دھندے والی -دوسرا حصّہ

nude-art-1

 

دھندے والی –دوسرا حصّہ

کہانی : عامر حسینی

 

 

دروازہ کھلا ہے –اندر تشریف لے آئیں

 

ایک نہایت ہی دلکش آواز کے ساتھ اندر سے جواب آیا

میں نے دروازے کو آہستہ سے دھکا دیا تو دروازہ کھل گیا

یہ سجا سجایا کمرہ تھا – دروازے کے دائیں جانب سامنے ایک بڑی سی مسہری پڑی تھی –اس مسہری کے ساتھ ہی دو صوفہ کرسیاں رکھی تھیں جبکہ ایک جانب بڑا سا آئینہ تھا اور دروازہ کے بائیں جانب باتھ روم بنا ہوا تھا-اس نے دیکھا ایک صوفہ کرسی پہ ایک عورت بیٹھی تھی جس کے چہرے پہ کم عمری کے آثار تھے اور وہ عورت کم لڑکی زیادہ نظر آتی تھی-لارج سائز نائٹی میں ملبوس عورت کی ٹانگیں سامنے مسہری پہ دھری تھیں اور اس کی پنڈلیاں ننگی تھیں –عورت دودھ اور شہدے کی سی رنگت سے شہابی شہابی لگتی تھی-دائیں ہاتھ کی لمبی لمبی انگلیوں میں اس نے ایک سگریٹ تھام رکھا تھا جس پہ فلٹر لگا ہوا تھا –اور پفنگ کرتے ہوئے دھویں کے لچھے بنائے جاتی تھی-بڑی بڑی آنکھوں سے وحشت جھانکتی تھی اور ماتھے پہ کھنچاؤ مگر سلوٹ کوئی نہ تھی-اپنی باڈی لینگویج ( بدن بولی ) میں وہ بہت ہی ٹھسے دار عورت نظر آرہی تھی-مری گھبراہٹ میں اور اضافہ ہوگیا-اور میں درواے میں عین درمیان میں کھڑا ہوگیا تھا-اور مجھ سے اگے بڑھا نہیں جارہا تھا-عورت کی دلکشی مجھے بھاگئی تھی مگر ہمت مفقود تھی-

آپ وہاں کیوں کھڑے ہوگئے ؟ آئیے نا! ہچکچائیے مت !

یہ کہہ کر وہ عورت اٹھ کھڑی ہوئی جسے وحید نے گل بہار کے نام سے یاد کیا تھا –وہ سیدھی مری طرف آئی اور مرا ہاتھ تھام کر مجھے مسہری کی جانب لے گئی اور مجھے مسہری پہ بیٹھنے کو کہا-میں نے صوفہ کرسی پہ خود کو گرادیا-ہاتھ اس نے ابتک نہیں چھوڑا تھا- مرے ماتھے پہ پسینے کی بونیں چمکنے لگیں تھیں –اور سانس تھوڑا تیز چلنے لگا تھا-

“ارے ! آپ کے ہاتھ ٹھنڈے کیوں پڑ رہے ہیں ؟ اور ماتھے پہ پسینہ کیسا ؟ یہ دیکھیں ! ہمارے پیر مڑے ہوئے نہ ہیں ، پچھل پیری نہ ہیں ہم ” اس نے اچانک اپنے پیروں کو مرے سامنے کرتے ہوئے اسقدر مضحکہ خیز منہ بنایا کہ مری بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی اور میں تھوڑا ریلیکس ہوگیا-

مجھے کافی انوسینس لگی تھی وہ (جو مری بہت بڑی غلطی تھی )

میں نے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیری اور گلہ کھنکھار کر صاف کیا اور کہا

میں یہاں “وہ ” کرنے نہیں آیا جو آپ سمجھ رہی ہیں –

یہ سنکر وہ ہنسی (مجھے لگا جیسے مندر میں گھنٹیاں بجنے لگی ہوں-میں تھوڑا کھویا اس ہنسی میں اور یک دم خود پہ افسوس ہوا کہ یہ میں کیا سوچنے لگا ہوں )

ہاں جانتی ہوں تم “وہ ” نہیں   بلکہ ” یہ ” کرنے آئے ہو-

نہیں ! میں نہ “وہ” اور نہ ہی “یہ ” کرنے آیا ہوں

میں نے فوری اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

پھر کیا کرنے آئے ہو؟

اس نے ملائم ملاحت زدل لہجے میں پوچھا

اس کا بات کرنے کا یہ انداز مجھے کھٹک رہا تھا-لہجے کا اعتبار اور لفظوں کا انتخاب اسے پڑھا لکھا ظاہر کررہا تھا-وہ ہیومن ڈسٹ سوشل بیک گراؤنڈ سے نہیں لگ رہی تھی –

