دسواں خط

desert

پیاری ساری

آج ساری رات جاگتا رہا اور تمہیں خط لکھنے بارے سوچ و بچار کرتا رہا،کی بورڈ پہ انگلیاں چلتی تھیں اور پھر جتنا لکھا ہوتا، سلکیٹ آل کی کمانڈ دیکر ڈیلیٹ کا بند دبادیتا تھا- ایسا کیوں ہورہا تھا؟ میں ایسا جاننے سے قاصر تھا-اور اصل میں ایک سوال مجھے پریشان کررہا تھا اور وہ سوال یہ تھا کہ کیا مرے اندر بسی ایک بڑی دنیا اور خود اپنے آپ کو بغیر تقسیم کئے اور خارج سے لاتعلق ہوئے بغیر آزاد ہوسکتا ہوں اور ایسی آزادی جس میں دوسروں کی آزادی کا راستہ بھی ہموار ہوسکے اور مرے اندر ایک ایسی شانتی جنم لے جس میں جہنم زدگی کا کوئی یگ نہ ہو اور کیا مجھے لوگوں سے بنا کہے بات کرنے اور بن کہے ان کے ساتھ قیام کرتے ہوئے انھیں سمجھ لینے کی خدائی پھر واپس مل سکے گی اور یہ مرے اندر ایک پریشان کن خاموشی نے گھر کیا ہوا ہے کیا یہ ختم ہوسکے گی ؟تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ مرے پاس دوسروں کو کہنے اور بتلانے کے لئے کچھ نہیں رہا ہے اور میں اپنی ذات کو صفات سے خالی دیکھنے کی کیفیت سے دوچار ہوں،زندگی مجھے ایسے ریگ زار میں پھنسی لگتی ہے جس میں کوئی بھی اپنے ساتھ پورے کا پورا ہوکر سانس لے نہیں پارہا اور اسی لئے سرمدی مسرت کے لئے جس ” انتظار ” کی ضرورت ہوتی ،وہ کوئی بھی کرنہیں پارہا اور ہر ایک بجائے چھپا رہنے ، دبا رہنے اور اپنے آپ سے بہت دور نہ جانے کو تیار نہیں ہے اور ایک ری لک ٹینٹ سی حالت ہے اور اسی لئے سب نامراد سے لگتے ہیں،تمہارے پاس لگتا ہے “پنّے ” مک گئے ہیں تبھی تو تم کوئی بھی پیار یا نفرت کا اتہاس لکھنے سے قاصر ہو اور میں تمہارے لکھے ایک پنّے پہ چند لفظ پڑھنے کے لئے مرا جارہا ہوں اور تم نے اب خوابوں میں آنا بھی بند کردیا ہے اور مرے خواب بھی اب بے رنگ، گونگے ہوگئے ہیں اور ان میں کوئی پیغام نہیں ہوتا اور ابن سیرین کی “تعبیر الرویاء ” بھی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہوگئی ہے اور مرے پاس فرائڈ سے بھی مدد لینے کی ہمت نہیں رہی ہے-کل رات تمہارا بلاگ پڑھا جس میں تم نے لکھا کہ کوئٹہ پولیس ٹریننگ اسکول میں مارے جانے والے رنگروٹوں کی لاشیں ایک ویگن کی چھت پہ رکھ کر ان کے آبائی قصبے کی طرف روانہ کی گئی ہیں تو مجھے خیال آیا کہ یہاں اعزاز سے دفن ہونے کے لئے بھی آپ کو “یزید ” ہونا پڑتا ہے ، ہوسکتا ہے مرا یہ جملہ تمہیں گراں گزرے، لیکن میں تمہیں اتہاس سے کئی مثالیں دے سکتا ہوں-امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی قبر کو کافی عرصے چھپائے رکھا گیا ، ایسے ہی باقی کئی اہل بیت اطہار کی قبور کو چھپایا گیا ، اور ماضی قریب میں 5 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی لاش ایک پرانی سی چارپائی پہ رکھی تھی اور چںد لوگ تھے جنازے میں شریک اور اگست 1988ء میں یزید عصر کے جنازے کا جلوس تو تمہیں یاد ہی ہوگا ، اگرچہ کبھی کبھی عوام جاگ رہے ہوتے ہیں اور ان کا جوش امنڈ رہا ہوتا ہے اور ان کا غم ان کی طاقت بن جاتا ہے اور وہ اپنے محبوب کو پورے اہتمام سے دفناتے ہیں ، ایسا ایک منظر 28 دسمبر کو پوری دنیا نے دیکھا تھا جب وہ معصوم دفنائی گئی تھی اور خلق خدا کا اژدھام تھا اسے رخصت کرنے کے لئے

مجھے لگتا ہے کہ ہمارے شعور کی ٹھیک زندگی تب شروع ہوتی ہے جب ہم شعوری طور پہ تنہائی کو گلے لگاتے ہیں اور اپنے اندر کو ایک سرمدی وجدان سے آراستہ کرلیتے ہیں اور اسی لمحے ہم چیزوں کو انڈر سٹینڈ کرنے کی صلاحیت پالیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کہیں چپکے سے ہمارے اندر موت سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ بھی آجاتا ہے اور جو بھی ہمیشگی کی تازگی اپنے اندر نہ رکھتا ہو وہ شبد بوریت کے سمندر میں ہمیں غرق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان میں ڈوب جانے والے کا دوبارہ ابھرنا مشکل ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ حکمران طبقات کے نظریات بھی تازگی سے محروم اور بوریت کا سمندر ہوتے ہیں اور یہ ہمیں بتائے بغیر گھیر لیتے ہیں اور ہم بنا مرے ہی ایک ان دیکھی اور محسوس کرنے سے کہیں دور والی موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ ہم میں سے اکثر ایسی تحریر سے بھاگتے ہیں جو ایسے ہمارے دماغ میں گھستی ہے جیسے کوئی خنجر گھونپ رہا ہو یا یہ ایسی سچائی ہوتی ہے جو ہمیں پھر سے پیروں پہ کھڑا ہونے پہ مجبور کرتی ہے اور ہمارے طفیلہ پن کی ضد ہوا کرتی ہے

ساری! اپنی تمام تر کم نصیبی اور ڈیسٹنی کے اپنے ساتھ ہونے والے مذاق کے باوجود نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ میں تم سے اب بھی پیار کرتا ہوں، اگرچہ مجھے لگتا ہے میں اس دریائے محبت میں اب ڈوبتا زیادہ اور ابھرتا کم ہوں اور مری سانس جلدی جلدی اکھڑنے لگتی ہے اور میں یہ جانتا ہوں کہ اس دریا میں بار بار ڈوب جانے نے مجھے ویران کرڈالا ہے لیکن اس کا الزام تمہیں کاہے کو دوں، تشکیک بری بلا ہے اور یہ لفظوں سے پہلے ہی آن ٹپکتی ہے اور اس کا سبب وہ زلزلہ ہے جو اندر آیا ہوتا ہے اور باہر وجود مضبوطی سے قائم کھڑا لگ رہا ہوتا ہے-اور میں بار بار چاہتا ہوں کہ بس ایک پتر اور صرف ایک پتر ایسا لکھ پاؤں جس میں بے شک مجھے ہزاروں بھوتوں اور ہزاروں عفریتوں کے ساتھ سونا پڑے لیکن تمہیں اس ایک پتر میں وہ سب لکھ دوں جو میں کہنا چاہتا ہوں لیکن افسوس ہر بار ایک پتر وہاں آکے ختم ہوتا ہے جہاں یہ احساس اور گہرا ہوجاتا ہے کہ جو بات کہنی تھی وہ کہی نہ جاسکی اور  ایک کامل و اکمل مثالی پتر ابھی لکھا جانا باقی ہے

فقط تمہارا

ع-ح

سامراجی فیمن ازم اور پاکستانی پیٹی بورژوازی لبرل فیمنسٹ

tumblr_n5nhrubbro1sn7waio1_500

 

پاکستان میں سوشل میڈیا پہ ہم پیٹی بورژوازی/درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین اور مرد لکھاریوں کو ابھرتا دیکھ رہے ہیں جو عرف عام میں ویمن رائٹس ایکٹوسٹ کہلاتے ہیں اور ان کے ہاں ہم بار بار لبرل ازم سے بے تحاشا پیار کی رام لیلا بھی سنتے رہتے ہیں-یہ فیمنسٹ خواتین و حضرات کا ایک ایسا طبقہ ہے جن میں ابھی کئی نوجوان لکھاری ہیں، جنھوں نے اپنی سوشل لائف میں شہرت اور نام کا مزا چکھنا ابھی شروع ہی کیا ہے اور ہمارا خرانٹ ،پرانا لبرل بابوں کا ایک ٹولہ ان پہ داد کے ڈونگرے برسانے میں مصروف ہے اور ان کے لئے لبرل ازم اور مغرب میں اس کے دل دادہ اور اس رجحان کو ایک دانشورانہ رنگ میں رنگ کر پیش کرنے والوں کے جملوں اور نظریات کو مزید سجاکر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہ نوجوان لکھاری عورتیں خاص طور پہ جو اپنی آزادی کو پانے کے لئے سرگرداں بھی ہیں اور اپنے طبقاتی پس منظر کے ہاتھوں مجبور بھی اس سجے سجائے فریب کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں-ان کی فرسٹریشن سے جنم لینے والے کچے پکّے اور بعض اوقات کسی مہان لبرل سے مستعار لئے جملوں پہ لائک اور تبصروں کی وہ بوچھاڑ ہوتی ہے کہ رہے نام اللہ کا –اور یہ سب مغربی لبرل فیمن ازم یا مغرب میں عورت کی آزادی کے سامراجی جھنڈے کو بنا سوچے سمجھے اور بنا غور و فکر کئے اٹھانے میں سب سے آگے ہیں-کئی ادھیڑ عمر عورتیں جنھوں نے اپنی جوانی میں مغربی سامراجیت کے کیمپ سے آنے والے فیمن ازم کا جھنڈا اٹھایا تھا اور ان میں سے کئی ایک آج مذہب مین پناہ گزین ہوچکی ہیں ان نوجوان لڑکیوں کو اپنے تجربات سے آکاہ کرتی ہیں اور خبردار کرنے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہیں اور کچھ عورتیں جنھوں نے مرد جاتی کے ہاتھوں زبردست اذیت بھگتی ہے وہ اپنی بچیوں کو اس تجربے سے بچانے کی کوشش کررہی ہیں اور یہاں طبقاتی حوالے سے یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ایسی عورتوں کی بڑی تعداد کا تعلق پیٹی بورژوازی کی ورکنگ پرت سے ہے-لیکن ان نوجوان عورتوں اور ادھیڑ عمر عورتوں کی اکثریت کی تحریروں میں فکر کا وہ رسوخ عنقا ہے جس کا تقاضا ان کو درپیش فکری ،نظریاتی بحران کرتا ہے-میں نے اس حوالے سے امریکہ میں سوشلسٹ پارٹی کی سرگرم کامریڈ دیپا کمار سے بات کی تو انہوں نے مجھے انٹرنیشنلسٹ سوشلسٹ ریویو میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کا لنک بھیجا ،جس میں انہوں نے سامراجی فیمن ازم کے عنوان سے ایک جائزہ لبرل فیمن ازم کا لیا ہے-جب ہم لبرل فیمن ازم کی اصطلاح یا سامراجی فیمن ازم کی اصطلاح بولتے ہیں تو اس سے مراد کیا ہوتی ہے؟دیپا کمار کہتی ہیں کہ لبرل فیمن ازم سے جڑے دانشور مغرب /ویسٹ کو ایک برتر کلچر کا مالک خیال کرتے ہیں-ان کے خیال میں مغرب ہی لبرل اقدار جیسے جمہوریت ،سیکولر ازم، بنیادی انسانی حقوق ، عورتوں کے حقوق، گے اور لیزبین رائٹس، آزادی اظہار وغیرہ پہ یقین رکھتا ہے جبکہ گلوبل ساؤتھ جو ہے وہ وحشیانہ ، مس جاسوجنسٹ/عورتوں سے نفرت کرنے والا، مذہب کے اثر میں چلنے والا اور غیر لبرل لے-اور اسی سے وائٹ مین برڈن اور وائٹ وویمن برڈن کے تصورات ابھرتے ہیں-اور نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ مغربی لبرل ایسا برڈن زرد اور براؤن لبرل عورتوں اور مردوں میں بھی منتقل کردیتے ہیں جو مغرب کے ایک جھوٹے امیج کے ساتھ اپنے زرد اور کالے بہن بھائیوں کو مغربی لبرل ازم کی برکات گنواتے نہیں تھکتے ہیں-اور سفید فام مرد و عورتوں کے ساتھ ساتھ بہت ساری زرد اور کالی عورتیں بھی اسی قسم کے لبرل ازم کے ساتھ “کالونائزیشن پہ مبنی جنگوں ” کو آزادی کی جنگ قرار دیگر کم خوش قسمت زرد اور کالی عورتوں کو آزاد کرانے میدان میں اتر آتی ہیں

