دھندے والی :اپنے مائی نوٹر کو جگاؤ -آخری حصّہ

the-rape-of-the-sabine

neonomiconrape

ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟

میں نے پوچھا ۔۔۔۔۔۔

بس یونہی –سوچ رہا ہوں کہ کافی تبدیلی آگئی ہے تھارے میں ، کچھ بدل سا گئو ہے تھارے اندر

سلیم کی عادت تھی جب وہ کسی انہونے احساس سے دوچار ہوتا تو اپنی میواتی بولی بولنے لگتا تھا

میں نے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے –بس گزرے دنوں میں تمہاری غیر موجودگی میں تھوڑی سی آسودگی آگئی ہے زندگی میں-

اچھا یہ بتاؤ بتک بس شراب اور تخیل پہ ٹکے ہوئے ہو یا آگے بڑھ کر شباب کی طرف بھی پیش قدمی کی ؟

سلیم نے جیسے اچانک بم پھوڑ دیا ہو ، میں چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا

نہیں بلکہ اب ” دختر انگور ” بھی بس سال نو کی رات کو یا کبھی کبھی چاند رات کو ، یا دوستوں کی کوئی خاص منڈلی ہو تو اور وہ بھی جاکر ہوٹل سے خود لانی پڑتی ہے ورنہ یہاں تو سب “زھر ” بیچ رہے ہیں-

میں نے اسے بتایا

مجھے ڈاکٹر نے جگر کی پیوندکاری کے بعد شراب پینے سے سختی سے منع کردیا اور کہا کہ اب بونس کی زندگی جی رہے ہو تم مگر یار یہ جو زندہ گوشت کے ساتھ ملنے کی خاہش ہے یہ نہیں دبی-جذران سعودی عرب میں مرے کفیل شراکت دار کے بیٹے کی مدد سے کافی اچھے دن گزر جاتے ہیں اور جنگ سے پہلے یمن چلے جاتے تھے اور وہاں کئی یمنی لڑکیاں میسر تھیں –ایک بوٹی گھات ملتی ہے –ویاگرا بھی اس کے سامنے کچھ نہیں ہے –ساری ساری رات لگے رہو-یمنی لڑکیا ں اعتراض بھی نہیں کرتیں –ٹو ان ون (یہ کہہ کر اس نے آنکھ دبائی )-اور کم سن 14 سے 17 سال کی-مرے سعودی کفیل کے بیٹے نے یمن سے جنگ شروع ہونے کے بعد پانچ کم سن یمنی لڑکیاں خریدی ہیں –کہتا تھا کہ “حوثی شیعہ مجوسیوں ” سے جنگ کے دوران مجاہدین کے ہاتھ  بہت لڑکیاں لگیں اور ان کی نیلامی یو اے ای میں کسی خفیہ مقام پہ ہوئی تھی اور اس نے یہ وہیں سے خریدی تھیں-ایک لڑکی غانیہ حسن اس نے مجھے دی اور کہا کہ عیش کروں – لیکن یار جس رات وہ مرے پاس آئی اس رات حالانکہ میں نے شراب پی ، گھات کھائی لیکن اس لڑکی کی آنکھوں میں اتنی اداسی تھی کہ میں ہل گیا-اس نے مجھے دیکھ کر صرف اتنا کہا ، ” احذر ، انی بنت الفاطمۃ ” میں اپنی ساری بدمعاش خواہشات کے باوجود اس کے قریب نہ جاسکا-وہ 18 سال کی تھی اور اس کا باپ حوثی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور کسی یونیورسٹی میں استاد تھا- ؛یہ گریجویشن کررہی تھی-ایک دن جب عید قریب تھی تو ان کے چھوٹے سے قصبے القائدہ کے مجاہدین نے ہلّہ بول دیا اور قصبے کے سارے مرد ذبح کردئے گئے اور بوڈھی عورتوں کو بھی مار دیا گیا جبکہ نوجوان کنواری اور شادی شدہ عورتوں کو مجاہدین نے آپس میں بانٹ لیا-غانیہ حسن بھی ایک مجاہد کے حصّے میں آئی جس نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا اور پھر یو اے ای کی بلیک مارکیٹ میں بیچ دیا –جہاں یہ دو تین ہاتھوں میں بکنے کے بعد مرے یمنی کفیل کے بیٹے کے قبضے میں آگئی –

