کوفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے دور میں

alihouse

نصر بن مزاحم المنقری متوفی 212ھجری کی کتاب وقعۃ الصفین کوفہ اور اہل عراق کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف رویہ جاننے میں ہماری مدد کرتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اہل کوفہ ان دنوں کن خیالات اور افکار کے زیر اثر تھے،اس سلسلے میں نصر بن مزاحم نے ہماری معلومات میں بہت اضافہ کیا ہے-کتاب کے آغاز میں نصر ہمیں بتاتے ہیں کہ رجب کی 12 راتیں گزرچکی تھیں یعنی 13 رجب المرجب تھی اور سن 36 ھجری تھا جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم جنگ جمل سے فارغ ہوکر بصرہ سے کوفہ آئے اور انہوں نے دارالامارہ میں قیام کرنے سے انکار کیا اور کوفہ کے لوگوں سے بات چیت کرنے کے لئے کوفہ کی جامع مسجد کا انتخاب کیا-نصر بن مزاحم نے اس موقعہ پہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا جو خطاب درج کیا ہے ، وہ اپنے مضامین کے اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے-اس میں آپ نے اسلام کو اپنی زندگی کی بنیاد بنانے اور خواہشات کا اسیر ہونے سے بچنے اور آخرت کی فکر کرنے پہ زور دیکر دنیا پرستی کی مذمت کی اور اس کے بعد آپ نے جنگ جمل کا پس منظر بتایا اور آپ نے اہل کوفہ سے کہا کہ ان کی بیعت مہاجرین و انصار اولین کی شوری نے کی اور پھر عامۃ المسلمین نے اور شوری کا اتفاق جماعت کا اتفاق ہے اور اس سے الگ ہونا فرقہ پرستی ہے ، اور اسی تناظر میں انھوں نے بتایا کہ کیسے ایک گروہ نے ان سے کی ہوئی بیعت توڑی تو ان سے انھیں لڑنا پڑا اور جب وہ مطیع ہوگئے تو ان سے تلوار اٹھالی گئی –یہیں آپ کے خطاب کے بعد مالک بن حبیب یربوعی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بتایا کہ کوفہ کے اندر ایک گروہ قلیل کو چھوڑ کر سب آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی اطاعت کریں گے-نصر بن مزاحم ایک روایت ساتھ ہی نقل کرتا ہے کہ ایک شخص ابوبردہ بن عوف الازدی کھڑا ہوا —اس کے تعارف میں نصر لکھتا ہے کہ یہ شخص “عثمانی ” تھا اور یہ امیر شام معاویہ بن ابی سفیان کو خفیہ خط لکھا کرتا تھا اور جب معاویہ ابن ابی سفیان کوفہ پہ غالب آئے تو انھوں نے اسے فلوجہ میں ایک قطعہ اراضی دے دیا تھا-یہاں پہ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ‏عثمانی کی اصطلاح سے مراد کیا ہے-یہ اصطلاح بعد میں متعارف ہوئی اور اس کا اطلاق اہل سیر و تاریخ نے دو طرح کے لوگوں پہ کیا-کوفہ میں جب ولید بن عقبہ اور سعید بن العاص کے خلاف تحریک کھڑی ہوئی تو اس موقعہ پہ جو لوگ کوفہ میں اموی گورنروں کے ساتھ تھے وہ بعد میں عثمانی کہلائے اور اسی طرح وہ لوگ جو حضرت عٹمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خون ‏‏عثمان رضی اللہ عنہ کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہوگئے ان کو بھی عثمانی کہا گیا اور نصر من مزاحم کی کتاب سے ہمیں پتا چلتا ہے جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کوفہ آئے تو ایسے لوگ موجود تھے-یہاں پہ نصر بن مزاحم نے ص 9 پہ ایک روایت درج کی ہے جس میں آپ نے مخنف بن سلیم اور ان کی قوم کے بارے میں فرمایا کہ یہ ہماری حمایت میں سرگرم رہے اور ان کا حال اس قوم کی طرح نہیں ہے جس کا زکر قرآن میں آیا (منافقین مدینہ کے بارے میں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے نہیں گئے تھے ) کہ جب ان کو اہل ایمان کے بارے میں کسی مصیبت کی خبر پہنچے تو کہتے ہیں اچھا ہوا کہ ہم وہاں نہیں تھے اور جب کوئی کامیابی کی خبر ملے تو کہتے ہیں کہ کاش ہم وہاں ہوتے-پھر نصر نے زکر کیا کہ چوتھے دن جب جمعہ کا دن تھا تو کوفہ کی جامع مسجد میں آپ نے نماز جمعہ پڑھی اور اس موقعہ پہ آپ نے مخنف بن سلیم ،قدامہ بن مظعون ، قرظۃ بن کعب،ابوحسان البکری ،سعد بن مسعود الثقفی، ربعی بن کاس،خلید ،الاشتر کو مختلف علاقوں کا گورنر مقرر کیا-یہ سب لوگ اہل عراق اور کوفہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حامیوں میں شمار ہوتے تھے-نصر بن مزاحم نے ص 16 پہ اہل السواد یعنی سوادی زمینوں کی کاشت کرنے والوں کے پاس آپ کے جانے کا زکر کیا ہے اور ان سے آپ نے مکالمہ کیا اور ان سے آپ نے ساسانی حکمرانوں کے بارے میں بھی پوچھا-اس سے ایک بات تو یہ پتا چلتی ہے کہ جنگ جمل سے واپسی کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کوفہ اور اس کے گردونواح میں باقاعدہ ایک مہم چلائی جس کا مرکز اہل کوفہ و عراق کو قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے بعد کے حالات و واقعات کی آگاہی دینا تھا تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور آپ کا حکومت بارے جو آدرش تھا وہ بھی لوگوں تک پہنچے-وقعۃ الصفین سے ایک اور اہم بات ہمیں یہ پتا چلتی ہے کہ اشعث بن قیس جس کے پاس آزربائیجان کی حکومت تھی کو آپ نے جب خط لکھا تو اسے یہ ڈر تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کہیں اس سے یہ حکومت نہ لے ليں اور اس نے آزربائجان کے لوگوں کے سامنے اس خدشہ کا اظہار کیا اور یہ خیال ظاہر کیا کہ آزربائیجان کا الحاق شام سے کردیا جائے تو وہاں کے لوگوں کی اکثریت نے اس امر کی سختی سے مخالفت کی جس کے سبب اشعث مجبور ہوگیا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت کرے-(ص22،وقعۃ الصفین ) –یہیں پہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا حضرت جریر بن عبداللہ البجلی کو لکھے گئے خط کا متن بھی نصر نے روایت کیا ہے-اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حسن بن علی ابن ابی طالب ، عبداللہ بن عباس ، عمار یاسر ،قیس بن سعد بن عبادہ کو کوفہ بھیجا تھا جب وہ ابھی مدینہ میں تھے تو یہ اصحاب کوفہ پہنچے اور انھوں نے اہل کوفہ کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی،اور اگر آپ ان خطوط کا مطالعہ کریں جو تقرری نامے تھے عاملین کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی جانب سے تو ان سب کے متن میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی بیعت کے طریقہ کار بارے لکھا ہے ، اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت بلاد اسلامیہ میں ایسی سوچ موجود تھی جو آپ کی بیعت اور آپ کی خلافت کے جواز پہ انگلی اٹھارہی تھی-اور ایسے لوگ کوفہ میں بھی موجود تھے-اور نصر بن مزاحم جب یہ زکر کرتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے جب شامیوں کے خلاف جنگ کی تیاری کے لئے مہم چلائی تو ہمیں مہاجر و انصار صحابہ اور ان کی اولاد کے نام بھی پتہ چلتے ہیں جو عراق و کوفہ میں تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ تھے-ان میں نصر عمار ،قیس بن سعد بن عبادہ،خزیمہ بن ثابت ، ابو ایوب الانصاری ، سھل بن حنیف وغیرہ کے نام وہاں زکر ہیں ، اسی طرح سے عرب قبائل میں بنی غطفان و بنی تمیم کے لوگوں کا زکر ہے کہ انھوں نے آکر اپنی حمایت کا یقین دلایا اور پھر وہ ساتھ گئے بھی-اسی دوران ایک معقل بن قیس الیربوعی کا زکر ملتا ہے اور عبداللہ بن المعتم کا زکر ملتا ہے جن کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ کوفہ میں رہتے تھے اور امیر شام کو خط لکھا کرتے تھے-ان شواہد و واقعات سے کم از کم ہمارے سامنے یہ بات آجاتی ہے کہ کوفہ کے اندر ایسے لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہی زمانے میں موجود تھے جن کے روابط شام سے تھے اور نصر کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ جس کے بارے میں یہ پتا چلتا تھا اسے قید کردیا جاتا تھا-جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کوفہ کی جامع مسجد میں اہل کوفہ کو شامیوں کے خلاف لڑائی کے لئے تیار کررہے تھے تو بنی فزارہ سے ایک شخص کے کھڑے ہونے اور اس کے اس جنگ کی مخالفت کرنے کا زکر ملتا ہے تو ایک ہنگامہ ہونے اور اس کے وہاں سے فرار ہونے اور بازار میں پکڑے جانے اور وہاں پہ مار پیٹ کے بعد قتل ہوجانے کا زکر ملتا ہے جس کی دیت بیت المال سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ادا کرنے کا حکم جاری فرماتے ہیں(وقعۃ الصفین ص 92)

نصر بن مزاحم نے امیر شام کی حکمت عملی پہ بھی نظر ڈالی ہے اور یہ عمرو بن العاص تھے جنھوں نے امیر شام کو یہ مشورہ دیا کہ وہ کسی نا کسی طرح اہل عراق کو تقسیم کرنے اور ان میں افتراق کو بڑھانے کی کوشش کریں اور اسی طرح سے  شام پہ ان کی چڑھائی کو روکا جاسکتا ہے-نصر نے کافی اہم معلومات بہم پہنچائی ہیں-امیر شام کے روسائے قحطان و یمن میں سے یزید بن اسد ، بسر بن ارطاۃ ، عمرو بن سفیان ، فحارق بن الحارث الزبیدی ، حمزہ بن مالک ، حابس بن سعد الطائی بہت قریت اور معتمد تھے ، ان کو امیر شام نے خط لکھ کر بلایا اور ان سب کو اس بات پہ راضی کیا کہ یہ سب اپنے علاقوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا قاتل قرار دینے اور آپ کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی زمہ داری اٹھائیں گے-نصر نے معاویہ بن ابی سفیان کے حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت محمد بن مسلمۃ رضوان اللہ علیھم کو اسی دوران لکھے گئے خطوط کا متن بھی دیا ہے-ان خطوط میں امیر شام نے حضرت ‏عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا الزام حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے سر پہ ڈالا اور یہ بھی کہا کہ انھوں نے سنا ہے کہ یہ حضرات بھی علی المرتضی سے ناراض ہیں اور ناقد ہیں لیکن ان تینوں احباب نے جواب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل بیان کئے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے جواب میں کہا کہ کوئی یہ کیسے سوچ سکتا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں طعن کریں گے اور ان تینوں احباب نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت پہ بھی روشنی ڈالی-اس سے یہ بات تو پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ جید صحابہ کرام کی اکثریت کو بھی اس معاملے میں کوئی شبہ نہیں تھا-اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو اہل عراق و کوفہ میں اچھی خاصی تعداد کی حمایت ، مدد حاصل تھی تبھی تو وہ جنگ جمل کے بعد جنگ صفین کے لئے ایک بڑا لشکر اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے تھے-کوفہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی سرگرمیوں سے ہمیں یہ اندازہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ اس وقت نظریاتی اعتبار سے کوفہ میں بالخصوص اور عراق میں بالعموم تین گروہ تھے- ایک گروہ وہ تھا جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت توڑنے یا ان کی بیعت نہ کرنے والوں سے لڑائی کے حق میں تھا اس وقت تک جب تک باغی بیعت نہ کرلیں-دوسرا گروپ وہ تھا جو صلح جوئی کی طرف رجحان رکھتا تھا اور شاید تذبذب کی حالت میں بھی تھا۔ایسا ایک کردار حضرت ابو موسی اشعری کا بھی ہے-الاشتر کا خیال تھا کہ جریر بن عبداللہ البجلی بھی اسی گروہ کے آدمی ہیں اور ان کو شام میں سفر بناکر بھیجنے کی اشتر نے مخالفت بھی کی تھی-نصر بن مزاحم نے جریر بن عبداللہ البجلی کی واپسی پہ الاشتر سے تند وتیز مکالمے کی روداد بھی درج کی ہے-اور نصر نے کوفہ کی جامع مسجد اور کوفہ کے محلوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے دوروں کے دوران کئی ایک افراد کے مکالمے بھی آپ سے درج کئے ہیں جن میں لوگ لڑنے کی بجائے صلح جوئی اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں-اور کئی ایسے کردار بھی ملتے ہیں جو اسے فتنہ سے تعبیر کرتے ہوئے اس معاملے میں کسی کیمپ کی جانب جانے کو مبتلائے فتنہ ہونا خیال کرتے ہیں-اور جو گروہ کھل کر آپ کے ساتھ ملکر لڑائی کرنے کو تیار تھا اس میں بھی ایسے عناصر موجود تھے جن کی حالت اخلاص کے حوالے سے مشکوک تھی ، جیسے الاشعث کا زکر پہلے کیا جاچکا ہے-اور وقت اور حالات کے اس سارے تناظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں سمجھ آتی ہے کہ کیسے عراق کے اندر ایک طرف تو شام کی پروپیگنڈا وار نے انتشار و افتراق میں اضافہ کیا ، دوسری طرف اہل تذبذب کی سستی اور بے یقینی نے حالات کو خراب کیا-لیکن مرا یہاں مقصد ان کرداروں اور ان گروپوں بارے زیادہ بات کرنا ہے جنھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ساتھ دیا-اور آپ کا کنٹرول کوفہ اور اہل عراق پہ قائم رکھا-حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے عراق آنے کے بعد تین جنگیں لڑیں اور تینوں جنگوں میں فتح حاصل کی اور یہ تینوں جنگیں کوفہ اور اہل عراق کی مدد کے بغیر نہ تو لڑی جاسکتی تھیں اور نہ ہی ان میں فتح حاصل کی جاسکتی تھی-اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اہل عراق میں یہ علوی تھے جن کی حمایت نے ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی خلافت کو گرنے سے بچایا تھا-اور بعد میں تاریخ کی تدوین کرتے ہوئے علوی کیمپ کے وجود اور اس کی تاریخ کو ٹکڑوں ، ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا جن کو ایک جگہ اکٹھا کرنے میں بڑی دقت کا سامنا رہا-جبکہ کوفہ و عراق کے متذبذین ، شامیوں سے ربطے میں رہنے والے اور اہل بیت اطہار سے دھوکہ کرنے اور بے وفائی کرنے والوں کو ہی عراق اور کوفہ کا پورا چہرہ بنادیا گیا –یعنی بزدل معروف اور بہادر گم ہوگئے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s