مجھے لگتا ہے کہ میں تمہیں صاف صاف بتادوں –

میں ایک صحافی ہوں اور ایک میگزین میں کام کرتا ہوں –مرے ایڈیٹر نے مجھے یہاں ایک عورت کا انٹرویو کرنے کو کہا ہے- (میں نے لفظ طوائف استعمال کرنے سے گریز کیا اور آدھی بات چھپا بھی گیا) وہ یہ سن کر بے اختیار ہنس پڑی-

ہممممم –عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ تمہارے ایڈیٹر ( بالکل ٹھیک انگریزی تلفظ کے ساتھ ) نے ایک “دھندہ کرنے ” والی کی زندگی بارے تمہیں مواد اکٹھا کرنے کو کہا ہے جس پہ تم اپنے فیچر کی بنیاد رکھو گے اور اس طرح اپنے رسالے کی ریٹنگ بڑھالوگے-زرا کچھ کاپیاں زیادہ فروخت ہوجائیں گی –

دیکھو ! اب یہ مت کہنا کہ تم اس بازار میں پہلی مرتبہ آئے ہو-اور تم کوئی عادی ” رنڈی باز ” نہیں ہو –اور تمہیں مرے جسم میں زرا دلچسپی نہیں ہے-آؤ یہاں مسہری پہ اور پہلے اپنی آگ بجھاؤ اور پھر کوئی کہانی تمہارے حوالے کردوں گی-مگر اس کے چارجز الگ سے ہوں گے-ڈانس دیکھوگے تو اس کے پیسے بھی الگ سے ہوں گے- شراب یا چرس درکار ہے تو ابھی بتادو-اور ہاں میں ” سنگل ” ہوں –ڈبل ان ون یا تھری ان ون نہیں ہوں –سٹائل بھی بس مشنری ہوگا –اور چ—— کے دوران گالیاں مت نکالنا ورنہ جواب میں ڈبل سنوگے –پھر نہ کہنا کہ مردانگی کی توہین ہوگئی –کنڈوم لائے ہو ؟ اگر نہیں لائے تو دراز میں سے نکال لو-اس نے مسہری کی ایک طرف لگی دراز کی جانب اشارہ کیا-

اس نے اتنی تیزی سے کینچلی بدلی کہ میں ہکا بکا رہ گیا-اس کی آواز کی نرمی کہیں غائب سی ہوگئی تھی-اور مجھے لگا کہ وہ اس بازار میں اس کمرے کے اندر اپنے ضابطہ اخلاق کا کتابچہ پڑھ کر مجھے سنارہی ہو-ضابطہ اخلاق ۔۔۔۔۔۔ یہ الفاظ مرے ذہن میں کیا آئے کہ مرے لئے ہنسی روکنا ناممکن ہوگیا اور میں زور زور سے ہنسنے لگا-

ہنسے کیوں ؟

اس نے زرا حیرانی سے پوچھا ؟

میں اب سنبھل گیا تھا اور تھوڑا فارم میں خود کو محسوس کررہا تھا-

ضابطہ اخلاق ۔۔۔۔۔ مرے منہ سے نکلا

کوڈ آف کنڈکٹ

کیا کوڈ آف کنڈکٹ ؟

اس نے رسانیت سے پوچھا

وہی جو تم نے ابھی بیان کیا-

میں نے کہا تو تھوڑی دیر کو وہ ساکت ہوئی اور پھر ایک دم اس نے زور سے قہقہ لگایا – میں دم بخود رہ گیا-

کمال کے آدمی ہو-بالکل ٹھیک لفظ استعمال کئے مگر پورے الفاظ نہیں بولے –شرماتے ہو ابھی –

“چ ۔۔۔۔۔۔۔ کا ضابطہ اخلاق “

چھی چھی چھی —- کسقدر گندی ہو تم ۔۔۔۔۔۔ اسے ” دھندے کا ضابطہ اخلاق ” بھی تو کہہ سکتی تھیں –

میں نے اس کی بات کاٹی اور کہا –

ہاں کہہ تو سکتی تھی مگر بازار میں آنے سے پہلے اور بازار سے جانے کے بعد “چ ” کا لفظ بہت استعمال ہوتا ہے –اور عورت طوائف سے کہیں زیادہ ولگر الفاظ سے یاد کی جاتی ہے-اور مجھ تک آنے والے مردوں کی اکثریت تو مرے پیچھے سے یہ الفاظ ضرور استعمال کرتی ہے کیونکہ ان کی بیمار ذہنیت کے دباؤ سے ابھرنے والی گالیوں کی پوچھاڑ میں ہونے نہیں دیتی –

اس نے تھوڑی تیز آواز میں مجھے باور کرایا-

تم پڑھی لکھی لگتی ہو ؟ انگریزی الفاظ کی ادائیگی بالکل پرفیکٹ ہے-

میں ایم اے انگریزی ہوں –

اس نے جیسے اچانک بم پھوڑا –

نہ کر ! مرے منہ سے بے اختیار نکلا-

چلو نہیں کرتی !