سلیم یہ کہہ کر خاموش ہوگیا –

میں نے اس سے پوچھا ! سلیم ! یہ بتاؤ کہ یو اے ای ، قطر اور بحرین میں تم کس کس ملک کی لڑکیوں سے ملتے رہے؟

سلیم نے نان سٹاپ بولنا شروع کردیا :

“یار ! وہاں پہ ہندوستانی ، بنگالی ، پاکستانی ، یمنی ، لبنانی ، چینی ، فلپائینو عورتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ریوڑ ہے-اور میں نے یہ سب ذائقے چکھے ہیں-یو اے ای میں جہاں مزدوروں کے کیمپ ہوتے ہیں وہاں تھوڑی دور جاکر عین شاہراہ کے ساتھ زرا نیچے رات کے آخری پہر چینی اور کورین لڑکیاں آجاتی ہیں ، میٹ بھی ہوتا ہے اور 50 ریال میں آپ کا کام ہوجاتا ہے-اور وہاں شہروں میں ہوٹلوں کی دوسری اور تیسری منزل پہ درجنوں لڑکیا مختلف ریٹس میں دستیاب ہوتی ہیں-درمیانے درجے کے ہوٹلوں میں فلور میں انٹری فیس 20 سے 30 ریال  اور اچھے ہوٹل میں 100 سے 500 ریال  ہوتی ہے-جیسا مال ویسا ریٹ ہوتا ہے-یار! تم انڈین لڑکی کی ظاہری ٹیپ ٹاپ پہ مت جانا –سالیوں کے جسم سے عجیب سی بدبو آتی ہے جو جانے کا نام ہی نہیں لیتی –کئی دفعہ مری رات خراب ہوئی –میں نے ویسے ہی بھیج دیا”

“ویسے وہاں چکنے چھوروں کی بھی ایک نہ ختم ہونے والی بھیڑ ہے-اورتمہیں بتاؤں کہ چھورے زیادہ ریٹ لیتے ہیں-مرے کئی ساتھی تو بس چھوروں کے پاس جاتے اور 500 سے ہجار ریال تک خرچ کرنے سے گریج نہ کرتے-پشتون اور ہندکو ، کشمیری چھورے بہت مقبول ہیں واں “

اتنے میں سنیکس اور کافی آگئی –ہم اس میں مشغول ہوگئے اور پھر سلیم نے اگلے روز ملنے کا وعدہ کیا اور رخصت ہوگیا –

میں سلیم کی باتیں سنکر کافی اپ سیٹ تھا-

“احذر! انّی بنت الفاطمۃ ” کے الفاظ مرے ذہن پہ ہتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے-اور میں تصور میں دبئی اور شارجہ کے ہوٹلوں کی دوسری منزل کی لابیوں میں لگے بازار کو دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ عربوں کی نسل پرستانہ مذہبی جنونیت کا تصور بھی کررہا تھا –یمن پہ برستے بم اور پھر عرب ملکوں میں لگنے والی منڈیاں جہاں عورتیں نیلام کی جارہی تھیں-

سلیم مجھ سے ملنے کے بعد شاید بھول گیا تھا-اس کی کوئی خیر خبر نہ ملی –اور پھر قریب ایک ماہ بعد اس کا فون آیا –

سلیم : کہاں ہو ؟

گھر پہ

سلیم : فارغ ہو ؟

ہاں

سلیم : بس تیار ہوجاؤ

کہاں چلنا ہے ؟

سلیم : شہر سے باہر ، ایک سرپرائز ہے

آجاؤ

گھنٹے بعد سلیم اپنی گاڑی لیکر آگیا-اس کے ساتھ اس کے علاقے کا ایک سابق نائب ناظم بھی تھا-میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا-گاڑی وہ ڈرائیو کرنے لگا اور اس نے گاڑی کو بہاول نگر جانے والی شاہراہ پہ ڈالا تو میں نے  کہا : کہاں جانے کا ارادہ ہے ؟

“رتّی رام سرائے ” ایک سرحدی گاؤں ہے بہاول نگر ضلع میں منڈی صادق گنج سے آگے –وہیں جانا ہے “

