا ہے-اب ہمارے ہاں اکثر و بیشتر جو مذہبی سکالرز ، زاکرین اور مولوی حضرات ہیں ان کا طریقہ کار خاصا چیزوں کو گڈمڈ کردینے والا ہے-وہ کوفہ پہ بات کرتے ہوئے کوفہ میں سیاسی اشتراک اور افتراق اور وہاں پائی جانے والی سیاسی تقسیم اور قبائلی تقسیم کو عمومی طور پہ نظر انداز کرڈالتے ہیں اور کوفہ کے رہنے والوں کے کردار کی ایک عمومی سیاہ تصویر پینٹ کرنے لگ جاتے ہیں-کوفہ کے بارے میں ایک جامع تصویر بنانے میں ہماری مدد لبنان نژاد امریکی پروفیسر  طیب ال-حبری کی کتاب

Parable and Politics in Early Islamic History :The Rashidun Caliphs

بھی کرتی ہے-طیب الحربی اس کتاب میں کوفہ کے اندر بتدریج ابھرنے والی سیاسی تقسیم بارے بہت ہی تفصیل سے بیان کرتا ہے اور شاید یہ کتاب کوفہ پہ عمومی طور پہ اختیار کی گئی تعبیرات سے ہٹ کر ایک تیسری تعبیر پیش کرنے والی کتاب بھی ہے-مجھے اس کتاب کو پڑھنے کے دوران ہی یہ اندازہ ہوا کہ کیسے مورخ بلازری نے کوفہ کی سیاسی و سماجی زندگی کو سمجھنے میں ہماری بہت زیادہ مدد کی-یہ بلازری کی کتاب الانساب ہے جس میں ‘بنو عبد شمس ‘ قبیلے بارے لکھتے ہوئے بلازری معاویہ کے زمانہ حکمرانی میں یہ زکر کرتا ہے کہ سعید بن العاص نے ایک خط معاویہ کو لکھا جس میں اس نے بتایا کہ کوفہ کے اندر ایک گروپ ‘قراء ‘ کا ہے جسے اسے نے نہایت متقی ، باصفا ، بہترین اور امانت دار قرار دیا حکومت کے خلاف بدامنی پھیلانے کا سبب بن رہا ہے-اس گروہ کی شکایت طبری کی روایت کے مطابق کوفہ کے قبائلی اشراف نے بھی کی اور معاویہ کو سعید بن العاص گورنر کوفہ نے ان اشراف کی جانب سے معاویہ کو خط  لکھا کہ ان سے نمٹا جائے ورنہ حالات بگڑجائیں گے-طیب الحربی بلازری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بلازری نے خود ‘قراء ‘ کا خط کا متن درج کیا جس میں اہل قراء نے معاویہ کو لکھا: تم نے اپنے عزیز و اقرارب میں عہدے بانٹ رکھے ہیں اور ہم پہ ان کو مسلط کردیا ہے اور آج کوفہ کے اندر ایک تقسیم ہے جس میں ایک جانب وہ لوگ ہیں جو تمہارے مددگار ہیں اور یہ ظالم اور جبر کرنے والے لوگ ہیں جبکہ دوسری طرف مظلوموں کے مددگار ہیں جو ظلم کے شکار لوگوں کے ساتھ ہیں-

طیب الحربی کہتا ہے کہ بلازری نے اس خط کو لکھنے والوں کے نام بھی لکھے ہیں جن میں مقبل بن قیس الریاحی ،عبداللہ بن الطفیل

 العامری،مالک بن حبیب التمیمی ،یزید بن قیس ارہابی ،حجر بن عدی الکندی ، عمر بن حمق الخزاعی ،سلیمان بن صرد الخزاعی ،مصیب بن نجبہ الفزاری،زید بن حسن الطئے ،کعب بن عبدالنھادی ،زید بن ناضر ،بشیر بن مالک ،مالک بن الدیان الحریثی ،مسلمہ بن عبدالقاری  شامل تھے اور الحربی کا کہنا ہے کہ یہ وہ گروہ ہے جو کوفہ کے اندر  اصل میں شیعان علی کا عکاس ہے-اور یہ کوفہ کا وہ گروہ ہے جس کی مزاحمت کے تاریخی شواہد ہمیں خود جناب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے ہی ملنا شروع ہوجاتے ہیں اور یہ مزاحمت جناب خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں اپنے عروج پہ پہنچ جاتی ہے اور جسے اہل قراء کہا جارہا ہے اسی کا بہت غالب رول تھا زمانہ خلافت عثمانی میں کوفہ کے گورنر کے خلاف سیاسی –مزاحمتی تحریک چلانے کا-طیب الحربی کتب تاریخ و تفسیر و احادیث و اسماء الرجال میں آنے والے واقعات کے دوران لوگوں کے جملوں اور امثال سے کوفہ کی سیاسی و سماجی تقسیم اور مزاحمت و لڑائی کی ںظریاتی و فکری بنیادوں اور پھر اس پہ بننے والے سیاسی و مذہبی گروہوں کی تفہیم کو آسان بنانے میں ہماری مدد کرتا ہے-عراق میں حضرت علی کے حامیوں میں اگر کوئی گروہ سب سے زیادہ مخلص اور  جو بعد میں امامت کے منصوص من اللہ ہونے پہ بہت کلئیر نظر آیا اور جس نے کوفہ سمیت عراق کے اندر بے مثال قربانیوں کی تاریخ رقم کی اس کے اولین نشان تو ہمیں انہی لوگوں میں ملتے ہیں جن کو طبری ،بلازری ، ابن اثیر ، ابن اعثم کوفی ‘اہل قراء ‘ کے لقب سے یاد کرتا ہے-جبکہ حضرت علی اور اہل بیت کے حامیوں میں باقی عناصر جن میں عراق کے بدوی اور عرب قبائل کے اکثر اشراف بھی شامل ہیں کی وفاداریاں نشیب و فراز کا شکار رہیں اور انہی میں سے خوارج بھی تھے جو کہ صفین کی جنگ میں ‘تحکیم ‘ کو عذر بناکر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے الگ ہوگئے-حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور دیگر آئمہ اہل بیت کی حمایت میں وفاداری کے ساتھ سرگرداں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جن کا امامت بارے نظریہ وہ تو نہیں تھا جسے ہم شیعہ امامیہ کے ہاں پاتے ہیں مگر انہوں نے خانودادہ اہل بیت کا ساتھ نہ چھوڑا اور جیسے بن پڑا آپ کا ساتھ دیا-مسلم تاریخ کی ابتداء میں مذہبی –سیاسی گروہ بندی  کی جانچ کرنے کے لئے جولیس ویل ہاچس (جرمن مشترق ) کی کتاب ‘ابتدائی زمانہ اسلام میں مذہبی –سیاسی تقسیم /گروہ بندی ‘ ایک اہم دستاویز ہے اور اس میں ہاچس نے جس طرح سے خوارج کی سماجی ترکیب کو بیان کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے-ڈاکٹر حسین محمد جعفری اگرچہ اپنی اوپر زکر کردہ کتاب میں شیعی اسلام کی اصل اور ابتدائی تشکیل کا جائزہ لیتے ہوئے ان کتابوں کا تذکرہ کرنا بھول گئے یا انہوں نے ضروری نہیں سمجھا مگر ان کی کتاب کا پانچویں باب کی کئی ایک سطریں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان کے سامنے یہ کام بھی تھا لیکن طوالت سے بچنے کے لئے انہوں اس کا تذکرہ زیادہ ضروری خیال نہ کیا-ایک اور کتاب جو حامد دباشی نے لکھی ‘ اتھارٹی ان اسلام : فرام رائزنگ آف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹو اسٹبلشمنٹ آف امویہ’میں بھی ابتدائی سیاسی –مذہبی تقسیم اور اس حوالے سے جو کوفہ کا کردار ہے اس پہ کافی تفصیل سے بات کی گئی ہے- جیفری ٹی کینی کی کتاب ‘دی مسلم ریبلز :خوارج اینڈ ایکسٹریم ازم ان ایجپٹ ( مسلم باغی : خوارج اور مصر میں انتہا پسندی ) بھی ایک بہترین کتاب ہے جو کہ اگرچہ کوفہ سے براہ راست ڈیل نہیں کرتی لیکن اس میں ناردن میسوپوٹیمیا –شمالی عراق میں خوارج کے بتدریج پھیلاؤ اور ان کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ سے الگ ہونے کے اسباب پہ کافی اچھی روشنی ڈالی گئی ہے-ایک اور بنیادی بات بھی کوفہ اور عراق کو دسکس کرتے ہوئے ذہن نشین رہنی چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور اہل بیت اطہار کے گرد جو لوگ اکٹھے ہوئے جن میں ان کو امام منجانب اللہ ماننے والے اور ان کی امامت کو نص کا معاملہ نہ سمجھنے والے بلکہ کئی ایک کسی بھی آدمی کے لئے جواز امامت و خلافت خیال کرنے والے سبھی شامل تھے اور ان تینوں گروہوں کے اندر شامیوں اور امیوں کے خلاف سیاسی و حربی سٹریٹجی اختیار کرنے کے حوالے سے کافی انتشار پایا جاتا تھا اور کم از کم تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اکثریت اہل عراق کی عام آدمیوں میں سے حربی راستے کی بجائے خیالی و مثالی امن کی متلاشی تھی اور اس تلاش میں وہ جدال کے راستے پہ چلنے سے گبھرانے لگی تھی جس کے نتائج خود ان کے اپنے حق میں بہت برے نکلے-عراق کے اشراف قبائل کی اکثریت جاہ پسندی کا شکار تھی اور وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی مکمل جیت اور فتح نہیں چاہتی تھی اور یہی اس کا خیال امام حسن کے زمانے میں بھی تھا اور اشراف قبائل کی اکثریت بنوامیہ کے آگے ڈھیر ہوگئی تھی بلکہ اس نے شامیوں کے زریعے ایسے حالات پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کرلی جس نے نہ صرف معاویہ ابن سفیان کو پوری مسلم ریاست کا بادشاہ بننے کا موقعہ فراہم کیا بلکہ شہادت امام حسن سے لیکر واقعہ کربلاء تک کے المیے اس عراقی –کوفی قبائیلی اشرافیہ کی موقعہ پرست فطرت سے پیدا ہوئے-لیکن اہل عراق نے بالعموم اور اہل کوفہ نے بالخصوص آہستہ آہستہ اپنی غلطیوں اور خامیوں پہ قابو پایا اور شیعان علی کا کیمپ بھی مضبوط ہوتا چلاگیا-بنوامیہ ہی نہیں بلکہ بنوعباس کے خلاف مزاحمت کا سب سے بڑا کیمپ بھی علوی کیمپ ہی بنتا چلا گیا-اور واقعہ کربلاء کے بعد یہ کوفہ ہی تھا جہاں نئی توانائی اور قوت کے ساتھ شیعی تحریک کا ظہور ہوا اور علی شناسی کے چراغوں کی روشنی تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی –یہ درست ہے کہ واقعہ کربلاء کے بعد جناب امام سجاد سے لیکر امام جعفر صادق تک آئمہ اہل بیت مدینہ منورہ میں ہی رہے لیکن ان کی تحریک کا مرکز کوفہ ہی رہا اور علی شناسی وہیں سے بلاد اسلامیہ کے اندر پھیلتی رہی –آج کے معاصر عراق ، لبنان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں علوی کیمپ ہی سب سے بڑا مذہبی –سیاسی کیمپ ہے اور جب میں علوی کیمپ کی بات کرتا ہوں تو اس میں شیعہ امامی ، اسماعیلی ہی نہیں بلکہ صوفی سنّی بھی شامل ہوتے ہیں جن کی اصل جناب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانے میں بننے والے عمومی شیعان علی کے نام سے موجود سیاسی-مذہبی گروپ کے اندر ہی پیوست ہیں-کوفہ اور عراق کے باسیوں نے اموی و عباسی اور بعد کی ملوکیتوں کے جبر وستم سہے اور ان کی اکثریت نے اپنے آپ کو علوی کیمپ سے الگ کرنے سے انکار کیا-یہی وجہ ہے  سارے اموی بادشاہوں نے عراق کو زبردست ریاستی جبر وتشدد کا نشانہ بنایا-اگر اہل عراق اور اہل کوفہ کی اکثریت کی تصویر ویسی ہوتی جیسی ہمیں ‘کوفی لا یعفوی ‘ جیسے القابات اور جملوں میں نظر آتی ہے تو اتنے بڑے پیمانے پہ ظلم وجبر اور ستم کرنے کی امویوں اور عباسیوں کو ضرورت کیا تھی ؟ کیوں جناب امیر شام کو کوفہ کی جامع مسجد میں آکر یہ کہنا پڑا تھا کہ اگر اہل کوفہ نے اپنی روش ترک نہ کی تو تلواروں سے ان کو سیدھا کردیا جائے گا –کونسی روش تھی اہل عراق و اہل کوفہ کی اور کون لوگ تھے ان کے مخاطب ؟یہ سوالات کم اہم نہیں ہیں –ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جب ‘کوفی ‘ کا استعارہ یا ‘کوفی ذہنیت ‘ کی اصطلاح ‘بے وفائی ، دھوکہ بازی ، موقعہ پرستی ،بزدلی ، انحراف ، ہوس ، لالچ ‘ کے معانی میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، امام حسن و امام حسین و حضرت زینب بنت علی ، امام زین العابدین ، امام باقر و امام سجاد کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہے تو اس سے صاف صاف مراد ایک طرف تو کوفہ و اہل عراق کے وہ قبائلی اشراف ہیں جنھوں نے نظریہ پہ مال اور سماجی مرتبہ کو فوقیت دی اور وہ جاکر امویوں سے مل گئے ،یا وہ جنھوں نے صفین میں تحکیم کے وقت آپ کو جھوڑ دیا یا وہ جنھوں نے جاکر امویوں سے ساز باز کرلیا-ملامت کا مصداق شیعان علی کے نام سے موجود ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے خیالی امن پرستی کے زعم میں جناب بوتراب و جناب امام حسن کی سٹریٹجی کی بجائے نام نہاد گفت و شنید پہ زور دیا اور لڑائی سے کترانے لگے-لیکن اس منفی ترکیب کا مصداق کوفہ و عراق کے وہ جانثار ہرگز نہیں ہیں جو عراق میں اور کفہ میں بسے عرب قبائل کے اندر جابجا موجود تھے اور اہل قراء کے نام سے ان میں سے چند ایک کے نام تاریخ میں سامنے آگئے-ان سب کو نظر انداز کرنا اور سارے کوفہ و اہل کوفہ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرنا تاریخ کے چہرے کو مسخ کرنے کے مترادف ہے –

