ساری کے نام چوتھا خط

biopolarcovernihcrop

 

 

پیاری ساری ،

شکر ہے تم نے اپنی خاموشی توڑ دی اور چند سطروں پہ مشتمل ایک خط مجھے روانہ کیا-ساری! تمہیں یاد ہے کہ جب تم اور میں پہلی مرتبہ فیس بک پہ متعارف ہوئے تھے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہ تم ہمیشہ بائی پولر ڈس آڈر ، ڈپریشن ، ناتمام اداسی بارے پوسٹیں کیوں کرتی رہتی ہو تو تم نے کہا تھا ،”کیونکہ میں خود اس ڈس آڈر کا شکار ہوں ” –پھر اس کے بعد میں مسلسل تم میں کشش محسوس کرتا رہا-اور اکثر اپنی فرسٹریشن کا اظہار بھی تم سے کیا کرتا تھا-ہم جب بھی چیٹ کرتے تو خاتمہ لڑائی بھڑائی پہ ہوتا-اور ایک دن تو تم نے مجھے کہہ ہی دیا ،”مجھ سے کہیں زیادہ بائی پولر ڈس آڈر کے شکار تو تم خود ہو ” تم سوچ رہی ہوں گی کہ مجھے یہ سب کیوں یاد آرہا ہے-اصل میں آج یونہی کیفے ڈی پھونس میں مجھے رباب مل گئی اور اس کی بیٹی بھی ساتھ تھی-خاصی خوش لگ رہی تھی-اس نے مجھے رازداری سے بتایا کہ “ساری” بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہے-میں یہ سنکر ہنس پڑا تھا-ایک بے چین دماغ اس طرح کی کیفت کا شکار ہوکر کی خلاقیت اور تخلیق کی طرف متوجہ ہوتا ہے-مہان دانشور ، صوفی ، سادھو ،فلسفی اور ادیبوں کے ہاں وفور تخلیقیت کو باہر سے کھڑے تماشہ دیکھنے والے بائی پولر ڈس آڈر خیال کرلیتے ہیں-اور آخری وقت تک انھیں نابغہ لوگوں کی دانائی جنونیت اور سائیکوپیتھ لگتی ہے-تم نے مجھے بتایا تھا کہ ان دنوں تم ولہم رائخ کی کتاب ‘سائيکالوجی آف فاشزم ‘ پڑھ رہی ہو اور تم نے پردیس میں ولہم رائخ کی قبر دیکھی ہے-تو سنو!میں نے بھی یہاں پیرس میں ولہم ریخ کی زندگی پہ مشتمل ایک کتاب ” فیوری آن ارتھ: این آٹوبائیوگرافی آف ولہم رائخ ” خرید کی ہے-آج جب میں اس کتاب کو پڑھ رہا تھا تو مجھے پتا چلا کہ ولہم ریخ کی وفات پہ کسی ایک سائیکالوجی کے جریدے نے تعزیتی نوٹ نہیں لکھا-اور بڑے اخبارات نے چپ سادھ لی –تمہیں پتا ہی ہوگا کہ اس کےخلاف خود ماہرین نفسیات کی ایسوسی ایشن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو درخواست جس کا نتیجہ ولہم رائخ کو جیل کی صورت بھگتنا پڑا اور وہیں اس کی موت ہوگئی –ولہم رائخ مذہبی پنڈٹوں اور پیشواؤں سے ایسا باغی تھا کہ اس نے اپنی وصیت میں لکھا کہ اس کے جنازے کی رسومات انتہائی سادگی سے ادا کی جائیں اور جنازے میں میں ” ایو ماریہ ” گیت گایا جائے جسے ماریہ اینڈرسن نے گایا اور یہ وصیت بھی مذہب کے ٹھیکے داروں کو غصّہ دلانے والی تھی-

