کراچی خواتین کی مجلس پہ حملہ :جمیلہ ، غوثیہ اور سلمی بھی عورتیں ہی ہیں مگر شیعہ

1201091-imambargah-1476722546-598-640x480

امام بارگاہ درس عباس جہاں عورتوں کی مجلس پہ تکفیری دہشت گردوں نے بم پھینکا

 

محرم الحرام جب شروع ہوا تھا تو اس وقت زور و شور سے محرم میں عزاداری کو چار دیواری میں قید کرنے کے لئے تکفیری منطق کے ساتھ ساتھ سیکولر اور معاشی منطق کے سوفسطائی دلائل کا انبار کھڑا کیا جا رہا تھا-دس دن عزاداری کے دوران ایک بس میں جانے والی چار شیعہ عورتوں کو قتل کیا گیا ، گھر سے نکلتے دو پشتون شیعہ حسن ابدال میں مارے گئے اور پھر مجلس عزا سے آتے ہوئے ایک شیعہ استاد منصور زیدی حملے میں مارے گئے اور ان کا بیٹا زخمی ہوگیا ، دو اور شیعہ نوجوان اپنی خواتین کو مجلس سے واپسی پہ لینے کے لئے امام بارگاہ کے پاس کھڑے تھے،ان پہ حملہ ہوا ، ایک زخمی بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا-اور دوسرا ابھی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے-یہ سب لوگ محرم کے کسی جلوس میں نشانہ نہیں بنے اور نہ ہی یہ کسی پبلک مقام پہ تقریر کرتے ، ماتم کرتے ، نوحہ خوانی کرتے نشانہ بنے بلکہ ان کو یا تو امام بارگاہ کے سامنے نشانہ بنایا گیا یا گھر کے سامنے یہ نشانہ بنے-اس کے بعد کل بروز سوموار ،17 اکتوبر 2016ء کی رات کو خواتین اور بچے جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت زینب بنت علی ابن ابی طالب کی یاد میں مجلس کررہی تھیں کو امام بارگاہ سے نکلتے ہوئے بم سے نشانہ بنایا گیا اور اس کے نتیجے میں ایک کمسن بچّہ جان بحق اور تین عورتیں اور چار بجّے زخمی ہوگئے- تکفیری دانشور اور لبرل دانشوروں کی ایک ٹولی ہمارے سامنے یہ منطق رکھتی رہی کہ عزاداری اگر چاردیواری میں ہو تو حملے نہیں ہوں گے-لیکن دس دنوں میں حملے بھی ہوئے اور دس دن کے بعد پھر چار دیواری میں ہونے والی مجالس پہ بھی حملے نہیں رکے

fraz-hussain

خواتین کی مجلس عزا میں بم دھماکے سے ہلاک ہونے والا 12 سالہ فراز حسین

تسنیم عابدی ایک بہت اچھی شاعرہ اور درد دل رکھنے والی ، جذبہ انسانیت سے معمور دانشور ہیں انھوں نے ایک نظم کا اقتباس اپنی فیس بک وال پہ دیا

رسم کے قیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بوڑھی قدریں کچھ کمزور سی رسموں کو

دوددھ پلا کر زندہ رکھنا چاہتی ہیں

عقل کے دشمن لوگوں کو یہ

روز ہی دھوکا دیتی ہیں

دھوکا کھانے والے دھوکا کھا کر بھی

گلے لگا کر ان کو زندہ رکھتے ہیں

عقل ہمیشہ شرمندہ ہی رہتی ہے

رسم و رواج کے سامنے مات ہی کھاتی ہے

چور محافظ بن کے گھوما کرتا ہے

ایسی بستی لتنے پر خوش ہوتی ہے

لٹ کے بھی سب جشن منایا کرتے ہیں

(تماشا سے ایک نظم)

نظم اچھی ہے اور کئی معانی کی حامل ہوسکتی ہے ، لیکن کچھ رسمیں جو بہت طاقتور استعارہ ہوتی ہیں ظلم و بربریت کے خلاف وہ بوڑھی ہوتی نہیں لیکن انھیں بس بوڑھا کردیا جاتا ہے ، سازشوں کے ساتھ ، کبھی ریاستی بیانیہ ، کبھی علاقائی پراکسی جنگیں اور کبھی کسی رجیم گرانے کے نام پہ- ایسی رسم کو بوڑھا ، فرسودہ اور کبھی اسے وحشیانہ کہہ کر چار دیواری میں بند کرنے کو کہا جاتا ہے اور چاردیواری میں بھی کی جائے تو بم برسائے جاتے ہیں ، عورتیں اگر اسے کریں تو بھی ان پہ بم برسائے جاتے ہیں ، بچوں تک کو معاف نہیں کیا جاتا-یعنی جب کوئی 60 ھجری میں ہوئی ٹریجڈی کو پھر تھیڑیکل انداز میں زندہ کرتا ہے اور امیجز سے اس کو واضح کرتا ہے تو ان کے قتل کا جواز نکل آتا ہے