کوفہ شہر میں ریڈیکل پولیٹکل نظریات کی مقبولیت بارے پہلے پہلے عام طور پہ مورخین کا خیال یہ رہا کہ اس کا عروج خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا اور اکثر مورخین نے یہاں پہ انقلابی مذہبی-سیاسی خیالات کے ابتدائی بیجوں کا سراغ لگانے میں زیادہ سے زیادہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دنوں تک ہی تلاش کی –لیکن یوسف خلاف کے مقالے “ساتویں صدی کے درمیان کوفہ میں سیاسی صف بندی ” مقالے کی اشاعت نے اس سوچ میں انقلابی تبدیلیوں کو جنم دیا-یوسف خلاف کا یہ مقالہ جرمن مستشرق جولئیس ویل ہاسچ کی تحقیق “ابتدائی اسلام میں مذہبی سیاسی گروہ بندی ” میں بیان کئے جانے والے مقدمات کی توسیع معلوم ہوتا ہے-اور عراق کی فتح اور وہاں کے بندوبست اراضی ، بیت المال کے نظام کو چلانے کا طریقہ کار اور سواد و اشراف جیسی دو بڑی اہم سماجی ترکیب اور اس دوران کوفہ کے بتدریج ایک چھاؤنی سے اربن شہر بن جانے کے دوران پیدا ہونے والی تبدیلیوں نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں اس شہر میں ایک ریڈیکل ، انقلابی مذہبی سیاسی تحریک کے ابتدائی بیج بودئیے تھے-اور عمرو بن العاص کے زمانہ گورنری کے اندر ہی کوفہ میں مدینہ کی جانب سے قائم کردہ اتھارٹی کو چیلنج کردئے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا-ایسے شواہد موجود ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی کوفہ کے لوگوں کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور خانوادہ اہل بیت اطہار سے روابط کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا –

کوفہ شہر کی تاسیس

کوفہ شہر کی بنیاد 17 ھجری /638ء میں اس وقت رکھی گئی جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت مدینہ میں قائم ہوئے تیسرا سال ہوچلا تھا-اصل میں 15 ھجری /636ء کو قادسیہ کی جنگیں اپنے اختتام کو پہنچیں اور مسلم عرب لشکروں کو فتح ہوئی اور اس کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کررہے تھے-اور اسی سال جلولاء نامی ٹاؤن بھی فتح کرلیا گیا جوکہ نھر دیالہ کے کنارے آباد تھا اور اس کا ساسانی دور میں فارسی نام سیروان دریا تھا-سعد بن ابی وقاص کو حضرت عمر نے جلولاء میں ٹھہرجانے کا حکم دے دیا-حسین محمد جعفری سمیت دیگر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ حکم ابتک کی فتوحات سے حاصل ہونے والے علاقوں میں عرب مسلم قبضے کو مضبوط بنانا تھا اور وہاں پہ انتظام و انصرام کو بہتر کرنا تھا-اس وقت عرب لشکر ساسانی دارالحکومت مدائن میں قیام پذیر تھا اور عرب لشکر کے لوگوں کو یہ شہر اپنی حبس زدگی اور گنجان آباد ہونے کی وجہ سے بہت ہی خراب فضاء کا شہر لگتا تھا-یہاں صحراء کی جیسی صاف شفاف ہوا کی موجودگی نہیں تھی-اور چراگاہوں کی بھی اشد کمی تھی-اس حوالے سے جب لشکر میں شکایات بڑھ گئیں تو سعد بن ابی وقاص نے خلیفہ دوئم حضرت عمر کو سارا حال لکھ بھیجا اور اس پہ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر نے جن لوگوں سے مشاورت کی ان میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی شامل تھے اور آپ نے مشورہ دیا کہ مدائن سے عرب لشکر کو ایسی جگہ منتقل کیا جائے جو صحرا کے نزدیک ہو اور وہاں کی آب و ہوا بھی عربوں کو موافق آئے-جگہ کے انتخاب میں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے دو انتہائی قریبی ساتھی حضرت سلمان فارسی و حضرت حذیفہ بن الیمان ہی کام آئے-انہوں نے دو تین جگہوں کو دیکھا اور طویل غور و فکر کیا گیا اور قریب قریب دو سال کا عرصہ لگا علاقہ چننے میں –انہوں نے میسوپوٹیمیا کا قدم علاقہ الحراء کے نزدیک دریائے فرات کے مغربی کنارے کی جگہ پسند کی-تو یہاں عرب لشکر چلا آیا اور یہیں پہ خیمے لگادئے گئے-اور دریائے فرات کا مغربی کنارہ الحراء کے ںزدیک آہستہ آہستہ ایک نئے شہر کی بنیاد پڑگئی اور اس کا نام کوفہ پڑگیا –کوفہ شہر کی بنیاد پڑتے وقت ہمیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا تذکرہ کسی نہ کسی حوالے سے ملتا ہے اور ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ کوفہ شہر اپنی تشکیل کے ساتھ ہی اہل بیت اطہار کی جانب رجحان کو سمونے والا شہر ثابت ہوا تھا-

