پاگل ہوگیا وہ دانا

%d8%b4%db%8c%d8%b2%d9%88%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%86%da%a9

 

یار ! تم کیوں نہیں بولتے، چپ کیوں ہو ؟

میں نے اس سے کہا تو وہ خاموشی سے مری طرف ایسے دیکھنے لگا جیسے اسے مری بات کی سمجھ ہی نہ آرہی ہو ، بس ٹکٹکی باندھے مری طرف دیکھے جاتا تھا- اس کی آنکھوں میں سرخ سرخ ڈورے تھے اور ان میں اتنی وحشت تھی کہ میں ان میں براہ راست جھانکنے سے ڈر رہا تھا –

پھر اچانک کہنے لگا ، “تمہیں معلوم ہے کہ میں اب میجر ہوگیا ہوں ، اور آج سے تمہیں کپتان بنا رہا ہوں ، تمہاری ترقی بنتی تو نہیں تھی مگر دے رہا ہوں ، تمہارا تو کرنل صاحب کورٹ مارشل کرنا چاہتے تھے کیونکہ تم جنگ جنگ جنگ کرنے کی بجائے امن امن امن کرتے پھرتے تھے اور ہمیں سوچنے والے دماغ نہیں بھوسے بھرے دماغوں کی ضرورت ہے ، جو جنگ کی موسیقی پہ اپنی بندوقوں کو لہرائیں اور توپوں کے دھانے کھول دیں “

میں منہ کھولے اس کی طرف دیکھے جارہا تھا اور سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا –مجھے اس گی گفتگو میں کسی بڑی رمز کی تلاش تھی –وہ بہت بڑا رشی تھا اور مرا کبھی آئیڈیل رہا تھا اور پھر وہ گم ہوگیا تھا – نہیں معلوم کہاں گم گیا تھا اور آج بہت عرصے کے بعد مجھے اس کا فون آیا تھا –کہنے لگا سمندری سے آرہا ہوں اور تم کہاں ہو؟ مجھے اتنے عرصہ بعد اس کا یوں فون آنا اچھا لگا تھا –میں نے اسے بتایا کہ میں “جنون چوک ” میں بیٹھا ہوں –

“یار !اب ہمیں “جنون چوک ” میں نہیں بلکہ ” عقل چوک ” میں بیٹھنے کی ضرورت ہے اور عقل بھی وہ جو زمانہ ساز ہو”

اس نے فون پہ مجھے کہا اور اس کے بعد قریب ایک گھنٹے میں وہ گرے کلر کی ہنڈا گاڑی میں “جنون چوک ” پہنچ گیا تھا –وہ پیچھے سیٹ پہ بیٹھا –فرنٹ سیٹ پہ اس کی بہن بیٹھی ہوئی تھی جبکہ اس کا بھانجا اویس کار چلا رہا تھا-میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا-اس نے اپنے بھانجے کو پریس کلب چلنے کو کہا اور کہا کہ “دو بھائیوں کی مشہور دکان ” پہ روکنا –سگریٹ لینی ہے-

مرے پاس ہے نا گولڈ لیف ۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا

نہیں تم ہارڈ پیتے ہو ، میں وائٹ پیتا ہوں ۔۔۔۔ اس نے کہا

کب سے ؟

مرے منہ سے نکلا

جب سے زمانہ ساز ہوا ہوں ۔۔۔۔ اس نے فوری جواب دیا –

دو بھائیوں کی مشہور دکان آگئی –اس نے دروازہ آرام سے کھولا مگر بند بہت زور سے کیا –اور سگریٹ لیکر وابس آگیا –اویس نے ہمیں پریس کلب کے سامنے اتار دیا- جب میں کار سے اتر رہا تھا تو اس کی بہن کہنے لگی ، ” جب آپ جانے لگیں تو اسد کو کہیں جانے نہ دیجئے گا ، اویس کو بتائیے گا –یہ آکر اسے لیجائے گا ” اس کی آواز میں بہت درد تھا –میں چونک گیا تھا اور میں پلٹ کر اسد کی طرف دیکھا تھا –مگر وہ بالکل لاتعلق سا کھڑا تھا ، جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو –کار چلی گئی اور میں اس کے ساتھ پریس کلب کی طرف چل پڑا –

