کوفہ : سابقین فی الاسلام بمقابلہ عرب ارسٹو کریسی

silk

کوفہ میں بالخصوص اور حجاز سے باہر بننے والی چھاؤنیوں میں بالعموم غیر عرب خاص طور پہ ساسانی اور بازنطینی سلطنت کے باشندوں میں جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا ان پہ لفظ موالی کا اطلاق کیا گیا اور رفتہ رفتہ لفظ موالی ان غیر عرب فارسیوں کے لئے بولا جانے لگا جوکہ کوفہ سمیت دیگر مسلم عرب گریژن اور اس کے گرد و نواح میں آکر رہائش پذیر ہوگئے تھے-ان شہروں کی سماجی ترکیب میں موالیوں کا کیا سٹیٹس تھا اور ان کی تعداد کتنی تھی اور ان کا اثر کیا تھا؟ اس بارے میں ایک باقاعدہ اور مربوط مطالعہ اور تحقیق کا آغاز مستشرقین نے کیا-قدیم عربی ماخذ میں الجاحظ کی کتاب ” الموالی ” اور ابن الہثیم کی کتاب ” من تزوج من الموالی فی العرب ” کا سراغ ملتا ہے-

موالی پہ ابتدائی متشرقین نے جو تحقیقات کیں ، وہ ان کی سماجی ،مادی بنیادوں سے ان کی سماجی حرکات اور فکر کا تعین کرنے سے کہیں زیادہ مسلم ماہرین علم کلام کی جانب سے بدعتی ، گمراہ اور زندیق کہہ کر پکارے جانے والے گروہوں کی آئیڈیالوجی کی روشنی میں متعین گولڈ زیہر وغیرہ کا تعلق اسی قبیل سے تھا-لیکن بعد میں آنے والے محققین نے اس کو بدلا-موالی کو صرف پرشین شناخت کے ساتھ دیکھنے اور ان کے ایک سے سماجی سٹیٹس بیان کرنے یا کھل کر کہا جائے تو ان کو صرف دشمنی کی عینک سے دیکھے جانے کے تصور کو سب سے زیادہ چوٹ الزبتھ اربن نے لگائی –ان کا مقالہ ” دی ارلی موالی : اے ونڈو آن ٹو پروسس آف آئیڈنٹی اینڈ سوشل چینج ” موالی بارے سماجی مطالعے میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سبب بن گیا-اس حوالے سے ایک اور کتاب مونیق برینارڈز اور جان عبداللہ نواس نے لکھی جس کا عنوان تھا ‘ پیٹررونیٹ اینڈ پیٹرینیج ان ارلی اسلام ‘ –موالی کی سماجی ترکیب اور چھاؤنیوں کی ہئیت کو بدل ڈالنے میں ان کے کردار بارے ضمنی طور پہ بہت ہی پرمغز گفتگو ہمیں کتاب ‘ سلک اینڈ ریلیجن : این ایکس پلوریشن آف میٹریل لائف اینڈ ۔۔۔۔۔’ میں ملتی ہے-الزبتھ اربن کی انقلابی تحقیق نے موالی کے بارے میں ان سے پہلے بنائے جانے والے مقدمات کو پھیر کر رکھ دیا-ان سے قبل تحقیق کرنے والوں کے ہاں سب موالیوں کو ایک ہی سماجی سٹیٹس کا حامل بتایا جاتا تھا اور ایسے مقدمات پیش کئے جاتے تھے جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ آغاز کار سے موالی ، کنورٹ نان عرب مسلمانوں کو ” باہر والا ” اور مداخلت کار خیال کیا جاتا تھا-