کامریڈ دیپا کمار کہتی ہیں کہ ایسا فیمن ازم اصل میں سامراجی فیمن ازم ہے-اور اس لحاظ سے وہ تین پہلوؤں کو دریافت کرنے پہ زور دیتی ہیں:

”  تاریخی اعتبار سے سامراجی فیمن ازم اس لئے ایک گلوبل فنومنا بنا ہوا ہے کہ اس کے پیچھے ایک طرف تو وہ سوشل ویلفئیر کی شکل میں وہ نیو لبرل فنڈنگ ملوث ہے جس نے این جی اوز کے لئے سپیس فراہم کی اور فیمن ازم کی این جی اونائزیشن کا راستہ ہموار کیا ، وار آن ٹیررازم اس میں ایک دوسرا مددگار عامل ہے جوکہ امپریل ازم کے مفادات کو بچانے کا ایک  طریق کار ہے- اور پھراس کے ساتھ پرانے اورئنٹلسٹ طریقہ کار بھی اس میں عامل کا کردار ادا کرتا ہے- تیسرا مغربی نیشن سٹیٹس کی تہذیبوں کے تصادم کے فریم ورک کی مطابقت میں تشکیل نو اور ری میکنگ کا عمل ہے جس نے سامراجی فیمن ازم کو ایک گلوبل فنومن / عالمی سماجی مظہر اور رجحان بنانے میں مدد فراہم کی ہے-ان تینوں عوامل کو پاکستانی نوجوان روشن خیال فیمنسٹ عورتوں اور مردوں کو دریافت کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس پہ بحث کرنے کی بھی-دیپا کمار کہتی ہیں کہ سامراجی فیمن ازم صرف بندوق کی نوک پہ عورتوں کو اپنے ہی انداز میں آزادی  دلانے کا پروجیکٹ نہیں ہے بلکہ اسے ایک وسیع معاشی اور سیاسی تناظر میں رکھکر دیکھنے کی ضرورت ہے جس میں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ آج سامراجی فیمن ازم ہمیں تیسری دنیا میں ایک غالب کمپئن کی صورت نظر آتا ہے اور گلوبل ساؤتھ کی جو حکمران اور مڈل کلاس ہے ان میں بھی یہ ایک غالب ڈسکورس کے رائج ہے”

” دوسرا پہلو جسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے سامراجی فیمن ازم کی پیچھے 19ویں صدی میں جاکر اصل کی تلاش اور اس کے لئے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں ہے کہ کیسے زرد اور کالی عورتیں غالب کالونیل لاجک کے ساتھ تشکیلیت سے گزرتی ہیں ،یعنی کیسے ان کی سوچ اور ان کے اعمال کو کالونیل لاجک کے تابع کیا جاتا ہے اور آج کل فیمنسٹ سامراجیت کا جائزہ لینے والوں کا زیادہ تر ٹاپک یہی ہے-بلکہ مرے خیال میں تو یہ سمجھنے کی ضرورت بھی ہے کہ کیسے ایک وائٹ ویمن کالونیل پالٹیکس کے اندر رچا بسادی جاتی ہے –بعض مڈل اور اپر کلاس سے تعلق رکھنے والی عورتین کالونیل ازم کی حمایت کرتی ہيں، وہ اسے عورتوں کے حقوق جیتنے کا راستہ خیال کرتی ہیں-حقیقت میں ایمپائر کالونیوں /نوآبادیوں میں عورتوں کو کبھی آزاد نہیں کرواتی اور نہ ہی کسی میٹرو پولٹن سٹی میں وہ آزاد کراپاتی ہے-دیپا کا استدلال یہ ہے کہ امپریل سنٹرز /سامراجی مراکز میں عورتیں خاص طور پہ ورکنگ کلاس ویمن بہت کم ایمپائر سے حاصل کرپاتی ہیں

تیسرا پہلو جسے دریافت کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے مختلف فیمنسٹوں کے کام کا جائزہ لینا اور ایسا فریم ورک سامنے لانا جس میں رہ کر ایک ٹھوس کثیر القومی اور کثیر الملکی فیمنسٹ سالیڈیرٹی سامنے لاسکیں اور ایک حقیقی گراس روٹ گلوبل فیمنسٹ تحریک کا جنم ہوسکے

سامراجی فیمن ازم کی بنیاد “نیو لبرل ازم ” پہ ہے اور عصر حاضر کا سرمایہ داری نظام اسی شکل میں منظم ہے اور چند عشروں میں اس نے سرمایہ داری نظام میں کئی تبدیلیوں کو متعارف کرایا ہے-یہ شکل سرمایہ دارانہ ریاست کی پہلی اشکال سے مختلف ہے جس میں ریاست یا حکومت اپنے شہریوں کی ضرورتوں کو سوشل ویلفئیر کے پروگراموں کے زریعے سے پورا کیا کرتی تھی-سبسڈائزڈ فوڈ پروگرام چلاتی ، پبلک اسکولنگ نظام ہوتا تھا ، سرکاری ہیلتھ سسٹم تھا وغیرہ وغیرہ، یہاں گلوبل ساؤتھ میں اب بھی ریاست ایسے پروگرام چلا تو رہی ہے لیکن اس کا سوشل سروسز کا سیکٹر مختلف حیلے بہانوں سے سکڑ رہا ہے اور اس میں پرائیویٹ سیکٹر کی مداخلت اور شئیر بڑھتے جاتے ہیں-سوشل پروگراموں کی نجکاری اور ان پہ حملے نیو لبرل ازم کے لئے دو کام کرتے ہیں: وہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں اور اکثر گھروں زیادہ سوشل ری پروڈکشن ٹاسک پورے کرنے پہ مجبور کردیتے ہیں ہیں جن میں سے اکثر کا بوجھ عورتوں کے کندھوں پہ ہی ہوتا ہے-اور عورتیں یہ سوشل دی پروڈکشن کے ٹاسک کسی قسم کی اجرت کے بغیر  سرانجام دیتی ہیں اور اسے ان کے پیار اور فرض کا تقاضا خیال کیا جاتا ہے اور اس صورت حال کا زیادہ تر اثر ورکنگ کلاس خاندانوں پہ ہوتا ہے کیونکہ وہ بہت سی ایسی چیزوں کو افورڈ نہیں کرسکتے جن کی نجکاری ہوچکی ہوتی ہے، ان کو کام کی جگہ پہ زیادہ خطرہ ہوتا ہے ، جتنا زیادہ وہ کم تنخواہ والی جاب پہ انحصار کرتے ہیں اتنا ہی نیولبرل حملے کے خلاف مزاحمت کرنے کے کم قابل رہ جاتے ہیں

نیو لبرل ازم نے ایک اور یونیق ،خاص شکل کو جنم دیا ہے جسے این جی او کہا جاتا ہے-سوشل ری پروڈکشن کے پروسس میں سے ریاست اور پبلک ریسورسز کی دست برداری نے ایک خلا پیدا کیا جسے این جی اوز نے گزشتہ چند عشروں میں پر کیا ہے،1980ء سے لیکر ابتک این جی او بڑی تیزی سے بڑھی ہیں اور یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ این جی اوز عالمی اور قومی سیاست میں اہم کردار بن گئی ہیں اور خاص طور پہ عالمی اور قومی سطح پہ عورتوں کی بہتری اور حقوق کی سیاست میں ان کا کردار بںیادی اہمیت کا حامل ہے-2000ء میں یہ این جی اوز 12 سے 15 ارب ڈالر خرچ کررہی تھیں اور 2012ء میں دنیا کے کچھ علاقوں میں این جی او سیکٹر ریاست سے زیادہ طاقتور ہوچکا تھا

 (جاری ہے )

 

منحرف مارکسی سماج واد اور بھوبھل اڑاؤ پروجیکٹ

stedman-jones

پیٹی بورژواوی کی طبقاتی نفسیات پہ کارل مارکس نے بڑا ہی بلیغ اور لطیف پیرائے میں طنز کرتے ہوئے کہا تھا، ” درمیان طبقے کے لوگوں کا سر آسمان کی طرف اور پاؤں کیچڑ میں ہوتے ہیں” اور اس پیٹی بورژوازی طبقے کی دانشور پرت میں سے سابق انقلابیوں کی حالت تو اس سے بھی زیادہ بری ہوجاتی ہے-ایک سابق مارکسی سماج واد پیٹی بورژوا دانشور جب خوشحال ہوکر لبرل رنگ میں رنگا جاتا ہے تو وہ اپنی طبقاتی مستحکم پوزیشن کے دفاع کے لئے سب سے پہلے کارل مارکس پہ حملہ آور ہوتا ہے-بلکہ مرے ایک دوست کہتے ہیں کہ پرانے منحرف سماج واد مارکسی اپنے لبرل دانشوروں کے ساتھ ملکر کارل مارکس کے اصل وژن کو اغواء کرنے کی کوشش میں جت جاتے ہیں اور جتنی بھوبھل (گرد) اڑائی جاسکے وہ اڑاتے ہیں-کارل مارکس پہ اس کا یہ حملہ کھلے دشمن کی طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک دوست اور محقق کے روپ میں اس پہ حملہ کرتا ہے-اس حملے میں وہ کارل مارکس کو اس کے نظریات سے ہی بیگانہ ثابت کرنے پہ تل جاتا ہے-ہمارے ہاں اگرچہ مغرب کی طرح علمیاتی ڈسکورس کے ساتھ ایسی کاوشیں کرنے کا سٹیمنا سابق مارکس واد لبرل دانشوروں کے پاس ہے نہیں لیکن وہ اپنے کالموں اور مضمونوں میں کارل مارکس کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے کی پوری کروشش کرتے رہتے ہیں-

