محرم کی ثقافت اور تکفیریت کے سوفسطائی استدلال

maxresdefault

میں نے سابقہ بلاگ ” محرم کی ثقافت بمقابلہ تکفیری ثقافت ” میں اصولی باتیں کی تھیں اور اپنے موقف کو بہت حد تک واضح کردیا تھا – لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس معاملے پہ مجھے مثالیں دیکر اور زیادہ معاملے کو کھول کر بات کرنے کی ضرورت ہے-

ہم جب کراچی یونیورسٹی میں فلاسفی میں ماسٹرز ڈگری لے رہے تھے تو یونانی فلسفیانہ مکاتب فکر کے تعارف اور ان کی تاریخ بارے پڑھاتے ہوئے ، ہمارے اساتذہ نے ہمیں ” سوفسٹری ” یا  ” سفسطہ ” کے فلسفے اور اس کے حاملین ” سوفسطائیوں”کے بارے میں بھی پڑھایا تھا –اور آج جب میں تکفیریت ، اس کے حاملین اور ان کے سیکولر ، لبرل ، مارکسسٹ نقابوں میں چھپے دانشوروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے “سوفسطائی ” یاد آجاتے ہیں –

اس سے پہلے کہ میں اپنے موضوع کی طرف آؤں ، مجھے اپنے ان دوستوں کو یہ بتانا ہے کہ ” سوفسٹری ” یا “سفسطہ ” ہوتا کیا ہے ؟

آپ گوگول میں اس انگریزی ورڈ بارے سرچ کریں تو آپ کے سامنے یہ جملہ آجائے گا ،

“sophistry

ˈsɒfɪstri/Submit

noun

the use of clever but false arguments, especially with the intention of deceiving.

ویبسٹر مریم ڈکشنری کہتی ہے ،

  : the use of reasoning or arguments that sound correct but are actually false

: a reason or argument that sounds correct but is actually false

Source: Merriam-Webster’s Learner’s Dictionary

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سوفسٹری یا سفسطہ ایسا استدلال یا ایسی منطق کا استعمال ہے جو بظاہر تو درست نظر آتی ہے لیکن اصل میں وہ غلط ہوتی ہے – دوسرے معنوں میں یہ غلط اور گمراہ کرنے والی منطق ہوتی ہے جو دیکھنے میں درست معلوم ہوتی ہے –اسے سوفسطائی فکر یا خیال کہا جاتا ہے – مری نظر میں تکفیریت کا آج کے زمانے میں سب سے بڑا ہتھیار یہی سوفسٹری ہے – اس سوفسٹری میں ماسٹرز کرنے والوں میں تکفیریت کے آئمہ اپنے ماننے والوں کو تو گمراہ کرتے ہی ہیں لیکن ان کا زیادہ تر ہدف وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان کو نہیں مانتے اور ایسے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جس کو وہ اپنے تئیں تباہ و برباد کرنے کے درپے ہوتے ہیں –

ایسے سوفسٹری پھیلانے والے اکثر ” کھلی تکفیر ” کے ساتھ سامنے نہیں آتے بلکہ ان کو اس کے لئے اپنے چہروں پہ روشن خیالی ، ترقی پسندی ، اعتدال پسندی ، سیکولر ازم ، الحادیت ، مارکسزم ، ریشنل ازم وغیرہ وغیرہ کے نقاب چڑھانے پڑتے ہیں تاکہ کوئی ان کا اصل چہرہ پہچان نہ لے اور ان کے اصل ایجنڈے سے واقف نہ ہوجائے – مرے دوست پیجا مستری نے اپنے پڑھنے والوں کو ایسے ہی ایک ” سوفسطائی چہرے ” یعنی ” جاوید احمد غامدی ” کو بے نقاب کیا –یہ اعتدال پسند ، روشن خیال اور ترقی پسند مذہبی سکالر کا نقاب چڑھائے اندر سے تکفیری ہی تھا – اور اس کے سفطہ ، گمراہ کن اور مغالطہ آمیز مسجع و مقفع منطق اور استدلال کا تار و پود بہت ہی اچھی طرح سے کھولنے میں پیجا مستری نے ہماری مدد کی – اور یہ سرد منطق کے ساتھ آنے والا نام نہاد سکالر بھی ہمیں برصغیر پاک و ہند کی تکثریت پسند ” ہند اسلامی تہذیب ” کے مقابلے میں تکفیری مقدمات کو پروان چڑھانے والا ہی نظر آیا –

