کوفہ: مابعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں

 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے ایڈمنسٹریٹو/انتظامی عہدوں اور فوجی عہدوں میں یہ خیال رکھا کہ اس میں سبقت اسلام رکھنے والوں کو فوقیت دی جائے اور اس پہ انہوں نے سختی سے عمل کیا اور اس کا نتیجہ کم از کم یہ تھا کہ ان کی حیات تک کوفہ کے جملہ معاملات میں کبّار مہاجر و انصار صحابہ کرام اور ان عرب مسلم لوگوں کا عمل دخل زیادہ رہا جن کی ایمانداری ، پرہیزگاری اور امانت داری کا زمانہ گواہ تھا-ایسے غالب لوگ ضروری نہیں تھا کہ اپنے قبیلے کے کے سب سے بااثر آدمی ہوتے یا ان کے پاس بہت دولت ہوتی –لیکن حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد بہت جلد يہ طریقہ بدل گیا –اور کوفہ کے اندر ایڈمنسٹریٹو اور فوجی عہدے عرب ارسٹوکریٹس کے پاس جانے لگے-سابقین اسلام بتدریج ان عہدوں سے ہٹائے جانے لگے-اگر ہم اس حوالے سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں کوفہ کی گورنری ، اس کی فوجی ایڈمنسٹریشن پہ غالب آنے والوں میں سے چند ایک علامتی نام چن لیں تو ہمیں اس دور کے اندر کوفہ میں بڑی گھمبیر تقسیم کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی-ولید بن عقبہ ابی معیط کا کوفہ کا گورنر بننا کوفہ میں آباد عرب ارسٹوکریسی کے لئے امور مملکت پہ غالب آنے کا سنہری دور ثابت ہوا-ولید بن عقبہ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ہٹاکر گورنر لگایا تھا-ولید بن عقبہ کا جو ریکارڈ تاریخ میں ملتا ہے ، اسے دیکھتے ہوئے تو اس کا گورنر کوفہ بننا کوئی نیک شگون نہ تھا-ولید بن عقبہ نے گورنر بننے کے ساتھ یہ کیا کہ کوفہ کے اندر کئی انتطامی تبدیلیاں کیں- ولید نے ایک تو یہ کیا کہ اشعث بن قیس کندی کو حضرت حجر بن عدی الکندی کی جگہ دے ڈالی –اشعث بن قیس وہ تھا جس نے اپنے قبیلے کے ساتھ ارتداد کا ارتکاب کیا تھا اور بعد میں لڑائی کے زریعے سے پھر اسلام میں داخل ہوا تھا-ابن ابی الحدید نے اشعث کے بارے میں ایک جملہ لکھا ہے جو ساری بات سمجھانے کے لئے کافی ہے ،

“كلّ فتنة أو فساد كان في خلافة أميرالمؤمنين وكلّ اضطراب فأصله الأشعث”

خلافت امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانے میں ہر فتنہ یا فساد اور ہر اضطراب کی جڑ اشعث تھا