عرب لشکر کا اگر ہم علاقائی پس منظر دیکھیں تو اس میں کئی علاقوں سے شریک عرب جنگجو شامل تھے اور یہ سب کے سب وہ تھے جنھوں نے ساسانیوں کے زیر حکمرانی عراق کو فتح کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا-اور بقول یوسف خلاف ان کو بعد ازاں مورخوں نے اہل الایام القادسیۃ بھی لکھا –اور یہی” اہل الایام القادسیۃ “دریائے فرات کے مغربی کنارے پہ آکر خیمہ زن ہوئے-اور یہ بھی خیال رہے کہ کوفہ میں بعدازاں جو “اشراف قبائلی طاقتور سماجی گروپ ” وجود میں آیا اس کے اکثر اراکین “اہل الایام القادسیۃ ” ہی تھے اور یہی بعد ازاں کوفہ کا سب سے  بڑا مرفہ الحال اور دولت مند بنے-اور اسی گروپ کے زیادہ تر اشراف عرب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی حربی اور جارح سٹریٹجی کے مدمقابل مرتاض قسم کی فراریت پہ مبنی پالیسی کو اہل عراق پہ تھونپنے کی کوشش کی –لیکن یہ بات سب ” اہل الایام القادسیۃ ” کے بارے میں درست نہ ہے –ان میں کئی  ایک جناب علی المرتضی کے بے مثال  رفیق ثابت ہوئے-یوسف خلاف ، ویلہاسچ جرمن مستشرق اور طیب الحربی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حسین محمد جعفری نے بھی کوفہ شہر کی بنیاد بارے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور ان سب کا کم از کم اس بات سے اتفاق ہے کہ کوفہ شہر کو پہلے پہل ایک گریژن / چھاؤنی کی شکل دینے کا ارادہ تھا –اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص کو خط میں لکھا کہ ایک “دارالہجرت و الجہاد و الکاروان ” کی ضرورت ہے-یعنی ایک تو وہاں جگہ جگہ سے شامل ہونے والے عرب جہادی ٹھہریں گے ، پھر وہیں سے عراق کے مفتوحہ علاقوں پہ کنٹرول کو مستحکم کرنے کا کام بھی کیا جائے اور یہ لوگوں کے باہمی صلاح مشورے کا مرکز بھی بن جائے-اس سے ثابت ہوا کہ ابتداء میں یہ ایک چھاؤنی بنانے کا فیصلہ تھا اور اسے ایک سیٹلڈ سٹی بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں تھا-

یہاں پہ زرا ٹھہر کر ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت بھی ہے کہ کیا عربوں کو ٹاؤن / شہر جیسے کہتے ہیں ان کو بسانے کا کوئی تجربہ اسے پہلے تھا کہ نہیں-حسین محمد جعفری ، ڈاکٹر محمد حسین دتّو ، مارٹن ہنڈز سمیت کئی ماہرین تاریخ کا اس بات پہ اتفاق ہے کہ ایک ایسا شہر جو

سیاسی سماجی اکائی کے طور پہ بسایا جائے یہ تصور عربوں کے ہاں ابھی بہت دور تھا-کوفہ سے پہلے بصرہ کو بسایا گیا تھا-اور بصرہ کے اندر زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی کیونکہ وہاں دو ہی بڑے عرب قبیلے تھے بنو تمیم اور بنوبکر تو ان کو بسانا آسان تھا-لیکن سعد بن ابی وقاص کا جو لشکر تھا ایک تو وہ کئی قبیلوں اور ان کی ذیلی شاخوں سے تعلق رکھنے والے عربوں پہ مشتمل تھا-حسین محمد جعفری نے جن زرایع سے اس لشکر کی تعداد معلوم کی ان زرایع کے مطابق 15ہزار سے 20ہزار سپاہی تھے جو دور دراز کے مختلف علاقوں سے آئے تھے اور مختلف عرب قبائل اور ان کی شاخوں سے تعلق رکھتے-ڈاکٹر محمد حسین دتّو کے بقول محتاط اندازے کے مطابق عرب لشکریوں کی تعداد 20ہزار اور فارسی سپاہیوں کی تعداد 4ہزار تھی اور یہ فارسی سپاہ دیلم نام کے ایک لیڈر کے تحت جمع تھی-عرب لشکریوں کا تعلق زیادہ تر بنو سلیم ، ہمدان ، بجابلہ ، نماللات،بنو تغلب ، بنو اسد ، نخاہ ، کندہ ، ازد ، مزینہ تمیم محرابامریم جدلہ ، اخلاط، جہنیہ ، محجاز اور ہواون وغیرہ سے تھا-اور یہ سب ملے جلے تھے اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے پہ افرادی قوت کے اعتبار سے زیادہ طاقت نہیں رکھتا تھا –اور یہ ایک طرح سے بہت زیادہ تنوع والی صورت حال تھی-سعد بن ابی وقاص نے یہ کیا کہ ان کی ایک بڑی تقسیم کی-اور یہ نزاری عرب اور یمنی عرب کی ایک بڑی تقسیم تھی –لیکن یہ تجربہ کچھ زیادہ کامیاب نہ رہا اور جلد ہی سعد بن ابی وقاص نے اس سماجی تقسیم کو بدل ڈالا

 

Advertisements

CPEC a Chinese “imperialistic scheme”-Dr Allah Nazar : Dr. Allah Nazar Baloch makes a dramatic comeback. REUTERS

Head of Baluchistan Liberation Front (BLF) Allah Nazar Baloch speaks during an interview in an unknown location in this still image taken from video

Head of Baluchistan Liberation Front (BLF) Allah Nazar Baloch speaks during an interview in an unknown location in this still image taken from video on September 29, 2016. REUTERS/Baluchistan Liberation Front (BLF) Handout via Reuters TV

 

The elusive leader of a major rebel group fighting for independence in Pakistan’s Baluchistan province said he would welcome cash and other help from India, words likely to alarm Islamabad which accuses New Delhi of stirring trouble there.

In his first video interview in five years, Allah Nazar Baloch, head of the ethnic Baluch group Baluchistan Liberation Front (BLF), also vowed further attacks on a Chinese economic corridor, parts of which run through the resource-rich province.

The planned $46 billion trade route is expected to link western China with Pakistan’s Arabian Sea via a network of roads, railways and energy pipelines.

“We not only wish India should support the Baluch national struggle diplomatically and financially, but the whole world,” said Baloch, a doctor-turned-guerrilla believed to be about 50, in filmed responses to questions sent by Reuters.

Baloch’s appeal for Indian help may deepen Pakistani suspicions that India has a hand in a decades-old insurgency in the vast southwestern province.

Historically fraught relations between the nuclear-armed neighbours deteriorated this month after 18 Indian soldiers in Kashmir were killed in an attack on an army base that New Delhi blames on Pakistan. Pakistan denies the accusation.

On Thursday, India said it had carried out strikes on suspected militants in its first direct military response to the raid.

In the buildup to the army base attack, Pakistan had voiced outrage over the crackdown on protests in India’s part of the Muslim-majority region, and Indian Prime Minister Narendra Modi hit back by accusing Pakistan of atrocities in Baluchistan.

Baloch, leader of one of three main armed groups fighting for Baluchistan’s independence, said that while he wanted support from India, the BLF had not received funding from Modi’s government, or India’s spy agency, the Research and Analysis Wing (RAW).

“We welcome the statement that Narendra Modi gave to morally support the Baluch nation,” added Baloch, clad in a traditional beige shalwar kurta outfit, with an automatic rifle across his lap and ammunition hanging from his belt.

Pakistan’s military had no comment on Baloch’s interview.

 

Baloch is the only leader of a sizeable separatist group who is believed to be waging a guerrilla war from inside Baluchistan; the other two leaders are in exile in Europe.

Security analysts say his fighters stage most of the attacks in the province and have borne the brunt of army operations against the insurgency. Reuters has not been able to establish the scale of the BLF campaign.

Pakistan has long suspected India of stoking the Baluchistan rebellion. Those fears grew in March when Pakistan arrested a man it said was a RAW spy in Baluchistan, and accused him of “subversive activities”. India denied he was a spy.

Brahamdagh Bugti, the Switzerland-based leader of the Balochistan Republican Party, another major separatist outfit, last week told Indian media that he planned to seek “political asylum” in India.

BLF chief Baloch claims to have “thousands” of fighters. Domestic news coverage of the Baluchistan conflict is rare and foreign journalists are broadly forbidden from visiting the province.

Baloch answered questions in a video recording, which was sent electronically.

Although the exact date of the recording could not be verified, he was responding to questions sent by Reuters six weeks ago. His responses contradicted government claims that he had been killed last year.

CHINESE “IMPERIALISM”

China’s investment in the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) has brought fresh focus on Baluchistan, which is endowed with rich but largely unexploited reserves of copper and gold.

Several planned CPEC routes will snake across Baluchistan to its deep-sea port in Gwadar.

Chronic instability in the province, which has experienced waves of revolt by Baluch nationalists since it was formally incorporated into Pakistan in 1948, is a source of concern for China, which has appealed to Pakistan to improve security.

Baloch, speaking from an undisclosed location, called CPEC a Chinese “imperialistic scheme”, and vowed to attack roads, security personnel and construction crews associated with it.

Government officials say security has improved.

They point to freshly-paved CPEC roads, built at breakneck speed despite Baluchistan’s rugged terrain, as proof of success.