پیٹی بورژوازی/درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک دانشور جب انقلابی سماج واد نظریہ سے انحراف کرتا ہے تو اس کی رائے کیسے بدلتی ہے؟ برطانوی مارکسسٹ الیکس کالنیکس اپنے مضمون ” مارکس ڈی فلیٹڈ ” میں ہمیں یہی بتانے کی کوشش کررہے ہیں-کیمبرج ہسٹارین /ماہر تاریخ گیرتھ سٹیڈ مین جانز نے ورنر بلوم برگ کی کارل مارکس سوانح عمری کے انگریزی ایڈیشن کا دیباچہ 1972ء میں لکھا تو انہوں نے بلوم برگ کی سوشل ڈیموکریٹک تعبیر پہ تنقید اور یہ شکائت بھی کی کہ کارل مارکس کی اہمیت بلوم برگ کے نزدیک اس کے ایک انقلابی سماجی نظریہ کے بانی ہونے کے سبب نہیں ہے بلکہ اس کے شاندار ہیومن ازم اور اس بصیرت کے سبب ہے جو اس کے کام میں جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہے

قریب قریب 45 سال بعد، سٹیڈمین جانز ، اپنی ضخیم اور پہلے ہی بہت زیادہ سراہی گئی کارل مارکس کی سوانح عمری میں ، کہتے ہیں،

“کارل (شاید اب وہ اسے مارکس کہہ کر پکارنے پہ اصرار میں شرم محسوس کرتے ہیں) اس وقت سیاسی طور پہ بہت زیادہ موثر تھا جب اس نے ایک نئی سوشل ڈیموکریٹک لینگویج 1860ء کے وسط  فرسٹ انٹرنیشنل میں اپنے سیاسی کردار کے زریعے سے پیش کی-اور اپنے آپ کو غالبا اپنی انقلابی کمیونسٹ جوانی سے دور رکھا”

1972ء میں سٹیڈمین جانز نے بلوم برگ کی جانب سے کارل مارکس پہ 1871ء کے پیرس کمیون کو افسانوی بناڈالنے کا الزام لگانے پہ تنقید کی تھی اور اب وہ اس بات سے متفق ہے کہ ” فرانس میں خانہ جنگی ” (کارل مارکس کی کتاب ) جزوی طور پہ ایک تخیلاتی پروجیکٹ تھا اور وہ اس بات پہ افسوس کرتا ہے کہ وہ کارل مارکس کے پیرس کمیون بارے خیالات تنقید کی مذمت میں برطانوی ترقی پسند سیاسی روایت سے کٹ کے رہ گیا-

رائے کے اس فرق کی وجہ بیان کرنا بہت آسان ہے-1972ء میں سٹیڈمین جانز ایک انقلابی سماج واد تھا اور اور “نیو لیفٹ ریویو ” رسالے کی مجلس ادارت کا سب سے دلچسپ دانش کا حامل رکن تھا-لیکن 1980ء میں وہ اس رسالے سے الگ ہوگیا اور اس نے پوسٹ سٹرکچرل ازم کو گلے لگالیا-

1983ء میں اس نے اپنی کتاب ” لینگویج آف کلاس ” شایع کی، جس میں اس کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ “کلاس ” ایک معروضی سماجی رشتہ نہیں ہے بلکہ خاص قسم کی سماجی اور سیاسی تحریکوں میں غالب ڈسکورسز کی ایک بنت کاری ہے-سٹیڈمین جانز یہی تصور کلاس /طبقہ اپنی کتاب ” کارل مارکس ” میں پھر سے دوھراتے ہوئے شاید یہ نہ جان سکا کہ کلاس کے محض ایک “کہی بات ” ہونے کا خیال اس نسل کے لئے بالکل پرانے ہوگئے فیشن کی طرح ہے ،وہ نسل جس کے سامنے نیو لبرل دور کی مسلط کی گئی معاشی ناہمواریاں اور عدم مساوات “آکوپائے وال سٹریٹ ” تحریک کے نعرے نے ایک فیصد بمقابلہ 99 فیصد کی شکل میں بہت کھول کر رکھ دی ہے

ہمارے پاکستان میں خوشخال ہوگئے پیٹی بورژوازی /درمیانے طبقے کے کئی دانشور اور ادیب ، تجزیہ کار جو کبھی ماضی میں مارکسی سماج واد تھے اور کارل مارکس کو ایک انقلابی سماجی تبدیلی کے نظریہ کا ان داتا کہا کرتے تھے ، کارل مارکس کو تعریف سے لبھاتے تو ہیں مگر اس کی طبقاتی سماجی نظریہ سے کوسوں دور بھاگتے ہوئے نیولبرل اکنامی کی شان میں ویسے ہی رطب اللسان رہتے ہیں جیسے دوسرے لبرل اوٹ پٹانگ

الیکس کہتے ہیں کہ ان کو خوشی ہے کہ سٹیڈمین جانز نے ہماری جان اس فینسی فلسفے سے چھڑادی ہے جسے وہ پوسٹ سٹرکچرل ازم کے ہر شئے کو محض “ڈسکورس ” قرار دینے کے طریق کار کو جواز دینے کے لئے استعمال کرتے تھے-کارل مارکس کی سوانح عمری میں اس کی اپروچ نام نہاد “کیمبرج اسکول برائے تاریخ افکار سیاست ” سے بہت مختلف ہے جوکہ کیونٹن سکنر اور جان ڈن وغیرہ کے کام سے انسپائر ہے ،جوکہ تھیورٹیکل متون کو  ایک خاص انداز سے ٹریٹ کرتے ہیں جو کہ ( سٹیڈمین جانز کے اپنے الفاظ میں ) “ایک مصنف کی ایک خاص سیاسی اور فلسفیانہ تناظرات میں مداخلت ہے جس میں ہسٹارین کے لئے ضروری ہے کہ بہت احتیاط سے ان کی دوبار تشکیل کرے- سادہ لفظوں میں اگر اسے بیان کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے یہ ایک ایسا کام کرتے ہیں جس میں کسی مصنف کی کتاب کے متن میں جو مصنف کہنا چاہتا ہے اس سے بالکل مختلف معانی نکال لئے جاتے ہیں-یعنی جیسے یہ کہا جائے کہ کارل مارکس کا فلسفہ تاریخی مادیاتی جدلیات پہ بنیاد ہی نہیں رکھتا یا کارل مارکس کو سوشل ڈیموکریٹ بناکر دیکھایا جائے جو ریاست کی طبقاتی بنیادوں کو انقلاب کے زریعے سے بدل ڈالنے کی بجائے اصلاحات سے بدلنے کا قائل ہو

وہ ایک ممتاز انٹلیکچوئل ہسٹارین ہے، وہ اس سیاق و سباق کو ـبخوبی بیان کرتا ہے جس کے اندر کارل مارکس کے اپنے خیالات نمو پائے تھے-اس کتاب میں پیرس میں ہوئے واقعات جنھوں نے 1848ء میں پیرس کمیون کو جنم دیا اور پھر دوسرے انقلابات اسی سال کے اور برطانیہ میں ورکنگ کلاس / محنت کش طبقے کی تحریک میں ہونے والی پیش رفت اور اسی طرح مغربی ریڈیکل سیاست کے انقلابات کی بڑی جامع تفصیل ملتی ہے جس نے پہلی انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا تھا-

سٹیڈمین جانز کی کارل مارکس کتاب میں جانز مارکس بارے اپنے متضاد احساسات سے پیچھا نہیں چھڑا پایا-وہ مسلسل اس کتاب میں کارل مارکس کے ہاں اپنے خاندان کے لئے احساسات کی کمی کی شکائت کرتا ہے اور کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ 1845ء میں وہ فرانس سے ڈی پورٹ اپنی نااہلی یا ایروگنس کی وجہ سے ہوا-کئی جگہ اس نے کارل مارکس کو 1845ء کے آخر سے”موڈ چینچز ” سے لیکر بے قابو پیرونیا کے مرض اور بدلے کی فنتاسیاں بننے کا مریض قرار دیا-اور سب سے سنگین الزام اس نے کارل مارکس پہ ” سامیت مخالف ” ہونے کا لگایا اور اس کے لئے مثال اس نے مارکس کے مقالے ” آن دی جیوش کیوسچن” کی دی اور اسے وہ ” سوشلسٹ اینٹی سیمٹزم ” کی ایک مثال قرار دیتا ہے-اور وہ اس الزام کو دوھراتے ہوئے ہال ڈریپر اور ڈیوڈ لیوپولڈ کی اس مقالے پہ بحث کو مکمل نظر انداز کرتا ہے- جانز کارل مارکس کو سامیت مخالف ثابت کرنے کی کوشش میں کارل مارکس کی اس کتاب میں تنقید کے مرکز لیفٹ ہیگلین فلسفی برونو بائز سے خاصی ہمدردی دکھاتا ہے لیکن وہ یہ زکر کرنا بھول گیا کہ کیسے اس کی ہمدردی کا مستحق برونوبائر بعد میں بتدریج ارتقائی عمل سے گزر کر پکا یہودی مخالف ہوگیا تھا-

الیکس کالنیکس کہتا ہے کہ اکر انگریزی میں کسی نے کارل مارکس کی سوانح عمری پڑھنی ہو تو اسے جوناتھن سپربیر کی 2013ء میں کارل مارکس پہ شایع ہونے والی کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں گا-اکرچہ جوناتھن سپربیر سٹیڈمین جانز سے تھیورٹیکل طور پہ کمزور ہے ،لیکن وہ جانز کی طرح مارکس کے بارے میں متضاد احساسات کا اسیر نہیں ہے-پھر 19ویں صدی میں جرمن انقلابیت کے ایک مورخ کے طور پہ وہ مارکس کا جو جرمن تناظر اور سیاق و سابق ہے اس پہ اسے بہت مہارت حاصل ہے اور پھر وہ کارل مارکس کو بطور انسان اس کی ذات کے تمام چھوٹے بڑے پہلوؤں کو سٹیڈمین جانز سے کہیں زیادہ بہتر بیان کرتا ہے

سٹیڈمین جانز نے منحرف پیٹی بورژوازی سابق مارکس واد اور حال کے لبرل خیالات کے دلدادہ دانشوروں کی طرح کارل مارکس کو اس کے بنیادی انقلابی خیالات سے الگ کرکے دکھانے کی کوشش اپنی کتاب میں کی ہے-وہ کہتا ہے کہ کارل مارکس کی اصل شخصیت اس کے گرد “بابائے جدید سا‎ئنسی علم تاریخ ” کی متھ/اسطور/ افسانہ کے پیچھے گم کردی کئی-اور کارل مارکس کی یہ افسانوی زندگی اس کے بقول فریڈرک اینگلس اور دوسری انٹرنیشنل نے اس کی 1883ء میں وفات کے بعد تعمیر کی-اور سٹیڈمین جانز کسی ثبوت کے بغیر یہ بھی کہتا ہے کہ مارکس اور اس کے خاندان نے فریڈرک اینگلس سے کارل مارکس کے اختلافات کو ان کی معاشی زندگی کی گاڑی چلنے کا انحصار اینگلس پہ ہونے کی وجہ سے چھپائے رکھا-اس میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جو بہرحال جانز سے خود اپنی تحقیق سے دریافت کرلی ہو بلکہ ایسے الزامات تو کئی نام نہاد مارکسی سماج واد اور لبرل سٹارین دوھراتے آئے ہیں-لیکن یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ مارکس کی موت کے بعد سامنے آنے والے آفیشل مارکسزم (جو کہ بعد میں بنایا گیا ) اور مارکس کے اپنے اصل خیالات میں فرق کو دکھانے کے لئے سٹیڈمین جانز سمیت ان جیسے ہر ایک پیٹی بورژوازی لبرل دانشور نے اس مواد پہ ہی انحصار کیا جو ان کی موت کے بعد خود فریڈرک اینگلس اور دیگر نے مرتب کیا تھا