ریاض ملک نے ” جبران ناصر  کی سوفسٹری کو بے نقاب کرنے میں ہماری مدد کی اور خوب کی –حالانکہ جبران ناصر بھی ایک یا دوسرے طریقے سے تکفیری سفطہ کو ہی آگے بڑھانے میں مصروف تھا – عارف جمال جیسے صحافی نے اس کے بیانیہ کے اندر چھپی ہوئی عسکری اسٹبلشمنٹ نواز فکر کے بیج ڈھوںڈ نکالے –

اب میں آتا ہوں ان چند سوفسطائی یا مغالطہ آمیز دلائل و استدلال کی طرف جو محرم یا عاشورا کی مشترکہ ثقافت کو رد کرنے کے لئے سوشل میڈیا پہ بار بار استعمال کئے جارہے ہیں بلکہہمارے کچھ پاکستانی شیعہ حضرات تکفیری دیوبندی پروپیگنڈے کے زیر اثر محرم الحرام کی مذہبی ثقافت پہ انتہائی بہیودہ پوسٹیں لگارہے ہیں -ایسے ہی ایک فیس بک آفیشل پیج جو ” محرم کی باتیں ” کے عنوان سے بنا اس پہ تو یہاں تک کہا گیا کہ عاشورہ کے جلوس اور مجالس ” ڈیٹنگ پلیس ” ہیں – اس طرح کی انتہائی شرمناک باتیں کی گئیں – حج جو کہ مسلمانوں کا سب سے مقدس پروگرام ہوتا ہے اور اس موقعہ پر بھی چوری کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات بھی ہوجاتے ہیں جو انتہائی شرمناک کہے جاسکتے ہیں اور ویمن ٹیزنگ Eve teasing وہاں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے تو کیا ہم حج کو بھی ڈیٹنگ پلیس قرار دے ڈالیں گے-یہ بیہودگی کی انتہا ہے  اور بیمار ذہنیت کی بھی اور اپنی مینٹل فرسٹریشن کی عکاس بھی ہے -اگر اس طرح کی پوسٹوں کا ایک نفسیاتی تجزیہ مرتب کیا جائے تو مجھے یہ لگتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے اس مہینے کا جو ثقافتی تقدس ہر ایک کے دل و دماغ میں ہوتا ہے ، اسے برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے-چاہے اس کا طالبانی شیعہ کو احساس ہو یا نہ ہو لیکن تکفیری دیوبندی اور ان کے سیکولر ، لبرل ، اموی ملحدین حامیان کو اس کا بخوبی ادراک ہے اور یہ ان کا ہدف بھی ہے- اور یہ ایک گمراہ کن منطق بھی-

میں اپنی بات کو تھوڑا اور واضح کرتا ہوں – مثال کے طور پہ میں ایک سیکولر ، ملحد یا ایک مارکسسٹ / کمیونسٹ پوسچر کے ساتھ آتا ہوں اور بات یہاں سے شروع کرتا ہوں : میں کارل مارکس کو سرخ سلام پیش کرتا ہوں -وہ مرا فیورٹ ہے اور وہ ایپی کیورس ،یونانی فلسفی کا بہت معترف تھا تو میں بھی اسے پسند کرتا ہوں – ایپی کیورس کہتا تھا کہ خوش رہنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اسے اس حق کو استعمال کرنا چاہئیے تو یہ جو لوگ محرم الحرام میں ” سوگواریت ، اداسی ، حزن و ملال ، آہ و گریہ و ماتم گری ” کا کلچر پھیلاتے ہیں یہ انسانون کے بنیادی حق کے منکر ہیں تو میں اس مہینے میں پہلے دس دنوں میں “کاک ٹیل ” پارٹی کروں گا اور یہ محرم والے خود بھی منافق ہیں ، سوگوار ہونے کا درامہ کرتے ہیں اور عاشورہ کے جلوسوں میں اپنی گرلز فرینڈ سے ملتے ہیں اور لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز سے ملتی ہیں جبکہ ایسٹرا میری ٹیل ملاقاتیں بھی یہیں پہ ہوتی ہیں تو یہ بھی بالواسطہ خوش رہنے کے حق کو استعمال کرتے ہیں توآئیں اس منافقت کا خاتمہ کریں اور محرم میں انسانوں کے خوش رہنے کے بنیادی حق کی بحالی کے لئے آواز اٹھائیں اور اپنی ترقی پسندی کا ثبوت دیں “

ایک اور مثال دیکھئے گمراہ کن منطق کی ،

“جو زاکر یا عالم زکر حسین و فکر حسین کے عوض پیسے لیتا ہے وہ حسینت فروخت کرتا ہے اور وہ حسینی نہیں یزیدی ہے”