To allay Chinese fears, Pakistan is also raising a force of 15,000 personnel, mainly serving army soldiers, to secure the corridor.

Chinese Foreign Ministry spokesman Geng Shuang told reporters at a regular briefing that China appreciated Pakistan’s efforts.

“We believe Pakistan will strengthen its guard against risks to projects and continue to provide a security guarantee for Chinese personnel and projects in Pakistan,” Geng said.

RISKY WORK

But risks remain. Frontier Works Organization, the army-run company building most of the CPEC roads in dangerous areas, said 44 workers had been killed and about 100 wounded in attacks on its CPEC sites over the past two years.

“We are attacking the CPEC project every day. Because it is aimed to turn the Baluch population into a minority. It is looting, plundering and taking away our resources,” Baloch said.

Baloch and other separatists fear that indigenous Baluch people, who are estimated to number about 7 million people out of Pakistan’s 190 million population, will become an ethnic minority in their ancestral lands if other groups flock to the region to work on exploiting its natural resources.

The rebel leader alleged that 150,000 people had been evicted from the route of the trade corridor by security forces to clear the way for roads and other infrastructure.

Pakistan’s military, which manages security for most of the province, did not comment on the number.

Human rights activists say that thousands of people have been killed or arbitrarily detained in Baluchistan by the military, a charge Pakistani security forces deny.

Charges of abuse have also been levelled at rebel groups, including the BLF, which are accused of targeting non-Baluch citizens as part of their rebellion.

Baloch denied BLF killed civilians, but said his group did go after “traitors”.

Asked if he would be open to negotiations with the Pakistani state, the rebel chief was clear: there would be no dialogue with what he considered “the biggest terrorist country”.

“There will be no negotiations with Pakistan without national independence and without the presence of the United Nations,” he said. “Our destination is independence.”

(Additional reporting by Michael Martina in Beijing; Editing by Mike Collett-White and Drazen Jorgic)

Link of Video statement of Dr.Allah Nazar Baloch: https://vimeo.com/147010716

محرم کی ثقافت اور تکفیریت کے سوفسطائی استدلال

maxresdefault

میں نے سابقہ بلاگ ” محرم کی ثقافت بمقابلہ تکفیری ثقافت ” میں اصولی باتیں کی تھیں اور اپنے موقف کو بہت حد تک واضح کردیا تھا – لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس معاملے پہ مجھے مثالیں دیکر اور زیادہ معاملے کو کھول کر بات کرنے کی ضرورت ہے-

ہم جب کراچی یونیورسٹی میں فلاسفی میں ماسٹرز ڈگری لے رہے تھے تو یونانی فلسفیانہ مکاتب فکر کے تعارف اور ان کی تاریخ بارے پڑھاتے ہوئے ، ہمارے اساتذہ نے ہمیں ” سوفسٹری ” یا  ” سفسطہ ” کے فلسفے اور اس کے حاملین ” سوفسطائیوں”کے بارے میں بھی پڑھایا تھا –اور آج جب میں تکفیریت ، اس کے حاملین اور ان کے سیکولر ، لبرل ، مارکسسٹ نقابوں میں چھپے دانشوروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے “سوفسطائی ” یاد آجاتے ہیں –

اس سے پہلے کہ میں اپنے موضوع کی طرف آؤں ، مجھے اپنے ان دوستوں کو یہ بتانا ہے کہ ” سوفسٹری ” یا “سفسطہ ” ہوتا کیا ہے ؟

آپ گوگول میں اس انگریزی ورڈ بارے سرچ کریں تو آپ کے سامنے یہ جملہ آجائے گا ،

“sophistry

ˈsɒfɪstri/Submit

noun

the use of clever but false arguments, especially with the intention of deceiving.

ویبسٹر مریم ڈکشنری کہتی ہے ،

  : the use of reasoning or arguments that sound correct but are actually false

: a reason or argument that sounds correct but is actually false

Source: Merriam-Webster’s Learner’s Dictionary

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سوفسٹری یا سفسطہ ایسا استدلال یا ایسی منطق کا استعمال ہے جو بظاہر تو درست نظر آتی ہے لیکن اصل میں وہ غلط ہوتی ہے – دوسرے معنوں میں یہ غلط اور گمراہ کرنے والی منطق ہوتی ہے جو دیکھنے میں درست معلوم ہوتی ہے –اسے سوفسطائی فکر یا خیال کہا جاتا ہے – مری نظر میں تکفیریت کا آج کے زمانے میں سب سے بڑا ہتھیار یہی سوفسٹری ہے – اس سوفسٹری میں ماسٹرز کرنے والوں میں تکفیریت کے آئمہ اپنے ماننے والوں کو تو گمراہ کرتے ہی ہیں لیکن ان کا زیادہ تر ہدف وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کو نہیں مانتے اور ایسے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جس کو وہ اپنے تئیں تباہ و برباد کرنے کے درپے ہوتے ہیں –

ایسے سوفسٹری پھیلانے والے اکثر ” کھلی تکفیر ” کے ساتھ سامنے نہیں آتے بلکہ ان کو اس کے لئے اپنے چہروں پہ روشن خیالی ، ترقی پسندی ، اعتدال پسندی ، سیکولر ازم ، الحادیت ، مارکسزم ، ریشنل ازم وغیرہ وغیرہ کے نقاب چڑھانے پڑتے ہیں تاکہ کوئی ان کا اصل چہرہ پہچان نہ لے اور ان کے اصل ایجنڈے سے واقف نہ ہوجائے – مرے دوست پیجا مستری نے اپنے پڑھنے والوں کو ایسے ہی ایک ” سوفسطائی چہرے ” یعنی ” جاوید احمد غامدی ” کو بے نقاب کیا –یہ اعتدال پسند ، روشن خیال اور ترقی پسند مذہبی سکالر کا نقاب چڑھائے اندر سے تکفیری ہی تھا – اور اس کے سفطہ ، گمراہ کن اور مغالطہ آمیز مسجع و مقفع منطق اور استدلال کا تار و پود بہت ہی اچھی طرح سے کھولنے میں پیجا مستری نے ہماری مدد کی – اور یہ سرد منطق کے ساتھ آنے والا نام نہاد سکالر بھی ہمیں برصغیر پاک و ہند کی تکثریت پسند ” ہند اسلامی تہذیب ” کے مقابلے میں تکفیری مقدمات کو پروان چڑھانے والا ہی نظر آیا –

ریاض ملک نے ” جبران ناصر  کی سوفسٹری کو بے نقاب کرنے میں ہماری مدد کی اور خوب کی –حالانکہ جبران ناصر بھی ایک یا دوسرے طریقے سے تکفیری سفطہ کو ہی آگے بڑھانے میں مصروف تھا – عارف جمال جیسے صحافی نے اس کے بیانیہ کے اندر چھپی ہوئی عسکری اسٹبلشمنٹ نواز فکر کے بیج ڈھوںڈ نکالے –

اب میں آتا ہوں ان چند سوفسطائی یا مغالطہ آمیز دلائل و استدلال کی طرف جو محرم یا عاشورا کی مشترکہ ثقافت کو رد کرنے کے لئے سوشل میڈیا پہ بار بار استعمال کئے جارہے ہیں بلکہہمارے کچھ پاکستانی شیعہ حضرات تکفیری دیوبندی پروپیگنڈے کے زیر اثر محرم الحرام کی مذہبی ثقافت پہ انتہائی بہیودہ پوسٹیں لگارہے ہیں -ایسے ہی ایک فیس بک آفیشل پیج جو ” محرم کی باتیں ” کے عنوان سے بنا اس پہ تو یہاں تک کہا گیا کہ عاشورہ کے جلوس اور مجالس ” ڈیٹنگ پلیس ” ہیں – اس طرح کی انتہائی شرمناک باتیں کی گئیں – حج جو کہ مسلمانوں کا سب سے مقدس پروگرام ہوتا ہے اور اس موقعہ پر بھی چوری کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات بھی ہوجاتے ہیں جو انتہائی شرمناک کہے جاسکتے ہیں اور ویمن ٹیزنگ Eve teasing وہاں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے تو کیا ہم حج کو بھی ڈیٹنگ پلیس قرار دے ڈالیں گے-یہ بیہودگی کی انتہا ہے  اور بیمار ذہنیت کی بھی اور اپنی مینٹل فرسٹریشن کی عکاس بھی ہے -اگر اس طرح کی پوسٹوں کا ایک نفسیاتی تجزیہ مرتب کیا جائے تو مجھے یہ لگتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے اس مہینے کا جو ثقافتی تقدس ہر ایک کے دل و دماغ میں ہوتا ہے ، اسے برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے-چاہے اس کا طالبانی شیعہ کو احساس ہو یا نہ ہو لیکن تکفیری دیوبندی اور ان کے سیکولر ، لبرل ، اموی ملحدین حامیان کو اس کا بخوبی ادراک ہے اور یہ ان کا ہدف بھی ہے- اور یہ ایک گمراہ کن منطق بھی-