یار! تم تو کہہ رہے تھے کہ عقل چوک میں بیٹھیں گے اور آیہاں پریس کلب گئے ہو ، میں نے اس کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے کہا

“عقل یہیں تو زمانہ ساز ہوتی ہے اور عساکر آج کل ساری لڑائی انھی پریس کلبوں کی چھاؤں تلے لڑرہی ہیں ” اور یہی عقل بازمانہ ساز چوک ہے آج کل اور ہمیں یہیں رجمنٹل ڈسپلن پیدا کرنا ہے “

اس کا لہجہ اچانک کرخت ہوگیا تھا اور وہ کسی سپہ سالار کی طرح بول رہا تھا –مگر وہ مری طرف دیکھ کر بات نہیں کررہا تھا بلکہ چلتے ہوئے اس کی نظریں پریس کلب کے آہنی گیٹ پہ جمی تھیں – اس دوران اس نے سگریٹ کا پیکٹ باہر نکالا اور سگریٹ سلگائی اور ایک گہرا کش لیکر دھواں باہر چھوڑ دیا –

ہم دونوں چلتے ہوئے پریس کلب کی عمارت میں داخل ہوگئے –یہ رات کا وقت تھا – ابھی پریس کلب خالی خالی لگ رہا تھا-یہ ڈیوٹی کا وقت تھا اور نیوز روم ہی آباد ہوں گے-ہم پریس کلب کے لان میں پڑی کرسیوں پہ بیٹھ گئے – دونون سگریٹ سلگائے ، دھواں باہر پھینکتے خاموش بیٹھے تھے –وہ آسمان کی اور گھور رہا تھا –کسی  گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا – ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا – وہ کبھی اتنی دیر خاموش نہیں رہا کرتا تھا- اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا تھا –اور وہ ادب سے لیکر فلسفہ ، آرٹ ، پینٹنگ سب بارے ہر دفعہ کچھ نہ کچھ نیا بتانے کو بے تاب ہوا کرتا تھا-اسے اس بات کی پرواہ نہ ہوتی کہ کسی کو اس کی بات سننے میں دلچسپی بھی ہے کہ نہیں –مگر آج اس کے پاس کہنے کو جیسے کچھ تھا ہی نہیں

کلین شیو تازہ لگ رہی تھی ، آنکھوں پہ نفیس سا فریم لگا تھا اور نیلے رنگ کی جینز اور براؤن کلر کی شرٹ میں ملبوس وہ آج بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا –ویسا ہی دبلا پتلا جیسا پہلے دن مجھ سے پہلی ملاقات کے دن تھا –اور میں اپنے بھاری جٹّے پہ زرا شرمسار نظر آرہا تھا –مری شیو حسب معمول بڑھی ہوئی تھی اور اب میں جینز کبھی کبھار پہنتا تھا اور آج بھی میں کرتہ شلوار میں ملبوس تھا اور ایک سستا سا بڑے گلاسز والا فریم مری آنکھوں پہ دھرا تھا –

” گوشت کھانے سے ایسا ہوا ہے-کالے ٹینڈے کھاتے اور لائٹ سگریٹ پیا کرتے تو ایسا نہ ہوتا “

اس نے اچانک مری طرف دیکھ کر بولا  اور مجھے لگا جیسے وہ مرے خیالات کو پڑھ رہا تھا

” کل وہ ایم آئی والے مجھے کہہ رہے تھے کہ تم پھر  سے فیض کو پڑھنے لگے ہو اور اس کی رومانویت سے انقلاب برآمد کرنے لگے ہو –اور تم کرنل فیض سے زیادہ لینن پرائز والے فیض بارے باتیں کرتے ہو اور تم نے تبلیغ والوں سے جھگڑا کیا تھا “