اگر میں یہ کہوں ،

” “جتنے بھی سیکولر ، لبرل ، کمیونسٹ ، اور ترقی پسند دانشور ادیب ، صحافی ، استاد ، ماہرین اپنے لیکچرز کے لئے ائر ٹکٹ ، اکاموڈیشن سہولت ، فوڈ اور اس لیکچر کا معاوضہ لیتے ہیں ، وہ سب کے سب روشن خیالی ، ترقی پسندی ، لبرل ازم ، مارکس ازم سے کھلواڑ کرتے ہیں اور وہ نہ لبرل ہیں ، نہ کیمونسٹ ہیں نہ روشن خیال ہیں” “

اسی طرح سے اگر یہی کسی آئیڈیالوجی سے مخلص ہونے کا پیمانہ ہے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں؟

“ “محرم الحرام میں تعزیہ بنانے والے ، ٹینٹ سروس پروائیڈر ، لائٹنگ کرنے والے ، نیاز پکانے والے ، گروسری والے ، الیکٹریشن ، ڈیزل ، پیٹرول فراہم کرنے والے ،الغرض کے اس ساری ثقافتی سرگرمی پہ اٹھنے والے اخراجات جن جن کی جیبوں میں جاتے ہیں وہ سب یزیدی ہیں اور حسینت سے کھلواڑ کرتے ہیں” “

اب یہی کلیہ اور فارمولہ کرسمس ، ہولی ، دیوالی ، بیساکھی ، عیدین ، یاتراؤں اور دیگر کلچرل ایکٹویٹز پہ بھی لاگو کریں تو کیا یہ سب نظریات و افکار سے کھلواڑ کیا جارہا ہے ؟

ہندؤں کا کمبھ کا میلہ جہاں سب نیوڈ ہوتے ہیں ، ایسے میں کئی کمزور اعصاب کے لوگ ہوں کے جن کے بدن اور دماغ میں زلزلہ آجاتا ہوگا تو کیا یہ کمبھ جنسیت کا منبع کہلایا جائے گا-

محرم کے جلوسوں میں عورتوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر اگر کسی کے بیمار دماغ میں ہیجان جنم لیتا ہے اور وہ مرتاض جنسیت کا مریض ہے تو اسے اپنا علاج کرانے کی ضرورت ہے ناکہ حسینیت کی ثقافت کو ہی ” جنسیت ” کا الزام دے دیا جائے-

پھر دیوبندی تکفیری کہتے ہیں کہ عاشور کے جلوس سنّی آبادی کی اکثریت والے علاقوں سے گزرتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں – یہ ایک بہت بڑی گمراہ کن دلیل ہے- گمراہ کن بات یہ ہے کہ یہ لوگ زکر حسین ، غم حسین اور عزاداری حسین کو ہی توھین اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دینا چاہتے ہیں اور مقصد پھر وہی محرم کی ثقافت کو ہلاک کرنا ہے- زکر حسین اور شہادت حسین پہ گریہ کرنے اور ماتم کرنے سے اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین کی توہین کا پہلو کہاں سے نکلتا ہے – ان مرکزی جلوسوں میں اور اوپن مجالس عزا میں کہیں پر بھی اہلسنت کی مقدس ہستیوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا جاتا – ہآں ان جلوسوں میں یزید اور اس کے ساتھیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور اس کے لئے ایک حرف بھی موافق بولنا جرم سمجھا جاتا ہے -اب عاشور کے جلوسوں پہ پابندی کا مطالبہ کرنے والے یہ بتائیں کہ کیا ” یزید اور اس کے حواری ” ان کی مقدس ہستیاں ہیں ، کیا ان کے مذہبی جذبات ” یزید ” پہ لعنت سے مجروح ہوتے ہیں ؟ اور اگر ہوتے ہیں تو پھر جن مرکزی شاہراؤں سے جلوس ہائے عاشوراء گزرتے ہیں وہآں تو اکثریت ” اہلسنت ” کی ہے جن کے نزدیک یزیدیت اور یزیدی قوتیں تابد لعنت کی مستحق ہیں اور ان کے ہاں ” زکر اہلبیت اطہار ” کا مطلب ہرگز  ” توھین اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین ” نہیں ہے –

میں پھر کہتا ہوں کہ عاشورہ کی ثقافت سے الرجک ہونے والوں کا مقصد صرف و صرف عاشورہ کی ثقافت کو برباد کرکے  سعودی فنڈڈ تکفیری ثقافت کو رائج کرنا ہے – اور اس کے لئے تکفیریت سوفسطائی انداز اپنائے ہوئے ہے –

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s