میں اپنی بات کو تھوڑا اور واضح کرتا ہوں – مثال کے طور پہ میں ایک سیکولر ، ملحد یا ایک مارکسسٹ / کمیونسٹ پوسچر کے ساتھ آتا ہوں اور بات یہاں سے شروع کرتا ہوں : میں کارل مارکس کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں -وہ مرا فیورٹ ہے اور وہ ایپی کیورس ،یونانی فلسفی کا بہت معترف تھا تو میں بھی اسے پسند کرتا ہوں – ایپی کیورس کہتا تھا کہ خوش رہنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اسے اس حق کو استعمال کرنا چاہئیے تو یہ جو لوگ محرم الحرام میں ” سوگواریت ، اداسی ، حزن و ملال ، آہ و گریہ و ماتم گری ” کا کلچر پھیلاتے ہیں یہ انسانون کے بنیادی حق کے منکر ہیں تو میں اس مہینے میں پہلے دس دنوں میں “کاک ٹیل ” پارٹی کروں گا اور یہ محرم والے خود بھی منافق ہیں ، سوگوار ہونے کا درامہ کرتے ہیں اور عاشورہ کے جلوسوں میں اپنی گرلز فرینڈ سے ملتے ہیں اور لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز سے ملتی ہیں جبکہ ایسٹرا میری ٹیل ملاقاتیں بھی یہیں پہ ہوتی ہیں تو یہ بھی بالواسطہ خوش رہنے کے حق کو استعمال کرتے ہیں توآئیں اس منافقت کا خاتمہ کریں اور محرم میں انسانوں کے خوش رہنے کے بنیادی حق کی بحالی کے لئے آواز اٹھائیں اور اپنی ترقی پسندی کا ثبوت دیں “

ایک اور مثال دیکھئے گمراہ کن منطق کی ،

“جو زاکر یا عالم زکر حسین و فکر حسین کے عوض پیسے لیتا ہے وہ حسینت فروخت کرتا ہے اور وہ حسینی نہیں یزیدی ہے”

اگر میں یہ کہوں ،

” “جتنے بھی سیکولر ، لبرل ، کمیونسٹ ، اور ترقی پسند دانشور ادیب ، صحافی ، استاد ، ماہرین اپنے لیکچرز کے لئے ائر ٹکٹ ، اکاموڈیشن سہولت ، فوڈ اور اس لیکچر کا معاوضہ لیتے ہیں ، وہ سب کے سب روشن خیالی ، ترقی پسندی ، لبرل ازم ، مارکس ازم سے کھلواڑ کرتے ہیں اور وہ نہ لبرل ہیں ، نہ کیمونسٹ ہیں نہ روشن خیال ہیں” “

اسی طرح سے اگر یہی کسی آئیڈیالوجی سے مخلص ہونے کا پیمانہ ہے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں؟

“ “محرم الحرام میں تعزیہ بنانے والے ، ٹینٹ سروس پروائیڈر ، لائٹنگ کرنے والے ، نیاز پکانے والے ، گروسری والے ، الیکٹریشن ، ڈیزل ، پیٹرول فراہم کرنے والے ،الغرض کے اس ساری ثقافتی سرگرمی پہ اٹھنے والے اخراجات جن جن کی جیبوں میں جاتے ہیں وہ سب یزیدی ہیں اور حسینت سے کھلواڑ کرتے ہیں” “

اب یہی کلیہ اور فارمولہ کرسمس ، ہولی ، دیوالی ، بیساکھی ، عیدین ، یاتراؤں اور دیگر کلچرل ایکٹویٹز پہ بھی لاگو کریں تو کیا یہ سب نظریات و افکار سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ؟

ہندؤں کا کمبھ کا میلہ جہاں سب نیوڈ ہوتے ہیں ، ایسے میں کئی کمزور اعصاب کے لوگ ہوں کے جن کے بدن اور دماغ میں زلزلہ آجاتا ہوگا تو کیا یہ کمبھ جنسیت کا منبع کہلایا جائے گا-

محرم کے جلوسوں میں عورتوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر اگر کسی کے بیمار دماغ میں ہیجان جنم لیتا ہے اور وہ مرتاض جنسیت کا مریض ہے تو اسے اپنا علاج کرانے کی ضرورت ہے ناکہ حسینیت کی ثقافت کو ہی ” جنسیت ” کا الزام دے دیا جائے-

پھر دیوبندی تکفیری کہتے ہیں کہ عاشور کے جلوس سنّی آبادی کی اکثریت والے علاقوں سے گزرتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں – یہ ایک بہت بڑی گمراہ کن دلیل ہے- گمراہ کن بات یہ ہے کہ یہ لوگ زکر حسین ، غم حسین اور عزاداری حسین کو ہی توھین اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دینا چاہتے ہیں اور مقصد پھر وہی محرم کی ثقافت کو ہلاک کرنا ہے- زکر حسین اور شہادت حسین پہ گریہ کرنے اور ماتم کرنے سے اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین کی توہین کا پہلو کہاں سے نکلتا ہے – ان مرکزی جلوسوں میں اور اوپن مجالس عزا میں کہیں پر بھی اہلسنت کی مقدس ہستیوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا جاتا – ہآں ان جلوسوں میں یزید اور اس کے ساتھیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور اس کے لئے ایک حرف بھی موافق بولنا جرم سمجھا جاتا ہے -اب عاشور کے جلوسوں پہ پابندی کا مطالبہ کرنے والے یہ بتائیں کہ کیا ” یزید اور اس کے حواری ” ان کی مقدس ہستیاں ہیں ، کیا ان کے مذہبی جذبات ” یزید ” پہ لعنت سے مجروح ہوتے ہیں ؟ اور اگر ہوتے ہیں تو پھر جن مرکزی شاہراؤں سے جلوس ہائے عاشوراء گزرتے ہیں وہآں تو اکثریت ” اہلسنت ” کی ہے جن کے نزدیک یزیدیت اور یزیدی قوتیں تابد لعنت کی مستحق ہیں اور ان کے ہاں ” زکر اہلبیت اطہار ” کا مطلب ہرگز  ” توھین اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین ” نہیں ہے –

میں پھر کہتا ہوں کہ عاشورہ کی ثقافت سے الرجک ہونے والوں کا مقصد صرف و صرف عاشورہ کی ثقافت کو برباد کرکے  سعودی فنڈڈ تکفیری ثقافت کو رائج کرنا ہے – اور اس کے لئے تکفیریت سوفسطائی انداز اپنائے ہوئے ہے –

 

Shimon Peres was no peacemaker. I’ll never forget the sight of pouring blood and burning bodies at Qana – Robert Fisk

shimon-peres

When the world heard that Shimon Peres had died, it shouted “Peacemaker!” But when I heard that Peres was dead, I thought of blood and fire and slaughter. I saw the results: babies torn apart, shrieking refugees, smouldering bodies. It was a place called Qana and most of the 106 bodies – half of them children – now lie beneath the UN camp where they were torn to pieces by Israeli shells in 1996. I had been on a UN aid convoy just outside the south Lebanese village. Those shells swished right over our heads and into the refugees packed below us. It lasted for 17 minutes. Shimon Peres, standing for election as Israel’s prime minister – a post he inherited when his predecessor Yitzhak Rabin was assassinated – decided to increase his military credentials before polling day by assaulting Lebanon. The joint Nobel Peace Prize holder used as an excuse the firing of Katyusha rockets over the Lebanese border by the Hezbollah. In fact, their rockets were retaliation for the killing of a small Lebanese boy by a booby-trap bomb they suspected had been left by an Israeli patrol. It mattered not. A few days later, Israeli troops inside Lebanon came under attack close to Qana and retaliated by opening fire into the village. Their first shells hit a cemetery used by Hezbollah; the rest flew directly into the UN Fijian army camp where hundreds of civilians were sheltering. Peres announced that “we did not know that several hundred people were concentrated in that camp. It came to us as a bitter surprise.” 0:00 / 0:00 Israel’s Shimon Peres dies aged 93: Tributes from around the world It was a lie. The Israelis had occupied Qana for years after their 1982 invasion, they had video film of the camp, they were even flying a drone over the camp during the 1996 massacre – a fact they denied until a UN soldier gave me his video of the drone, frames from which we published in The Independent. The UN had repeatedly told Israel that the camp was packed with refugees. This was Peres’s contribution to Lebanese peace. He lost the election and probably never thought much more about Qana. But I never forgot it. READ MORE Trump and Clinton are as absurd as each other on the issue of Isis When I reached the UN gates, blood was pouring through them in torrents. I could smell it. It washed over our shoes and stuck to them like glue. There were legs and arms, babies without heads, old men’s heads without bodies. A man’s body was hanging in two pieces in a burning tree. What was left of him was on fire. On the steps of the barracks, a girl sat holding a man with grey hair, her arm round his shoulder, rocking the corpse back and forth in her arms. His eyes were staring at her. She was keening and weeping and crying, over and over: “My father, my father.” If she is still alive – and there was to be another Qana massacre in the years to come, this time from the Israeli air force – I doubt if the word “peacemaker” will be crossing her lips. There was a UN enquiry which stated in its bland way that it did not believe the slaughter was an accident. The UN report was accused of being anti-Semitic. Much later, a brave Israeli magazine published an interview with the artillery soldiers who fired at Qana. An officer had referred to the villagers as “just a bunch of Arabs” (‘arabushim’ in Hebrew). “A few Arabushim die, there is no harm in that,” he was quoted as saying. Peres’s chief of staff was almost equally carefree: “I don’t know any other rules of the game, either for the [Israeli] army or for civilians…” Peres called his Lebanese invasion “Operation Grapes of Wrath”, which – if it wasn’t inspired by John Steinbeck – must have come from the Book of Deuteronomy. “The sword without and terror within,” it says in Chapter 32, “shall destroy both the young man and the virgin, the suckling also with the man of grey hairs.” Could there be a better description of those 17 minutes at Qana?

When the world heard that Shimon Peres had died, it shouted “Peacemaker!” But when I heard that Peres was dead, I thought of blood and fire and slaughter.

I saw the results: babies torn apart, shrieking refugees, smouldering bodies. It was a place called Qana and most of the 106 bodies – half of them children – now lie beneath the UN camp where they were torn to pieces by Israeli shells in 1996. I had been on a UN aid convoy just outside the south Lebanese village. Those shells swished right over our heads and into the refugees packed below us. It lasted for 17 minutes.