اصل میں اپنے تسلط ، قبضہ گیری ، سامراجیت اور بادشاہتوں کو دوام بخشنے کے لئے تکفیری فسطائی عفریتوں کو جگایا گیا ہے جن کو اہل بیت اطہار اور ان سے جڑی ہر شئے سے سخت نفرت ہے اور وہ اس تذکرے پہ غیظ و غضب کا شکار ہوتے ہیں اور جو بھی یہ تذکرہ روا رکھے اس کے لئے معافی کی گنجائش ان کی لغت میں ہے ہی نہیں

درس عباس امام بارگاہ میں خواتین کی مجلس پہ بم سے حملہ کوئی ایسی کاروائی نہیں ہے جس پہ ہلکا سا رد عمل دے دیا جائے بلکہ یہ ایک ایسی حرکت ہے جس پہ جتنا غم و غصّے کا اظہار کیا جائے کم ہے-اور یہ بات دھیان میں رکھ لی جائے کہ ایسے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تکفیری گروہ شیعہ کی مذہبی آزادی کو چار دیواری میں بھی سرانجام دینے کی اجازت نہیں دے سکتا- ان کے نزدیک تو رسم یہ ہے کہ ایک عورت اگر شیعہ ہوجائے ، اور شیعہ مرد سے شادی کرلے تو اس سے اس کا سابقہ شوہر بلاد کار کرے اور اس کو پھانسی دے ڈالے اور اس کام کے دوران اس عورت کا باپ باہر کھڑا پہرہ دے-ایسے واقعات پہ کسی ایک لبرل اشراف دیوی کا دماغ دکھ اور تکلیف سے نہیں پھٹتا اور وہ طالبانی میڈیا کو للکارتی نہیں ہے تو اس کی ایک وجہ ہے کہ ریپ اور قتل ہونے والی عورت شیعہ ہوگئی تھی – یہی عورت اگر کرسچن ہوجاتی اور ریپ اور موت کا شکار ہوتی تو یقین ہے مجھے ایک حشر بپا ہوتا اور اس عورت کی تصویروں کے پوٹریٹ بناکر لگائے جاتے