سلیم نے بتایا

وہاں کیا ہے ؟ میں نے پوچھا

بس ایک سرپرائز ہے ، تمہیں وہیں جاکر پتہ چلے گا

رات پڑنے والی تھی جب ہم رتی رام سرائے پہنچے-دور باڈر پہ بڑی بڑی سرچ لائٹس روشن تھیں-خاردارتاریں لگی ہوئیں تھیں –سلیم نے گاڑی ایک پرانی سی حویلی کے سامنے لیجاکر ہارن دیا-باہر ایک بلب کی روشنی میں حویلی کا بڑا سا لکڑی کا دروازہ نظر آرہا تھا- دو مرتبہ ہارن دینے پہ دروازہ  چرجراہٹ سے کھلا-ایک دیہاتی وضع قطع کے آدمی نے گاڑی کو اندر لانے کا اشارہ کیا-اس کے کاندھے سے کلاشنکوف لٹکی ہوئی تھی-گاڑی سائیڈ پہ لگائی گئی اور ہم اترگئے-سلیم نے اترتے ساتھ ہی پوچھا کہ میڈیم کہاں ہیں ؟ اس آدمی نے جواب میں کہا کہ اندر ڈرائنگ روم میں آپ کا انتظار کررہی ہیں-

یار سلیم ! میں نے احتجاج کرنا چاہا !

سلیم نے مجھے بیچ میں ٹوک دیا-کچھ دیر ہمارے ساتھ گزار لینا-تم کچھ نہ کرنا صرف شراب سے شغل کرنا ، تھوڑا سا “مجرا” دیکھنا اور گانا سننا –پھر ہمارے لوٹ آنے کا انتظار کرنا ، اس نے ایک فحش اشارہ کیا –

میں ان کے ساتھ اندر داخل ہوا-دالان سے گزر سامنے ہی ایک بڑا کمرہ تھا-اندر داخل ہوتے ہی منظر بدل گیا-پرانی حویلی کا ڈرائنگ روم جدید فرنیچر سے آراستہ تھا-فینسی پردے ٹنگے ہوئے تھے-جدید طرز کے صوفے اور دبیز قالین اور درمیان میں ایک آبنوسی میز پہ بلیک لیبل ، شیشے کے بلوریں گلاس اور آئس کیوب دھرے ہوئے تھے-جبکہ ساتھ ہی ایک باؤل میں رشئین سلاد اور ایک باؤل میں خشک میوے تھے-ہم صوفوں پہ دھنس کے بیٹھ گئے-تھوڑی دیر بعد سامنے اندر کی جانب سے ایک دروازہ کھلا اور جو شخصیت اندر آئی اسے میں دیکھ کر ششدر رہ گیا-اور اس کی نظر بھی مجھ پہ پڑی –وہ ٹھٹکی اور چہرے پہ تھوڑی دیر کو حیرت کے تاثرات ابھرے لیکن جلد ہی اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا-

سلیم صاحب ! آنے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی-

آنے والی نے پوچھا-اور ساتھ ہی کہا کہ ان دوستوں کا تعارف تو کرائیں –

یہ مرے دوست ہیں صحافی ہیں پیشہ کے اعتبار سے –اچھا ۔۔۔۔ یعنی یہ لفظ بیچتے ہیں –اس نے زرا تمسخر سے کہا – اور یہ مرے علاقے کے سابق نائب ناظم اور اب کونسلر ہیں مہار صاحب !یعنی صحافی اور سیاست دان پدھارے ہیں آج ہمارے ہاں –بھئی ان کو خوش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے- میڈیم نے کہا-

سلیم نے کہا ! زرا کچھ رقص و سرود کا انتظام کیجئے –اور میڈیم نے تالی بجائی تو دو درمیانی عمر کی خوبصورت نین نقش کی لڑکیاں اندر داخل ہوگئیں-اور اس کے ساتھ ہی ڈرائنگ روم میں میوزک بجنا شروع ہوگیا –شاید ساؤنڈ سسٹم دیواروں میں نصب تھا –ایک لڑکی نے بلیک لبیل کی ڈاٹ کھولی اور بلوریں گلاسوں میں اسے انڈیلا-آئس کیوب سے گلاس میں ڈالی اور باری باری سب کی طرف بڑھادی-یہ سلسلہ کوئی ایک گھنٹہ چلا-اور میڈیم نے سوالیہ نظروں سے سلیم کی جانب دیکھا-