Shimon Peres, standing for election as Israel’s prime minister – a post he inherited when his predecessor Yitzhak Rabin was assassinated – decided to increase his military credentials before polling day by assaulting Lebanon. The joint Nobel Peace Prize holder used as an excuse the firing of Katyusha rockets over the Lebanese border by the Hezbollah. In fact, their rockets were retaliation for the killing of a small Lebanese boy by a booby-trap bomb they suspected had been left by an Israeli patrol. It mattered not.

A few days later, Israeli troops inside Lebanon came under attack close to Qana and retaliated by opening fire into the village. Their first shells hit a cemetery used by Hezbollah; the rest flew directly into the UN Fijian army camp where hundreds of civilians were sheltering. Peres announced that “we did not know that several hundred people were concentrated in that camp. It came to us as a bitter surprise.”

Israel’s Shimon Peres dies aged 93: Tributes from around the world

It was a lie. The Israelis had occupied Qana for years after their 1982 invasion, they had video film of the camp, they were even flying a drone over the camp during the 1996 massacre – a fact they denied until a UN soldier gave me his video of the drone, frames from which we published in The Independent. The UN had repeatedly told Israel that the camp was packed with refugees.

This was Peres’s contribution to Lebanese peace. He lost the election and probably never thought much more about Qana. But I never

When I reached the UN gates, blood was pouring through them in torrents. I could smell it. It washed over our shoes and stuck to them like glue. There were legs and arms, babies without heads, old men’s heads without bodies. A man’s body was hanging in two pieces in a burning tree. What was left of him was on fire.

On the steps of the barracks, a girl sat holding a man with grey hair, her arm round his shoulder, rocking the corpse back and forth in her arms. His eyes were staring at her. She was keening and weeping and crying, over and over: “My father, my father.” If she is still alive – and there was to be another Qana massacre in the years to come, this time from the Israeli air force – I doubt if the word “peacemaker” will be crossing her lips.

There was a UN enquiry which stated in its bland way that it did not believe the slaughter was an accident. The UN report was accused of being anti-Semitic. Much later, a brave Israeli magazine published an interview with the artillery soldiers who fired at Qana. An officer had referred to the villagers as “just a bunch of Arabs” (‘arabushim’ in Hebrew). “A few Arabushim die, there is no harm in that,” he was quoted as saying. Peres’s chief of staff was almost equally carefree: “I don’t know any other rules of the game, either for the [Israeli] army or for civilians…”

Peres called his Lebanese invasion “Operation Grapes of Wrath”, which – if it wasn’t inspired by John Steinbeck – must have come from the Book of Deuteronomy. “The sword without and terror within,” it says in Chapter 32, “shall destroy both the young man and the virgin, the suckling also with the man of grey hairs.” Could there be a better description of those 17 minutes at Qana?

Al-Saud and their Puppet Obama Humiliated:For The First Time, Congress Votes To Override President’s “Sept 11” Bill Veto

obama-saudi_0

Millions of dollars spent by Saudi Arabia to stop legislation allowing families of terrorism victims to Sue against Saudi Arabia

 

 

Another defeat to powerful Saudi lobby in United States of America and this is time to mourn for Al-Saud and their sympathizer American President Barack Obama spending his last days in White House but making fatal mistakes one after one.

Lobbyists of Al-Saud failed despite eating millions of petro-dollars. US Congress and Senate both voted against Obama’s veto of legislation allowing families of terrorist victims to sue Saudi Arabia.

 

US Congress, first the Senate and then the House, humiliated the president and slapped on face of Al-Saud (Al-Saud were spending millions dollars to stop this) when it voted on Wednesday to override Obama for the first time in his eight-year tenure, as the House rejected a veto of legislation allowing families of terrorist victims to sue Saudi Arabia. The House easily cleared the two-thirds threshold with a 348-77 vote to push back against the veto. The Senate voted 97-1 in favor of the override earlier in the day, with only Democratic Leader Harry Reid voting to sustain the president’s veto.

 

“We can no longer allow those who injure and kill Americans to hide behind legal loopholes denying justice to the victims of terror,” said House Judiciary Committee Chairman Bob Goodlatte (R-Va.).

 

The White House immediately slammed lawmakers following the Senate vote.

 

“I would venture to say that this is the single most embarrassing thing that the United States Senate has done possibly since 1983,” press secretary Josh Earnest told reporters aboard Air Force One, an apparent reference to a 95-0 vote to override President Ronald Reagan that year.

 

I says that this is the single most happiest and brave thing that the US Senate and Congress have done against Saudi Arabia and its dollar eater lobbyists.

 

Now it is clear that Al-Saud and Saudi Arabia itself did not remain holy cow in United States of America and Honeymoon period has been ended.

 

The override was widely expected in both chambers, with lawmakers from both sides of the aisle characterizing it as an act of justice for the victims of the Sept. 11 attacks.

 

This development demonstrates that now Al-Saud cannot buy majority to stop any legislation against its non-stoppable sponsoring terrorism and most exclusionist ideology Wahhabism.

 

American President, Barack Obama who is spending his last days in White House made a blunder while vetoed legislation against Saudi Arabia and clear is that he did this under pressure of Saudi Arabia and its lobbyists firms active much in US. But this proved fatal mistake.

 

Lawmakers don’t want to be seen as soft on punishing terrorist sponsors a few weeks before the election, at a time when voters are increasingly worried about radical Islamic terrorism in the wake of recent attacks in Manhattan, Minnesota and Orlando, Fla. Oddly enough, Obama had no problem with those particular optics.

 

The House will take up the matter later on Wednesday, and Speaker Paul Ryan told reporters last week that he expects there be to enough votes for an override.

 

As a reminder, the legislation, sponsored by Senate Republican Whip John Cornyn (Texas) and Sen. Chuck Schumer (D-N.Y.), the third-ranking member of the Democratic leadership, would create an exception in the Foreign Sovereign Immunities Act to allow the victims of terrorism to sue foreign sponsors of attacks on U.S. soil.

 

It was crafted primarily at the urging of the families of victims of the Sept. 11, 2001, attacks who want to sue Saudi Arabian officials found to have links with the hijackers who flew planes into the World Trade Center and Pentagon. It passed the Senate and House unanimously in May and September, respectively, but without roll-call votes.

 

“This is pretty much close to a miraculous occurrence because Democrats and Republicans, senators [and] House members have all agreed [on] the Justice Against Sponsors of Terrorism Act (JASTA), which give the victims of a terrorist attack on our won soil an opportunity to seek the justice they deserve,” Cornyn said on the Senate floor before the vote.

 

President Obama warned in a veto message to the Senate last week that the bill would improperly give legal plaintiffs and the courts authority over complex and sensitive questions of state-sponsored terrorism. He also cautioned that it would undermine protections for U.S. military, intelligence and Foreign Service personnel serving overseas, as well as possibly subject U.S. government assets to seizure.

 

I congratulate all members of US Congress and Senate who voted against veto and hope that American legislators will soon bring such legislation which will banned all those institutions and so called Islamic Centers are being run by Saudi funding and Wahhabist Ideology is being taught there to radicalize Muslim youth residing in US.

 

American legislators should remember that global terrorism and arising of so called Jihadist radicalization in West is bi-product of Wahhabism and its Junior partner Deobandism sponsored and funded by Al-Saud and without stopping this global terrorism cannot be wiped out and this requires legislation more against those centers who are spreading this ideology.

12 Facts About Bhagat Singh That You Still Didn’t Know-Abhishek Saksena

109 years ago today, one of India’s greatest revolutionary freedom fighter, Bhagat Singh was born. And though he died young, only 23 years of age, his actions inspired the youth of the nation to fight for the nation’s freedom. His execution spurred many to take up the revolutionary path, playing an important role in India’s freedom struggle. While many didn’t agree with his radical approach Mohammad Ali Jinnah defended his actions. Here’s what you should know about him.

 

Bhagat singh at Lahore Railway Police station

1. Bhagat Singh left home for Kanpur when his parents tried to get him married, saying that if he married in slave India, “my bride shall only be death” and joined Hindustan Socialist Republican Association.

2. He along with Sukhdev planned to avenge the death of Lala Lajpat Rai and plotted to kill the Superintendent of Police James Scott in Lahore. However in a case of mistaken identity, John Saunders, the Assistant Superintendent of Police was shot.

Bhagat Singh

3. Although a Sikh by birth, he shaved his beard and cut his hair to avoid being recognised and arrested for the killing. He managed to escape from Lahore to Calcutta.

4. A year later, he and Batukeshwar Dutt threw bombs in the Central Assembly Hall in Delhi, and shouted “Inquilab Zindabad!” He did not resist his arrest at this point.

national college lahore, bhagat singh 4th from right

5. During interrogation, the British came to know about his involvement of in the death of John Saunders a year earlier.

6. At the time of his trial, he didn’t offer any defence, rather used the occasion to propagate the idea of India’s freedom.

poster announcing sentence

7. His death sentence was pronounced on 7 October 1930, which he heard with defiant courage.

8. During his stay in jail, he went on a hunger strike against the policy of better treatment for prisoners of foreign origin.

Bhagat Singh Raj Guru Sukhdev

9. He was sentenced to be hanged on 24 March 1931, but it was brought forward by 11 hours to 23 March 1931 at 7:30 p.m.

10. It is said that no magistrate was willing to supervise the hanging. After the original death warrants expired it was an honorary judge who signed and oversaw the hanging.

bhagat singh's warrant

11. Legend says, Bhagat Singh marched to the gallows with a smile on his face and his one last act of defiance was shouting “Down with British imperialism.”

Bhagat Singh's death certificate

Wikimedia Commons

12. India’s most famous freedom fighter was only 23 years old when he was hanged. His death inspired hundreds to take up the cause of the freedom movement.

