ساری کے نام چھٹا خط

gra12

!پیاری ساری

تمہیں خط لکھنے کے بعد میں آرام کرنے کے موڈ میں تھا-لیکن نجانے یہ کیسے ہوا کہ اس مرتبہ ڈاکئے نے خط تمہارے پتے پہ بھیجنے کی بجائے مری ایک سابقہ گرل فرینڈ سارہ تک پہنچا دیا-اس نے مجھے خط واپس بھیجا اور ساتھ ہی ایک خط ارسال کیا –خط میں تمہیں اس نئے مراسلے کے ساتھ ارسال کررہا ہوں-اس نے مجھے لکھا کہ

 تم پر  مجھے  شروع دن سے شک تھا کہ جس کو میں   دل دے بیٹھی ہوں  ، وہ بھنورا ہے، تم کسی ایک کلی پہ قناعت کرنے والے نہیں ہو-اور تمہارے خط میں اعتراف کرنے سے مرا شک یقین میں بدل گیا ہے –اور اب گلٹ فیل کررہی ہوں

ساری ! تم نے دیکھا کہ کیسے ایک ایسی عورت جس سے مرا بریک اپ ہوئے 15 سال گزر گئے اور ان 15 سالوں میں ، میں پھر کسی سے جڑ نہ سکا اور آج جب جڑا ہوا ہوں تو اسے میں بے وفا ، دغا باز لگتا ہوں- حالانکہ 15 سال پہلے اس نے مجھ سے تعلق توڑنے کے محض ایک ہفتے بعد نیا تعلق جوڑ لیا تھا اور مجھے اس پہ کوئی اعتراض نہ تھا-مجھے نجانے کیوں یہاں ڈی ایچ لارنس کی یاد آگئی ، اس نے کہیں لکھا تھا،ٹھیک سے یاد نہیں ہے کہاں ، ” میں خون اور گوشت پہ دماغ سے زیادہ یقین کرتا ہوں-اور یہ مرا مذہب بھی ہے- اور یہ بلڈ اور فلیش انٹلیکٹ سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں-ہماری انٹلیکٹ /ذہن غلط ہوسکتے ہیں لیکن گوشت اور خون نہیں ” اور ڈی ایچ لارنس کہتا تھا کہ وہ مرد اور عورت کے درمیان ایک کارآمد تعلق کی تلاش میں ہے –اور یہ کارآمد تعلق کم از کم مھان اخلاقی فرسودگی ہمیں دے نہیں سکتی بلکہ یہ تعلق ہمیں افتادگان خاک کے اندر تلاش کرنے سے مل سکتا ہے-

ساری! مرے خون کی روانی اور مرے بدن کی حرکت تمہارے تصور سے تیز ہوتی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے میں انکار نہیں کرسکتا-مجھے تم فنتاسی میں بھی اس لئے پیاری لگتی ہو کہ وہاں بھی تم گوشت پوست کے مادی بدن کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے-تم سے فنتاسی میں ملاقات کا ہر تصور مادی ہے اور میں اس مادی تصور سے کیسے باہر آسکتا ہوں جب اس سے ہٹ کر کوئی اور تصور لذت آفرین ہی نہیں ہے-سارہ نے اپنے برقی مراسلے (ای میل ) میں مادی فنتاسی کو ڈرٹی فنتاسی کہا تو میں اور الجھ گیا-مجھے لگا کہ جیسے آج سے 15 سال پہلے 7 سال اس کا مرا تعلق “ڈرٹی فنتاسیوں ” پہ ہی مبنی تھا –تو کیا تمہیں بھی ایسا ہی لگتا ہے؟ سارا مجھے ایک اور انکشاف بھی کرنا ہے-اور وہ یہ ہے کہ سارا سے 7 سال تعلق کے درمیان میں مجھے اس کے کئی افئیرز کا پتا چلا-جہان وہ جاب کرتی تھی ، اس فرم کا باس مرا دوست نکل آیا-ایک دن اس نے مجھے اپنی نئی گرل فرینڈ کی تصویر دکھائی جس کے ساتھ وہ ویک اینڈ مری گزار کے آیا تھا- اس ویک اینڈ پہ سارا اور میں مل نہ سکے تھے کیونکہ اس کی خالہ کا انتقال ہوگیا تھا ،جہاں سے ایمرجنسی جانا پڑا تھا –اور پھر  مرد و عورت کے تعلق میں بھنورے اور کلی جیسی امثال مجھے بہت ہی اجنبی لگتی ہیں ، تعلق یک طرفہ کب ہوتا ہے ، یہ عامل و معمول کا تعلق کبھی نہیں ہوتا –یہ ویسا ہی کاآرمد تعلق ہوتا ہے جس کی تلاش ڈی ایچ لارنس لندن کے فوک میں کررہا تھا-اور میں نے بھی وہاں پاکستان کے اندر فوک میں ہی اسے تلاش کیا-

ساری! میں پیرس میں اندر سے ٹھٹھر کر رہ گیا ہوتا اگر تمہارے شہر سے گرم گرم خبریں موصول نہ ہوئی ہوتی –سنا ہے وہاں اب اردو بولنے والوں کی شامت آگئی ہے –چاکی واڑہ کے بلوچ تو پہلے ہی سے زیرعتاب تھے-ثقافت جو مشترکہ ہوا کرتی تھی کہا جارہا ہے نہیں رہی –محرم کی ثقافت شیعی ، ہولی و دیوالی و بیساکھی ہندؤں اور سکھوں کی ہوگئی ہیں ، سال نو پہلے ہی یہود و نصاری کا تھا-سڑک پہ سبیل لگانے فرقہ پرستی اور غم حسین کا جلوس نکالنا فتنہ و فساد کو دعوت دینے کے مترادف ہوگیا ہے-یہاں پیرس میں داڑھی کا بڑھانا اور سر پہ سکارف پہننا اور ساحل سمندر پہ پورے جسم کو ڈھانپنے والی بکنی پہن لینا دہشت گردی اور مذہبی جنونی ہونے کی علامت بن گیا ہے-ویسے میں نے سنا کہ پنجاب اور سندھ میں پشتو بولنے والے دہشت گرد سمجھ لئے جاتے ہیں اور جو ہیں وہ صوبائی حکومتوں اور وردری والوں کے ساتھ بیٹھ کر محرم امن وامان پروگرام چاک آؤٹ کرتے ہیں-کیا کسی کو وہاں اور یہاں کسی قسم کا  گلٹ محسوس بھی ہوتا ہے کہ نہیں –مجھے لگتا ہے کہ یہاں بلیم شفٹنگ کا کام بہت منظم طریقے سے کیا جارہا ہے-اور آخری بات یہ کہ میں نے تمہارا مشورہ مان کر سگریٹ کم کردی ہے-بس روزانہ دو پیکٹ پھونک ڈالتا ہوں اور یہاں اصلی الکوحل ملتی ہے-سکاچ کے بس تین پیگ لیتا ہوں –آدھی بوتل سے بھی کم-تم مجھے آدھا رند اور آدھا صوفی کہہ سکتی ہو-

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s