ساری کے نام پانچواں خط

turner-collected-sexts-of-virginia-woolf-and-vita-sackville-west-1200

میں اس بات سے سہمت ہوں کہ اب تم نے مجھے چند سطروں کا ہی سہی لیکن خط بھیجنا شروع کردیا ہے-کم از کم تم نے کافکا کی دوست فارو ملینا کی طرح یہ تو نہیں کیا کہ جواب میں اسے ایک ناول کا مسودہ بھیج دیا دیا اور وہ فارو کو اپنے ایک خط میں لکھتا ہے کہ ایک بڑا سا لفافہ جب اس کے پاس پہنچا اور اس نے کھولا تو اندر سے وہ نہیں نکلا ،جس کا وہ انتظار کررہا تھا-تازہ خط میں ، تم نے پوچھا کہ وہ کمنٹ تم نے کہاں کیا اور کس کی وال پہ کیا جو مجھے یہ گمان ہوا کہ تم اس لڑکے کو پسند کرتی ہو-مجھے یہ اعتراف کرنا ہے کہ مجھے تو تمہارا کسی بھی مرد یا عورت کی وال پہ جاکر تعریفی کمنٹ کرنا اور اس سے مکالمے میں ملوث ہوجانا برا لگتا ہے –جل بھن سا جاتا ہوں-جیلس ہوجاتا ہوں-روز تمہاری وال جاکر چیک کرتا ہوں اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ کسی کی پوسٹ تم نے لائک کی ہے اور کہاں پہ کمنٹ کیا ہے-مرا یہ رویہ خود مرے لئے اذیت کا سبب ہے-ملامت کرتا ہوں لیکن پھر بھی باز نہیں آتا-اگلے خط میں ، تم نے مجھ سے یہ ضرور پوچھنا ہے کہ چلو! مردوں سے جیلسی کی سمجھ آتی ہے لیکن عورتوں کی وال پہ جاکر کمنٹ کرنے پر تمہارا جلنا بھننا سمجھ نہیں آتا-میں تمہیں یہ سوال کرنے اور اس کا جواب جاننے کے لئے اپنے اگلے خط کے انتطار کی زحمت سے بچانا چاہتا ہوں- ساری تم اس وقت محض 22 سال کی ہو اور میں 40 کا ہندسہ عبور کرنے کے قریب کھڑا ہوں-تمہیں ورجینیا وولف اور ویٹا تو یاد ہی ہوں گی –ورجینیا وولف اور ویٹا دونوں ہی شادی شدہ تھیں اور دونوں بظاہر ایک خواشگوار ازواجی زندگی بھی گزار رہی تھیں لیکن یہ کیا کہ ایک گروسری کی دکان پہ دونوں کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں ہی ایک دوسرے کے پیار میں مبتلا ہوگئیں –فیس بک بھی گروسری کی دکان ہی تو ہے ، یہاں بھی تم کسی کے ساتھ مبتلائے محبت ہوسکتی ہو-اور میں بالکل تمہارے بارے میں ورجینیا کی طرح ہی کم از کم اس کامپلیکس میں مبتلا ہوں کہ تم ایک کھلتا گلاب ہو اور میں سورج مکھی کا وہ پھول جس کے ہاں سورج نے اب کبھی نکلنا نہیں ہے –ورجینیا تو ویٹا سے پھر محض 10 سال بڑی تھی اور میں تم سے 18 سال بڑا ہوں-یہ کامپلیکس مجھے کھائے جاتا ہے-اور اسی لئے چوری چھپے تمہارا التفات دیکھتا ہوں- لیکن میں تمہیں روکنا نہیں چاہتا اور نہ ہی اپنی جیلسی کی آگ میں تمہیں جھلسانے کا خیال دل میں رکھتا ہوں-لیکن میں سوچتا ہوں کہ ساری ! کیا مری تم سے محبت کا کوئی ثمر  ویسا نکل سکتا ہے جیسا ورجینیا اور ویٹا کی محبت کا نکلا تھا –ورجینیا نے “آرلینڈو ” جیسا شاہکار ناول لکھ ڈالا تھا- جسے ویٹا کے بیٹے نے سب سے طویل اور دل فریب محبت کا سندیسہ قرار دیا تھا-