محرم کی ثقافت بمقابلہ تکفیری ثقافت

azakhana_wazeer_un_nisa

 

محرم الحرام کے مہینے کے آغاز سے بلکہ عید قربان کے فوری بعد پاکستان کے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ ایک رجحان روایت بنتا جارہا ہے-جس کو اگر چند لفظوں میں بیان کیا جائے تو اس کی کوشش یہ ہے کہ محرم الحرام کو ہمارے سماج کے اندر ثقافتی اعتبار سے جو اہمیت حاصل ہے اور صدیوں کے سفر نے اس مہینے سے جڑی ریتوں ، روائتوں ، رسوم اور رواج کو ہمارے ہاں جو رچاؤ حاصل ہوا ہے،اس رچاؤ کو ایک فضول ، بیکار چیز کہہ کر رد کیا جائے-اور اس حوالے سے کئی طرح کے طریقے استعمال کئے جارہے ہیں –ایک طریقہ جو سابقہ سپاہ صحابہ اور موجودہ اہل سنت والجماعت کی جانب سے اعلانیہ اپنایا گیا ،وہ مناظرانہ ہونے کے ساتھ ساتھ تشدد آور ، منافرت انگیز ، دہشت پسندانہ اور جذبات کو مشتعل کردینے والا ہے اور اس حوالے سے اس تنظیم نے جتنا جھوٹ بولا جاسکتا تھا ،بولا اور اس کی پہلے دن سے یہ کوشش رہی کہ محرم کی جو اجتماعی مشترکہ ثقافتی مذہبی حثیت ہے اس پہ ضرب لگائی جائے اور محرم سے جڑی کربلاء کے المیے سے جڑی غالب ثقافت ہے اسے تار تار کردیا جائے-سپاہ صحابہ نے اس حوالے سے کئی علمی و فکری مغالطوں کو جنم دیا-مین سٹریم سنّی اسلام کے ہاں سپاہ صحابہ کے وجود میں آنے سے پہلے کبھی بھی یکم محرم الحرام کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے یوم کے طور پہ منائے جانے کی روایت موجود نہ تھی بلکہ خود دیوبندی مکتبہ فکر کے ہاں یکم محرم الحرام کو یوم شہادت عمر فاروق رضی اللہ عنہ منانے کی سرے سے کوئی روایت موجود نہیں تھی –بلکہ دیوبندی مکتبہ فکر کے جید مفتیان کرام کی جانب سے ولادت و وفات و شہادت کے ایام مخصوص کئے جانے اور ان ایام کے اندر جلوس نکالنے اور کانفرنسز کرنے کو بدعت اور گناہ قرار دیا جاتا رہا اور اہل سنت کے دیگر بڑے مراکز جو برٹش ہندوستان میں تھے ان سے دارالعلوم دیوبند کے اختلاف کی وجہ یہ رویہ بھی بنا تھا –لیکن سپاہ صحابہ پاکستان کے وجود کے بعد بڑے پیمانے پہ تاریخی روایات کے بالکل برعکس یکم محرم کو یوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ منایا جانے لگا اور اس مناسبت سے جلوس اور کانفرنسز بھی منعقد کی جانے لگیں –اگرچہ اہلسنت کا دوسرا بڑا سیکشن جسے بریلوی کہا جاتا ہے آج بھی اس دن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا یوم نہیں مانتا –لیکن ریاستی سرپرستی ، سعودی اثر اور کالعدم تنطیموں کے دباؤ پر آج پاکستان کے سبھی اردو اخبارات یکم محرم کو شہادت حضرت عمر فاروق کے یوم کے طور پہ دیکھتے ہیں اور اس دن خصوصی رنگین ایڈیشن شایع کئے جاتے ہیں اور اکثر اردو اخبارات یکم محرم میں خصوصی اشاعت میں زیادہ تر مضمون سپاہ صحابہ پاکستان / اہلسنت والجماعت دیوبندی کے لکھے شایع کرتے ہیں-جبکہ پنجاب کے اندر میں دیکھ رہا ہوں کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ضلعی امن کمیٹی کے تحت یکم محرم کو ” عمر فاروق و امام حسین کانفرنس” کا انعقاد کرنے لگی ہیں –گویا ریاستی سطح پہ بھی محرم الحرام اور اس سے جڑی کربلاء کی ثقافتی روایت کو انڈر مائن کرنے اور گھٹا کر دکھانے کی سعودی فنڈڈ تکفیری دیوبندی کوشش ہے ، اسے کامیاب کرانے میں ریاست نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے –

محرم الحرام میں مجالس عزا ، جلوس ہائے عزاداری اور اس عشرے میں دیگر کام (سبیل حسین ، تعزیہ ، علم ، نوحہ خوانی ، مرثیہ خوانی ، سوز خوانی )یہ سب کے سب صرف اور صرف شیعہ کمیونٹی کے ساتھ مختص نہ تھے اور نہ کبھی رہے-بلکہ پورے برصغیر پاک و ہند میں جیسے عید میلادالنبی ، عید ، ہولی ، دیوالی ، کرسمس ، ایسٹر مشترکہ تہوار سمجھے جاتے ، ایسے ہی محرم یا عاشورہ کو پورا برصغیر اور اس کے مختلف مذاہب و فرقوں سے تعلق رکھنے والے اپنا خیال کرتے اور سب کے ہاں حزن و ملال کے ثقافتی رنگ ابھر کر سامنے آجاتے تھے –برصغیر پاک و ہند کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں جتنے بھی مرکزی جلوس  چھے، نو اور دس محرم الحرام کو نکلتے ان میں سب سے زیادہ شرکت سنّی مسلمانوں کی ہوتی اور پھر ہندؤ ، کرسچن ، سکھ ، پارسی بھی اس میں شریک ہوتے-تعزیہ سازی کی زیادہ تر روایت سنّیوں کے ہاں پائی جاتی اور مرکزی جلوس میں مین سٹریم سنّی اسلام کے نمائندے اپنے تعزیہ اور علم کے جلوس کے ساتھ مرکزی جلوس میں شامل ہوجاتے-آج بھی ملتان سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں معروف تعزیہ لائسنس ہولڈر اہلسنت سے تعلق رکھتے ہیں اور سنّی جلوس بھی مرکزی جلوس میں شامل ہوتے ہیں-اور برصغیر پاک و ہند میں محرم کے دس دنوں میں ہر شہر کے اندر ہونے والی مجالس میں سنّی خواتین و حضرات کی شرکت ایک معمول تھی اور اسی طرح نوحہ ، مرثیہ ، سوز خوانی اور اس کی سماعت صرف اہل تشیع کے ساتھ ہی خاص نہ تھی –مرثیہ ہمیشہ سے اردو زبان کی ایک مانی تانی صنف رہا اور اسے کبھی بھی فرقہ وارانہ عینک سے نہیں دیکھا دکھایا گیا اور کسی نے بھی انیس و دبیر کو شیعہ –سنّی فریم ورک کے اندر رکھ کر نہ دیکھا اور سبھی نے انیس و دبیر سے بلوغت کو پہنچنے والی مرثیہ کی روایت کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش نہیں کی

نوآبادیاتی دور میں اندر لکھنؤ میں 1920ء کے بعد ایک بڑا بحران دیکھنے کو ملا اور وہآن پہ شیعہ –سنّی مذہبی ہم آہنگی کو احراری دیوبندی مولویوں نے خراب کرنے کی کوشش کی –اس زمانے میں غالبا 1929ء میں احراری مولویوں نے اور خاص طور پہ مولوی مظہر علی اظہر نے

 ” تحریک مدح صحابہ ” کے نام سے ایک تحریک شروع کی اور عین محرم کے آغاز سے لکھنؤ میں ” مدح صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ” کے جلوس نکالے جانے کی روایت ڈالنے کی کوشش کی اور اس سے لکھنؤ میں وہ فساد مچا کہ برٹش گورنمنٹ کو باقاعدہ مداخلت کرنا پڑگئی –یہ تحریک اصل میں آل انڈیا مسلم لیگ کی مسلم اربن مڈل کلاس میں بڑھتی مقبولیت کو توڑنے کی کوشش تھی اور اس کا ایک طبقاتی پس منظر بھی تھا کہ یو پی ، سی پی ، پنجاب کے اندر احراریوں کے سب سے بڑے حریف آل انڈیا مسلم لیگ کی بڑا قیادت کا پس منظر یا تو شیعہ تھا یا پھر وہ صوفی سنّی بیک گراؤنڈ رکھتے تھے یا ان میں کئی ایک نامور ہستیاں احمدی تھیں تو سب سے آسان ہدف احراریوں کو شیعہ اور احمدی لگےجبکہ معاف انہوں نے صوفی سنّی پس منظر رکھنے والوں کو بھی نہیں کیا تھا –لیکن مین سٹریم سنّی اسلام کے ماننے والوں نے اس زمانے میں بھی محرم مشترکہ ثقافتی روایت کو توڑنے کی اس کوشش کا ساتھ نہیں دیا تھا –نہ ہی دارالعلوم دیوبند سے جڑے سخت گیر ، فرقہ پرست مولویوں کو کانگریس کی طرف سے حمایت مل پائی تھی –بلکہ محرم الحرام میں مشترکہ مذہبی ثقافتی روایت کے مدمقابل “تکفیری ثقافت ” کو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے نام سے برصغیر میں مسلط کرنے کی اس کوشش کو کیا مسلمان ، کیا ہندؤ ، کیا سکھ ، کیا کرسچن ، کیا پارسی سب نے مسترد کردیا تھا –اور سچی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں تکفیری ثقافت کے علمبرداروں کو نہ تو کسی بیرونی ریاست کا دست شفقت حاصل تھا ،نہ ہی برصغیر میں حکمرانی کررہے برٹش سامراج کو ” تکفیری ثقافت ” کے علمبرداروں کی اپنے تزویراتی مفادات کے لئے کہ اسقدر ضرورت تھی اگرچہ ان کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی میں اور خود پولیس میں ایک باقاعدہ ونگ تھا جو تقسیم کرو ، حکمرانی کرو کی پالیسی کے تحت کمیونل اور فرقہ وارانہ تناؤ پیدا کرنے میں مستعد رہا کرتا تھا –اور یہ ونگ پاکستان بننے کے بعد بھی موجود رہا-اس زمانے میں وہابیت ، دارالعلوم دیوبند اور اہل قرآن نامی رجحانات کے زیر اثر صلح کل ثقافت دشمنی کا علمی رجحان سامنے آچکا تھا لیکن اس کا اثر ایک محدود قسم کی ریڈرشپ تک محدود تھا اور ان کو مین سٹریم اسلام کے ماننے والوں میں کوئی خاص اثر و رسوخ حاصل نہ ہوا بلکہ مذہبی ثقافتی مشترکات کے خلاف ان کی تحریروں کو کسی نے بھی اچھی نگاہ سے نہ دیکھا –یہ صورت حال پاکستان کے قیام کے بعد بدلنا شروع ہوئی اور اسے عروج 80ء کی دھائی میں ملنا شروع ہوا-جب ایک تو امریکی سامراج اور سعودی عرب کے تعاون سے بڑے پیمانے پہ پیسہ ، وسائل اور ریاستی سرپرستی کے زریعے سے