سٹیڈمین جانز نے دعوے کئے ہیں کہ اس کی کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے مارکس کی ریپوٹیشن بارے جو ان فلیشن اس کے مرنے کے بعد ہوا اور جو مبالغہ آرائی کی گئی اسے اس نے درست کردیا ہے-حقیقی مارکس کا لائف ورک پولٹیکل اکنامی کی تنقید پہ مشتمل “ڈاس کپیٹل ” کی تین جلدوں میں ختم ہوا جوکہ بہرحال نامکمل تھا اور صرف ایک ہی جلد اس کی اپنی زندگی میں سامنے آسکی-

سٹیڈمین جانز کی دلیل یہ ہے کہ کارل مارکس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اس پروجیکٹ  کو فکری تعطل کے احساس کی وجہ سے ترک کردیا تھا-اس کا کہنا ہے کہ “سرمایہ ” کی تیسری جلد بہت انتظار کے بعد فریڈرک اینگلس کی وفات جو 1895ء میں ہوئی تھوڑی عرصہ پہلے شایع ہوئی اور اس نے مایوسی پھیلائی کیونکہ اس کتاب میں اس بات کا کوئی ثبوت نہ تھا کہ سرمایہ داری نظام ناگزیر طور پہ خوبخود ہی ٹوٹ پھوٹ جائے گا معاشی اعتبار سے-جہاں تک کارل مارکس کا تعلق ہے تو جانز کے مطابق وہ اپنی زندگی کے اخری دنوں میں کمیونل سوشل فارمز اور ان کی بقاء کے بشریاتی اور تاریخی مطالعات تک محدود تھا –خاص طور پہ زار شاہی روس میں میر کسانوں پہ تحقیق میں-اس کے خیال میں یہ مطالعے یہ ثابت کرسکتے تھے کہ سرمایہ داری کے مرحلے سے گورے بغیر بھی سوشلزم کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے-لیکن جانز کے بقول یہ وہ قیاس آرائیاں تھیں جن کو خود مارکس کے روس میں اپنے پیروکاروں نے بھی نظر انداز کردیا-یہ وہ نتیجہ ہے جہاں پہ آکر جانز نے اپنی کتاب ختم کی ہے-ایلیکس کے بقول مارکس کی سرمایہ داریت پہ تنقید کی عصر حاضر میں افادیت بارے بحث سے گریز کرنے میں کوئی شرم جانز نے محسوس نہیں کی

لیکن اگر  سٹیڈمین جانز کارل مارکس کی اوریجنل انٹلیکچوئل بائیوگرافی پیش کرنے کی تلاش کرتا تو مارکس کی پولیٹکل اکنامی پہ تنقید کے ساتھ اس نے جو سلوک روا رکھا وہ عصر حاضر کے سکالر شپ کے معیار پہ پورا نہ اترتی-مارکس کی اصلی انٹلیکچوئل بائیوگرافی مرتب کرنا اب کوئی زیادہ مشکل کام نہیں رہا اور اس کے لئے ہمیں مارکس –اینگلس کمپلیٹ ورکس -‏ایم ای جی اے کا شکر گزار ہونا چاہئیے جس نے اس کے نوٹس اور ڈرافٹس کو دستیاب کرنے کا کام کیا ہے-سٹیڈجانز اس ریسرچ کو بہت ہی زیادہ نظر انداز کرتا نظر آیا ہے-مارکس کی تنقید کا پہلا دور مستحکم پڑاؤ پیرس اور برسلز میں 1840ء  کے درمیان پولیٹکل اکنامی کے بہت زیادہ مطالعے پہ مشتمل ہے ، پھر یہ لندن میں 1850ء کی ابتداء میں وہاں سیاسی-معشیت کے مطالعے میں نظر آتا ہے اور پھر یہ 1857ء سے 1867ء میں پے در پے لکھے جانے والے مسودات میں دکھائی دیتا ہے

جانز نے کارل مارکس کے پہلے اور دوسرے دور پہ توجہ مرکوز رکھی اور “گرونڈرس-1857-8 ہی دیکھا جبکہ اس کی بہت کم توجہ باقی کے دو مسوادات پہ پڑی-1861ء-63ء تک کے مسودات اور پھر 1864ء-65ء کے مسودات جن کی مدد سے انگلس نے سرمایہ کی تیسری جلدی مرتب کی تھی ان کو توجہ نہ دینے کی وجہ سے جونز کارل مارکس کے پولیٹکل اکنامی بارے خیالات میں ارتقاء ، ان کی تشکیل نو اور ان میں پیش رفت کے ارتقاء کو دیکھنے میں ناکام رہا

جونز نے جب یہ پڑھا کہ کارل مارکس نے 1840ء میں ڈیوڈ ریکاڈو کی کتاب ” آن دی پرنسپلز آف پولیٹکل اکنامی اینڈ ٹیکسیشن ” کا فرنچ ایڈیشن 1840ء کے وسط یں پڑھا تھا تو حوب بغلیں بجائیں-اور اس کے خیال میں مارکس اسی لئے ان شکوک کا ازالہ کرنے میں ناکام رہا جو ریکاڈو نے اس کتاب کے تیسرے ایڈیشن 1821ء میں ” لیبر تھیوری ” کے بارے میں ظاہر کئے تھے-

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لیبر تھیوری آف ویلیو اور شرح منافع کے وجود کے درمیان بظاہر جو تضاد تھا اس مسئلے کو پہلے ایڈیشن ہی میں ظاہر کردیا تھا-معاملہ جو بھی ہو لیکن کارل مارکس کو اس میں دلچسپی نہیں تھی کیونکہ جب اس نے پیرس میں پہلی بار لیبر تھیوری آف ویلیو کو پڑھا تھا تو اسے سرے سے مسترد کردیا تھاحلیکن یہ مسئلہ اس کے 1861ء-63ء کے سیاسی-معاشی مسودات میں نظر آتا ہے اور اس پہ انریق ڈوسل نے اپنے مضمون میں روشنی ڈالی ہے-مارکس نے ریککاڈو کی تھیوری آف رینٹ کے مقابلے میں اس مسئلے کا اپنا حل تلاش کرنے کی سعی کی تھی اور اس نے دیکھایا تھا کہ اجناس یا کاموڈیٹی کی لیبر ویلیو پیداوار کی قیمتوں میں کیسے بدل جاتی ہیں جوکہ منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرتی ہیں-لیکن جونز نے نہ صرف مارکس کے اس سیاسی –معاشی مسودے کو نظر انداز کیا بلکہ اس نے انریق کی کمنٹری کو بھی نہ دیکھا اور سرمایہ کی پہلی اور تیسری جلد کے درمیان تضاد کا پرانا راگ ہی الاپا

 جانز کہتا ہے کہ کارل مارکس اپنے فکری تعطل کے احساس کے سبب پولیٹکل اکنامی پہ اپنی تنقید سے بیگانہ ہوگیا تھا اور وہ سرمایہ کی عالمی برتری بعد ازاں مسلسل پھیلاؤ سے خوبخود سرمایہ داری کے گرجانے کے خیال سے بیگانہ ہوگیا تھا-لیکن کارل مارکس کی تحریروں کے سب سے اہم دور یعنی 1857ء سے لیکر 1867ء تک ہم کہیں بھی یہ دعوی اسے کرتے نہیں دیکھتے کہ سرمایہ داری نظام کسی معاشی بریک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہا ہے-

اس نے پولٹیکل اکنامی پہ تنقید کے لئے چھے نوٹ بکس لکھنے کا پلان بنایا تھا-ان نوٹ بکس کی ایک جلد ” عالمی منڈی اور بحران” کے نام سے مرتب ہوئی اور بحران سے کارل مارکس کی مراد سرمایہ داری کا بیٹھ جانا نہیں تھا-بلکہ مارکس نے تو اصل میں یہ لکھا تھا کہ سرمایہ داری نظام میں “مستقل بحران وجود ہی نہیں رکھتے “

سرمایہ کی تیسری جلد میں وہ ایک ایسی تحریک کے پھیلاؤ کی تصویر کشی کرتا ہے جس میں شرح منافع کے گرنے کا رجحان    فنانشل اداروں اور  معاشی سلمپ کے ساتھ انٹریکٹ کرتا ہے جس سے سرمایہ تباہ ہوتا ہے اور استحصال بڑھ جاتا ہے اور یہ استحصال بڑھنے کی وجہ سے ارتکاز سرمایہ کے بحال ہونے میں مدد ملتی ہے-مارکس نے اپنے مسودے میں شرح منافع گرنے کے رجحان بارے اپنی بحث جس فقرے پہ ختم کی تھی وہ تو اینگلس نے کسی وجہ سے سرمایہ کی تیسری جلد میں شامل ہی نہیں کیا-اور وہ یہ تھا کہ جب تک سرمایہ داری موجود ہے تو سرمایہ داری میں منافعوں میں اتار اور چڑھاؤ کا یہ بدترین چکر یونہی چلتا رہے گا-

سٹیڈجونز  مین نے اپنی کتاب کارل مارکس میں سب سے غلط دعوی یہ کیا ہے کہ سرمایہ کی پہلی جلد چھپنے کے بعد کارل مارکس نے معاشیات کا مطالعہ بند کردیا تھا کیونکہ کارل مارکس سرمایہ داری کو بطور ایک گلوبل سسٹم کے تجزیہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا-حال ہی میں جو تحقیق ہوئی جسے جانز کی طرف سے  نظر انداز کئے جانے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے-اس تحقیق سے یہ پتا جلتا ہے کہ 1840ء سے مسلسل بلا تعطل کے بورژوا سوسائٹی کو بطور ایک ٹرانس نیشنل رشتوں میں گندھی سوسائٹی کے طور پہ دیکھا-اور 1870ء میں اس نے سرمائے کے بارے میں یہ مرکزی تصور پختہ کیا کہ سرمائے کی اسٹڈی محض ایک وکٹورین برٹن فنومنا کی اسٹڈی نہیں تھی-سرمایہ کی جلد اول کے فرنچ ایڈیشن میں اس نے کالونیل ازم اور عالمی منڈی سے متعلقہ مزید مواد اس میں شامل کیا-اور اس نے امریکہ کے اندر ہونے والی معاشی پیش رفت کو کور کرنے کے لئے مالیاتی منڈیوں اور بحرانوں کے تجزئے کو بڑھانے کے لئے بھی کاوش کی –اور یہ کاوش ظاہر کرتی تھی کہ کارل مارکس پہچان گیا تھا کہ گلوبل سرمایہ داریت کا نیا مرکز امریکہ ہے –