ساری! ہم جس مذہب ، قبیلے اور کمیونٹی میں جنم لیتے ہیں ، اس کمیونٹی ،مذہب اور قبیلے کے لوگوں کی طرح سٹیٹس کو سے پیار کئے جانا اور ان کی راہ پہ چلتے جانا کوئی ڈس آڈر لیکر نہیں آتا اور کسی کو اس میں خرابی نظر نہیں آتی –اور بھلا میں تمہیں یہ سب کیسے اچھی طرح سے بتاسکتا ہوں-تم تو خود اس تبدیلی کے عمل سے گزری ہو-تم نے مجھے بتایا تھا کہ کیسے ایک کنورٹ لڑکی نے تمہیں کنورٹ ہونے میں مدد کی تھی جس کا بھائی اسے پرانی روش سے ہٹ جانے پہ راندہ درگاہ سمجھتا تھا-کنورٹ ہونا تنہا ہونے کی پہلی علامت ہوتا ہے-اور ہمارے سماج میں تو تبدیلی کی راہ پہ چلنا ‘آ بیل مجھے مار ‘ سے بھی کہیں آگے کی چیز ہوتا ہے-سماج کا وہ قبیلہ ، وہ کمیونٹی ، وہ برادری جس کی مقرر کردہ روش پہ چلنے سے ہم انکاری ہوتے ہیں ، وہ ہمیں مٹاڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے-اور تم تو آج تک اپنی اس کمیونٹی کو یہ تک نہ بتاسکی کہ بارھویں کلاس میں تم ایک دم سے نچلے گریڈ پہ کیوں ٹک گئیں تھیں؟ اور تم کیسے بائی پولر ڈس آڈر سے میلاپ کرنے میں جت گئی تھیں-وہ کون تھا جس نے تمہارا ریپ کرنے کی کوشش کی تھی-کیا تم آج تک کسی کو بتاسکی ہو کہ یہاں عورت جیسے ہی جنم لیتی ہے تو اس کی “کنٹ” پہ قبضے کی تدبیر ہونے لگتی ہے اور اگر لبھائے جانے سے کام نہ بنے تو پھر ریپ کے راستے اس پہ قبضہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے اور اس کوشش کا دوسرا نام پدر سری نظام ہے-اور مجھے اسی لئے اپنے مرد ہونے پہ بار بار شرم آتی ہے-میں بھی بھٹک کر کہاں جا نکلا-تمہیں بتانا چاہ رہا تھا کہ کنورٹ لوگوں کے لئے معاشرہ جو سزا تجویز کرتا ہے ،وہ بہت ہی سخت اذیت والی ہوتی ہے-انگریزی میں ایک مرکب لفظ ہے ” گڈ رڈینس ” یعنی “بری طرح سے الگ کردیا گیا ” یا ” ان ڈفرینس ” یہ سزا تجویز کی جاتی ہے جو کنورٹ ہوجاتے ہیں-اور میں یہاں پیرس میں بیٹھا یہ سب اس وقت سوچ رہا ہوں جب یہ سزا مڈل ایسٹ میں شیعہ ، یزیدی، کردوں ، عرب کرسچن ، عرب فلسطینیوں کے لئے مقرر کردی گئی ہے-اور ان برادریوں کی کوئی عورت بھی سلفیوں کے ہاتھ لگتی ہے تو تمتع کے بعد بازار میں بیچ دی جاتی ہے اور یہی سزا یمن کی حوثی عورتوں کے لئے تجویز کی گئی ہے-یہ سزا کنورٹ دانشوروں کے لئے بھی تجویز کی جاتی رہی ہے-

