کوفہ-تیسرا حصّہ

kufa

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کوفہ شہر کے اندر سے مدینہ / مرکز کی اتھارٹی کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا-اور اس زمانے میں کسی بھی تحریک کے بہت بڑے آثار بھی واضح نہیں تھے-لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص سمیت صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی مشاورت سے سوادی زمینوں ، ان کے ساتھ ملحقہ چراگاہوں اور بیت المال سے وظائف کی تقسیم کا جو ںظام بنایا تھا،اس سے کوفہ شہر کے اندر ایک سماجی تناؤ کے آثار شروع دن سے نمایاں نظر آتے تھے-اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس تناؤ کو حل کرنے کا جو طریقہ بار بار اختیار کیا وہ کوفہ شہر کی سماجی ترکیب کا بار بار بدلاؤ تھا لیکن ہمیں کسی بھی تاریخی آثار سے اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دور خلافت کے اندر اپنے وظائف کی تقسیم اور زمینوں کی انتظام کاری کے طریقہ کار کو بدلنے کی ضرورت محسوس کی ہو-ہاں ایک قول ضرور مل گیا تھا جس کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ اگر وہ اس سال زندہ رہ گئے تو غریبوں اور امیروں میں بڑھنے والے تفاوت کو دولت کی تقسیم نو سے بدل دیں گے-لیکن اس سال ان پہ قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ اس ہی حملے میں وہ شہید ہوگئے-حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک بات تو طے ہے جس کی جانب ابتدائی تاریخی آثار اور کوفہ پہ کی جانے والی اسٹڈیز بھی یہ اشارہ دیتی ہیں کہ ان میں کوفہ کے اندر قریشی اور دیگر قبائل کی ایک اشرافیہ ضرور سامنے آگئی تھی جسے کوئی ” ابتدائی عرب اشرافیہ ” یا اشرافیہ اہل الایام القادسیہ کہتا ہے –محمد جمال الدین سرور اپنی کتاب ‘ الحیاۃ السیاسیہ فی دولۃ العربیۃ الاسلامیۃ ‘ جولیس ویلہاسن ‘دی ریلیجو-پولیٹکل فیکشنز ان ارلی اسلام ” ، ایڈرائن بروکٹ ‘ دی کمیونٹی ڈیوائیڈڈ ‘ میں اور مارٹن ہنڈز نے ‘ دی الائنمنٹ ۔۔۔۔۔’ میں ابتدائی عرب قبائلی اشراف کے ابھار اور ان کے کوفہ کی کمزور قبائلی اور نو مسلم کمیونٹی سے تضاد کی جانب اشارہ کیا ہے اور عرب قبائلی اشراف کے اندر بھی ایسے لوگ موجود تھے جن کا دامن بہت پاک صاف تھا اور ان کی پرہیز گاری بھی بہت نمایاں تھی اور وہ شیخین کریمین کے طرز سیاست سے مطمئن تھے مگر ان کے ہاں عرب قریشی قبائلی اشرافیہ کی نخوت اور ان کے تعصب و عصبت بارے ایک ناراضگی پائی جاتی تھی-کوفہ کے یہ قبائلی معززین جن میں کئی نامور صحابہ کرام ، تابعین بھی موجود تھے ان کو ایک دو مورخین نے ‘ نیک پرہیز گار کوفی اشراف ” کا نام بھی دیا ہے اور ان کو کئی ایک نے ” کوفی اہل قراء ” کا نام بھی دیا ہے-بلکہ کئی ایک مورخین نے کوفہ ، بصرہ ، موصل سمیت عراق/میسوپوٹیمیا میں اس گروہ کے موجود ہونے اور پھیلے ہونے کے آثار کی جانب بھی اشارہ کیا ہے-اور یہ اہل قراء اور پرہیز گار کوفہ و بصرہ و مصر میں مقیم لوگ تھے جنھوں نے بعد ازاں دور ‏عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ میں بڑی سماجی مزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھی –اگرچہ اس میں بعد ازاں کئی اور سماجی گروہ شامل ہوگئے- اور کوفہ کے اندر یہی لوگ ‘سماجی تبدیلی کی تحریک ‘ کے ہر اول دستہ کے طور پہ جانے پہچانے گئے-ان میں حجر الکندی کا نام بہت نمایاں ہے- دوسرا نام مالک الاشتر کا ہے جو نخع عرب قبیلے سے تعلق رکھتے تھے امام اعظم ابوحنیفہ کے استاد ابراہیم نخعی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا –حصرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں کوفہ میں جو قریشی عرب اشراف تھے ان کے اندر اموی اور ان کے اتحادیوں کا غلبہ بتدریج بڑھنا شروع ہوگیا-حضرت سعد بن ابی وقاص پہلے گورنر مغیرہ بن شعبہ کی جگہ بنائے گئے اور پھر جب ان کا حضرت عبداللہ بن