” تم شراب پیالیا کرو اور کبھی کبھی چھاؤنی کے ساتھ ملحقہ شہر کے چکلوں کا چکر لگالیا کرو تمہیں کسی نے روکا ہے؟ مگر دیکھو ایک سہ روزہ یا جلّہ ضرور لگایا کرو ، اس سے دل پہ پڑا غبار دھل جاتا ہے-اور اب تم کپتان بن گئے ہو تو یہ زرا اپنے اندر کی سیاہی کو اندھیرے میں ہی رکھو اور روشنی میں تمہیں مرد مومن ہی بنے رہنا ہے “

اس نے یہ کہا اور زور زور سے ہنسنا شروع کردیا

“تمہیں معلوم ہے کہ یہ “ضرب مومن ” میں جو یاسر خان کے نام سے درس جہاد دیتا ہے ، یہ وہی کنجاہ کی طوائف کہلانے والا ایکس۔۔۔۔۔ کا اینکر ہے اور اسے  گزشتہ سال نیشنل پریس کلب کے الیکشن کے موقعہ پر اس ہرنی کی آنکھوں والی جرنلسٹ کے شوہر نے گولی مار دی تھی جو اس کے پاؤں میں لگی تھی اور اس نے ایف آئی آر کٹوانے سے انکار کیا تھا – سالا ! ایک رات شراب پی کر اس جرنلسٹ کے گھر گھس گیا تھا جب اس کا شوہر ملک سے باہر تھا اور وہاں کپڑوں سے باہر ہوگیا تھا –یہ ایم آئی والوں سے اپنے کالموں کے لئے مواد لینے آتا تھا اور تھیم تک ان سے مانگتا تھا –اس کی ساری دانش  بلیک لیبل سے متحرک ہوتی اور موٹی رانوں والی “ہرنی ” کو دیکھ کر گھاس چرنے چلی جاتی ہے “

تم کس کی بات کررہے ہو ؟میں حیرت کے سمندر میں بار بار غوطہ لگارہا تھا

“گوشت کم کھایا کرو اور خاص طور پہ وہ گھٹیا سی پاکستانی میڈ ووڈکا پینے کے بعد “

اس نے مجھے ڈانٹنے کے انداز میں جھڑک دیا تھا جیسے

اچانک وہ اٹھ کے کھڑا ہوگیا اور اس نے سیلوٹ مارنے شروع کردئے اور بار باڑ ایڑیوں کو بجانا شروع کردیا –اور پھر کورس کی شکل میں دوھرانے لگا

” شکریہ، راحیل شریف ، شکریہ راحیل شریف ! ساری قوم آپ کی اوبھاری ہے ، پھٹ کر گوشت کے لوتھڑوں میں بدل جانے والوں کی باقیات سے بھی تمہارا شکریہ ہی نکلتا ہے بار بار —– 30 لاکھ دربدر ہوکر بھی آپ کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولتے  سر ! اتنی سردی میں آپ اگلے مورچوں پہ آئے اور ہمارا حوصلہ بڑھایا ہے –

میں تھوڑا سا بوکھلا گیا تھا – میں نے آس پاس دیکھا ۔۔۔۔ وہاں کوئی نہیں تھا –

“ہم ہر اس دماغ کو گم کرنے والے ہیں جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا-جو تزویراتی گہرائی کو ماپنے کا آلہ عقل کو قرار دینے لگے گا – اور دماغ کو بھوسے کی خوراک دینے سے انکاری ہوگا “

 وہ ہاتھ لہرا ، لہرا کر زور زور سے کہہ رہا تھا اور ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی محاذ جنگ پہ اگلے مورچوں پہ کھڑا ہو اور اپنے جوانوں کے خون گرما رہا ہو-اس کی بدن بولی پرفیکٹ تھی اور اپنے بشرے سے بھی وہ نور جہاں کا چھیل چھبیلا ،ماہی کرنیل نی جرنیل نی لگ رہا تھا –