لیو اٹ ، کم ٹو دی پوائنٹ مائی بوائے !

اس نے مری توقع کے برخلاف کوئی بحث نہ کی –

میں کچھ دیر چپ رہا –اور پھر اسے کہا-مرا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو-بلکہ حیرت ہوئی کہ تم یہاں کیا کررہی ہو؟

می ماں بھی “دھندہ کرتی تھی اور اس کی ماں بھی اور شاید اس کی ماں بھی “

اس نے کہا-(میں سوچ رہا تھا کہ وہ کہے گی کہ بس مجبوریاں یہ سب کرنے پہ مجبور کرتی ہیں ورنہ خوشی سے یہ سب کون کرتا ہے –لیکن اس نے مرے قیاس کو بالکل غلط ثابت کرڈالا )

تو انگریزی لٹریچر ہی کیوں ؟

ماں کہتی تھی انگریزی ادب آئے گا تو تھوڑا دھندا زیادہ اچھا چلے گا اور اس کا کہنا غلط نہیں تھا –کم پڑھے لکھے امیر تماش بین مری انگریزی کے سامنے  بھیگی بلّی بن جاتے ہیں اور مہذب آنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور بہت پڑھے لکھوں کو سکون ملتا ہے-

میں اس کی پرکھ اور تجربے کا قائل ہوگیا-

نام کیا ہے ؟ اور اصلی نام بتائیے گا

تم جیسے انٹلیکچوئل کم مین  میں یہ بہت بیماری ہے-سمجھتے ہیں کہ اپنی آرٹیفیشل ڈیسنٹ ایٹی ٹیوڈ سے تم کسی بھی چھنال کو رام کرلو گے اور وہ تم پہ اپنا آپ کھول دے گی –اور زرا مجھے بتاؤ کہ اگر میں تمہیں کوئی نام اپنا بتادوں تو کیسے اندازہ لگاؤگے کہ وہی مرا اصل نام ہے-ایک رانڈ کا اصل نام “رانڈ ” ہی ہوتا ہے اور اس کا دھندا ہی اسے نام دیتا ہے-

Whore, Prostitute

لفظ استعمال کیوں نہیں کرتی ہو جبکہ بار بار انگریزی کے لفظ بولتی ہو-

میں نے زرا چڑ کر کہا-

مرا چڑچڑا پن دیکھ کر وہ ہنسنے لگی –بس مردپنے پہ اترآئے ہو نا –زچ کرنا چاہتے ہو – مجھ سے تمہارا مطالبہ مودب ہونے کا ہے نا؟

ایسا کچھ بھی نہیں ہے-میں نے تمہیں سچ کہا مجھے ایک پیشے والی عورت کا انٹرویو درکار ہے اور تم اس کرائی ٹیریا پہ پورا اترتی ہو-اور مرے پاس چار سو روّے ہیں جس مين سے 3 سو روپے تمہیں دے سکتا ہوں باقی کے سو روپے سے دو دن مجھے گزارا کرنا ہے کیونکہ پگار دو دن بعد ملے گی-میں نے ایک سانس میں اسے یا سب بتایا –

یہ سنکر وہ تھوڑا سنجیدہ ہوگئی –اور کہا ! مجھے لگتا ہے کہ تم واقعی سچ کہہ رہے ہو لیکن کیا ” بستر پہ انٹرویو کے بعد آؤگے “

اس کا یہ سوال سنکر مجھے غصّہ آنے کی بجائے ہنسی آگئی –

نہیں بابا ! نہ انٹرویو سے پہلے نہ انٹرویو کے بعد اور نہ یہاں سے جانے کے بعد دوبارہ کبھی آنے پہ یہ سب مرا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے-

تو کیا امپوٹنٹ ہو ؟

اس نے ایک اور سوال داغ دیا-

میں نے جلدی سے کہا ! ہرگز نہیں –لیکن جلد ہی خود ہی اپنی اس حماقت پہ ہنسنے لگا( کیا ضروری تھا کہ اس سوال کا جواب دیا جاتا )