مسعود کا اختلاف پیدا ہوا تو حصرت سعد بن ابی وقاص کی جگہ ولید بن عقبہ کو گورنر کوفہ لگادیا گیا اور عبداللہ بن مسعود کو بھی بیت المال کے نگران سے ہٹادیا گیا-حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مالیاتی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی یہ کی کہ انہوں نے ایڈمنسٹریشن اور فنانس دونوں کا کلّی نگران گورنرز کو بناڈالا اور گورنر بھی اکثر ان کے رشتہ دار اور اموی ہونے لگے-پھر انھوں نے یہ بھی کیا کہ فتوحات سے حاصل ہونے والے مال غنمیت پہ پہلا حق انہوں نے گورنرز کا رکھ دیا-رے ، آزربائیجان اور خراسان کی فتوحات سے عراق ، مصر اور شام کے گورنرز کی مالیاتی طاقت میں خوب اضافہ ہوا –کوفہ شہر کی سماجی ترکیب میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونی شروع ہوگئی تھیں اور اسلام قبول کرنے والے نو مسلموں جن میں زیادہ تر فارسی تھے کا اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور اس حوالے سے غیر مسلموں سے جو ٹیکسز وصول کئے جاتے تھے ان میں کمی آنے لگی اور اس کمی کو مزید ٹیکسوں کے زریعہ سے پوری کرنے کی کوشش کی گئی –دارالامارہ یعنی گورنر ہاؤس کی شان وشوکت اور طاقت میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا-اور اموی گورنر کی کوفہ کی قبائلی عرب اشرافیہ سے گہرے گٹھ جوڑ نے کوفہ کے اندر بڑی سماجی بے چینی کو پیدا کردیا-مارٹن ہنڈز  کا مقالہ  “دی مرڈر آف دی کیلف ‏عثمان ” جو کہ دی جرنل آف مڈل ایسٹ اسٹڈیز جلد 3 شمارہ نمبر 4 اکتوبر 1972ء میں شایع ہوا ،اس معاملے پہ گہری روشنی ڈالتا ہے-اڈرائن بروکٹ کی کمیونٹی ڈیوائیڈڈ اور کینڈی کی “دی پرافٹ ” بھی اس حوالے سے ہماری مدد کرتی ہے-مرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں جو ایک بڑی سماجی تبدیلی کی لہر اٹھی اور اس کے نتیجے میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت جیسا المناک واقعہ بھی پیش آیا ، اس سماجی تحریک کے کوفہ کے کئی بڑے کردار بعد ازاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھی ، رفقاء اور پیرو بنے –اور کوفہ میں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے رفقاء ، پیرو اور ساتھی بنے ان سب کے لئے ایک ہی اصطلاح تاریخ نے وضع کی اور وہ تھی ‘شیعان علی ‘ کی –کوفہ میں اگر ہم تاریخی ماخذ کا مطالعہ کریں تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھیوں کی اکثریت کو ہم ‘سیاسی شیعہ ‘ کہہ سکتے ہیں –یعنی وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ چہارم برحق مانتے تھے اور ان میں کئی ایک بھی یقینی بات ہے تھے جن کو ہم آج کی اصطلاح میں تفضیلی شیعہ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن ان لوگوں کی اکثریت کے ہاں امامت و خلافت کا عقیدہ وہ نہیں تھا جسے ہم بعد ازاں ایک مربوط اور مضبوط طریقے سے شیعہ امامیہ کے ہاں پاتے ہیں-لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کوفہ میں حامیوں میں امامی نظریہ کا قائل ان کی حیات طیبہ میں کوئی نہ تھا-کوفہ میں ہم عمار یاسر ، حجر الکندی ، ابوطفیل عامر واثلہ ، مالک الاشتر ، سلمان فارسی ، زید بن حارثہ سمیت کئی ایک کے بارے میں یہ غالب امکان رکھ سکتے ہیں کہ یہ امامت کے اس نظریہ کے قائل تھے جو بعد ازاں امام باقر اور امام جعفر صادق کے زمانے میں ایک مربوط طریقے اور و منضبط طریقے سے سامنے آیا اور مذہب امامیہ کی بنیاد اس پہ استوار ہوئی –کوفہ میں ، بصرہ میں ، حجاز میں ، مصر کے اندر ‘پروٹو سنّی ‘ ( اس لئے کہ اس زمانے تک سنّی اور شیعہ دو الگ الگ واضح ، مربوط مکتبہ فکر کی شکل میں سامنے نہیں آئے تھے ،اس لئے اس زمانے میں جن کے لئے ہم پروٹو سنّی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، اس سے مراد وہ لوگ ہوں گے جن کا رجحان تفضیل کے باب میں ترتیب خلافت کے لحاظ سے تھا ) کی اکثریت نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ چہارم تسلیم کیا اور ان کے خلاف جانے والوں کا ساتھ نہ دیا-امویوں کو چھوڑ کر یہ پروٹو سنّی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل عثمان رضی اللہ عنہ کا دوش نہیں دیتے تھے-مدینہ اور مکّہ سے جن اصحاب نے بصرہ جاکر جنگ جمل کی لڑائی لڑی ان میں سے اکثر کے اس فعل پہ پشیمان ہونے کے اقوال بھی تاریخ کا حصّہ ہیں- پروٹو سنّی اور پروٹو شیعہ کمیونٹی کوفہ کے اندر جو موجود تھی اس کے ساتھ ساتھ باقی بلاد اسلامیہ کے اندر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ایک خوارج کا کیمپ اور ایک اموی کیمپ ایسا تھا جس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پیروان اور ان کے ساتھیوں کی تاریخ مسخ کرنے اور ان کے حامیوں کی ساری کی ساری تعداد کو منفی انداز میں پیش کرنے کی ایک منظم کوشش کی –اس حوالے سے لڈوگ پیٹر سن کی ایک کتاب ‘ علی اینڈ معاویہ ان ارلی عربک ٹریڈیشن : اسٹڈیز آن دی جینسسس اینڈ گروتھ آف اسلامی ہسٹاریکل رائٹنگ فرام فرسٹ سنچری ‘بہت اہم ہے اور ایک اور کتاب ‘ ایولوشن اینڈ گروتھ آف سیک ٹیرین ازم ان عراق ‘ بھی کافی اہمیت کی حامل ہے- کوفہ کے بارے میں یہ منفی رحجان دراصل حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سبھی حامیوں کے بارے میں ایک منفی منظم پروپیگنڈا مہم میں بدل گیا اور اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سیاسی اور مذہبی دونوں جدوجہد کو شدید متاثر کیا –لفظ شیعہ کو ایک گالی میں بدلنے کا منظم پروپیگنڈا کیا گیا-محمد جوادمغنیہ کی ‘ الشیعہ والحاکمون ‘ مطبوعہ مکتبہ جواد بیروت اور محمد بحرالعلوم کی لسان حق و رمز فدا بہت ہی زبردست تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتی ہے-اگر آپ بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں لکھی جانے والی اکثر کتب کو دیکھیں تو وہان پہ شیعہ لفظ کو ہی ایک ‘گمراہ یا کافر ‘ ہوجانے والے پیرائے میں استعمال کیا جاتا رہا ہے اور بہت کم لوگ ہیں جنھوں نے اس لفظ سے جڑے مثبت اور تحسین کے معانی اور مفاہیم کی جانب توجہ کی ہو-اور پروٹو سنّی فیز کے سبھی سنّیوں کو زبردستی اموی کیمپ میں دھکیلے جانے کی کوشش نظر آتی ہے-ایک طرف کوفہ کے اہل علم فقہا ، مفسرین ، محدثین ، ماہرین اسماء الرجال کی ایک لمبی فہرست ہے جن کی عظمت کے بارے میں ہمیں مسلم کتب میں جابجا بکھرے تعریفی فقرے ملتے ہیں لیکن جیسے ہی کوفہ شہر اور اس کی سیاسی سرگرمیوں کا زکر آتا ہے تو اس شہر کے خلاف زیادہ تر منفی رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور اس پورے شہر کی سب سے بڑی سیاسی وابستگی یعنی علویت کو دھندلا دیا جاتا ہے-آج جبکہ مڈل ایسٹ ایک بڑے سیاسی خلفشار کا شکار ہے اور سعودی وہابی پروپیگنڈا ‘سنی اسلام ‘ کے نام سے پوری دنیا میں پھیلایا جارہا ہے تو اس کے زیر اثر کوفہ کے بارے میں منفی مہم اور تیز ہے اور ان اہل سنت کو رد کردیا جاتا ہے جو پروٹو سنّی فیز میں سنّی اسلام کے موقف کا ٹھیک ٹھیک اظہار کرتے ہیں اور اموی تعبیر کو رد کرتے ہیں-کوفہ اس حوالے سے بہت اہم شہر ہے کہ اس نے دور جاہلیت اور ماقبل اسلام کی قبائلیت کے نطم اور آڈر کو بحال کرنے کی کوشش کے خلاف سب سے پہلے آواز اٹھائی اور مزاحمت شروع کی-اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جب اپنے ساتھیوں سمیت کوفہ میں آکر ٹھہرے تو انہوں نے قبائلی اشرافیت کے حق میں جانے والی ایڈمنٹریٹو تقسیم کو بدلنے اور اس کی جگہ اس ابتدائی جمہوری نظم کو بحال کرنے کی کوشش کی جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی نظر میں حقیقی روح تھی نظام عدل اور حکومت کی –اور اس کے لئے انھیں کوفہ کے ریڈیکل اور نیک و پرہیز گار کہلانے والی ایک بڑی اکثریت کی حمایت حاصل تھی –

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s