تو یہ واحد بلوچ ؟ وہ زاکر مجید بلوچ ؟

“ہاں یہ سب اپنے ہونے پہ زور دینے کے جرم مرتکب ہوئے اور مستقبل میں جھانکنے کی غلطی پہ غلطی کئے جارہے تھے-اپنے شعروں کو تبدیلی کے شبد اور منتر بنائے جارہے تھے –ان کو اپنے شعور کا زعم بہت تھا”

اس نے تیز کرخت آواز میں کہا

آج اپنے ناخداؤں سے بھلا ایسے بغاوت کی جاتی ہے کہیں ؟ اس نے مری طرف وحشت کے ساتھ دیکھتے ہوئے کہا

میجر صاحب ! (میں نے طنز کا تیر چلاتے ہوئے اسے مخاطب کیا ) وہ ہانی بلوچ ، ماہین بلوچ اور ان کی اماں کو ساری ساری رات نیند نہیں آتی –کل وٹس ایپ پہ رات کے دو بجے اس کے آن لائن ہونے کا سائن دیکھ کر میں نے اسے دل پہ پتھر رکھ کر بہت ہی کھوکھلے لفظوں میں سوجانے کو کہا تو پتا ہے اس نے کیا کہا ؟

ہاں پتا ہے ! اس نے کہا ہوگا کہ مجھے نیند نہیں آتی ، کیسے سوجاؤں ، وہاں بابا پہ کیا گزر رہی ہوگی ۔۔۔۔۔۔ مرے بابا کے لئے ایک ایک منٹ اہم ہے –ہماری مدد کرو بلا بلا بلا ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک سانس میں یہ سب کہہ دیا –

یہ کہنے کے بعد وہ بیٹھ گیا اور لائٹر جلاکر اس نے سگریٹ سلگالی اور کش پہ کش لگانے لگ گیا –وہ ایسے خاموش ہوگیا جیسے سمندر پہ سکوت طاری ہوگیا ہو ایک طوفان کے بعد

اسد اورئنٹل کالج میں ایم اے اردو کررہا تھا-مجھ سے دو سال آگے تھا –میں ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم تھا –مجھے پتا نہ تھا کہ اس کا تعلق ہمارے شہر سے تھا –وہ مجھے گارڈن ٹاؤن کے ایک گیسٹ ہاؤس میں نشے میں دھت گیلری میں ملا تھا جہاں میں بھی اپنی ایک دوست کے ساتھ گیا ہوا تھا –یہ بہت محفوظ جگہ تھی ہم جیسے لوگوں کے لئے –اور اچانک لائٹ چلی گئی تھی –میں اور مری دوست سخت گرمی سے گبھرا کر کمرے سے باہر آئے تو اسد سے مرا ٹاکرا ہوگیا –وہ مری دوست کے حسن لازوال میں جیسے کھوگیا تھا اور اوپر تلے اس نے داغ کے تین چار شعر سناڈالے – اور پھر میر تقی میر ، مصحفی ، ولی دکنّی سے لیکر مختار صدیقی سب کے اشعار ہم نے سنے –اس نے مری طرف دیکھا بھی نہیں تھا –

“تمہاری آنکھوں میں جھیل سی گہرائی ہے-کہاں سے اتری ہو-اس زمین کی تو تم لگتی نہیں ہو ، اپسرا ہو ، آکاش سے سیدھی یہاں آئی ہو “

اس نے مری دوست کو دیکھتے ہوئے کہا-شازیہ ہنسنے لگی

بہت بازوق ہیں آپ –

وہ تو میں ہوں ۔۔۔۔ یہ بتاؤ ، ایک رات کا کتنا لیتی ہو ؟ اس نے ایک دم جیسے دھماکہ کردیا ہو