اشعث کندہ قبیلہ سے تھا اور اس کو اپنے ملوکانہ پس منظر پہ بہت ناز تھا اور ولید بن عقبہ نے اسے کوفہ کے اندر اہم مقام دیا اوراسی کندہ قبیلے کے انتہائی معتبر ، ثقہ ،زاہد اور عالم ، شجاع صحابی رسول حجر ابن عدی کو ہٹادیا –اس کے بارے میں مورخین و اہل سیر نے کئی ایک واقعات درج کئے جس میں یہ ہدایا ، تحفے تحائف کے زریعے سے ایڈمنسٹریشن میں داخل ہونے کی کوشش کیا کرتا دکھائی دیتا ہے اور اس کے تحائف حضرت علی نے قبول کرنے سے انکار بھی کیا تھا-یہاں ہمیں تاریخ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ولید بن عقبہ کی گورنر کوفہ کے طور پہ تقرری پہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اسلام کے لئے خدمات نہ ہونے اور اس منصب کے لئے اہل نہ ہونے کی بات بھی کی-تو ولید بن عقبہ اور اس کے بعد سعید بن العاص کا گورنر کوفہ بننا حضرت عمر فاروق کی روایت نامزدگی سے دستبرداری تھا-اور یہ عرب ارسٹوکریسی کی واپسی کا اشارہ بھی تھا-لیکن یہاں مجھے حسین محمد جعفری کی ایک فاش غلطی کی جانب بھی اشارہ کرنا ہے اور وہ غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ولید بن عقبہ کی گورنری کے زمانے میں عرب ارسٹوکریسی کی واپسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے رے کی حکومت سعید بن قیس ارحبی ہمدانی کو دئے جانے پہ لکھا کہ ان کی اسلامی سٹینڈنگ کوئی نہیں تھی اور ان کے بھائی یزید بن قیس کو انہوں نے ہمدانی قبیلے کے اندر کوئی نوبل حثیت نہ ہونے کا زکر کردیا حالانکہ یہ دونوں بھائی ہی مسلم معاشرے کے لئے اپنی خدمات کے لئے کافی معروف تھے اور دونوں نے ہی بعد ازاں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ اپنے قبیلے کے ہمراہ جنگ جمل ، جنگ صفین اور نھروان مین شرکت کی ، سعید بن قیس بعد ازاں امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی جم کر کھڑے رہے-اور بعد میں ان کی اولاد اور قبیلہ ھمدان بھی اہل بیت اطہار کے ساتھ کھڑے رہے جبکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ، امام حسن ، امام حسین اور دیگر آئمہ اہل بیت اطہار نے بھی سعید و یزید ابناء قیس ہمدانی کے خاندان اور ان کے قبیلے کی وفاداری اور خدمات کا تذکرہ بہت ہی اچھے الفاظ میں کیا-

ہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ ولید بن عقبۃ اور سعید بن العاص اموی گورنران کوفہ کے دور میں کوفہ کے اندر جو اسلامی سٹینڈنگ رکھنے والے مسلم عرب تھے ، انتہائی متقی ، پرہیز گار لوگ جو تھے ان سب کو کوفہ ، رے وغیرہ کی ایڈمنسٹریشن سے دور کردیا گیا تھا-تاریخ ہمیں اس زمانے میں عہدوں سے ہٹائے جانے والوں میں خاص طور پہ حجر بن عدی الکندی ، مالک الاشتر النحعی ، مسیب بن نجبۃ الفزاری ، عدی بن حاتم الطائی اور صعصعہ بن صوصان العبدی وغیرہ شامل تھے –یہ کوفہ کے اہل القراء میں انتہائی بڑا مقام رکھتے اور ان کی شجاعت و بہادری ، عسکری صلاحیتیں بھی کسی سے کم نہ تھی-کوفہ کی سماجی زندگی میں ان کا ایک خاص مقام مرتبہ تھا اور اس کی بنیاد دھن دولت ، قبائلی تفاخر پہ نہ تھیں بلکہ اس کی خالص فکری اور عمل کی صفائی بنیادیں تھیں-کوفہ کی سماجی زندگی کی یہ روشن مثالیں وہ ہیں جن کے ساتھ تاریخ نے شاید انصاف نہیں کیا اور سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ سعودی فنڈنگ سے اسلام کے جس چہرے کو سامنے لایا گیا ،اس چہرے میں ان چہروں کی جھلکیاں کہیں دکھائی نہیں دیتیں-کوفہ کی جو تصویر ہمارے سامنے پینٹ کی جاتی ہے اس میں ان تصویروں کے رنگ یا تو دکھائی ہی نہیں دیتے یا بہت پھیکے اور ماند نظر آتے ہیں-جبکہ آپ سعودی فنڈڈ وہابی اور دیوبندی لٹریچر کو اٹھالیں اور آن لائن موجود مواد کو دیکھیں اکثر آپ کو ولید بن عقبہ ، اشعث بن قیس ، عبدالرحمان بن اشعث ، سعید بن العاص سمیت ان سب لوگوں کا دفاع ملے گا جو کہ عرب ارسٹوکریسی کے علمبردار تھے اور جنھوں نے کوفہ شہر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ گورنروں عمار بن یاسر ، سعد بن ابی وقاص ، اور نائب گورنر عبداللہ بن مسعود ، اور ان 130 سے زائد مہاجر و انصار صحابہ کی قائم کردہ روایات اور اقدار کے برخلاف راستہ اختیار کیا تھا –قبائلی عصبیتوں ، ایتھنک منافرتوں کا راستہ کھل گیا تھا-کوفہ کی سماجی ترکیب میں ولید بن عقبہ اور مکّہ کے ارسٹو کریٹ سعید بن العاص کے ادوار میں واضح طور پہ عرب ارسٹو کریٹ بلاک کی تشکیل ہوئی اور اس بلاک کے خلاف یہی اہل القراء ، سابقین اسلام ، اور موالین میں سے نیک پرہیز گار لوگ جن کی سماجی بنیادیں ارسٹوکریسی میں نہیں تھیں تشکیل پانے لگا تھا-ان میں صعصۃ بن صوحان سے کتنے لوگ واقف ہوں گے جنھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت کرتے وقت کہا تھا ،