لیکن الزبتھ اربن نے اپنی ریسرچ میں ایک تو یہ بات ثابت کی کہ حضرت عمر ہوں یا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت علی ان سب نے موالیوں کی مختلف سماجی پرتوں کو اپنے ساتھ ملانے اور ان کو شریک اقتدار کرنے کے اقدامات کئے –اگر ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پالیسی پہ غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کوفہ کے ابتدائی جو باشندے بنے ان میں چار ہزار دیلمی فارسی جنگجو بھی شامل تھے اور ان کا سماجی سٹیٹس عمر نے سبقت اسلام رکھنے والے عرب مہاجر و انصار کے بعد اہل الایام القادسیۃ کے برابر رکھا اور آپ کے زمانے میں فارس کے دیگر علاقوں کی جو فتوحات ہوئیں ان میں شریک ہونے والے کنورٹ مسلم غیرعربوں کے وظائف میں بھی اضافہ کیا گیا-لیکن ہمیں ایسے کوئی آثار نہیں ملتے جن سے یہ پتہ چل سکے کہ اہل سواد (سوادی زمینوں پہ کام کرنے والے مقامی کسانوں ) اور ساسانی فیوڈل ریاست کے خاتمے کے دوران بے روزگار ہوکر کوفہ کا رخ کرنے والے سابقہ کسانوں ، ساسانی ریاست کے سابق اہلکاروں ، فارسی دستکاروں ، تاجروں کیا وہ سٹیٹس دیا گیا جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں دیلیمی جنگجوؤں اور بعد کے دیگر کنورٹ غیر عرب مسلم فارسی جنگجوؤں کو دیا گیا تھا-لیکن ایک بات طے ہے کہ حضرت عمر فاروق کے زمانے کی عرب ایلیٹ اگر تھی تو وہ مہاجر و انصار صحابہ کرام اور اہل الایام القادسیۃ میں شریک صحابہ کرام تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرب قبائل کے سرداروں اور اشراف امور مملکت سے دور ہی رکھا-اس لئے جو موالی تھے ان کی اکثریت نے بھی خود کو سبقت اسلام اور مہاجر و انصار کی شناخت رکھنے والی عرب مسلم اشرافیہ سے جوڑا-لیکن یہ ترتیب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بتدریج تبدیل ہوئی اور عرب ارسٹو کریسی ، بنو امیہ کے قبائلی اشراف  کے درمیان محبتیں بڑھتی چلی گئیں

اور پھر  ریاستی مشینری اور خود عرفاء و نقباء کے اندر بھی عرب ارسٹو کریسی کا اثر ورسوخ پھیلتا ہی چلاگیا-لیکن امویوں نے حضرت ‏عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ساسانی و بازنطینی سلطنت کو چلانے والی ارسٹو کریسی ، بیوروکریسی کے ساتھ ہاتھ ملالیا تھا اور ان کو خاص طور پہ ریاستی مشینری کے اندر بھی جگہ ملنے لگ گئی تھی اور اس ارسٹو کریسی کو خراج سمیت ديگر اور ٹیکسز سے بھی مستثنی قرار دے ڈالا تھا-اور حضرت ‏‏‏‏عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہی ہم نے کوفہ ،بصرہ ، مصر کے اندر اس اموی پلس عرب و پرشین ارسٹوکریسی کے خلاف تحریک کھڑے ہوتی دیکھ لی تھی-بلکہ اگر دیکھا جائے تو خود اس اتحاد کے خلاف مدینہ اور مکّہ کے انصار و مہاجر اور ان کی اولادوں نے واضح اظہار ناراضگی کیا تھا اور امویوں کے خلاف وہآں بھی فضا سازگار نہ تھی-موالیوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن کا تعلق کسان ، دست کار ، درمیانے درجے کے تاجر طبقات سے تھا یا وہ بطور سکالر سامنے آئے تھے کا زیادہ جھکاؤ خلفاء ثلاثا کی جانب تھا اور بعد ازاں جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی تو ہم نے ان موالیوں کے اندر نظریاتی اعتبار سے ایک بڑی تقسیم یہ دیکھی کہ یہ علوی کیمپ اور عثمانی کیمپ میں بٹ گئے-کوفہ شہر اور اس کے گردونواح میں رہنے والوں کی بڑی تعداد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ کھڑی ہوئی جبکہ اس سے پہلے میں بتاچکا کہ خود کوفہ اور اس کے گردونواح میں موجود عرب مسلمانوں کی کی بھاری اکثریت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ میں آگئی اور کوفہ میں اگر کوئی عثمانی یا اموی کیمپ کا تھا بھی تو اس نے اکثریت کے سامنے کھل کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف کوئی صف بندی نہیں کی-لیکن کیا کوفہ ، بصرہ کے عرب مسلمانوں اور موالیوں کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کیمپ میں کھڑا ہونا ویسے ہی تھا جیسے ان بزرگوں اور ان کے حامیان کا تھا جسے تاریخ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے شیعہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے-یاد رھے کہ حضرت علی کے یہ نظریاتی شیعہ خود شیعہ امامیہ کے نزدیک سب کے سب امامت کے منصو ص من اللہ ہونے ، امام کی موجودگی میں کسی مفضول کا خلیفہ نہ بننے جیسے خیالات کے مالک نہ تھے-یہاں تک کہ خود حجر بن عدی الکندی اور دیگر کئی رفقائے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں یہ اطلاعات و اخبار موجود ہیں کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنھما کی خلافت کو برحق مانتے تھے-اور اغلب امکان یہی ہے کہ کوفہ کی اکثریت بشمول عرب و موالی سیاسی شیعہ پہ مشتمل تھی  اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حق میں وصی و ولایت و خلافت کے امامیہ عقیدے کی قائل نہ تھی-اس بات کو اس لئے بھی تقویت ملتی تھی کہ جنگ صفین کے موقعہ پر جب لشکر شام نے نیزے قرآن پہ بلند کئے تو اس موقعہ پہ بہت تھوڑی تعداد ایسی تھی جس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر ختم نہ کرنے کی تجویز کو من وعن مان لیا تھا

