ساری کے نام ساتواں خط

15de31c0aed484159e0b00a93d71a3b3

پیاری ساری

پہلے تو مجھے تم سے اس دوری پہ معذرت کرنی ہے جو گزشتہ دس دنوں میں تمہارےاور مرے درمیان بظاہر حائل نظر آئی اور تم نے اس دوران کئی بار مجھ سے کہا بھی کہ اب صبح سویرے ڈاکیا کوئی چٹھی لیکر نہیں آتا تو تمہیں بہت محسوس ہوتا ہے-اس کی وجہ تھی محرم کا عشرہ –اس عشرے میں مجھ سے بہت ہی ذاتی سی شئے لکھی ہی نہیں جاتی اور میں کربلاء سے باہر نکل ہی نہیں پاتا-اب میں تھوڑا کربلاء سے فاصلے پہ ہوں اور اسیران بھی وہاں کوفہ کے بازار سے چل کر ابن زیاد کے ہاں پہنچ گئے ہیں اور وہاں زینب بنت علی اور علی بن حسین اپنے آپ اس سب سے نبرد آزما ہوں لیں گے اور میں ان کے ساتھ چل نہ سکوں گا، میں کربلاء سے آگے کیوں نہیں جاسکتا؟ اس سوال کا جواب مرے پاس فی الحال نہیں ہے،کیونکہ میں ابھی تک اپنے درون ذات میں اتنا نہیں جھانک سکا جتنا اس جواب کے پانے کے لئے ضرورت ہوا کرتی ہے،بس یہ سمجھ لو کہ جس تصرف تکوینی کی اس طرح کے سفر میں ضرورت ہوتی ہے ، اس طرح کا تصرف آدھے صوفی اور آدھے رند کو کبھی میسر نہیں آتا-لیکن اب میں ذاتی سی شئے لکھ سکتا ہوں اور اس لئے آج رات کے اس پہر جب سب سوگئے ہیں ، میں اپنے لیپ ٹاپ پہ یہ خط ٹائپ کررہا ہوں-راتیں اب یہاں طویل ہوچلی ہیں لیکن مرے اندر اس طوالت سے مطابقت پیدا کرنے کی چاہ پیدا ہی نہیں ہوئی –دس دن تم سے دوری کے دوران پہلی بار ایسا ہوا کہ میں نے کوئی بھی خواب نہ بنا اور تمہیں اپنے تخیل کے زور پہ اپنے اس کمرے میں موجود نہ کیا-بلکہ تم بہت دور اس کاسموپولٹین شہر کے اس آہنی ٹاؤن میں مجھے اپنے گھر کے ایک کمرے اور کچن میں سینڈویچ بنی دکھائی دیتی رہیں اور یہ ادھیڑ عمری میں کھڑی عورت کون ہے ، جس کی خاطر تم نے خود کو ہلکان کررکھا ہے؟ویسے مجھے تم سے یہ پوچھنا ہے کہ تم دماغ اور بدن کی متضاد سمتوں میں حرکات کو بیک وقت کیسے کمپوز کئے جاتی ہو اور تمہارے دماغ کا بھونچال تمہاری بدن بولی کے شانت پن کو طوفان آشنا کیوں نہیں کرتا؟یہ جس ڈائی کاٹ می میں تم رہ رہی ہو ، اس کے ساتھ ‘رہا’ کیسے جاسکتا ہے؟ویسے تم کہہ سکتی ہو کہ یہی سوال مجھے خود سے بھی پوچھنا چاہئیے؟ تو جواب مرا یہ ہے کہ مجھے افسوس سے تمہیں اطلاع دینا پڑ رہی ہے کہ مرے دماغ نے مری بدن بولی کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور میں اب اس ڈائی کاٹ می کے وجود کو چھپانے سے قاصر ہوں اور مجھ سے شانت پن تو لگتا ہے کہیں روٹھ سا گیا ہے-تمہیں ہر بار یہ لکھنا مجھے بور نہیں کرتا کہ مجھے تمہاری چاہ بہت ہے-لیکن مجھے ایسا کیوں لگتا ہے ، جیسے تم مری اس بے قراری کے اظہار اور ہر مرتبہ ایک جیسے جملے لکھنے پہ مجھ سے کہہ رہی ہو ، کہ مرد سب سے بڑے بزدل ہوتے ہیں-تم ٹھیک کہتی ہو کہ اکر میں تمہارے لئے اتنا ہی بےتاب ہوتا تو تمہارے پاس آنے ، تمہارے لئے دن رات ایک کرنے کی بجائے ہزاروں میل دور جاکر نہ بیٹھ جاتا ہے-تم نے ٹھیک ہی کہا کہ بے قرار ، بے چینی آجکل لفظوں میں ہی مشہود ہوتی ہے اور اس کا مادی اظہار کہیں نہیں ہوتا-ویسے یہ فیس بک کا میسنجر اور فیس بک کی وال چھونے ، محسوس کرنے اور ایک دوسرے کے وجود کے ساتھ ملنے کی سب سے بڑی دشمن ہے،مجھے تم سے ایک اور اعتراف بھی کرنا ہے-اور وہ اعتراف یہ ہے کہ پہلے میں یہ سمجھا کرتا تھا کہ مرد و عورت کے باہمی تعلقات میں یہ عورت ہوتی ہے جو بہت زیادہ ججمنٹل ہوجاتی ہے-فیصلے سناتی ہے اور ایسا میں کیوں سوچتا تھا؟ اب مجھے سمجھ آتی ہے کہ اس کا مقصد مردانہ شاؤنزم کے تحت سارے الزام عورت پہ دھرنا ہوتا تھا-لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ ایسے فیصلے مرد سناتے ہيں اور وہ بہت ججمنٹل ہوکر بات کرتے ہيں-تم مجھ سے پوچھ سکتی ہو کہ میں اس نتیجے پہ پہنچا کیسے؟تو اس کا جواب بہت سیدھا سادا ہے کہ میں نے اپنے زندگی کے افئیرز اور ان کے بریک اپ پہ غور کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں سے سنے ہوئے تجربات کو جب اکٹھا کرکے میں نے طوفان گزرجانے کے بعد شانت لمحوں میں ان پہ غور کیا تو مجھے پتا چلا کہ عورت تو تعلقات کے باب میں ایبسرڈٹی –مہملیت کے سخت بادلوں کی اوٹ میں اپنے تعلق کو گم ہونے نہیں دیتی اور وہ کہیں بھی ججمنٹل نہیں ہوتی بلکہ یہ ہم ہوتے ہیں جو اس کو ججمنٹل ہونے پہ مصر ہوتے ہیں-اور ایبسرڈیٹی کے موسم میں یہ ہماری برداشت ہے جو جواب دے جاتی ہے-

کال سپردگی کے موسم میں ہم پہ اکتاہٹ وارد ہوجاتی ہے-اور عجب بات ہے جس ‘دستیابی ‘ کے لئے ہم مرے جارہے ہوتے ہیں ، اس دستیابی کو پانے کے کچھ عرصے بعد ہم اوب جانے کے عمل کا شکار ہوجاتے ہیں-ہمیں وصال کا موسم ایبسرڈ لگنے لگتا ہے اور وہ جنون ہم سے جدا ہوتا نظر آتا ہے جس میں ہم دستیابی سے پہلے بری طرح سے مبتلا تھے-ویسے تم ٹھیک ہی کہتی ہو کہ مردوں میں محبت کے عروج اور کلائمکس پہ بھی کہیں اور جھانکنے کی خواہش ختم نہیں ہوتی-ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اگر تم اس پہ کوئی روشنی ڈال سکو تو ضرور ڈالنا –مجھے انتظار رہے گا

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s