کارل مارک کی روس میں دلچسپی بھی اس کے سرمایہ کی تیسری جلد میں رینٹ اور پراپرٹی کے گہرے تجزئے سے جڑی تھی اور اسی لئے وہ امریکی اور روسی ايگری کلچر کا مطالعہ کرنا چاہتا تھا-سیاست اور بیماری اسے بار بار اس کام سے ہٹاتی اور کامل تر کرنے کی اس کی جستجو پھر بھی ختم ہونے کو نہیں آتی تھی-اس نے 28 اپریل 1862ء کو فرڈینڈ لاسال کو خط میں بتایا، ” میں نے جو بھی چیز لکھی ہے اس میں نقص پہ جو بھی چوٹ /فقرے بازی مجھ پہ ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ماہ سے میں نے ان کو دیکھا نہیں تھا اور اس لئے مجھے اسے دوبارہ سرے سے دیکھنا پڑا اور نظر ثانی کرنی پڑی “اور اس کے یہ جملے ہمیں یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ “سرمایہ ” جیسا کام نامکمل کیوں رہ گیا؟لیکن کارل مارکس کے کے ڈرافٹس پہ گہری نظر  اس کے پروجیکٹ کے شاندار ہونے اور اج بھی اس کے مفید ہونے کا اثر چھوڑتی ہے

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ٹھیک ہی تھا-اس کا استدلال یہ تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کا تختہ معاشی بریک ڈاؤن سے نہیں بلکہ ورکنگ کلاس کے پولیٹکل ایکشن سے ہوگا اور اس ایکشن میں تیزی معاشی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی طبقاتی صف بندی سے آئے گی-یہان بہت حقیقی طور پہ جو مشکل پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اس تحریک کو ناگزیر طور پہ بغیر رکے ایک نیچرل پروسس کے طور پہ دیکھتا ہے-جونز نے اس جانب تو توجہ نہ کی کیونکہ شاید یہ مارکس کی بنائی گئی اس کی تصویر میں فٹ نہیں آتی جو اس کے مطابق اس تصویر سے الگ جسے نظر انداز کیا گیا اور مسخ کیا دوسری انٹر نیشنل نے-سوشلسٹ انقلاب کی ناگزیت کا تصور اور نظریہ کارل کاوتسکی اور پلیخانوف نے کارل مارکس کے اسی خیال سے لیا-

لیکن یہ وہ خیال تھا ، روسی انقلاب کی انسپائریشن اور بالشیویک کے تجربے کے زیر اثر ،بہت زیادہ تخلیقی دانشور جیسے جارج لوکاش اور انتینو گرامچی تھے نے 1920ء میں ہی مسترد کردیا تھا-انقلابی مارکسی سماج وادوں کی اس نسل کی حوصلہ افزائی لینن نے کی جس نے ان کو مارکس کی پیرس کمیون پہ لکھی تحریروں کی جانب رجوع کرنے کا مشورہ دیا اور اس وژن کو دیکھنے کو کہا جو یہ تحریریں سوشلسٹ انقلاب کو ایک ایکٹو پروسس برائے نجات محنت کشاں اور سرمایہ دار ریاست کی تباہی کے پروسس کے طور پہ دیکھنے کے فراہم کرتی ہیں-جونز کی کارل مارکس کی ڈاؤن سائزنگ کی ناکام کوشش شاید اس کے اپنے ماضی سے لڑنے کی عکاسی کرتے دکھائی دیتی ہے-

نواں خط

150316_r26244-864-sappho

پیاری ساری

تم مجھے ہمیشہ الجھانے کا کام کرتی رہتی ہو، ابھی آٹھویں خط کی رسید دیتے ہوئے تم نے مجھے بتایا کہ ان خطوط کو پڑھتے ہوئے ، تمہارے ذہن میں جواب آتے ہیں اور تم ان کو مجھے لکھ کر بھیجنا بھی چاہتی ہو مگر کیونکہ تمہاری اماں اور لندن سے آئی ممانی پشاور گئی ہوئی ہیں تو گھر کی ساری زمہ داری تم پہ ہے ، اس لئے جواب لکھنے کا وقت نہیں ہے-میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں تمہیں بہت مس کرتا ہوں تو تم نے کہا، ” میں تو اپنے آپ کو مس کررہی ہوں” سچ پوچھو تو تمہارے اس جواب سے میں خاصا گڑبڑایا بلکہ جھنجھلانا زیادہ ٹھیک رہے گا –پھر مرے منہ سے نکل گیا ” آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں ،جس سے تم اور میں اس کیفیت سے وقتی طور پہ نکل جائیں ” مگر تم نے فوری ایک اور سوال مرے سامنے رکھ دیا کہ آخر ہم ہر کام وقتی طور پہ ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ مرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ سوال اور تم نے مرے سامنے رکھا تو مجھے خیال آیا کہ کیا واقعی میں تم سے اپنی وقتی تشنگی مٹانے کی سوچ رہا ہوں-اور پھر ہماری باتیں ایک اور رخ پہ جا نکلیں تھیں،مجھے اکثر تمہین یہ بتاتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ میں تمہارے خدوخال میں بہت کشش محسوس کرتا ہوں اور تم نے مجھ سے خود پوچھا کہ تمہارے سراپے کے بارے میں مرے احساسات کیا ہیں، میں بیان کروں-میں نے تمہیں بتایا کہ تمہارا کتابی چہرہ ، صراحی کی طرح گول گردن ، اور ابھرا ہوا سینہ ، فلیٹ بدن اور پھر نیچے تھوڑے سے بھرے بھرے کولہے اور پھر تمہاری گول گول پتلی پتلی ٹانگیں مرے دل کو اتھل پتھل کردیتی ہیں اور تمہاری وحشی آنکھوں سے مجھے کبھی خوف تو کبھی ان میں ڈوب جانے کا خیال آتا ہے لیکن تمہارے ہونٹوں پہ عجب سی خشکی دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ مری تم سے محبت تمہاری سیرابی کا سبب نہیں بن رہی-عجیب بات یہ ہوئی کہ تم نے یہ سب سنکر کہا کہ جب کوئی تمہاری باڈی / بدن بارے بات کرتا ہے تو تم امبیرسنگ فیل کرتی ہو اور پھر شاید تمہیں خیال آیا کہ مرے باب میں یہ جملہ شاید زیادتی ہے اور اسی لئے تم نے وضاحت کی کہ اس کا سبب وہ ایف ایس سی کے دوران تمہارے استاد کی جانب سے تمہارا ریپ کرنے کی کوشش والا واقعہ ہے جو تمہارے ذہن سے اتارے نہیں اترتا اور اسی کے سبب تم ڈیپریشن میں چلی گئیں تھیں اور وہیں تم بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوئیں-میں واقعی تمہارے ان جملوں سے گلٹ کا شکار ہوا تھا لیکن جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ مجھے تمہارے بدن سے یہ رغبت زرا غیر فطری نہیں لگتی ہے-اور شکر ہے تم نے بھی کہہ دیا کہ یہ فطری اور نارمل ہے-تمہارا یہ کہنا کہ تم اب فکری سطح پہ اس مقام پہ ہو جہاں تم بدن سے بہت اوپر اٹھ کر سوچتی ہو تو ٹھیک ٹھیک بتاؤں کہ ہمیں اکثر یہ وہمہ گھیر لیتا ہے کہ ہم اپنے زماں اور مکاں سے اوپر اٹھ کر اور بدن کی کثافتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنے کے قابل ہوگئے ہیں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ آخری تجزئے میں بدن ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے-اور تم نے ہمیشہ کی طرح ” ہمم” کہہ کر جان چھڑالی-مجھے بتاؤ کہ تم اگر بدن سے اوپر جاکر سوچنے اور محسوس کرنے کے قابل ہوگئی ہو تو پھر ماریہ سے تمہارے تعلق کا کیا جواز بنتا ہے ، جس سے اپنے ریلشن شپ کا تم نے مجھ سے اعتراف بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ اس کے خدوخال میں اتنی کشش ہے کہ تم اسے چومے بغیر رہ نہیں سکتی اور اسے فطری لباس میں دیکھنے کی خواہش  تمہیں بے قرار رکھتی ہے اور تم اس کے وحشیانہ حملوں سے کبھی گبھراتی نہیں ہو-تمہیں وہ لڑکی عدیلہ بھی یاد ہوگی جو ایک کنورٹ شیعہ تھی اور تم بھی اسی کے سبب کنورٹ ہوئی تھیں-اور پھر تم اس کی محبت میں پاگل ہوگئی تھیں اور تمہیں لگتا تھا کہ تمہارا اس کے لئے بے چین ہونا ،مجھ سے بددیانتی ہے-تو میں نے تمہیں لیزبو یونانی ٹاؤن میں پیدا ہوئی شاعرہ سیفو  کو پڑھنے کا مشورہ دیا تھا-وہ کنواری نوجوان لڑکیوں کی ایک اکیڈیمی چلا رہی تھی اور یہ اکیڈیمی اس نے اپنی لیزبو محبت کی تسکین کے لئے ہی بنائی تھی لیکن کیا وہ صرف لیزبو محبت کرتی تھی،نہیں وہ افروڈیٹ دیوی کے معبد محبت میں اپنے مرد محبوب کو بھی بلاتی ہے اور اسے وہاں اپنا مرد محبوب ایک دیوتا ہی لگتا ہے، یہ فیمنسٹ لو اور پیار دو دھاری ہوتا ہے اور اس کی ایک دھار مرد پہ تو دوسری دھار عورت پہ پڑ رہی ہوتی ہے اور مجھے یہ بھی ابنارمل نہیں لگتا-لیکن دونوں دھاروں میں روح کی لطافت کے ساتھ بدن کی کثافت بھی شامل ہے-تم اپنے افروڈائٹ معبد محبت میں مجھے بلاتی ہو اور ماریہ یا عدیلہ کو بھی طلب کرتی ہو تو اس میں گلٹ کہاں سے آتا ہے ؟ یہ سوال تھوڑا سا مشکل ضرور ہے مگر اس کا جواب ناممکن نہیں ہے-یہ گلٹ مصنوعی ہے اور یہ صناعت صدیوں سے پدر سری ضابطوں میں گھرا مذہب پیدا کرتا ہے-میں مرا محبت کا رجحان اگر سیدھا ہے تو ہوسکتا ہے یہ بھی صناعت گری کا نتیجہ ہو اور میں سرسوتی معبد میں ہی اگر جاتا ہوں تو اس کی وجہ پھر وہی پدر سری مذہبیت ہی ہوسکتی ہے جس کی مابعدالطبعیات تو ميں عرصہ ہوا چھوڑ چکا لیکن اس کے کئی سماجی ضابطے مجھ سے چھوڑے نہیں جاتے اگرچہ میں کسی مرد کی جانب سے اپنے معبد محبت میں کسی مرد کو بلانے پہ معترض نہیں ہوں اور نہ ہی ایسے لوگوں کے وجود سے یہ دھرتی پاک کرنے کا طالبانی جنون دماغ مین رکھتا ہوں-لیکن یہاں ہمارے سماج کے اندر ایک ایسی عفریت نے جنم لیا ہے کہ وہ فیمنسٹ لو اگر چوری چھپے ہو تو اسے برداشت کرتی ہے بلکہ اس کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی عورت شیعہ ہوجائے اور کسی شیعہ مرد سے شادی کرلے تو اس سے انتقام کا بہترن راستہ یہ ہے کہ پہلے اس کا ریپ ہو اور پھر اسے پھانسی دے دی جائے-مذہبی جنونیت کی یہ کونسی شکل ہے جس میں اپنے دشمن قرار دئے گئے فرقہ کی عورتوں کی رانوں کے درمیان پائی جانے والی وجائنا پہ قبضہ کرنے یا اسے خرید و فروخت کی چیز بناڈالنے کو فتح عظیم اور نصر من اللہ خیال کیا جاتا ہے-کیا تمہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ عراق میں شیعہ اور یزیدی، کردش اور کرسچن عرب عورتوں کے ساتھ داعش والوں نے کیا کیا تھا؟ویسے یہ تو دشمن کی عورتیں تھیں جبکہ خود اپنی عورتوں کے ساتھ ان کی وجائنا پہ قبضہ کے لئے “جہاد النکاح ” کا راستہ بھی نکال لیا گیا تھا-تو یہاں عورت کا بدن بار بار زیر بحث آتا ہے اور بار بار اس پہ دسترس کی سبیل بھی نکالی جاتی ہے اور اس میں آزادانہ ریلشن کا قیام پھر کہیں غائب ہوجاتا ہے-اور یہ جو بار بار “وجائنا ” کا زکر آتا ہے تو ایسا نہیں ہے کہ خود عورتوں نے اس ٹرم اور اس شئے کے بارے میں پدرسریت سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش نہ کی ہو ، مرے ذہن میں اس وقت دو تین پیراگراف آرہے ہیں جن کو اردو میں ترجمہ کئے بغیر میں یہاں دے رہا ہوں اور پھر اپنے اس خط کو یہیں پہ ختم کرتا ہوں

