ساری کے نام تیسرا خط

schizophrenia_by_molotovgtm-d6meysg

پیاری ساری

میں کل پیرس آیا ہوں ، یہ خط پیرس کی اس گلی میں اس فلیٹ سے بیٹھ کر لکھ رہا ہوں جہاں کبھی بلانک نے محنت کشوں کی آمریت کا خواب دیکھا تھا –لیکن کیا تم مانوگی کہ اب اس فلیٹ میں ایک ایسا شخص رہتا ہے جس کے کمرے میں سیاہ عمامہ باندھے ایک ایسے آدمی کی بڑی سی تصویر لگی ہے ،جسے یہ شخص امیر المومنین کہتا ہے اور اس نے مجھے اپنے فلیٹ میں پئے انگ گیسٹ کے طور پہ ٹھہرانے سے پہلے پوچھا کہ “میں سنّی ہوں کہ شیعہ یا صوفی ” میں نے اسے کہا کہ میں ‘سلفی ‘ ہوں –سنکر بہت خوش ہوا-اصل میں تم  یاد آگئیں تھیں اور تمہارے سلفی اباّ اور بھائی –میں نے سوچا اس تھوڑی سی دل لگی سے مرا کیا بگڑے جائے گا –اس نے مری کئی ماہ کی بڑھی ہوئی شیو کو بتدریج بڑھتی ہوئی داڑھی خیال کرلیا-کل میں نے اس سے پوچھا کہ صوفی سے کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگا کہ علم ان صوفیوں کا قبرستان ہوا کرتا ہے-اور ہم ان کو اسی کی مار دیتے ہیں-گزشتہ خط کا جواب تمہارے ہاں سے مجھے تاحال موصول نہیں ہوا-نیا پتا بھیج رہا ہوں اگر جواب دینا چاہو تو اس پہ خط بھیج دینا-ویسے تمہارے جواب نہ آنے کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ تمہارا من مردہ شانتی سے بھرگیا ہو اور ایسے میں کچھ لکھنا کارے دارد ہوتا ہے-میں آپ بھی جب شانت ہونے جیسی مردنی سے گزرتا ہوں تو لکھنے کے قریب بھی نہین جاتا-ایسے میں خواب ہی مرجاتے ہیں تو تعبیر کیا تلاش کی جائے-ویسے مجھے لگتا ہے کہ تم ابھی بھی جاب کی تلاش میں ہو-نوکری کرنے کی چاہ ہوا نہیں کرتی بلکہ یہ سرمائے کی گندگی ہے جس میں لتھڑے بغیر پیٹ کا جہنم سرد نہیں ہوتا-میں تمہارے لئے ابھی تک کوئی صوفی باصفا لڑکا تلاش نہیں کرپایا-ایسا لڑکا کہیں موجود بھی ہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو مجھے پریشان کرتا رہتا ہے-اور پھر مرے اندر جو تمہاری طلب ہے ، پیاس ہے وہ بھی مجھے ایسا کوئی لڑکا تلاش کرنے سے روکتی رہتی ہے-کل تم نے کافی کمنٹس فیس بک پہ کئے ہوئے تھے ،اس لڑکے کی وال پہ جو دیکھنے میں مجھے کوئی صوفی ہی لگتا ہے-کیا تم اس کی جانب کشش محسوس کرتی ہو؟اگر معاملہ مردہ شانتی سے بھرجانے کا نہیں ہے تو پھر شاید تم مری جانب سے خط میں مضامین کی یکسانیت سے اکتاتی جاتی ہو-اور تمہیں اذیت ہوتی ہے-لیکن مرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا- ہم اکثر اپنے چاہنے والوں کو یونہی مبتلائے آزار کرجاتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی-

تم نے مجھے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ تمہارے اندر جہنم کدے سے فرار کی تمنا ہے –لیکن پھر اس جہنم سے فرار ہونے میں کیا شئے تمہارے آڑے آتی ہے؟مجھے تمہارے اندر کا وہ بوہیمن بیدار دیکھنا ہے جو تمہیں اس چھت کے اندر پیدا ہوئے احساس بےگھری سے نجات دے –لکھنے کی اذیت میں مبتلا ہونا کوئی اذیت نہیں ہوا کرتی-قلم اٹھاؤ اور کچھ سطریں لکھ ڈالو

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s