مجھے سمجھ نہیں آرہی ، اسی لئے بار بار سوال کرتا رہتا ہوں کہ محضر زھرا بھی اسکول جاتے ہوئے اپنے باپ کے ساتھ دہشت گردوں کا نشانہ بنی تھی جس میں اس کا باپ مارا گیا تھا ، آج کی سلمی ، جمیلہ اور غوثیہ بھی عورتیں ہی ہیں اور وہ چار ہزارہ بھی عورتیں ہی تھیں جن کو بس میں الگ سے شناخت کرکے مارا گیا تھا ، ان عورتوں اور بچیوں کا مارا جانا اتنا بڑا واقعہ کیوں نہیں مانا جا رہا جتنا بڑا واقعہ ملالہ پہ حملے کو مانا گیا تھا یا جتنے بڑے پیمانے پہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے صا‏ئمہ ارشد کی پسند کی شادی پہ عبدالوحید روپڑی ملّا کے خلاف تحریک چلائی تھی- مجھے لگتا ہے کہ اگر صائمہ شیعہ ہوگئی ہوتی اور اس کا شوہر شیعہ ہوتا تو اسے کسی ” عاصمہ جہانگیر ” کو تلاش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجاتا-اور میں جب ایسے سوال بار بار اٹھاتا ہوں تو مجھے مرے مارکسی دوست ہی شک کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں-گزشتہ سال جب میں کراچی میں تھا تو مرے مارکسی دوست کامریڈ ریاض نے مجھے کہا، ” اب میں صف کامریڈیان میں واحد مارکسسٹ ہوں جو ابھی تک تمہیں مارکسسٹ سمجھتا ہوں ، باقی سب دوستوں کی نظر میں تم شیعہ ہو” –حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں گزشتہ پانچ سالوں سے جتنی شدومد سے شیعہ نسل کشی پہ آواز اٹھا رہا ہوں ،اتنی ہی شد مد سے بلکہ بہت طاقتور بیانیہ کے ساتھ میں بلوچ نسل کشی پہ بھی آواز اٹھا رہا ہوں ، اتنی طاقتور آواز کہ مجھ سے کئی پنجاب اور کراچی سے تعلق رکھنے والوں نے پوچھا کہ آپ بلوچ ہیں؟لیکن مرے کسی کامریڈ دوست نے اس آواز اٹھانے پہ مجھے قوم پرست ، نسل پرست ، شاؤنسٹ تو نہیں کہا مگر شیعہ کے حق میں آواز اٹھانے پہ مجھے شیعہ کیوں کہا جارہا ہے-اگر کسی مارکسسٹ کی ایک شناخت اس کے باپ کی مذہبی شناخت سے بنتی ہے تو پھر مرے والد اہلسنت ہیں ، مرے بھائی اہلسسنت ہیں ، مرے والد کے سبھی چچا سنّی تھے بلکہ وہ سب کے سب جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کے خادمین میں سے ہیں اور تو اور مرے ارد گرد اتنی زیادہ سنّی شناختیں ہیں کہ مجھے یہ الزام دینا بنتا ہی نہیں ہے کہ میں کامریڈ سے شیعہ ہوگیا-لیکن اس کے پیچھے مرے ان کامریڈ دوستوں کے اپنے خوف اور اندیشے چھپے ہیں-یہ اموی کامریڈوں سے خوف کھاتے ہیں جن کے پاس مولویوں کی طرح کسی کو مارکسسٹ قرار دینے یا اس صف سے خارج کرنے کے فتوے دینے کی اتھارٹی موجود ہے اور وہ یہ فتوے ہر اس آدمی کے بارے میں تھوک کے حساب سے فروخت کرتے ہیں جو ان کی طرح شیعہ کے قاتلوں کی شناخت چھپانے سے انکاری ہوجاتا ہے-یہ اس کمرشل لبرل مافیا سے بھی خوفزدہ ہیں جو شیعہ نسل کشی کو سعودی-ایران یا شیعہ-سنّی چوکھٹے میں رکھ کر نہ دیکھنے والے کو سیکولر ،لبرل ماننے کی بجائے فرقہ پرست قرار دے ڈالنے کی اتھارٹی سے سرفراز ہیں-اب تو حالت یہ ہے کہ مری بلوچ نسل کشی پہ اٹھنے والی مسلسل آوازوں کے جواب میں کسی کامریڈ کو مرے لئے تعریفی جملہ بھی لکھنا پڑجائے تو وہ مجھے “لال سلام ” کہنے کی بجائے ، ایک مذہبی دعا سے سرفراز کرتا ہے حالانکہ یہ دعا اس کے ہاں کسی طرح کے کوئی معنی نہیں رکھتی ” مولا حسین آپ کو درجات رفیعہ پہ فائز کریں “

بات بہت دور نکل جائے گی لیکن میں یہاں ایک اور بات سے اپنی وضاحت کروں گا ، شیما کرمانی نے پاکستان میں رقص کے خلاف چلنے والی مہم کے خلاف اور ان سے کراچی یونیورسٹی میں ہوئی بدسلوکی کے خلاف کراچی پریس کلب میں ایک پروگرام کیا اور اس میں ایسے بہت سے سیکولر،لبرل ، مارکسسٹ لوگ شریک ہوئے جن کو براہ راست دعوت نہیں ملی تھی اور انھوں نے اس پہ سوشل میڈیا پہ کنٹری بیوٹ بھی کیا-یہ بہت اچھی بات ہے کہ فسطائیت کے رقص پہ حملے کے خلاف اپنا ردعمل دیا جائے لیکن ایسے کئی لوگ شیعہ نسل کشی پہ وہ ردعمل نہیں دیتے جو انھوں نے رقص پہ حملے پہ دیا-کیا میں یہ سمجھ لوں کہ شیما کرمانی اور دوسرے دوستوں کے نزدیک تکفیری فسطائیت کا شیعہ کمیونٹی کی نسل کشی کرنا اتنا بڑا معاملہ نہیں ہے جتنا بڑا معاملہ رقص پہ حملہ آور ہونا ہے-کتنی عجیب بات لگتی ہے کہ شیعہ نسل کشی کی زمہ دار تکفیریت کے نظریہ سازوں کو کٹہرے میں لانے کی بجائے ، شیعہ نسل کشی پہ بولنے اور لکھنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے،اور اس حوالے سے دوھرے معیار مسلسل روا رکھے جارہے ہیں

 

injured-child-in-imambargah2

injured-child-in-imambargah

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s