ساری! ویسے جیسے مری اور تمہاری عمروں کا فرق یا ورجینیا وولف اور ویٹا کی عمروں کا تفاوت ایک کامپلیکس کے جنم کا سبب بن گیا ہے تو ایسے ہی تم ح کو جانتی ہونا اور ر کو بھی –ح جو ہے نا وہ ر سے بہت چھوٹا ہے- ر 50 سے اوپر کی عورت ہے اور ح 35 سال کا ہے ،دونوں کی عمروں کا فرق بہت ہے –ر کو سمجھ نہیں آتی کہ ح جو جوان رعنا ہے ، اس پہ کیوں مر مٹا ہے –اور یہاں ح کا حال یہ ہے کہ وہ ح کی طرف دوسرے مردوں اور عورتوں کے التفات سے جیلسی فیل کرتی ہے- ح نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی ایک دوست کو بتایا کہ اس کے پاس الماری میں تین ایسی عورتوں کی تصویریں جن کو وہ کبھی بھلا نہیں سکتا اور ان کو بڑا سنبھال کر رکھا ہوا ہے اس نے تو اس کی دوست نے کہا کہ کیا اس کی بیوی کو اعتراض نہیں ہوتا ؟ اس نے کہا ،’نہیں ‘ تو اس کی دوست بولی، ‘میں ہوتی تو آگ لگادیتی اس الماری کو’لیکن مجھے تم سے جھوٹ نہیں بولنا-مشرق میں یہ وتیرہ بن گیا ہے کہ جس عورت سے ریلشن بنے ، اسے یہ جھوٹ ضرور بولا جائے کا یہ پہلا ریلشن ہے اور پہلا افئیر ہے-کافکا نے اپنی دوست ملینا کو بتایا تھا کہ اس نے اس تعلق سے پہلے تین عورتوں سے ریلشن رکھا اور ایک سے اس کی شادی تین دن چل پائی تھی-اور اس نے پھر کہیں اور بیاہ رچا لیا –ایک سے شادی ٹوٹ گئی لیکن تعلق برقرار رہا-اور کافکا کہتا ہے کہ اس طرح کی حالت میں یعنی عورت کی طرف مرد کا میلان ایک ایسا عمل ہے جس میں مرد کو بہت زیادہ جھیلنا پڑتا ہے اور وہ بار بار عورتوں کی طرف میلان کرتا ہے-اس کی مزاحمت کی نہیں جاسکتی لیکن عورتیں بھی اس سے مستثنی نہیں ہیں ، لیکن وہ یہ سب کسی گلٹ کے بغیر جھیلتی ہیں-مگر مشرق میں مجھے لگتا ہے کہ معاملہ اس کے الٹ ہے –یہاں عورت بہت گلٹ کے ساتھ بریک اپ کو جھیلتی ہے اور  گلٹ کے ساتھ ہی اگلے ریلشن کی طرف بڑھتی ہے-میں کافکا سے اس معاملے میں کہیں آگے ہوں-میں نے  6  کے قریب ا‌فئیرز کئے اور گہرا عشق جسے کہتے ہیں کہیں مجھے محسوس نہیں ہوا-لیکن ساری! مجھے یہ اعتراف کرنا ہے کہ تم مجھے اپنی میلنا ، سیمون دی بوووار ، ویٹا لگتی ہو-اور تمہیں پتا ہے کہ ان سب نے بھی کئی افئیرز کئے تھے لیکن ان کا مرکز زات ایک ہی تھا –میلینا کا کافکا ، سیمون کا سارتر اور ویٹا کی ورجینیا،لیکن ایک بات ہے کہ مجھے ان سب کی حالتوں میں ایک جیسی کیفیت لگتی ہے ،فرق صرف تعلق کی طوالت کا ہے-اور ان کے جو مرکز زات تھے افئیرز کے معاملے میں وہ بھی کوئی ستی ساوتری نہیں تھے- ہمارے ہاں مرد اور عورت محبت میں توحید کے متلاشی ہوتے ہیں اور اس تلاش میں زخم زخم ہوجاتے ہیں-مجھے لگتا ہے کہ یہ وحدت ناقابل حصول ہے-مرا ایک دوست جو کہ اشراقی فلسفہ اور تصوف میں بہت دلچسپی رکھتا تھا ، ایک مرتبہ کہنے لگا کہ وحدت تو عشق حقیقی کے اندر بھی ممکن نظر نہیں آتی ہے ، اس میں بھی پہلے عاشقوں کی کثرت ہے اور پھر معشوق حقیقی بیک وقت کئی عاشقوں کو سند قبولیت دیتا ہے تو اس صورت بھی وحدت برقرار کہاں رہ پاتی ہے؟ میں نے اس کی باتوں پہ غور کیا تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ ٹھیک ہی کہتا ہے کہ کثرت تو وہاں بھی ہوا ہی کرتی ہے-لیکن پیا بس مجھے ہی چاہے – یہ ایک ایسی آرزو ہے جس سے شاید مفر ممکن نہیں ہے-لیکن بہت سے حسین چہروں میں کوئی ایک چہرہ ہوتا ہے جس میں کچھ الگ سا ہوتا ہے اور وہ باقی دل لبھانے والے چہروں جیسا نہیں ہوتا –تو ساری! بہت سے چہرے تھے جنھوں نے دل کے تاروں کو چھیڑا لیکن تم  نے دل کے سبھی تار اپنی گرفت میں لے لئے ہیں اور تارعنکبوت ہے جس نے مرا سبھی ابعاد کے ساتھ احاطہ کیا ہوا ہے –ساری، تم کہتی ہو کہ تم محبت میں کی چابی اپنے پاس رکھوگی ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم محبت کے باغ کی کنجی کتنی اپنے پاس رکھیں ، یہ باغ بار بار ہماری گرفت سے نکل جاتا ہے اور ہم اس باغ میں سیر کرنے والوں کی کثرت کا راستہ کبھی روک نہیں پاتے-

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s