“وہ کیا ہے میڈیم کہ یہ ہمارے صحافی دوست ” مولوی رند ” واقع ہوئے ہیں –یہ گلگوں سے پرہیز کرتے ہیں-یہ یہیں ڈرائنگ روم میں رہیں گے اور ہمیں اندر جانا ہے-سلیم اور مہار اٹھ کر اندر چلے گئے-مین بیٹھا رہا-میں نے سگریٹ سلگایا اور خود بوتل سے ایک پیگ بنایا اور سپ کرنے لگا-15 منٹ بعد میڈیم اندر داخل ہوئی –

مجھے بہت غور سے دیکھنے لگی –

“مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ تم سے پھر ایسے ملاقات ہوجائے گی “

مجھے بھی ۔۔۔۔

گل بہار !تم یہاں کیا کررہی ہو؟ اس چھوٹے سے سرحدی گاؤں میں ؟

کون آتا ہوگا یہاں ؟

میں نے اس سے پوچھا-

یہ سرحدی گاؤں ہمارے پیشے کے لحاظ سے بہت بڑی منڈی ہے-یہاں رینجرز اور آرمی والے بہت آتے ہیں-اور سرکھجانے کی فرصت نہیں ملتی –یہ حویلی وی آئی پی مہمانوں کے لئے ہے-تھوڑی دور ایک اور ٹھیا ہے جہاں لارنس نائیک  سے لیکر حوالدار تک سب ہی آتے ہیں-

اس نے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے کہا –

میں نے سنا تھا کہ تم دبئی چلی گئی ہو-اور اپنا کلب کھول لیا ہے وہاں-

میں نے پوچھا-

“ہاں کھولا تھا کلب !مگر پھر وہاں کمپی ٹیشن بڑھ گیا-خاص طور پہ سرائیکی علاقے سے ایک بڑی کھیپ آئی اور ان کی ڈینٹنگ پنٹنگ نے ان کو بہت چمکا دیا –ہمارا دھندا چوپٹ ہوگیا-میں واپس لاہور آگئی جہان ایک بريگیڈئر کو میں پسند آئی اور اس کی ڈیوٹی یہاں لگی ہوئی تھی –اس نے مجھے یہاں شفٹنگ کا کہا-یہ حویلی متروکہ املاک میں سے ہے جو اس نے اپنے طریقے سے مجھے الاٹ کروادی –اور یوں یہاں مرا دھندا چل پڑا-پھر یہاں آس پاس بہت خام مال ہے –ورائٹی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی “

تم کافی بدل گئی ہو-میں کسی اور گل بہار سے مل رہا ہوں

مں نے اچانک کہا

ہم سب بدل جاتے ہیں –بلکہ جس رنگ میں رنگنے سے ہمیں سخت نفرت ہوتی ہے ،اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں-

اس نے مری بات سنکر کہا –

تو تمہارا وہ انگریزی ادب پڑھنا جو دھندے میں خوب کام آتا تھا اب یونہی ٹھکانے لگ گیا کیا ؟

میں نے طنز کرتے ہوئے پوچھا-

نہیں تو !

ویسے کیا تم نے امریکی پلے رائٹ ” ایڈورڈ ایل بی ” کا نام سنا ہے ؟

اس نے اچانک مجھ سے پوچھا ؟

میں نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا ؟

یہ وہ نام تھا جو شاید ہمارے ہاں چند ایک ادیبوں کو ہی پتہ ہوگا –

ہاں وہی ” دی لسنگ ” اور ” ہو از آفریڈ آف ورجینیا وولف ” والا –

بڑے چھپے رستم ہو تم ۔۔۔۔ کافی کچھ جانتے ہو-اس نے شرارتی انداز میں مری طرف دیکھا-

تمہیں کیسے یاد آکیا ؟بس تم نے ابھی جو انگریزی ادب والی بات کی تو اس کا ایک مقولہ مجھے یاد آگیا –

وہ کیا ؟

میں نے اس سے پوچھا

We have all a Minotaur inside us.