 ” تکفیری ثقافت ” پاکستانی سماج کے اندر جڑپکڑنے لگی –جسے ہند –اسلامی تہذیب کہا جاتا ہے اس سے جو ثقافتی مذہبی شعور برصغیر پاک و ہند کا پروان چڑھا تھا اس کی ازسر نو تعریف متعین کرنے کی کوشش ہوئی –اور یہ تکفیری سوچ کی روشنی میں متعین کرنے کی کوشش کی گئی-اس کے تحت عرس ، میلے ، بیساکھی ، دیوالی ، ہولی ، عید میلادالنبی ، محرم عاشورہ سب زد میں آگئے اور اس سے جڑنے کا جو اجتماعی شعور تھا اسے پارہ پارہ کرنے کی کوشش بہت ہی منظم طریقے سے ہوئی –اور 80ء کی دھائی سے ہمارے ہاں سعودی فنڈنگ سے بننے اور چلنے والے اداروں ، گروپوں نے مین سٹریم اسلام کو “وہابی اسلام ” سے بدل ڈالنے کو اپنا ہدف بنایا اور بریلوی ، شیعہ کو مین سٹریم اسلام سے الگ کرکے اور پھر ہندؤ ، کرسچن ، سکھ ، احمدی تو پہلے ہی ثقافت کے مرکزی دھارے سے الگ کردئے گئے تھے –اب ان کا ہدف شیعہ اور بریلوی کمیونٹی ہے-محرم کی مشترکہ ثقافتی خاصیت کو برباد کرنے کے لئے سب سے زیادہ کوشش اس مہینے کی مین سٹریم ثقافتی لہر کو ” شیعہ لہر ” بناکر دکھانا اور اس کی منفی تصویر پینٹ کرنا  اور اس سے جیسے بن پڑے سنّی مسلمانوں کو الگ کرنا ہے تاکہ محرم مشترکہ ثقافتی ورثے کے طور پہ باقی نہ رہے –

بے پناہ سعودی فنڈنگ سے کھڑی مدمقابل تکفیری ثقافت کے پروپیگنڈے کے زیر اثر  پاکستان میں اب مجالس عزا اور مرکزی جلوس عاشور میں سنّی مسلمانوں کی شرکت انتہائی کم ہوگئی ہے-پھر تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے بے پناہ حملے ، خودکش بم دھماکوں اور امام بارگاہوں ، جلوس ہائے عاشورہ کو نشانہ بنائے جانے کے رجحان بے پناہ خوف ہراس پیدا کیا ہے اور ملائیت نے تعزیہ ، علم ، سبیل حسین اور یہاں تک کہ زکر حسین کو ہی ایک بدعت و گمراہی قرار دینے اور اسے گناہ قرار دینے کا ایسا پروپیگنڈا کیا ہے کہ سنّی مسلم اکثریت میں اس حوالے سے ایک احساس گناہ جڑ پکڑ گیا ہے اور وہ اس مشترکہ ثقافتی ورثے پہ ہونے والے منظم حملے کا ادراک ہی نہیں کرپارہے –پاکستان کے اربن سنٹرز خاص طور پہ تکفیری ثقافت کے مضبوط قلعوں میں تبدیل ہوگئے ہیں –اور یہاں مین سٹریم سنّی اسلام بھی اس ثقافت کے بدترین دباؤ کا سامنا کررہا ہے-

محرم کی ثقافت پہ صرف مذہبی راستے سے حملہ نہیں ہورہا ہے بلکہ ایک حملہ اس پہ لبرل ، سیکولر اور نام نہاد مارکسی رستے سے بھی کیا جارہا ہے اور یہ ڈسکورس پچھلے چند سالوں میں اردو پریس اور سوشل میڈیا پہ بہت زیادہ ترقی پذیر ہے-محرم کی ثقافتی سرگرمی کے ساتھ معاشی سرگرمی بھی جڑی ہوئی ہے-اس ثقافتی سرگرمی پہ سب سے بڑا حملہ یہ کہہ کر کیا جاتا ہے کہ یہ پیسے کا اسراف ہے اور پھر محرم کے دس دنوں میں جلوس ہائے عاشورہ کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل اور لوگوں کی آمد و رفت کے مسائل کا شور مچایا جاتا ہے –حالانکہ یہ شور ڈالنے والوں نے کبھی تبلیغی اجتماع کے دنوں میں ہونے والے مسائل بارے کچھ نہیں لکھا اور سارا سارا تکفیری ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے منعقد کی جانے والے جلوسوں ، جلسوں اور کانفرنسوں پہ اٹھنے والے اخراجات پہ کوئی کالم  لکھنے کی تکلیف نہیں اٹھائی گئی –محرم کے مرکزی جلوسوں کے راستے دو صدیوں سے متعین ہیں اور ان جلوسوں سے کسی بھی مذہب و ثقافت کو کبھی خطرہ لاحق نہیں ہوا-پوری دنیا میں یہ جلوس نکلتے ہیں کسی نے ان جلوسوں کو کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری سے تعبیر نہیں کیا –لیکن یہ پاکستان ہے جہاں کئی مہان صحافی ، تجزیہ کار ، کالم نگار اور مذہبی دانشور ان جلوسوں کو چار دیواری میں محدود کرنا چاہتے ہیں –اگر اس تجویز کی گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو پھر مسئلہ محرم کی ثقافت سے بنتا ہے جسے ختم کرنے کے لئے اگر لبرل ازم کی کوئی دلیل کام میں آجائے تو اسے استعمال کیا جاتا ہے اور اکر مارکس ازم کام آئے تو اس سے کام لیا جاتا ہے

تکفیری ثقافت پہلے تھیڑ ، ڈرامہ ، فلم ، ناٹک پہ حملہ آور ہوئی ، آرٹسٹ ، سنگرز نشانہ بنے اور پھر آج کل یہ نوحہ ، مرثیہ ، سوز خوانوں اور زاکروں پہ حملہ آور ہے-کیونکہ محرم کی ثقافت کو نیچے تک عوام کے اندر قائم دائم رکھنے میں ان کا بڑا کردار بنتا ہے-سوشل میڈیا پہ ” مراثیوں ” کی واٹ لگائی جارہی ہے-بطاہر یہ کام ریشنل ازم ، روشن خیالی کے نام پہ ہورہا ہے-بلکہ یہاں تک کہ مجالس ، عاشور کے جلوسوں کو ڈیٹنگ پلیس کہا جارہا ہے اور اس کے ساتھ جڑی تقدیس کو مٹاڈالنے کی پوری کوشش ہورہی ہے-مجھے اس قسم کی کوششیں بالواسطہ مذہبی پیشوائیت اور ملائیت کو راسخ کرنے کی کوشش کے سوا اور کچھ نہیں لگتیں –ریاست کا حال یہ ہے کہ وہ محرم شروع ہونے سے پہلے امن کی تجویز لینے کے لئے کالعدم تںطیموں کے ملّاؤں کو بلاتی ہے –ہندؤ میرج بل پاس کرنے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل سے پوچھتی ہے-یہاں مذہبی ہونے اور مسلمان ہونے کا مطلب تکفیری ثقافت سے جڑنا بنتا جارہا ہے –محرم کی ثقافت کو الگ تھلگ کرکے اسے چاردیواری میں بند کرنا شیعہ کمیونٹی کو الگ تھلگ کرنے سے کہیں زیادہ بڑا پروجیکٹ ہے اور اس پروجیکٹ کا رخ صدیوں سے بننے والی ثقافت کو برباد کرنا ہے-اور ہماری حکومتوں کے زیر سایہ تکفیری دانشور اپنا کام کررہے ہیں –دیوبندی اسلام کا تکفیری ایڈیشن مین سٹریم سنّی اسلام پہ زبردستی لادھا جارہا ہے –ریاست اگر حافظ سعید ، مسعود اظہر ، محمد احمد لدھیانوی کو گود لیتی ہے اور ان کے نیٹ ورک کو پھیلنے دیتی ہے تو اس کا نتیجہ تکفیری ثقافت کا غلبہ ہے –شیعہ ، بریلوی ، ہندؤ ، کرسچن اور دیگر مذہبی کمیونٹیز کو اور زیادہ الگ تھلگ کرنا ہے چاہے ریاست کے کرتا دھرتا یہ کیوں نہ کہیں کہ یہ ان کی تزویراتی پالیسی کا حصّہ نہیں ہے –