آٹھواں خط

couple-painting

،پیاری ساری

کسی ادیب نے اپنی دوست کو خطوط کی بارش کے دوران ایک خط میں لکھا تھا کہ اسے خط کے آغاز میں بار بار اس کے نام سے پہلے یہ لفظ “پیاری ” لکھنا اووڈ اور آکورڈ لگتا ہے تو وہ اسے ترک کررہا ہے-لیکن مجھے ایسا بالکل بھی نہیں لگتا-میں اسے لکھے بغیر آگے جا ہی نہیں پاتا لیکن میں تم سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ اس لفظ سے ٹھیک ٹھیک مری مراد کیا ہے،یہ میں تمہیں وضاحت سے بتا نہیں پاؤں گا بلکہ شاید اس لفظ کی معنویت پہ بات سے ہی قاصر رہوں-تم نے ایک دن پہلے فیس بک میسنجر میں مجھے ایک نظم بھیجی تھی – “اب سمجھ میں آتا ہے ” –ایسا کیوں ہوتا ہے کہ زندگی کے تجربات کے دوران ہمیں کئی بار لگتا ہےکہ “اب سمجھ میں آتا ہے ” اور ہر بار کچھ عرصہ بیت جانے کے بعد کوئی اور بات سمجھ میں آجاتی ہے اور ہم پھر کہتے ہیں ” اب سمجھ میں آتا ہے” – ایسا کیوں ہے؟ہمیں لفظوں اور جملوں میں حتمیت سے اس قدر لگاؤ کیوں ہوجاتا ہے اور ہم آخری اور حتمی بات کرنے کے اتنے خوگر کیوں ہوتے ہیں؟یہ سوال مجھے پریشان کرتا رہتا ہے،ایک مرتبہ تم نے کہا تھا کہ بہت سے لکھنے والوں اور لکھنے والیوں کے پاس جاکر تم نے دیکھا تو اپنے متن سے وہ بالکل اگر نہیں تو کافی محتلف نظر آئے اور جو پیکر تم نے ان کے متن کے اندر سے ان کے تراشے تھے ،وہ تمہیں نہیں ملے-ابھی کل کی بات ہے تم نے اروشی کو دیکھا کہ وہ مردوں کی اندرون زات کی تلاش ان کے لکھے ادب کے اندر کرنے کی بات کررہی تھی تو میں نے لکھا تھا کہ مردوں کے اندر کی تلاش ان کے لکھے ادب کے اندر کرنے سے گمراہی اور بڑھ جاتی ہے اور اندھیرا اور گہرا ہوجاتا ہے تو تم نے فوری کہا تھا کہ ایسا ہی ہے،مجھے لگا کہ یہ عمومی جملہ شاید تم نے مرے بارے میں بولا ہے تو میں نے اندر کے چور کو چھپانے کے لئے اپنے کہے میں اتنی سی ترمیم کی کہ ہاں یہ ادب کچھ کلیوز ہمیں مردوں کے اندر کی زات بارے دے ڈالتا ہے-لیکن کیا مردوں کا لکھا ادب اور ان کے متون ہی گمراہ کن ہوتے ہیں؟ کیا وہی متون ان کے اندرون تک ہماری رسائی ممکن نہیں بناتے؟ کیا عورتوں کے لکھے متون اور ادب بھی ایسا ہی کچھ نہیں کرتا؟اور تم نے مرے گزشتہ خط میں ریلشن شپ میں آخری فیصلہ مردوں کی جانب سے سنائے جانے اور الزام عورتوں کو دئے جانے کے بارے ميں کہا “یہ جملے بھی ایک اور طرح سے عورتوں کو لبھائے جانے کا پرفریب طریقہ ہیں-اور تم دراصل ایسے اچھے بنکر مجھ پہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہو کہ ریلشن شپ کے باب میں تم اور مردوں کی طرح نہیں ہو،اور میں یہ سب سمجھنے کے بعد بھی ریلشن شپ کے باب میں تم سے دور نہیں ہورہی ہوں،تم دوسرے مردوں کی طرح ہی ہو یہ سمجھنے کے لئے مری محبت تیار نہیں ہے،ہوسکتا ہے کل کوئی ایسا لمحہ آجائے کہ میں تم سے شدید نفرت کرنے لگوں تو اس وقت اپنی اس سمجھ کو لفظوں کا روپ دے ڈالوں، یہ ایسے ہی ہے جیسے کل ایک مرد ادیب نے لکھا کہ کثرت ازواج ایک لعنت اور عورتوں کو غلام بنانے کی رسم ہے-اور جب اس سے کسی نے پوچھا کہ وہ جنسی آزادی کا قائل ہے اور بیک وقت کئی عورتوں سے یہ تعلق استوار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا تو پھر ایک مرد کے چار عورتوں سے نکاح پہ اسے اعتراض کیوں ہے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ جنسی تعلقات کی آزادی میں مرد و عورت ایک دوسرے پہ کوئی پابندی عائد نہیں کرتے، لیکن کیا واقعی یہ آزادانہ اور جبر سے بالکل نجات پایا تعلق ہوتا ہے؟لیکن مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہ بھی عورت کو لبھانے اور اس سے تسکین ڈھونڈنے کا ایک اور طریقہ ہے” تمہارے یہ الفاظ کسی اور کے لئے ایف آئی آر ہوں نا ہوں لیکن مجھے اپنے خلاف ایک ایف آئی آر ضرور لگتے ہیں-سوشل ميڈیا پہ عورتوں کی آزادی کا زور و شور سے ڈھونڈرا پیٹنے والے اور اس کے خلاف تلواریں سونت کر اخلاقیات و مذہب کی راگنیاں زور زور سے گانے والے دونوں کا ہدف آخر میں اس وقت اپنے فوکس میں آئی عورت کے بدن کو اپنے تصرف میں لانا ہی ہے،اف۔۔۔۔۔۔ آخر اتنی تشکیک مرے اندر کہاں سے داخل ہوئی ہے کہ میں ٹک کر کسی ایک کیمپ کے ساتھ رہ ہی نہیں پارہا-میں دیکھتا ہوں کہ ایک عورت اپنے چاہنے والوں میں سے جسے اپنے لئے چنتی ہے تو دھیرے دھیرے اس کی جانب سے اسے بس ایک مورتی کی طرح بے جان بناکر اس کے بدنپہ تصرف کرنے کے اس عمل پہ زرا معترض نہیں ہوتی جس تصرف کی کوشش پہ دوسروں کی جانب سے اسے سخت اعتراض ہوتا ہے اور وہ الزام دیتی ہے کہ اس کے چند مخصوص اعضاء کی وجہ سے اسے قابل محبت اور قابل کشش کیوں خیال کیا جارہا ہے اور اسے پرآئیویٹ مسیجز میں اس کے بارے میں اپنے اندر کے خیالات سے آکاہ کیوں کیا جارہا ہے؟آخر جس سے ریلشن ہو اس کی جانب سے کسی خاص لباس میں اور خاص پوز میں اسے دیکھ کر اسے یہ کہنا، ” آج بہت سیکسی لگ رہی ہو یا قتل کرنے پہ تلی ہو” کے جواب میں شرما جانا یا سرخ ہوجانا جیسے اظہار کیوں آتے ہیں اور یہی جملہ کسی اور مرد کی طرف سے آئے تو اسے “گندی ذہنیت ” کا مالک کہنا اور اسے اخلاقیات کا بھاشن دینا یا عورت کو کاموڈیٹی بنادینے کی باتیں کرنا کیوں ہے ؟ وہ کون سی چیز ہے جو ریلشن شپ کے اندر بدن کے خدوخال کی تعریف پہ بھڑکانے سے عورت کو باز رکھتی ہے اور عورت کو یہ بھنورا پن نہیں لگتا جبکہ اس بات کی کوئی حتمی ضمانت تو ہمارے پاس نہیں ہوتی کہ ہم سے جڑا مرد ایسے جذبات صرف ہمارے لئے ہی محسوس کرتا ہے-کسی اور کی جھیل جیسی آنکھوں میں ڈوب جانے کو اس کا من نہیں کرتا یا کسی اور کے بدن کا کوئی خاص جزو اپنی کمال خوبصورتی کے ساتھ اس کے جذبات کو اتھل پتھل نہیں کرتا-اور ایک اور ضروری بات یہ کہ بریک اپ کے بعد بریک ہوا مرد یا بریک ہوئی عورت ہیجان خیز تلاطم سے گزرنے جانے کے بعد ایک دوسرے ریلشن میں جب آتا ہے یا آتی ہے تو پھر وہی سب چیزیں دوھرائی جاتی ہیں اور اس دوران بھی یہی نہیں کہا جارہا ہوتا کہ ” اب سمجھ میں آتا ہے” کیا واقعی سمجھ میں آتا ہے ؟ ڈی ایچ لارنس لیڈی چیٹرلے سے کہلواتا ہے ، ” ہمیں جینا پڑتا ہی ہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنے آسمان ٹوٹ پڑے ہیں” –کیا یہی حقیقت نہیں ہے اور ہم اس وقت تک تنہائی میں جیتے ہیں جب تک ایک خلاء جو ہمیں اپنے اندر نظر آتا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ اس کائنات سے جڑے رہنے کی قیمت تنہائی ہے تو جیسے ہی وہ خلاء بھرتا ہے مرا مطلب ہے جیسے ہی ہم ایک ریلشن شپ میں آتے ہیں،ہمیں یوں لگنے لگتا ہے جیسے کائنات سے جڑے رہنے کا انعام ریلشن شپ ہے-محبت ایسا سفر ہے جو ہمیشہ دوسرے وجود کی طرف ہوتا ہے اور اس دوران جو تکالیف آتی ہیں ،ان کا آنا ایک ڈیسٹنی ہے-اور یہ سفر بار بار ہوتا رہتا ہےاور دلچسپ یا کبھی حل نہ ہونے والی پہیلی یا پزل یہ ہے کہ ایک کے بعد دوسرے ریلشن میں بریک ہوا مرد یا بریک ہوئی عورت اپنی تکالیف کا سبب بریک ہوئی عورت یا بریک ہوئے مرد کے سر منڈھتی ہے اور نئے ریلشن میں کوئی ایک کردار ترحم آمیز ہوتا ہے اور دوسرا اس کے فرض کردہ زخموں پہ مرہم رکھنے والا/والی-اور ایسے میں ہمیں بہت ہی دردمند، سادہ اور دھوکا کھاگئے درویس یا ستی ساوتری ہونے کا سودا ہوتا ہے-

پیاری ساری، مجھے یہ سب کتھا جسے میں نے بڑے ہی عالمانہ فاضلانہ ایک طرح سے “لولیکس ” یا “ریلشن شپ لیکس ” کے طور پہ یہان پیش کی ہیں ایک مبالغہ آمیز عمومیت لگتی ہیں ، میں ان کے ایک کیوریٹ یا پری سائزڈ ہونے بارے میں بھی شکوک کا شکار ہوں-لیکن اس لمحہ موجود اور اس مکان کی اس گھڑی کا ایک “سچ ” یہ بھی ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں اور اس میں اس لمحہ موجود میں مجھے زرا بھی شک لگتا نہیں ہے

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s