 

“Ma’am is yet another horrible-sounding word in the lexicon of words that women are stuck with to describe various aspects of their body/life/mental state/hair. Vagina. Moist. Fallopian tubes. Yeast infection. Clitoris. Frizz. These are all terrible words, and yet they are our assigned descriptors. Who made up these words? Women certainly didn’t. If, at the beginning of time, right after making vaginas, God had asked me, ‘What would you like your most intimate and enjoyable part of yourself to be called?’,’ I most certainly wouldn’t have said, ‘Vagina.’ No woman would, because vagina sounds like a First World War term that was invented to describe a trench that has been mostly blown apart but is still in use. Even off the very top of my head I feel like I could have come up with something better, like for instance the word papoose, which actually as I’m typing it feels like an incredibly brilliant word for vagina.”

― Jessi Klein, You’ll Grow Out of It

 

“I had always thought of my vagina as an anatomical vacuum randomly sucking up particles and objects from the surrounding environment.”

― Eve Ensler, The Vagina Monologues

 

“I didn’t hear words that were accurate, much less prideful. For example, I never once heard the word clitoris. It would be years before I learned that females possessed the only organ in the human body with no function than to feel pleasure. (If such an organ were unique to the male body, can you imagine how much we would hear about it—and what it would be used to justify?)”

― Gloria Steinem, The Vagina Monologues

 

“No wonder male religious leaders so often say that humans were born in sin—because we were born to female creatures. Only by obeying the rules of the patriarchy can we be reborn through men. No wonder priests and ministers in skirts sprinkle imitation birth fluid over our heads, give us new names, and promise rebirth into everlasting life.”

― Gloria Steinem, The Vagina Monologues

فقط تمہارا

ع-ح

 

کراچی خواتین کی مجلس پہ حملہ :جمیلہ ، غوثیہ اور سلمی بھی عورتیں ہی ہیں مگر شیعہ

1201091-imambargah-1476722546-598-640x480

امام بارگاہ درس عباس جہاں عورتوں کی مجلس پہ تکفیری دہشت گردوں نے بم پھینکا

 

محرم الحرام جب شروع ہوا تھا تو اس وقت زور و شور سے محرم میں عزاداری کو چار دیواری میں قید کرنے کے لئے تکفیری منطق کے ساتھ ساتھ سیکولر اور معاشی منطق کے سوفسطائی دلائل کا انبار کھڑا کیا جا رہا تھا-دس دن عزاداری کے دوران ایک بس میں جانے والی چار شیعہ عورتوں کو قتل کیا گیا ، گھر سے نکلتے دو پشتون شیعہ حسن ابدال میں مارے گئے اور پھر مجلس عزا سے آتے ہوئے ایک شیعہ استاد منصور زیدی حملے میں مارے گئے اور ان کا بیٹا زخمی ہوگیا ، دو اور شیعہ نوجوان اپنی خواتین کو مجلس سے واپسی پہ لینے کے لئے امام بارگاہ کے پاس کھڑے تھے،ان پہ حملہ ہوا ، ایک زخمی بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا-اور دوسرا ابھی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے-یہ سب لوگ محرم کے کسی جلوس میں نشانہ نہیں بنے اور نہ ہی یہ کسی پبلک مقام پہ تقریر کرتے ، ماتم کرتے ، نوحہ خوانی کرتے نشانہ بنے بلکہ ان کو یا تو امام بارگاہ کے سامنے نشانہ بنایا گیا یا گھر کے سامنے یہ نشانہ بنے-اس کے بعد کل بروز سوموار ،17 اکتوبر 2016ء کی رات کو خواتین اور بچے جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت زینب بنت علی ابن ابی طالب کی یاد میں مجلس کررہی تھیں کو امام بارگاہ سے نکلتے ہوئے بم سے نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں ایک کمسن بچّہ جان بحق اور تین عورتیں اور چار بجّے زخمی ہوگئے- تکفیری دانشور اور لبرل دانشوروں کی ایک ٹولی ہمارے سامنے یہ منطق رکھتی رہی کہ عزاداری اگر چاردیواری میں ہو تو حملے نہیں ہوں گے-لیکن دس دنوں میں حملے بھی ہوئے اور دس دن کے بعد پھر چار دیواری میں ہونے والی مجالس پہ بھی حملے نہیں رکے

fraz-hussain

خواتین کی مجلس عزا میں بم دھماکے سے ہلاک ہونے والا 12 سالہ فراز حسین

تسنیم عابدی ایک بہت اچھی شاعرہ اور درد دل رکھنے والی ، جذبہ انسانیت سے معمور دانشور ہیں انھوں نے ایک نظم کا اقتباس اپنی فیس بک وال پہ دیا

رسم کے قیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوڑھی قدریں کچھ کمزور سی رسموں کو

دوددھ پلا کر زندہ رکھنا چاہتی ہیں

عقل کے دشمن لوگوں کو یہ

روز ہی دھوکا دیتی ہیں

دھوکا کھانے والے دھوکا کھا کر بھی

گلے لگا کر ان کو زندہ رکھتے ہیں

عقل ہمیشہ شرمندہ ہی رہتی ہے

رسم و رواج کے سامنے مات ہی کھاتی ہے

چور محافظ بن کے گھوما کرتا ہے

ایسی بستی لتنے پر خوش ہوتی ہے

لٹ کے بھی سب جشن منایا کرتے ہیں

(تماشا سے ایک نظم)

نظم اچھی ہے اور کئی معانی کی حامل ہوسکتی ہے ، لیکن کچھ رسمیں جو بہت طاقتور استعارہ ہوتی ہیں ظلم و بربریت کے خلاف وہ بوڑھی ہوتی نہیں لیکن انھیں بس بوڑھا کردیا جاتا ہے ، سازشوں کے ساتھ ، کبھی ریاستی بیانیہ ، کبھی علاقائی پراکسی جنگیں اور کبھی کسی رجیم گرانے کے نام پہ- ایسی رسم کو بوڑھا ، فرسودہ اور کبھی اسے وحشیانہ کہہ کر چار دیواری میں بند کرنے کو کہا جاتا ہے اور چاردیواری میں بھی کی جائے تو بم برسائے جاتے ہیں ، عورتیں اگر اسے کریں تو بھی ان پہ بم برسائے جاتے ہیں ، بچوں تک کو معاف نہیں کیا جاتا-یعنی جب کوئی 60 ھجری میں ہوئی ٹریجڈی کو پھر تھیڑیکل انداز میں زندہ کرتا ہے اور امیجز سے اس کو واضح کرتا ہے تو ان کے قتل کا جواز نکل آتا ہے

اصل میں اپنے تسلط ، قبضہ گیری ، سامراجیت اور بادشاہتوں کو دوام بخشنے کے لئے تکفیری فسطائی عفریتوں کو جگایا گیا ہے جن کو اہل بیت اطہار اور ان سے جڑی ہر شئے سے سخت نفرت ہے اور وہ اس تذکرے پہ غیظ و غضب کا شکار ہوتے ہیں اور جو بھی یہ تذکرہ روا رکھے اس کے لئے معافی کی گنجائش ان کی لغت میں ہے ہی نہیں

درس عباس امام بارگاہ میں خواتین کی مجلس پہ بم سے حملہ کوئی ایسی کاروائی نہیں ہے جس پہ ہلکا سا رد عمل دے دیا جائے بلکہ یہ ایک ایسی حرکت ہے جس پہ جتنا غم و غصّے کا اظہار کیا جائے کم ہے-اور یہ بات دھیان میں رکھ لی جائے کہ ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تکفیری گروہ شیعہ کی مذہبی آزادی کو چار دیواری میں بھی سرانجام دینے کی اجازت نہیں دے سکتا- ان کے نزدیک تو رسم یہ ہے کہ ایک عورت اگر شیعہ ہوجائے ، اور شیعہ مرد سے شادی کرلے تو اس سے اس کا سابقہ شوہر بلاد کار کرے اور اس کو پھانسی دے ڈالے اور اس کام کے دوران اس عورت کا باپ باہر کھڑا پہرہ دے-ایسے واقعات پہ کسی ایک لبرل اشراف دیوی کا دماغ دکھ اور تکلیف سے نہیں پھٹتا اور وہ طالبانی میڈیا کو للکارتی نہیں ہے تو اس کی ایک وجہ ہے کہ ریپ اور قتل ہونے والی عورت شیعہ ہوگئی تھی – یہی عورت اگر کرسچن ہوجاتی اور ریپ اور موت کا شکار ہوتی تو یقین ہے مجھے ایک حشر بپا ہوتا اور اس عورت کی تصویروں کے پوٹریٹ بناکر لگائے جاتے