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو تحکیم کا فیصلہ ماننا پڑا اور جب آپ نے عبداللہ بن عباس کو حکم بنانے کی تجویز دی تو اسے بھی اکثریت نے رد کیا-اور جب تحکیم کا نتیجہ شامیوں کی دغا بازی کے طور پہ نکل آیا تو ہم نے دیکھا کہ آپ کے لشکر میں جو بدوی عرب شامل تھے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور ان میں سے اکثر نے حضرت علی کے کیمپ کے خلاف تلواریں بھی اٹھالی-کوفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور ہی میں ایک کاسمو پولیٹن سٹی میں بدلنا شروع ہوگیا تھا اور اس شہر میں دست کار ، درمیانے درجے کی تاجر کلاس ، نچلے درجے کے ریاستی اہلکار ، علم و دانش یعنی قرآن وحدیث ، اسماء الرجال ، اسباب نزول کے ماہرین سمیت اہل علم کی اکثریت موالی غیر عرب فارسیوں پہ مشتمل تھی-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جب شہادت ہوئی تو کوفہ کی آبادی ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ تھی اور ایک اور روایت کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئی تھی-اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ تعداد کہا جاتا ہے کہ ڈیڑھ سے دو لاکھ  ہوچکی تھی-اور اس میں اکثریت موالی کی تھی –ایک اندازے کے مطابق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں موالی قریب قریب 40 ہزار سے 60 ہزار موالی تھے اور حصرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ 80 سے 90 ہزار کے قریب ہوچکے تھے-اور اہل زمہ /زمیوں کی تعداد میں بتدریج کمی آنی شروع ہوگئی تھی-

مارٹن ہنڈز ، طیب حلبی ، حسین محمد جعفری ، الزبیتھ اربن سمیت اکثر ماہرین کے خیال میں کوفہ کے موالیوں میں سب سے بڑی اکثریت کا تعلق دستکاروں ، تاجروں ، سکالرز وغیرہ کا تھا اور اس کے بعد وہ سابق کسان تھے جو ساسانی سلطنت میں مفتوحہ زمینوں کو چھوڑ کر کوفہ آگئے تھے اور یہاں وہ کسی عرب قبیلے کے حلیف نہ بنے بلکہ براہ راست کوفہ کے دارالامارہ کے ماتحت بن گئے تھے جبکہ تیسرا بڑا گروہ ان غیر عرب فارسیوں کا تھا جو جنگجو یا پیشہ سپاہ سے متعلق تھا-اور سب سے کم تعداد میں وہ موالی تھے جو ساسانی نوبل / حکمران معزز اشراف میں سے تھے اور کوفہ کے اندر آباد تھے-آئیڈیالوجیکل کے اعتبار سے ان موالیوں کی اکثریت کے بارے میں حسین محمد جعفری اور دیگر نے لکھا کہ ان کے ہاں کیونکہ وصائت و وراثتی نیابت و بادشاہت کا تصور پہلے سے موجود تھا تو ان کا رجحان شیعت کی جانب تھا-اسی طرح سے جو یمنی عرب تھے وہ کرسچن بادشاہت کے زیرنگین رہے تھے تو ان کے ہاں بھی امامت کے باب میں شیعیت کی جانب جھکاؤ صاف تھا-اور یمنی عربوں اور موالیوں کی اکثریت نے علوی کیمپ کو ہی جوائن کیا-ان ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ کوفہ کے برعکس دمشق سمیت جو دوسرے مسلم اکثریت کے شہر تھے ان پہ بازنطینی اور ساسانی روایت کا گہرا اثر تھا تو وہ بہت جلد ان روایات کے اندر ڈھل گئے جبکہ کوفہ کی اپنی کوئی روایت سرے سے موجود نہ تھی اور یہ شہر اپنی ابتداء میں عرب جنگجوؤں کا شہر تھا جوکہ اگرچہ یہاں آکر آباد تو ہوگئے تھے لیکن ان کی عسکریت پسندی اور جدید اصطلاح میں ان کی ریڈیکلائزڈ فطرت قائم دائم تھی ، اس لئے اس شہر میں تحرک اور بغاوت اور جارحانہ سیاست خوب پلا بڑھا کرتی تھی-