اچھا چلو شروع کرو انٹرویو ۔۔۔۔ اس نے کہا اور مسہری پہ بیٹھ گئی چوکڑی مارکر-اس کی آنکھوں ميں اب شرارت تھی-

تم اپنے بارے میں بتاؤ؟میں نے کہا

وہ شروع ہوگئی

میں اقراء تھی کبھی جب پیدا ہوئی تو یہی نام رکھا گیا جب جوانی کی سیڑھی چڑھی تو نام نتاشا ہوگیا اور اب گل بہار ہوں -۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو ایسے میں اقراء عرف نتاشا عرف گل بہار سے ملا تھا – اس انٹرویو کے لئے اس کی دو تصویریں بھی لی تھیں – اس جھجک کے ساتھ بتایا کہ یہ تصویریں خاص ہونی چاہیں —- اس نے کہا نیوڈ یا پورنو گراف درکار ہیں —— تمہیں پورنو گراف نہیں دوں گی –نیوڈ بارے سوچا جاسکتا ہے-میں حیران رہ گیا تھا کہ اسے پورنوگراف اور نیوڈ آرٹ بارے فرق پتہ تھا –

اس انٹرویو نے ہمارے رسالے کو بہت شہرت دی تھی –تصویر میں اس کی آنکھوں سےلیکر ماتھے تک کو بلر کردیا گیا تھا –اور سرورق پہ اپنی نیوڈ تصویر کو دیکھ کر پہلے وہ خوش ہوئی اور جب اس نے آنکھوں سے ماتھے تک اسے بلر دیکھا تو مجھے کہا

کیوں صاف دکھاتے ہوئے پھٹ رہی تھی تمہاری اور ایڈیٹر کی ؟

ہاں پھٹ رہی تھی ! میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا اور پھر اپنے جواب پہ خود ہی حیران ہوگیا-اور فوری وہاں سے بھاگ لیا-

پھر میں اس شہر سے بھاگ لیا اور کئی شہروں میں دھکے کھاتا پھرا اور اسے بھول بھال گیا-

گزشتہ مہینے مرے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی –ایک ان ناؤن نمبر تھا –پہلے نظر اںداز کیا جب بار بار بزر بجنے لگا تو میں نے فون اٹینڈ کیا-

بھائی کیسے ہو؟ فون کیوں نہیں اٹھارہے تھے ؟

میں نے کہا سوری ! کون ؟ میں پہچان نہیں سکا

واہ ! بڑے آدمی ہوگئے ہو –پہچانتے بھی نہیں ( آگے سے روایتی فقرہ سننے کو ملا تو میں اور خشک ہوگیا)

ہاں بھئی نہیں پہچانا ! بتادیں نا کون ہیں ؟ میں نے کہا

یار سلیم اوڈھ ہوں جذران سعودیہ والا !

ارے سلیم تم ہو – کہاں ہو؟ تمہارے گھر کے سامنے گاڑی میں –

میں نے جلدی جلدی کپڑے بدلے اور نیچے پہنچا تو سلیٹی کلر کی نئی ہنڈا گاڑی میں سلیم اوڈھ بیٹھا ہوا تھا-وہ مجھے دیکھ کر گاڑی سے اتر آیا-بہت دبلا پتلا نظر آرہا تھا-میں نے گلے ملتے ہوئے کہا بہت سمارٹ ہوگئے ہو-کہنے لگا ہاں! جگر کا ٹرانسپلانٹ اچھے اچھوں کو سمارٹ کردیتا ہے-میں تھوڑا شاکڈ ہوا –کیسے ؟ یار ایک ماہ پہلے دہلی سے ٹرانسپلانٹ کرایا-60 لاکھ لگ گئے-نئی زندگی ملی ہے-تمہیں بار بار فون کیا –مگر تم نے نمبر ہی نہ اٹھایا-کہاں گم ہو بھائی ؟یہاں سڑک پہ سب باتیں نہیں ہوسکتیں – ایسا کرتے ہیں فورٹ ریسٹورنٹ چلتے ہیں –میں نے بھی کھانا نہیں کھایا اور تم نے بھی نہیں کھایا ہوگا-وہان چل کے بات کرتے ہیں –میں نے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا-