مجھے سمجھ نہیں آرہی ، اسی لئے بار بار سوال کرتا رہتا ہوں کہ محضر زھرا بھی اسکول جاتے ہوئے اپنے باپ کے ساتھ دہشت گردوں کا نشانہ بنی تھی جس میں اس کا باپ مارا گیا تھا ، آج کی سلمی ، جمیلہ اور غوثیہ بھی عورتیں ہی ہیں اور وہ چار ہزارہ بھی عورتیں ہی تھیں جن کو بس میں الگ سے شناخت کرکے مارا گیا تھا ، ان عورتوں اور بچیوں کا مارا جانا اتنا بڑا واقعہ کیوں نہیں مانا جا رہا جتنا بڑا واقعہ ملالہ پہ حملے کو مانا گیا تھا یا جتنے بڑے پیمانے پہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے صا‏ئمہ ارشد کی پسند کی شادی پہ عبدالوحید روپڑی ملّا کے خلاف تحریک چلائی تھی- مجھے لگتا ہے کہ اگر صائمہ شیعہ ہوگئی ہوتی اور اس کا شوہر شیعہ ہوتا تو اسے کسی ” عاصمہ جہانگیر ” کو تلاش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا-اور میں جب ایسے سوال بار بار اٹھاتا ہوں تو مجھے مرے مارکسی دوست ہی شک کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں-گزشتہ سال جب میں کراچی میں تھا تو مرے مارکسی دوست کامریڈ ریاض نے مجھے کہا، ” اب میں صف کامریڈیان میں واحد مارکسسٹ ہوں جو ابھی تک تمہیں مارکسسٹ سمجھتا ہوں ، باقی سب دوستوں کی نظر میں تم شیعہ ہو” –حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں گزشتہ پانچ سالوں سے جتنی شدومد سے شیعہ نسل کشی پہ آواز اٹھا رہا ہوں ،اتنی ہی شد مد سے بلکہ بہت طاقتور بیانیہ کے ساتھ میں بلوچ نسل کشی پہ بھی آواز اٹھا رہا ہوں ، اتنی طاقتور آواز کہ مجھ سے کئی پنجاب اور کراچی سے تعلق رکھنے والوں نے پوچھا کہ آپ بلوچ ہیں؟لیکن مرے کسی کامریڈ دوست نے اس آواز اٹھانے پہ مجھے قوم پرست ، نسل پرست ، شاؤنسٹ تو نہیں کہا مگر شیعہ کے حق میں آواز اٹھانے پہ مجھے شیعہ کیوں کہا جارہا ہے-اگر کسی مارکسسٹ کی ایک شناخت اس کے باپ کی مذہبی شناخت سے بنتی ہے تو پھر مرے والد اہلسنت ہیں ، مرے بھائی اہلسسنت ہیں ، مرے والد کے سبھی چچا سنّی تھے بلکہ وہ سب کے سب جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کے خادمین میں سے ہیں اور تو اور مرے ارد گرد اتنی زیادہ سنّی شناختیں ہیں کہ مجھے یہ الزام دینا بنتا ہی نہیں ہے کہ میں کامریڈ سے شیعہ ہوگیا-لیکن اس کے پیچھے مرے ان کامریڈ دوستوں کے اپنے خوف اور اندیشے چھپے ہیں-یہ اموی کامریڈوں سے خوف کھاتے ہیں جن کے پاس مولویوں کی طرح کسی کو مارکسسٹ قرار دینے یا اس صف سے خارج کرنے کے فتوے دینے کی اتھارٹی موجود ہے اور وہ یہ فتوے ہر اس آدمی کے بارے میں تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں جو ان کی طرح شیعہ کے قاتلوں کی شناخت چھپانے سے انکاری ہوجاتا ہے-یہ اس کمرشل لبرل مافیا سے بھی خوفزدہ ہیں جو شیعہ نسل کشی کو سعودی-ایران یا شیعہ-سنّی چوکھٹے میں رکھ کر نہ دیکھنے والے کو سیکولر ،لبرل ماننے کی بجائے فرقہ پرست قرار دے ڈالنے کی اتھارٹی سے سرفراز ہیں-اب تو حالت یہ ہے کہ مری بلوچ نسل کشی پہ اٹھنے والی مسلسل آوازوں کے جواب میں کسی کامریڈ کو مرے لئے تعریفی جملہ بھی لکھنا پڑجائے تو وہ مجھے “لال سلام ” کہنے کی بجائے ، ایک مذہبی دعا سے سرفراز کرتا ہے حالانکہ یہ دعا اس کے ہاں کسی طرح کے کوئی معنی نہیں رکھتی ” مولا حسین آپ کو درجات رفیعہ پہ فائز کریں “

بات بہت دور نکل جائے گی لیکن میں یہاں ایک اور بات سے اپنی وضاحت کروں گا ، شیما کرمانی نے پاکستان میں رقص کے خلاف چلنے والی مہم کے خلاف اور ان سے کراچی یونیورسٹی میں ہوئی بدسلوکی کے خلاف کراچی پریس کلب میں ایک پروگرام کیا اور اس میں ایسے بہت سے سیکولر،لبرل ، مارکسسٹ لوگ شریک ہوئے جن کو براہ راست دعوت نہیں ملی تھی اور انھوں نے اس پہ سوشل میڈیا پہ کنٹری بیوٹ بھی کیا-یہ بہت اچھی بات ہے کہ فسطائیت کے رقص پہ حملے کے خلاف اپنا ردعمل دیا جائے لیکن ایسے کئی لوگ شیعہ نسل کشی پہ وہ ردعمل نہیں دیتے جو انھوں نے رقص پہ حملے پہ دیا-کیا میں یہ سمجھ لوں کہ شیما کرمانی اور دوسرے دوستوں کے نزدیک تکفیری فسطائیت کا شیعہ کمیونٹی کی نسل کشی کرنا اتنا بڑا معاملہ نہیں ہے جتنا بڑا معاملہ رقص پہ حملہ آور ہونا ہے-کتنی عجیب بات لگتی ہے کہ شیعہ نسل کشی کی زمہ دار تکفیریت کے نظریہ سازوں کو کٹہرے میں لانے کی بجائے ، شیعہ نسل کشی پہ بولنے اور لکھنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے،اور اس حوالے سے دوھرے معیار مسلسل روا رکھے جارہے ہیں

 

injured-child-in-imambargah2

injured-child-in-imambargah

 

 

آٹھواں خط

couple-painting

،پیاری ساری

کسی ادیب نے اپنی دوست کو خطوط کی بارش کے دوران ایک خط میں لکھا تھا کہ اسے خط کے آغاز میں بار بار اس کے نام سے پہلے یہ لفظ “پیاری ” لکھنا اووڈ اور آکورڈ لگتا ہے تو وہ اسے ترک کررہا ہے-لیکن مجھے ایسا بالکل بھی نہیں لگتا-میں اسے لکھے بغیر آگے جا ہی نہیں پاتا لیکن میں تم سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ اس لفظ سے ٹھیک ٹھیک مری مراد کیا ہے،یہ میں تمہیں وضاحت سے بتا نہیں پاؤں گا بلکہ شاید اس لفظ کی معنویت پہ بات سے ہی قاصر رہوں-تم نے ایک دن پہلے فیس بک میسنجر میں مجھے ایک نظم بھیجی تھی – “اب سمجھ میں آتا ہے ” –ایسا کیوں ہوتا ہے کہ زندگی کے تجربات کے دوران ہمیں کئی بار لگتا ہےکہ “اب سمجھ میں آتا ہے ” اور ہر بار کچھ عرصہ بیت جانے کے بعد کوئی اور بات سمجھ میں آجاتی ہے اور ہم پھر کہتے ہیں ” اب سمجھ میں آتا ہے” – ایسا کیوں ہے؟ہمیں لفظوں اور جملوں میں حتمیت سے اس قدر لگاؤ کیوں ہوجاتا ہے اور ہم آخری اور حتمی بات کرنے کے اتنے خوگر کیوں ہوتے ہیں؟یہ سوال مجھے پریشان کرتا رہتا ہے،ایک مرتبہ تم نے کہا تھا کہ بہت سے لکھنے والوں اور لکھنے والیوں کے پاس جاکر تم نے دیکھا تو اپنے متن سے وہ بالکل اگر نہیں تو کافی محتلف نظر آئے اور جو پیکر تم نے ان کے متن کے اندر سے ان کے تراشے تھے ،وہ تمہیں نہیں ملے-ابھی کل کی بات ہے تم نے اروشی کو دیکھا کہ وہ مردوں کی اندرون زات کی تلاش ان کے لکھے ادب کے اندر کرنے کی بات کررہی تھی تو میں نے لکھا تھا کہ مردوں کے اندر کی تلاش ان کے لکھے ادب کے اندر کرنے سے گمراہی اور بڑھ جاتی ہے اور اندھیرا اور گہرا ہوجاتا ہے تو تم نے فوری کہا تھا کہ ایسا ہی ہے،مجھے لگا کہ یہ عمومی جملہ شاید تم نے مرے بارے میں بولا ہے تو میں نے اندر کے چور کو چھپانے کے لئے اپنے کہے میں اتنی سی ترمیم کی کہ ہاں یہ ادب کچھ کلیوز ہمیں مردوں کے اندر کی زات بارے دے ڈالتا ہے-لیکن کیا مردوں کا لکھا ادب اور ان کے متون ہی گمراہ کن ہوتے ہیں؟ کیا وہی متون ان کے اندرون تک ہماری رسائی ممکن نہیں بناتے؟ کیا عورتوں کے لکھے متون اور ادب بھی ایسا ہی کچھ نہیں کرتا؟اور تم نے مرے گزشتہ خط میں ریلشن شپ میں آخری فیصلہ مردوں کی جانب سے سنائے جانے اور الزام عورتوں کو دئے جانے کے بارے ميں کہا “یہ جملے بھی ایک اور طرح سے عورتوں کو لبھائے جانے کا پرفریب طریقہ ہیں-اور تم دراصل ایسے اچھے بنکر مجھ پہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہو کہ ریلشن شپ کے باب میں تم اور مردوں کی طرح نہیں ہو،اور میں یہ سب سمجھنے کے بعد بھی ریلشن شپ کے باب میں تم سے دور نہیں ہورہی ہوں،تم دوسرے مردوں کی طرح ہی ہو یہ سمجھنے کے لئے مری محبت تیار نہیں ہے،ہوسکتا ہے کل کوئی ایسا لمحہ آجائے کہ میں تم سے شدید نفرت کرنے لگوں تو اس وقت اپنی اس سمجھ کو لفظوں کا روپ دے ڈالوں، یہ ایسے ہی ہے جیسے کل ایک مرد ادیب نے لکھا کہ کثرت ازواج ایک لعنت اور عورتوں کو غلام بنانے کی رسم ہے-اور جب اس سے کسی نے پوچھا کہ وہ جنسی آزادی کا قائل ہے اور بیک وقت کئی عورتوں سے یہ تعلق استوار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا تو پھر ایک مرد کے چار عورتوں سے نکاح پہ اسے اعتراض کیوں ہے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ جنسی تعلقات کی آزادی میں مرد و عورت ایک دوسرے پہ کوئی پابندی عائد نہیں کرتے، لیکن کیا واقعی یہ آزادانہ اور جبر سے بالکل نجات پایا تعلق ہوتا ہے؟لیکن مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ بھی عورت کو لبھانے اور اس سے تسکین ڈھونڈنے کا ایک اور طریقہ ہے” تمہارے یہ الفاظ کسی اور کے لئے ایف آئی آر ہوں نا ہوں لیکن مجھے اپنے خلاف ایک ایف آئی آر ضرور لگتے ہیں-سوشل ميڈیا پہ عورتوں کی آزادی کا زور و شور سے ڈھونڈرا پیٹنے والے اور اس کے خلاف تلواریں سونت کر اخلاقیات و مذہب کی راگنیاں زور زور سے گانے والے دونوں کا ہدف آخر میں اس وقت اپنے فوکس میں آئی عورت کے بدن کو اپنے تصرف میں لانا ہی ہے،اف۔۔۔۔۔۔ آخر اتنی تشکیک مرے اندر کہاں سے داخل ہوئی ہے کہ میں ٹک کر کسی ایک کیمپ کے ساتھ رہ ہی نہیں پارہا-میں دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اپنے چاہنے والوں میں سے جسے اپنے لئے چنتی ہے تو دھیرے دھیرے اس کی جانب سے اسے بس ایک مورتی کی طرح بے جان بناکر اس کے بدنپہ تصرف کرنے کے اس عمل پہ زرا معترض نہیں ہوتی جس تصرف کی کوشش پہ دوسروں کی جانب سے اسے سخت اعتراض ہوتا ہے اور وہ الزام دیتی ہے کہ اس کے چند مخصوص اعضاء کی وجہ سے اسے قابل محبت اور قابل کشش کیوں خیال کیا جارہا ہے اور اسے پرآئیویٹ مسیجز میں اس کے بارے میں اپنے اندر کے خیالات سے آکاہ کیوں کیا جارہا ہے؟آخر جس سے ریلشن ہو اس کی جانب سے کسی خاص لباس میں اور خاص پوز میں اسے دیکھ کر اسے یہ کہنا، ” آج بہت سیکسی لگ رہی ہو یا قتل کرنے پہ تلی ہو” کے جواب میں شرما جانا یا سرخ ہوجانا جیسے اظہار کیوں آتے ہیں اور یہی جملہ کسی اور مرد کی طرف سے آئے تو اسے “گندی ذہنیت ” کا مالک کہنا اور اسے اخلاقیات کا بھاشن دینا یا عورت کو کاموڈیٹی بنادینے کی باتیں کرنا کیوں ہے ؟ وہ کون سی چیز ہے جو ریلشن شپ کے اندر بدن کے خدوخال کی تعریف پہ بھڑکانے سے عورت کو باز رکھتی ہے اور عورت کو یہ بھنورا پن نہیں لگتا جبکہ اس بات کی کوئی حتمی ضمانت تو ہمارے پاس نہیں ہوتی کہ ہم سے جڑا مرد ایسے جذبات صرف ہمارے لئے ہی محسوس کرتا ہے-کسی اور کی جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوب جانے کو اس کا من نہیں کرتا یا کسی اور کے بدن کا کوئی خاص جزو اپنی کمال خوبصورتی کے ساتھ اس کے جذبات کو اتھل پتھل نہیں کرتا-اور ایک اور ضروری بات یہ کہ بریک اپ کے بعد بریک ہوا مرد یا بریک ہوئی عورت ہیجان خیز تلاطم سے گزرنے جانے کے بعد ایک دوسرے ریلشن میں جب آتا ہے یا آتی ہے تو پھر وہی سب چیزیں دوھرائی جاتی ہیں اور اس دوران بھی یہی نہیں کہا جارہا ہوتا کہ ” اب سمجھ میں آتا ہے” کیا واقعی سمجھ میں آتا ہے ؟ ڈی ایچ لارنس لیڈی چیٹرلے سے کہلواتا ہے ، ” ہمیں جینا پڑتا ہی ہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے آسمان ٹوٹ پڑے ہیں” –کیا یہی حقیقت نہیں ہے اور ہم اس وقت تک تنہائی میں جیتے ہیں جب تک ایک خلاء جو ہمیں اپنے اندر نظر آتا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ اس کائنات سے جڑے رہنے کی قیمت تنہائی ہے تو جیسے ہی وہ خلاء بھرتا ہے مرا مطلب ہے جیسے ہی ہم ایک ریلشن شپ میں آتے ہیں،ہمیں یوں لگنے لگتا ہے جیسے کائنات سے جڑے رہنے کا انعام ریلشن شپ ہے-محبت ایسا سفر ہے جو ہمیشہ دوسرے وجود کی طرف ہوتا ہے اور اس دوران جو تکالیف آتی ہیں ،ان کا آنا ایک ڈیسٹنی ہے-اور یہ سفر بار بار ہوتا رہتا ہےاور دلچسپ یا کبھی حل نہ ہونے والی پہیلی یا پزل یہ ہے کہ ایک کے بعد دوسرے ریلشن میں بریک ہوا مرد یا بریک ہوئی عورت اپنی تکالیف کا سبب بریک ہوئی عورت یا بریک ہوئے مرد کے سر منڈھتی ہے اور نئے ریلشن میں کوئی ایک کردار ترحم آمیز ہوتا ہے اور دوسرا اس کے فرض کردہ زخموں پہ مرہم رکھنے والا/والی-اور ایسے میں ہمیں بہت ہی دردمند، سادہ اور دھوکا کھاگئے درویس یا ستی ساوتری ہونے کا سودا ہوتا ہے-