“یا أمير المؤمنين لقد زنت الخلافة وما زانتك ورفعتها وما رفعتك، وهي إليك أحوج منك إليها”.

اسی لئے میں کہتا ہوں کہ کوفہ کی تاریخ کا قتل ہوا ، اس لئے کہ اس شہر کے اندر جو اہل حق کا کیمپ تھا ، جنھوں نے سماجی عدل و انصاف کا جھنڈا اٹھایا تھا ، ان کے کردار نسیا منسیا کردئے گئے-اور مین سٹریم اسلام کے ماننے والوں کے شعور کو اس طرح سے پسماندہ رکھے جانے کی کوشش ہوتی رہی –اور یہ عرب ارسٹوکریسی صرف کوفہ کے اندر ہی بحال کرنے کی کوشش نہیں ہورہی تھی بلکہ اس کا احیاء مدینہ ، مکّہ ، بصرہ وغیرہ میں بھی ہورہا تھا جبکہ شام کے اندر تو یہ پہلے ہی منظم ہوچکی تھی اور مصر میں بھی اسے مضبوط کیا جارہا تھا-لیکن ہم نے دیکھا کہ عرب ارسٹوکریسی کے علمبردار کیمپ کے مخالف عدل و انصاف کی سماجی تحریک کے بھی آثار نمودار ہونے لگے تھے-اور اس تحریک کی اولین بنیادیں کوفہ کے اندر پڑیں تھیں جس کی قیادت کوفہ کے اہل القرآء کے ہاتھوں میں تھیں-لیکن ہمیں تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ عرب ارسٹو کریسی کے خلاف جید صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں سب سے طاقتور آواز حضرت ابو زر غفاری ، عبداللہ بن مسعود ، سلمان فارسی،حضرت عمار بن یاسر ، حجر بن عدی الکندی ، عدی بن حاتم رضوان اللہ اجمعین کی تھیں اور یہی اس تحریک کے ابتدائی رہبر و رہنماء بنے تھے-لیکن یہاں یہ بھی مدنظر رہے کہ خود عرب ارسٹوکریسی کے خلاف مکّہ اور مدینہ کے قریشی مہاجروں کے اندر بھی ایک گروپنگ سامنے آرہی تھی اور اس کی قیادت ہمیں حضرت طلحہ ، زبیر بن العوام سمیت کئی ایک جید صحابہ کرام کرتے نظر آرہے تھے اور تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ان کی نظریں بھی حصرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کی مسند پہ لگی ہوئی تھیں – عرب ارسٹوکریسی نے جس طرح سے مسلم مثالی اقدار کو نظر انداز کیا تھا اور مسلم معاشروں کی اجتماعیت کو جیسے انھوں نے بتدریج ملوکانہ طرز کی جانب دھکیلا تھا اس کے خلاف ایک ردعمل موجود تھا-اور اس ردعمل نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کی شکل اختیار کرلی اور اور آگے چل کر عرب ارسٹو کریسی اور مکّہ و مدینہ کے طاقتور قریشی اشراف نے اس خون کو بنیاد بناکر مسلم ریاست کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی

 

sddefault

مصحف شریف حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جس پہ ان کے لہو کے چھینٹے نظر آتے ہیں

 

 

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب مدینہ و مکّہ ، کوفہ ، بصرہ اور مصر سے جمع ہونے والوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بننے پہ مجبور کردیا تو اس وقت حالات یہ تھے کہ مسلم ریاست کی ملٹری پاور تین بڑے حصوں میں عملی طور پہ تقسیم ہوگئی تھی- ایک ملٹری پاور کا بیس کوفہ تھا اور دوسری ملٹری بیس بصرہ تھی جبکہ تیسری ملٹری بیس شام تھی-حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت کے اعلان کے بعد مدینہ اور مکّہ سے طاقتور قریشی صحابہ کرام کا ایک گروپ بصرہ پہنچ گیا اور اس نے وہان جاکر اپنے لئے ملٹری سپورٹ جمع کرنا شروع کردی اور یہ صورت حال ایسی تھی کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس سوائے اس کے اور راستہ نہیں تھا کہ وہ مدینہ و مکّہ سے اپنی فورس لیں اور کوفہ کو اپنا مرکز بنالیں-اب یہاں پہ یہ بات غور کرنے والی ہے کہ مدینہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جو فوجی قوت میسر آسکی وہ محض ایک ہزار افراد پہ مشتمل تھی اور جب وہ کوفہ پہنچے تو وہاں جاکر ان کی ایک ہزار فوج کے ساتھ بارہ ہزار کوفہ میں مقیم سپاہ ان کے ساتھ ہوئی –مطلب یہ ہوا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت کا تحفظ کرنے میں کوفہ کی ملٹری چھاؤنی سے 12 ہزار کی سپاہ نے اہم ترین کردار ادا کیا تھا-حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سپاہ بارے یہ معلومات ہمیں تاریخ طبری اور نصر بن مزاحم کی کتاب الجمل میں ملتی ہيں-اور ہمیں تاریخ ایک اور واقعہ بارے بھی بتلاتی ہے-اور وہ یہ ہے کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کوفہ پہنچے تو سابق گورنر کوفہ سعید بن العاص نے کوفہ کی رہائش ترک کی اور وہ مدینہ آکر ٹھہر گئے-یہ اس بات کا بھی اشارہ تھا کہ اموی عرب ارسٹو کریٹس نے اپنے اتحادی عرب اشراف القبائل اور اتحادی فارسی اشرافیہ کو کوفہ میں تنہا چھوڑ دیا تھا-اور یہ کوفہ کے نامور اہل قراء اور یمنی قبائل کے لوگ اور موالین کے افتادگان خاک تھے جنھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ساتھ دیا اور کوفی اشرافیہ کو بھی وقتی طور پہ آپ کا ساتھ دینے پہ مجبور کردیا-ہمیں طوعا و کرھا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ساتھ دینے والے حضرات بھی نظر آتے ہیں جن میں اشعث بن قیس کا نام بہت نمایاں ہے اور اس کے زیر اثر کندہ قبیلے کے لوگ بعدازں اموی فوج کا ہراول دستہ ثابت ہوئے-عبدالرحمان بن اشعث ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ امویوں کے لئے خدمات سرانجام دیتا رہا-

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s