شٹ اپ ۔۔۔۔ یو بلڈی باسٹرڈ

شازیہ نے اچانک چیختے ہوئے کہا

میں بھی جیسے تڑخ سا گیا تھا

چلو یہاں سے

شازیہ نے مجھے کہا

سوری ! رئیلی سوری ! غلطی مری بھی نہیں ہے-یہ گیسٹ ہاؤس اسی طرح کے کاموں کے لئے مختص ہے – اب تمہیں اس لنگور کے ساتھ دیکھا تو مجھے سوائے اس کے کچھ سمجھ نہ آئی کہ تم کوئی پیشہ ور ہو اور اس مکروہ چہرے والے کے ساتھ پیسوں کی لالچ میں آئی ہو –

اس نے اتنے معصوم لہجے میں یہ سب کہا تھا کہ مجھے غصّہ آنے کی بجائے بے اختیار ہنسی آگئی اور میں نے ہنستے ہوئے کہا ، “یار ! اتنا بھی بدصورت نہیں ہوں جتنا تم نے بنادیا ہے –

واجبی شکل و صورت بھی آکاش سے اتری اپسرا کے سامنے لنگور لگتی ہے

اس نے  مری بات کاٹتے ہوئے کہا

شاویہ بھی اب اس میں دلچسپی لینے لگی تھی –

کافی دلچسپ آدمی ہو –

میں شازیہ کمال اور یہ مسٹر لنگور ۔۔۔۔۔ مرے بوائے فرینڈ اور مرے گہرے دوست ، ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کے اسٹوڈنٹ ہیں اور تم ؟

شازیہ نے اس سے ہینڈ شیک کرتے ہوئے کہا

اوہ تم تو مر ے پڑوسی ہوئے-میں اورئنٹل کالج میں ایم اے اردو کررہا ہوں

آغا سہیل کے شاگرد ہو ؟ شازیہ نے پوچھا

ہاں نا ! اسد نے جواب دیا اور مجھے اسد جٹ کہتے ہيں اور میں فاروقی کا بھانجا ہوں ۔۔۔۔۔ اوہ پھر تو تم سے ڈرنا ہوگا ۔۔۔۔شازیہ نے یہ سنکر کہا

نہیں میں ناستک ہوں ۔۔۔۔۔ جھنگ کو ھیر سیال سے جانتا ہوں ۔۔۔۔ جامعہ محمو۔۔۔۔۔ سے نہیں

اس پہ  ہم سبھی ہنس پڑے

اس کے بعد اسد سے دوستی گہری ہوتی چلی گئی –وہ کتابوں کا عاشق تھا اور ہماری گاڑھی چھننے لگی تھی – بغاوت اور تخریب اس کی پور پور میں بھری تھی اور اس کے اندر بہت زھر بھرا ہوا تھا اور اتنی نفرت کے اف اف

وہ ہمیں شاہ حسین ، میاں میر کے مزارات پہ بار بار لیجایا کرتا اور لاہور کی سڑکوں پہ چلتا تو کہتا کہ یہاں مجھے داراشکوہ اور سرمد کے خون کی بو آتی رہتی ہے اور مرا دماغ پھٹنے لگتا ہے –کیا تمہیں نہیں آتی ؟ تمہیں یہاں خون تھوکتا منٹو نظر نہیں آتا ؟ اور تب مجھے سمجھ میں آنے لگا تھا کہ وہ کیوں گرجانے اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہونے کی حد تک شراب پیا کرتا ہے-ایک دن شادمان چوک پہ رک گیا کہنے لگا ،یہ دیکھو بھگت سنگھ کی لاش لٹکی ہوئی ہے اور یہ کب تک یہاں لٹکی رہے گی ؟ اور پھر خود ہی کہتا جب تک “الجہاد ،الجہاد ” کے نعرے لگتے رہیں گے ، جب تک ” کافر کافر ” کی صدائیں بلند ہوتی رہیں گی ، جب تک کشمیر میں جاکر نوخیز جوانوں کی لاشوں کا کاروبار ہوتا رہے گا اور ان کی نوجوان ، کم عمر بیواؤں سے پروفیسر حافظ س ۔۔۔۔۔ نکاح پہ نکاح پڑھواتے رہیں گے جو تین وقت نو کلو بکرے کا کوشت ہڑپ کرجاتے ہیں –ایک دن مال روڈ پہ چلتے چلتے رک گیا اور کہنے لگا ، ” تم سمجھتے ہو یہاں لاٹھیوں سے حبیب جالب کا ہی سواگت ہوا تھا ؟ ارے وہ مرے تو نہیں تھے نا مگر لالہ لالجپت رائے تو مرگئے تھے –کرشن نگر میں ان کا گھر اس دن ماتم کدہ بن گیا تھا جسے تم نے اسلام پورہ کردیا ہے اور اب اسے اسلام پورہ بھی ماننے کو کوئی تیار نہیں کیونکہ وہاں تو مجوسی کافر رہتے ہیں اور انہی کے علم لہراتے ہیں ۔۔۔۔۔ میں نے مذاق میں اسے کہا