پیاری ساری، مجھے یہ سب کتھا جسے میں نے بڑے ہی عالمانہ فاضلانہ ایک طرح سے “لولیکس ” یا “ریلشن شپ لیکس ” کے طور پہ یہان پیش کی ہیں ایک مبالغہ آمیز عمومیت لگتی ہیں ، میں ان کے ایک کیوریٹ یا پری سائزڈ ہونے بارے میں بھی شکوک کا شکار ہوں-لیکن اس لمحہ موجود اور اس مکان کی اس گھڑی کا ایک “سچ ” یہ بھی ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں اور اس میں اس لمحہ موجود میں مجھے زرا بھی شک لگتا نہیں ہے

فقط تمہارا

ع-ح

Struggle for Release of Missing Wahid Baloch will pave the way for release of other Enforced Missing Persons-Symposium at Irtaqa Institue Karachi –Report By Riaz Ahmad

kaleem-durrni

Kaleem Durrani General Secretary of Irtaqa Institute Karachi addressing symposium on Human Rights and Missing Persons

 

 

A symposium was organized by Irtaqa Institute for Social Sciences Karachi on 15 October, 2016. In that symposium participants expressed their concerns on issue of enforced missing people and violation of human rights in Pakistan.

 

In start General Secretary of Irtaqa Institute Kaleem Durrani presented brief introduction of Irtaqa Institute. “This institute reflects progressive point of view of intellectuals on changing situation in society. Today here are Hani Baloch and Mahin Baloch-daughters of enforced missing poet and writer Wahid Baloch- who are in constant struggle for release of her father since 26th July,2016”, he said.

 

“Their struggle once again issue of missing persons helped to bring in lime light and we pay tribute both of them for their courage and braveness. And they are both presiding over this symposium”, He added.

 

 

After inaugural speech made by Kaleem durrani, Hani Baloch made a speech. She said,” Enforced missing of our father Wahid Baloch has destroyed peace and calm of our whole house. A person who cannot see any person in pain has been missed since 26th July, 2016 and those are responsible for this missing are silent.”

 

“We are knocking doors of courts, Police stations and visiting again and again offices of lawyers but nobody is ready to hear our request. My mother are shocked and she is patient of hypertension. My grandmother is hospitalized and I could not muster up such courage to tell her truth”, she added more.

“ Here Human Right Commission for Pakistan, humanists, book lovers are not only supporting us but they are included in our struggle for release of  my Baba(Father) Wahid Baloch and other missing persons. Symposium for Missing persons from institute like Irtaqa is sign of living humanity still in our society”, Hani Baloch said during her speech.

Hani regretted that when in Latin America Museum for commemorating of period of enforced missing persons are being erected, we are raising question: Why our papa Wahid Baloch was missed? But there is nobody here to reply us and no one here to tell us about alleged crime of our father. If my father committed any crime then what should my father to do for saving his life. Lessons of peace and brotherhood are given in schools and colleges here. Is that peace not to tell whereabouts my father?  She questioned. Here are no democratic rights. I visit every place for justice but cannot find, she said.

Dr.Hafeez Jamali from Habib University said,

“Issue of missing persons has become issue of many people in Pakistan. Human rights are being violated and it is false to say that only militant Baloch people are enforced missing. Every Baloch has a missing which is either his/her class fellow or relative. Environment of fear is dominated in Baluchistan due to growing in number of missing persons. No young man in Baloch community, who do not see torture in dreams or he/she has not fear of enforced missing. When I was researching and collecting matter for my doctoral thesis then my observation was that in those days Baloch  fishermen were frightened to go Karachi or come to Gawader city because fear of missing or picking up by intelligence agencies was in their mind. Dr.Hafeez praised much Hani Baloch and Mahin Baloch for their forthcoming for release of their enforced missing father and thus brave girls helped in breaking silence on issue of missing persons.”

 

Kashmiri student Jawad said,” Every Nation living in Pakistan is target of enforced missing and this is all happening due to demand for their rights from these nations. We will have to use every democratic way including through writing, making speeches, protest to make possible release of Wahid Baloch and this release will make possible more releases of missing persons in Pakistan.

 

Sartaj Khan, member of Revolutionary Socialist organization was also there along with his other comrades. His view was that in Pakistan, from Wazirstan to Karachi masses are being targeted of state campaign for capitalist occupation. So called development is state narrative and whoever raise voice against displacement, poverty, backwardness is declared at once traitor, terrorist and agent of state enemies.

“Issue of missing persons is also linked with capitalist developmental narrative of state”, comrade Sartaj added.

 

Political worker Praim Lal criticized funded oriented and project based non-governmental sector’s approach toward such issue and said that issue of missing of Wahid Baloch is a political issue and we cannot restricted it to just non political aspect. Project based NGO’s cannot run a political movement.

 

Rahat Saeed, a progressive writer and intellectual from Karachi said,

“Movement for release of Wahid Baloch, in fact is encouraging other families of missing persons. Release of Wahid Baloch is only way to stop enforced missing of people next. Intellectuals, Poets, writers cannot see massive violation of human rights and freedom for speech in society. This is desire of those evil forces which want to divide our society. Enforced missing is not civilized way to handle with alleged crimes and to protect the country. If Wahid Baloch is involved in any anti-state activity or in any other crime then a case should be registered against him and he should be produced in court.”

 

Human rights activist Abdulhai briefed the audience in symposium about details of human right violations in Pakistan. His view was that unlawful acts like picking up people and then missing them are being taken to frighten and terrorize the people active for human rights or challenging state narrative on different issues. When government set up a commission for enforced missing persons then Supreme Court disposed of all cases of enforced missing people and now this commission is working just in papers.”

 

Blogger and writer Asim Jan said,” Baloch, Sindhi, Urdu speaking , people from Gilgit-Baltistan,Kashmir and even from Punjab tenants are being picked up and now thousands of people are missing and state actors are involved in such extra-legal and unconstitutional acts. We will have to fight against this on larger scale.

 

Prominent activist of Democratic Students Federation-DSF Naghma Sheikh stressed on all nationalists, Marxists  and democratic currents in all nations of Pakistan to become part of this movement for release of missing people in Pakistan till to achieve the target. We should adopt the message delivered by Hani Baloch today.

Baloch writer Imadad Hussain revealed worst situation of human rights in Lyari of Karachi. According to him there are thousands of residents of Lyari have been extra-Judicially killed or are now in list of enforced missing people. Mostly extra-judicial killing were of nationalist activists or political workers. People are so frightened that coaching centers have been closed. Many families were destroyed in the name of so called gang-wars. Victims are not only Baloch but some Sindhis also. He appreciated those persons and organizations who are raising voice for Wahid Baloch. He stressed on political workers and human rights activists to come Layari and collect evidences of genocide of people of Layari in Karachi. Wahid Baloch was a harmless not a celebrity but a small Baloch innocent writer and poet and he was picked up and now he is also in missing persons. In Layari such innocent children were slaughtered who ever chewed Pan along with.

Dr.Riaz Ahmad, teacher from Karachi University also made a speech in symposium. He said,

“To make people missing is to create fear among rights seeking people but when state of denial comes  from those who do all this ,it means they are also coward and frightened people. They are aware of their guilt. Along with imperialists so called mega development projects our society has been facing murderous war and this war like situation we can give alternative face through stressing on right for speech and right to hear truth and right to bear it. This is only way to combat state and non-state barbarism. We should make fast movement for release of Wahid Baloch while contacting people through media and social media and grow our contacts each to other. “