 

 

اب اگر ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے ایک بڑی سیاسی کشمکش کے ابتدائی آثار کی تلاش کریں تو ہمیں اس کی بنیاد خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پالیسی میں نظر آجاتی ہے-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ وہ کوفہ کی سیاسی –معاشی و مذہبی پاور ان لوگوں کے ہاتھ میں رکھیں جن کی اسلام کے لئے خدمات کا کسی کو بھی انکار نہ تھا اور ان کا مذہبی قدکاٹھ بھی کافی بلند تھا-حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں کوفہ کے اقتدار کی باگ ہو وہ عرب ارسٹوکریٹ ہیں یا نہیں ، ان کے پاس بہت زیادہ دولت ہے یا نہیں اور اپنے قبیلے کے اندر ان کے پیچھے بہت بڑی افرادی قوت ہے کہ نہیں-حسین محمد جعفری اور دیگر احباب نے بہت واضح انداز میں اس بات کو واضح کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل الردہ کے طاقتور قبائلی ارسٹو کریٹس کو واپس دائرہ اسلام میں آنے کے باوجود کوئی عہدہ نہیں دیا تھا-اور آپ کے زمانے میں ہی سبقت اسلام رکھنے والوں اور عرب ارسٹوکریسی کے درمیان تناؤ اور کش مکش کے آثار نظر آنے لگے تھے اور کوفہ سیاسی اعتبار سے ان دو کیمپوں میں بٹا نظر آنے لگا تھا لیکن عرب ارسٹو کریسی کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ سیاسی نظام میں سابقین اسلام کے غلبے کو چیلنج کریں اور کوفہ کے غالب حکمران سیکشن کے خلاف کھڑے ہوں-اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب تک حضرت سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود کي قیادت رہی تو اس وقت تک بھی کوفہ میں کسی بڑی کشمکش کے آثار دکھائی نہ دئے تھے-

 

 

صورت حال ولید بن عقبہ کی گورنری کے زمانے سے بدلنا شروع ہوئے اور اس زمانے میں ہم نے یہ دیکھا کہ سبقت اسلام رکھنے والے اور ان کے اتحادی موالی پیچھے جانا شروع ہوئے اور اسی زمانے ميں حجر الکندی ، مالک الاشتر ، مسیب بن نخبۃ اور ديگر حضرات جو اہل قراء کے نام سے معروف تھے کو عہدوں سے ہٹادیا گیا اور ان کی جگہ عرب ارسٹوکریٹس نے لینا شروع کردی-عرب ارسٹوکریسی کے اس ظاہر ہونے والے غلبے نے خود موالی کے سب سے برے نمائندہ گروپ کے لئے دوسرے درجے کے شہری کا سٹیٹس لیکر آنا شروع کردیا-اور ہم نے مدینہ کے اندر مروان سمیت بنوامیہ کے ان لوگوں کو آگے آتا دیکھا جن کی اسلام کے لئے کوئی بڑی خدمات نہ تھیں –یہاں ایک بات اور جو بہت ہی اہم نکتہ ہے اور مسلم تاریخ میں ہونے والی سیاسی کشاکش بارے ہمیں ایک اور راہ بھی سجھاتی ہے کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے-اور اس کی جانب الزبیتھ اربن نے بھی واضح اشارہ کیا ہے-اس کا کہنا یہ ہے کہ اموی یا مروانی غلبے کے خلاف سابقین اسلام اور موالیوں نے جو بغاوت کی اور ان کے خلاف تحریک اٹھائی تو اپنی اس تحریک کی بنیاد انھوں نے ایتھنک بنیادوں پہ نہیں رکھی اور نہ ہی موالیوں نے اسے “عرب ” کے خلاف غیر عربوں کی بغاوت قرار دیا-بلکہ انہوں نے اس کی باقاعدہ ايک مذہبی اور آئیڈیالوجیکل بنیاد رکھی اور انھوں نے اپنی غیر عرب شناخت اور ساسانی دور کی شان وشوکت کے عروج کی واپسی کی لڑائی قرار نہ دیا- جبکہ اسی طرح جنھوں نے ولید بن عقبہ اور اس کی اتحادی عرب ارسٹوکریسی کے خلاف تحریک شروع کی انھوں نے بھی اپنا آدرش اقتدار پہ قبضہ یا پاور کا حصول قرار نہیں دیا بلکہ انھوں نے اس اسلامی آدرش کو اپنا نصب العین قرار دیا جس کی بنیادی قدر عدل و انصاف اور مساوات تھی اور طاقتور و کمزور کی قانون کے سامنے برابری کا آدرش تھا-

امویوں ، عرب ارسٹو کریسی اور ساسانی نوبل اشراف میں ہم یک گونہ اتحاد دیکھتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں سابقین اسلام عرب ، عام عرب اور موالیوں میں دست کار ، کاریگر ، درمیانے درجے کے تاجر اور کوفہ کے گردونواح میں زمینوں پہ کام کرنے والے کسان اور دیگر لوئر سٹارٹا کو ایک الائنس میں اکٹھے ہوتے دیکھتے ہیں-الزبتھ اربن اسی لئے کہتی ہے کہ موالیوں کی اکثریت جو امویوں اور مروانیوں کے خلاف کھڑی ہوئی اس نے ایتھنک آئیڈنٹٹی کو اپنی جدوجہد کی بنیاد خود قرار نہیں دیا-کوفہ اس پہلی تحریک کا نرو سنٹر تھا اور اس تحریک کا بتدریج شیعی رنگ اختیار کرنا بھی اسی بات کا ایک ثبوت ہے اور پروٹو سنّی اور پروٹو امامی دونوں کی بڑی اکثریت اسی شیعی سنٹر کے ساتھ آگے چل کر جڑی-اس تحریک کو آج کے سعودی نواز وہابی اور دیوبندی مائل بہ  بنو امیہ خالص سنّی چہرہ دکھا کر پیش کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں ، اس مین سب سے بڑا گھپلا پروٹو سنّی آبادی کے مائل بہ علویت ہونے کے کردار کو چھپانا ہے اور پروٹو سنّی کرداروں کو امامی شیعہ یا چھپے ہوئے امامی شیعہ بناکر دکھانا ہے-اور اگر میں کہوں کہ آج کی سفیانیت یا آج کی یزید سے کامریڈ شپ پہ مبنی کاوشیں بھی اسی علمی بدیانتی ، خیانت اور بے ایمانی کا نام ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا-کوفہ میں ہونے والی اس بڑی تقسیم کو سازش بناکر دکھانا اور اسے ایک انتہائی مجہول کردار ابن سباء کے دماغ کی سازش بناکر دکھانا بھی ایسی ہی کوشش ہے-اور یہاں پہ ہم ان مارکسیوں کی غلطی کی نشاندہی یا بعض مارکسزم کے پردے میں چھپے اموی کامریڈز کی تدلیس کا پول بھی کھول سکتے ہیں جو کوفہ ، شیعان علی کے کیمپ بارے بات کرتے ہوئے کوفہ کی سماجی ترکیب اور اس کی بنیاد پہ اٹھنے والے تضادات اور ان کے آئیڈیالوجیکل شیڈز کا تاریخی مادی جدلیاتی روشنی میں تجزیہ کرنے کی بجائے اس کو قبیل داری یا ایتھنک لڑائی قرار دینے پہ ہر دم تیار رہتے ہیں-اور سابقین اسلام، غریب موالیوں کی لڑائی کو ہوس اقتدار کی لڑائی قرار دیکر سماجی انصاف و عدالت کے آدرشوں کے علم اٹھاکر ظلم کے خلاف سینہ سپر ہونے والے چہروں کو مسخ کرتے ہیں-

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s