سلیم اوڈھ سے مری ملاقات جعفری کے ہاں ہوئی تھی-جعفری “جعلی بیوروکریٹ ” جو ایف سی سے اس زمانے میں پڑھا تھا جب اس چھوٹے سے شہر میں انٹرنس کالج میں جانا اعزاز سمجھا جاتا تھا اور اس کے کئی بیج میٹ اب سی ایس پی آفیسر اور باودری افسر تھے-وہ اگرچہ نکما ہی رہا –بی اے سے آگے نہ گیا اور واپس آکر زمیندارہ سنبھال لیا لیکن اس کا ایٹی ٹیوڈ اور نرت بھاؤ بیوروکریٹ والے ہی تھے-دوستوں نے اس کا نام “جعلی بیوروکریٹ ” رکھ ڈالا تھا-جعفری اپنے زیادہ تر دوست مڈل ایسٹ پلٹ یا وہاں گئے ہوئے مرفہ الحال لوگوں کو رکھتا تھا جن میں سے اکثر واجبی تعلیم والے ہوتے اور ان کو اکثر پی ۔سی ، آواری ، مریٹ ، ایمبیسڈر لیکر جاتا اور ان کو دیسی /کپّی کے چکر سے نکالتا اور بلیک لیبل ، ریڈ وائن ، شیوارز اینجل وغیرہ وغیرہ پہ لگاتا مگر خرچ سب ان کا ہوتا-اس دوران ہائی سوسائٹی کال گرلز کے درشن بھی کروائے جاتے-سلیم اوڈھ ایسے ہی اسے ٹکرا تھا-جعفری جعلی بیوروکریٹ کی ملک کے ایک بڑے نامی گرامی سیاست دان سے بھی دعا سلام تھی جس کی پروجیکشن اور اس کے دشمنوں کے خلاف پیدل خبریں چھاپنے اور ٹیبل سٹوریز بنانے کے لئے وہ قلم توڑ صحافیوں کے پیچھے رہتا تھا-میں جب ایک انگریزی اخبار کے اندر اسلام آباد کی سیاسی بیٹ کو دیکھ رہا تھا تو جعفری جعلی بیوروکریٹ سے مجھے وزرات داخلہ ميں لگے سیکشن افسر مستعین علوی نے متعارف کرایا تھا-اور پھر جب میں ملتان چلا آیا تو جعلی بیوروکریٹ نے مجھے اس سیاست دان سے ملوایا-اور ان دنوں زرا مرے حالات پتلے تھے تو میں بہت سی ٹیبل نیوز اسٹوریز اور گٹھیا فیک سیاسی اینالسز اس کے لئے بنائے تھے-جعفری جعلی بیوروکریٹ اس محنت کے عوض مجھے  نودولتیوں کی اس لاٹ سے ملواتا اور ان کی جیب سے مجھے مہنگی شراب ، قیمتی سگار دلاتا تھا-کبھی کبھی مجھے “ٹبّی گلیوں ” میں لیجانے کی کوشش کرتا تو میں انکار کرڈالتا تھا-سلیم اوڈھ بہت پڑھا لکھا تو نہ تھا مگر بندہ شناس تھا-جلد ہی وہ جعلی بیوروکریٹ کو پہچان گیا اور اس سے الگ ہوگیا-وہ ہر سال سعودی عرب سے تین ماہ کے لئے سردیوں میں آتا تھا-مجھے اپنی سادگی اور صاف گوئی کی بنا پہ وہ پسند آیا-میں اس کا گلاس فیلو بن گیا تھا-پھر بیچ میں ایک گیپ آگیا-میں ہی گم ہوگیا-قریب قریب دو سال بعد سلیم اوڈھ سے مری ملاقات ہوئی تھی-

فورٹ ریسٹورنٹ آگیا جناب ؟

سلیم کی آواز مجھے خیال کی وادی سے باہر لے آئی-

ہم کار سے اترے اور فورٹ ریسٹورنٹ کے اندر ہال میں جاکر ایک میز پہ بیٹھ گئے-

ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ مینجر باجوہ اپنے آفس سے نکل آیا اور کہنے لگا !

زہے نصیب ! آج تو بڑی ہستیاں ہمارے ہاں پدھاری ہیں –

میں ہنسنے لگا اور کہا کہ ایک جٹ کے منہ سے اتنی گاڑھی ہندی-مکس اردو اچھی نہیں لگتی –تمہاری پنجابی بہت خوبصورت لگتی ہے-سنیکس اور گرما گرم کافی پلوادیں –اس نے سپروائزر کو اشارہ کیا اس نے آڈر نوٹ کیا اور چلا گیا –

انجوائے یور کمپنی سر! باجوہ نے شرارت سے کہا اور اپنے آفس کی طرف مڑ گیا-سلیم مری طرف بہت غور سے دیکھ رہا تھا –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s