تو تم اپنے ماموں فاروقی کو کیوں نہیں سمجھاتے ؟

“سمجھا تو دیتا مگر ہمارے درمیان سعودی ریالوں کی دیوار کھڑی ہے جو ہمیں مل بیٹھنے اور مکالمہ کرنے نہیں دیتی “

اس نے فوری جواب دیا-

اسد کو میں نے اس وقت گم کردیا جب میں بی اے کرکے فارغ ہوا اور واپس چلا گیا –سالہا سال گزر گئے –اور آج وہ پھر مرے سامنے تھا مگر خود کو میجر کہہ رہا تھا –

ہم وہیں بیٹھے تھے- مین نے موبائل پہ اویس کو کال کی اور اسے کہا کہ آجائے-وہ دس منٹ بعد آگیا –اور جب اسد نے اویس کو دیکھا تو ایک دم مرا بازو تھام لیا- اس کے چہرے پہ خوف کے آثار تھے – یار ! اس کے ساتھ مجھے مت بھیجنا –یہ مجھے انجکشن لگادے گا اور کڑوی گولیاں کھانے کو کہے گا-میں اس کا یہ روپ دیکھ کر ششدر تھا – اس کی آنکھوں مین التجا تھی – جب میں نے اسے کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا –تو اس نے اجانک رونا شروع کردیا – اور مرا بازو اور سختی سے تھام لیا –اویس نے اس کی یہ حالت دیکھی تو اس نے کار کے ڈیش بورڑ کے اندر ہاتھ ڈالا اور اس نے کوئی چیز ہاتھ میں چھپائی ہوئی تھی وہ آگے بڑھا اور اس نے اسد کا بازو تھام لیا-اور کے بازو مین شرٹ کے اوپر سے ایک سرنج اس کے گوشت میں اتار دی – اسد نے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی مگر چھڑا نہ سکا – اور سرنج گوشت میں اترنے کے کچھ سیکنڈ بعد ہی وہ ہمارے ہاتھوں مین جھول گیا –

“انکل ! اسد ماموں کو کار میں بٹھانے میں مری مدد کریں “

اویس نے مجھے کہا ، میں نے مدد کی –اسد کو کار کی بیک سیٹ پہ بٹھادیا گیا –اور میں آگے بیٹھ گیا –

میں اویس کی طرف دیکھ رہا تھا –اس نے گاڑی سٹارٹ کی –اور سامنے دیکھتے ہوئے کہا

“اسد ماموں کو ڈاکٹرز نے نیم پاگل قرار دے دیا ہے –شیزوفینا کا شدید حملہ ہوا ہے-یہ اکثر خود کو میجر سمجھتے ہیں اور یونہی ان کو اپنے آپ پہ کوئی زور نہیں رہتا ۔۔۔۔۔۔ وہ بولتا رہا ، اس سے آگے میں کچھ نہ سن سکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مرے گھر کے سامنے اس نے تھوڑی دیر کے لئے روکی ، میں کار سے اتر گیا اور اس نے کار آگے بڑھا دی

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s