چیف جسٹس صاحب!جھوٹ پہ جھوٹ بولو ہو-عثمان غازی

14724360_10207662887305325_1316490641817734846_n

یہ لاڑکانہ کی سڑکوں کی تصویریں ہیں ۔۔
سندھ کے چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں فریال تالپور کو نام لیے بغیر ڈائن کہا تھا
چیف جسٹس سجاد شاہ کے مطابق ڈائن بھی سات گھر چھوڑدیتی ہے، یہ تو ان کا اپنا شہر ہے
یہ ریمارکس اس وقت دیئے گئے جب لاڑکانہ کی سڑکوں کے حوالے سے ایک مقدمہ زیرسماعت تھا
پیپلزپارٹی سے اتفاق واختلاف اپنی جگہ مگرسندھ کے مثبت تصور کے فروغ کو اس سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہئیے
کچھ عرصے پہلے میں نے سہون کے بارے میں ایک تحریر پڑھی، اس میں لکھا تھا کہ اس شہر کا ہر چوتھا شخص بھکاری ہے
میں سیہون گیا تو پورے شہر میں کوئی بھکاری نہیں ملا، اپنے میزبان سے فرمائش کی کہ مجھے بھکاری دکھاؤ تو وہ مجھے سیہون شریف کی درگاہ لے گیا، لکھاری شاید درگاہ کے احاطے کو ہی سہیون سمجھ بیٹھا تھا
ایک صاحب نے بتایا کہ سندھ میں سارے جاہل رہتے ہیں، منچھر کے قریب مجھے ایک ملاح ملا، جب اس نے مجھے اشتراکی سماج کی تاریخ کے بارے میں لیکچر دیا تو میں نے پوچھا کہ تمہاری تعلیم کتنی ہے، کہنے لگا کہ وہ اسکول نہیں گیا
اس ملاح نے مجھے سندھ کے جاہلوں میں دلچسپی لینے پہ مجبور کردیا، اس دلچسپی کے تحت میں ایسے ایسے لوگوں سے ملا کہ دل چاہا کہ ڈگریوں کو آگ لگادوں، دل سے پوری دنیا کے جاہل ہونے کی دعا نکلنے لگی
تھر کے ایک صاحب جو عرف عام میں جاہل تھے، علم جغرافیہ کے ایسے ماہر نکلے کہ ایک شاخ سے ریت پر پوری دنیا کا نقشہ کھینچتے اور بس پھر آپ ریت کی لکیروں میں کھوسے جاتے، سندھ کا جاہل بھی تہذیبی روایتوں کا عالم ہے اور اہل علم کے تو کیا ہی کہنے، شرح تعلیم کے اعتبار سے سندھ ملک کا دوسرا بڑا صوبہ ہے
سندھ کا مسئلہ اس کا تاثر ہے جو شاید منظم طریقے سے خراب کیا گیا ہے، تھر کا جعلی قحط اس کی ایک واضح مثال ہے، سندھ میں علم کے دلدادہ اور فنون کے ماہرین ہیں، یہ فطرت کے قریب ہیں، ان کے مزاج اجلے ہیں، یہ دھوکے باز نہیں ہیں
ایک دلچسپ مشاہدہ یہ ہوا کہ میں نے جامشورو روڈ پر ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کے دوران بیچ میں کئی بار رک کر مختلف منزلوں کا پتہ دریافت کیا تو کوئی ایک ایسا فرد نہیں ملا جس نے غلط گائیڈ کیا ہو، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں یہ صورت حال بالکل برعکس ہے
سندھ میں ڈاکو راج ہے اور نہ جاگیردارانہ تسلط ۔۔۔ بلکہ پاکستان میں کہیں بھی جاگیرداری نظام کا سن کر مجھے اکثر تعجب ہوتا ہے، شاید لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ جاگیردارنہ نظام ہوتا کیا ہے، پاکستان میں سرمایہ دارانہ نظام اپنے حریف جاگیردارانہ نظام کو ستر کی دہائی میں نگل چکا ہے اور اب فیوڈلزم کا ملک میں سرے سے کوئی وجود نہیں، بااثر افراد فیوڈلز نہیں ہوتے
سندھ میں ڈاکو راج کے خیال سے میں سیہون تھانے جاپہنچا، میں نے دریافت کیا کہ آپ کے پولیس اسٹیشن میں سنگین نوعیت کے جرم کا آخری مقدمہ کون سا درج ہوا
پولیس والا کہنے لگا کہ صاحب ۔۔ پچھلے مہینے ایک موٹرسائیکل چوری ہوئی تھی، بس یہی مقدمہ درج ہوا ہے، زیادہ ترمقدمات جائیداد کے حوالے سے ہی ہوتے ہیں
ایک بار ایک رپورٹر میرے پاس آئی اور افسردہ لہجے میں ٹھٹھہ کے ایک گاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگی کہ وہاں لوگ بکریاں چرا کر گذارا کرتے ہیں، کچی اینٹوں سے گھر بناتے ہیں، کتنے مشکل میں ہیں وہ
میں نے کہا کہ ظاہر ہے وہ ایک گاؤں ہے، اب ماربل سے تو گھر بنانے سے رہے، بکریاں چرانا اگر وہ چھوڑدیں تو ہم بھوکے مرجائیں گے، وہ ان کا کام اور رہن سہن کا طریقہ ہے، اس گاؤں میں کراچی کی طرز کا شاپنگ مال مت ڈھونڈو
یہی مشورہ میں ان لوگوں کو بھی دوں گا جو سانگھڑ اور شکارپور میں کراچی کی طرز کا ایٹریم شاپنگ مال نہ ملنے پر ان شہروں کو موئن جو دڑو قرار دے دیتے ہیں
جامشورو کے سندھیالوجی میوزیم میں سینکڑوں اہل علم، فن کاروں اور سیاست دانوں کی تصاویر دیکھتے ہوئے میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا پورے ملک نے مجموعی طور پر قیام پاکستان سے اب تک اتنے اہل افراد پیدا کیے ہوں گے
اگر نہیں تو شاید سندھ کا مسئلہ یہی شعور ہے ۔۔ احساس کمتری کے مارے سندھ کو علم وادب میں شکست نہ دے پائے تو تضحیک، توہین، تذلیل، تحقیر اور پروپیگنڈے کو اپنا ہتھیار بنالیا مگر صاحبو ۔۔ ایسا کب تک ہوگا!! یہ 21ویں صدی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s