ساری! تم نے جمیس ایجی کا مضمون ” لیٹ اس نو پریز فیمس مین ” پتا نہیں پڑھا ہے یا نہیں –لیکن تمہیں بتاؤں اس نے لکھا تھا ،” اس زمین پہ ہر ایک شعلہ انگیز ایک یا دوسری شکل میں آرٹ یا مذہب کی شکل میں سمولیا گیا یا اسے اتھارٹی کی صورت ڈھال لیا گیا-انسانی روح کی سب سے ہلاکت انگیز دشمن اس کی شعلہ انگیزی کو قبولیت ملنا ہوا کرتا ہے-سوئفٹ ، بلیک ، بیتھووین ، کرائسٹ ، جوائس ،کافکا ، مجھے ایک نام تو بتادو جسے اس طریقے سے بے اثر نہ کردیا گیا ہو-سرکاری ، درباری قبولیت ایسی غلط قبولیت ہے جو جو نجات کے پٹ جانے کی علامت ہوتی ہے-اور یہ یقینی ہلاکت انگیزی پہ مبنی غلط فہمی ہوا کرتی اور یہ اصل میں یہودا کا بوسہ ہوا کرتی ہے”-

تمہیں یاد ہوگا کہ میں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور پاکستان کی سرمایہ دار ریاست کے اشتراک سے یہاں کے کمرشل لبرل مافیا کی جانب سے فیض ، جالب ، سجاد ظہیر ، استاد دامن ، منٹو کی صدیاں منانے اور لٹریری فیسٹول منائے جانے پہ لکھا تھا کہ یہ عوامی دانشوروں کو عوام سے چھین کر دربار میں بٹھانے کی کوشش ہے-تو مجھے یاس پرست کہا گیا تھا-لیکن میں حیران ہوں جمیس ایجی نے یہ بات بہت پہلے لکھ دی تھی-سچی بات ہے جیسے یہ بات جمیس ایجی نے سمجھائی ،ویسے میں سمجھانے سے قاصر رہا تھا-ولہم رائخ کا جنازہ گنتی کے چند لوگوں نے ہی اٹھایا تھا-اور اس جنازے پہ رائخ کے بہت قریبی دوست ڈاکٹر ایلزورتھ ایف بیکر نے روح کو جگانے والی تقریر کی تھی ،”دوستو، ہم یہان الوداع کہنے جمع ہوئے ہیں ، آخری الوداعی سلام ولہم رائخ کہنے –آؤ ، زرا دیر کو ٹھہر کر ہم اپنے آپ کو داد دیں کہ ہم اس سے شناسائی کے اعزاز سے سرفراز ہوئے-ایک ہزار سال میں ، نہیں بلکہ دو ہزار سال میں ایسا آدمی اس زمین پہ آتا ہے تاکہ بنی نوع انسان کی تقدیر بدلی جاسکے-جیسا کہ دنیا کے سب بڑی لوگوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے، تحریف ، جھوٹ کے تومار اور احتساب نے اس کا بھی تعاقب کیا-اس نے ان سب کا سامنا کیا یہاں تک کہ ایک منظم سازش نے اسے جیل بھیج دیا –ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا-یہ اصل میں ایک بار پھر مسیحا کا قتل تھا-اس کی گواہی میں ہمارے لفظ غریب ہوجاتے ہیں اور ہم بھلا اس کے کام کی کیا صفائی دے سکتے ہیں ؟اس کا کام ختم ہوچکا –اس نے اپنےحصّے کا سکون پالیا اور اس کرہ ارض کے لوگوں کے لئے اس نے اپنا قیمتی کام بطور ورثہ چھوڑ دیا ہے-ہم اس کا غم نہیں کرتے بلکہ ہماری عزاداری تو خود ہمارے اس نقصان کے لئے ہے جو ہمارا ہوگیا ہے-

ساری!محرم شروع ہوگیا ہے اور کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اگر کربلاء میں لوگوں کو جنازہ پڑھنے کا موقعہ ملتا اور سید الشہداء کے جنازے پہ ان کے کسی قریبی دوست کو کلام کرنے کا موقعہ ملتا تو کیا وہ ، یہی الفاظ نہ کہتا ؟ وہ بھی تو ایک مسیحا کا قتل تھا اور اس پہ عزاداری دراصل انسانیت کو پہنچنے والے نقصان پہ عزاداری ہے-

He was blessed with an eternal childhood,

with the givingness and vigilance of stars;

he inherited the whole earth,

and he shared it with everyone.

From “Boris Pasternak,” a poem by Anna Akhmatova   

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s