ساری کے نام دوسرا خط

daughters-of-wahid-baloch

پیاری ساری

حبس جو دو دن اور ایک رات سے یہاں مسلسل دم گھونٹے دے رہا تھا ، ہوا کے چلنے سے کچھ دیر کو غائب ہوگیا ہے-ظاہر ہے یہ غیاب عارضی ہے –اور میں اسی غیاب میں ہوا کے چلنے کی خوشی منانے بیٹھا ہوں، یعنی تمہیں خط لکھنے جارہا ہوں-لیکن اس سے پہلے میں نے ایک خبر فائل کی ہے –خبر کچھ یوں ہے کہ دو پشتون شیعہ نوجوانوں کو حسن ابدال میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا ہے-اندر کا حبس اور بڑھ گیا ہے  –

یہ کوئی حادثہ ہی ہے کہ میں اکتوبر کے اس مہینے میں ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ یہاں اس پردیس میں حبس کو برداشت کررہا ہوں-اگرچہ یہ پردیس اتنا بھی پردیس نہیں ہے مگر مجھے تھوڑا سا پردیسی پن اچھا لگتا ہے-تم سے میں تاحال ملا نہیں ہوں مگر بہت سی فنتاسی میں نے پیدا کرلی ہیں-ان فنتاسی میں ہماری ہر ملاقات بس تھوڑی دیر کی ہی ہے مگر یہ ملاقاتیں ناقابل فراموش نہیں ہیں-مرا تاثر ہوسکتا ہے ٹھیک ہو کہ تم نے بھی اس شہر کی اجنبیت سے لطف اٹھایا ہے ،اگرچہ ہماری فنتاسی میں حالات دگرگوں تھے اتنے کہ یہ لطف تھوڑا پھیکا پڑگیا تھا-لیکن کیا شہر کی اجنبیت اور پردیسی پن سے بالذات لطف لیا جاسکتا ہے ؟ کیا تم اجنبیت کو اجنبیت کے طور پہ لیکر لطف اٹھاسکتی ہو؟اگر ایسا ہے تو یہ ایک برا شگون ہوسکتا ہے-ایسا براشگون جس میں لطف اندوزی آخرکار موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے-اس اجنبی شہر میں ،میں بالکل ٹھیک رہ رہا ہوں(اور کیا کہوں تمہی بتاؤ )-میں اب کمرے سے زیادہ باہر نہیں نکلتا –مرے کمرے کے باہر بالکونی بھی سامنے باغیچے کے جھاڑ جھنکاڑ میں ڈوب گئی ہے-سبزہ بہت بڑھ چکا ہے-اور جنگلی خودرو پھول آہستہ آہستہ کھلتے ہیں مگر ان کے رنگ کالے اورنیچے ٹپ ٹپ کرتا سرخ پانی ہے-نر اور مادی کاگاں روز ملن کو آتے ہیں اور مرے کمرے کی کھڑکی کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر کائیں کائیں کرتے ہیں-تم مری فنتاسی میں بھی نیم خاموش رہتی ہو-جبکہ میں تم سے کئی چیزیں شئیر کرنا چاہتا ہوں –یہاں اس مغربی شہر میں مغربیت ناپید تو نہیں مگر مغلوب ہوتی جارہی ہے-بڑی بڑی داڑھیوں والے پیزا اور برگر یہودیوں کی شاپس سے خرید کر شوق سے کھاتے ہوئے یہود و نصاری کے خلاف ‘الجہاد ،الجہاد ‘کے نعرے بلند کرتے ہیں اور وہابی شریعت مانگتے ہیں -یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو ایسے نعروں کو آزادی اظہار کہتے ہیں  انہوں نے  حبس کو قبول کرلیا ہے اور مجھے ان کے درمیان سانس لینے میں دشواری ہے-تمہارے اور مرے تعلق میں قربت باہم ایسی ہے جیسے ایک تمثال اور اس کے معانی میں ہوا کرتی ہے-لیکن یہ قربت مرے اندر ایسے داخل ہوتی ہے جیسے کوئی خنجر پیچھے سے پشت میں اتار دے –تمہیں میں نے کل ایک تصویر بھیجی تھی ،اس تصویر میں تین نوجوان لڑکیاں کھڑی ہیں، یہ گم ہوگئے ایک ایسے بلوچ کی بیٹیاں ہیں جن کو کل میں نے بہادر بیٹیوں کا خطاب دیا تو ان میں سے ایک بیٹی ہانی بلوچ نے مجھے یہ کہہ کر لاجواب کردیا ، “میں بہادر بیٹی ہوتی تو اپنے بابا کو ڈھونڈ نہ لاتی ، نجانے کس جادو نگری میں ریاست کے دیو نے مرے بابا کو قید کررکھا ہے “

فقظ تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s