تمہیں پتہ ہے نا کہ “مائی نو ٹر ” ایک یونانی اسطور ہے جس کا سر جانور کا اور جسم انسان کا تھا –اور یہی ہم سب کے اندر چھپا ہوا ہے اور ہم سب زیادہ تر اس مائی نو ٹر کو پردوں کے اندر ، تنگ و تاریک کمروں میں باہر لاتے ہیں اور زیادہ تر یہ عورتوں کے جسم پہ حملہ آور ہوتا ہے-یا اس کی ٹھیک ٹھیک رونمائی اس وقت ہوتی ہے جب مرد اپنے جنسی تجربات آپس میں ڈسکس کرتے ہیں –اور یہ مائی نو ٹر ان مردوں میں زیادہ باہر آتا ہے جو بستر پہ ویشیاؤں کے سامنے شرمندہ ہوجاتے ہیں اور اپنی جعلی فتوحات کی کہانیاں باہر آکر سناتے ہیں-اور اس معاشرے کے اکثر مرد ہم بیسواؤں کے بستر پہ وحشی بن جاتے ہیں کیونکہ تصور میں انہوں نے ان عورتوں کو بسایا ہوتا ہے جن تک ان کی دسترس نہیں ہوتی یا جن کو خواہش کے باوجود پانہیں سکے ہوتے اور ان کا مائی نوٹر اسی وقت باہر آجاتا ہے-اور یہاں ہر مرد ہر اس عورت سے خوفزدہ ہے جو ورجینا وولف بن جاتی ہے اور مرد کے اندر کے خوف کو پہچان جاتی ہے اور ہمارے ہاں عورتوں کی بہادری کا سفر یہیں سے شروع ہوتا ہے اور پھر ان کے اندر کا مائی نوٹر بھی باہر آجاتا ہے-

تو کیا تمہارا مائی نوٹر بھی باہر آگیا ہے ؟

میں نے اس سے پوچھا ؟

وہ تو کافی سال پہلے آچکا تھا جب تم مجھے وہاں اس ٹبّی گلی میں انٹرویو کرنے آئے تھے تو وہ بالغ ہوچکا تھا –

اس نے مجھے جواب دیا –

“اور ہاں سنو ! تم بھی اب وہ “نکمّے ، کچے کچے سے صحافی ” نہیں رہے –مجھے لگتا ہے کہ تمہیں کسی سے محبت ہوگئی ہے اور محبت بھی اس سے جس سے ابتک تم شاید ملے بھی نہیں ہو-تمہاری آنکھوں میں ویرانی کے ساتھ اب اداسی بھی جھلکتی ہے اور بار بار تم موبائل پہ ڈیٹا سروس والے نشان پہ کلک کرتے ہو، کچھ لکھتے ہو ، تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہاں کوئی آف لائن ہے جسے تم اپنی بے تابی بتاتے ہو اور اس کا انتظار کرتے ہو ، اس نے شاید ابھی تک تمہیں اپنے اندر “گھنٹی ” بجنے کا سگنل نہیں دیا ہے اور وہ ملے جلے اشارے دیتی ہے مگر تم ہو کہ اس راستے پہ بگٹٹ دوڑے چلے جاتے ہو-ٹھکر کھاکر گرپڑو گے –باز آجاؤ-اندر کے مائی نو ٹر کو باہر آنے دو ، اپنے آپ پہ چھاجانے دو ، پرسکون تو نہیں مگر کچھ عرصے کے لئے کھوجاؤگے”

اس نے اچانک مجھ پہ حملہ کیا-میں منہ کھول کر اس کی طرف حیرت سے تکے جارہا تھا-اس نے نجانے کب اندر دروازے سے مجھے بار بار موبائل فون سے کھیلتے دیکھ لیا تھا-اس نے ٹھیک اندازہ لگایا تھا کہ میں بار بار موبائل ڈیٹا سروس آن کرتا اور میسجنر میں جاکر دیکھتا-کچھ فقرے لکھتا اور واپس آجاتا تھا-اس نے تاڑ لیا تھا-

اچانک اندر سے سلیم اور مہار برآمد ہوئے-پسینے میں شرابور ، بال بکھرے ہوئے اور لباس بھی ٹھیک سے پہنا ہوا نہیں تھا-اور سلیم نے بٹوا کھولا ، نوٹوں کی ایک گڈی سے کافی سارے نوٹ نکالے اور میڈیم کو تھما دئے اور مجھے کہا آؤ چلتے ہیں –

ہم گاڑی تک پہنچے تھے کہ پیچھے سے گل بہار تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی آئی اور سلیم کو کہا :

پھر آنا اور مجھ سے تھوڑا سا قریب ہوئی اور زور سے کہا

Awake your Minotaur

اور پھر زور سے ہنستی ہی چلی گئی

Advertisements

One thought on “دھندے والی :اپنے مائی نوٹر کو جگاؤ -آخری حصّہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s