نواں خط

150316_r26244-864-sappho

پیاری ساری

تم مجھے ہمیشہ الجھانے کا کام کرتی رہتی ہو، ابھی آٹھویں خط کی رسید دیتے ہوئے تم نے مجھے بتایا کہ ان خطوط کو پڑھتے ہوئے ، تمہارے ذہن میں جواب آتے ہیں اور تم ان کو مجھے لکھ کر بھیجنا بھی چاہتی ہو مگر کیونکہ تمہاری اماں اور لندن سے آئی ممانی پشاور گئی ہوئی ہیں تو گھر کی ساری زمہ داری تم پہ ہے ، اس لئے جواب لکھنے کا وقت نہیں ہے-میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں تمہیں بہت مس کرتا ہوں تو تم نے کہا، ” میں تو اپنے آپ کو مس کررہی ہوں” سچ پوچھو تو تمہارے اس جواب سے میں خاصا گڑبڑایا بلکہ جھنجھلانا زیادہ ٹھیک رہے گا –پھر مرے منہ سے نکل گیا ” آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں ،جس سے تم اور میں اس کیفیت سے وقتی طور پہ نکل جائیں ” مگر تم نے فوری ایک اور سوال مرے سامنے رکھ دیا کہ آخر ہم ہر کام وقتی طور پہ ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟ مرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ سوال اور تم نے مرے سامنے رکھا تو مجھے خیال آیا کہ کیا واقعی میں تم سے اپنی وقتی تشنگی مٹانے کی سوچ رہا ہوں-اور پھر ہماری باتیں ایک اور رخ پہ جا نکلیں تھیں،مجھے اکثر تمہین یہ بتاتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ میں تمہارے خدوخال میں بہت کشش محسوس کرتا ہوں اور تم نے مجھ سے خود پوچھا کہ تمہارے سراپے کے بارے میں مرے احساسات کیا ہیں، میں بیان کروں-میں نے تمہیں بتایا کہ تمہارا کتابی چہرہ ، صراحی کی طرح گول گردن ، اور ابھرا ہوا سینہ ، فلیٹ بدن اور پھر نیچے تھوڑے سے بھرے بھرے کولہے اور پھر تمہاری گول گول پتلی پتلی ٹانگیں مرے دل کو اتھل پتھل کردیتی ہیں اور تمہاری وحشی آنکھوں سے مجھے کبھی خوف تو کبھی ان میں ڈوب جانے کا خیال آتا ہے لیکن تمہارے ہونٹوں پہ عجب سی خشکی دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ مری تم سے محبت تمہاری سیرابی کا سبب نہیں بن رہی-عجیب بات یہ ہوئی کہ تم نے یہ سب سنکر کہا کہ جب کوئی تمہاری باڈی / بدن بارے بات کرتا ہے تو تم امبیرسنگ فیل کرتی ہو اور پھر شاید تمہیں خیال آیا کہ مرے باب میں یہ جملہ شاید زیادتی ہے اور اسی لئے تم نے وضاحت کی کہ اس کا سبب وہ ایف ایس سی کے دوران تمہارے استاد کی جانب سے تمہارا ریپ کرنے کی کوشش والا واقعہ ہے جو تمہارے ذہن سے اتارے نہیں اترتا اور اسی کے سبب تم ڈیپریشن میں چلی گئیں تھیں اور وہیں تم بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوئیں-میں واقعی تمہارے ان جملوں سے گلٹ کا شکار ہوا تھا لیکن جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ مجھے تمہارے بدن سے یہ رغبت زرا غیر فطری نہیں لگتی ہے-اور شکر ہے تم نے بھی کہہ دیا کہ یہ فطری اور نارمل ہے-تمہارا یہ کہنا کہ تم اب فکری سطح پہ اس مقام پہ ہو جہاں تم بدن سے بہت اوپر اٹھ کر سوچتی ہو تو ٹھیک ٹھیک بتاؤں کہ ہمیں اکثر یہ وہمہ گھیر لیتا ہے کہ ہم اپنے زماں اور مکاں سے اوپر اٹھ کر اور بدن کی کثافتوں سے اوپر اٹھ کر سوچنے کے قابل ہوگئے ہیں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ آخری تجزئے میں بدن ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے-اور تم نے ہمیشہ کی طرح ” ہمم” کہہ کر جان چھڑالی-مجھے بتاؤ کہ تم اگر بدن سے اوپر جاکر سوچنے اور محسوس کرنے کے قابل ہوگئی ہو تو پھر ماریہ سے تمہارے تعلق کا کیا جواز بنتا ہے ، جس سے اپنے ریلشن شپ کا تم نے مجھ سے اعتراف بھی کیا اور یہ بھی کہا کہ اس کے خدوخال میں اتنی کشش ہے کہ تم اسے چومے بغیر رہ نہیں سکتی اور اسے فطری لباس میں دیکھنے کی خواہش  تمہیں بے قرار رکھتی ہے اور تم اس کے وحشیانہ حملوں سے کبھی گبھراتی نہیں ہو-تمہیں وہ لڑکی عدیلہ بھی یاد ہوگی جو ایک کنورٹ شیعہ تھی اور تم بھی اسی کے سبب کنورٹ ہوئی تھیں-اور پھر تم اس کی محبت میں پاگل ہوگئی تھیں اور تمہیں لگتا تھا کہ تمہارا اس کے لئے بے چین ہونا ،مجھ سے بددیانتی ہے-تو میں نے تمہیں لیزبو یونانی ٹاؤن میں پیدا ہوئی شاعرہ سیفو  کو پڑھنے کا مشورہ دیا تھا-وہ کنواری نوجوان لڑکیوں کی ایک اکیڈیمی چلا رہی تھی اور یہ اکیڈیمی اس نے اپنی لیزبو محبت کی تسکین کے لئے ہی بنائی تھی لیکن کیا وہ صرف لیزبو محبت کرتی تھی،نہیں وہ افروڈیٹ دیوی کے معبد محبت میں اپنے مرد محبوب کو بھی بلاتی ہے اور اسے وہاں اپنا مرد محبوب ایک دیوتا ہی لگتا ہے، یہ فیمنسٹ لو اور پیار دو دھاری ہوتا ہے اور اس کی ایک دھار مرد پہ تو دوسری دھار عورت پہ پڑ رہی ہوتی ہے اور مجھے یہ بھی ابنارمل نہیں لگتا-لیکن دونوں دھاروں میں روح کی لطافت کے ساتھ بدن کی کثافت بھی شامل ہے-تم اپنے افروڈائٹ معبد محبت میں مجھے بلاتی ہو اور ماریہ یا عدیلہ کو بھی طلب کرتی ہو تو اس میں گلٹ کہاں سے آتا ہے ؟ یہ سوال تھوڑا سا مشکل ضرور ہے مگر اس کا جواب ناممکن نہیں ہے-یہ گلٹ مصنوعی ہے اور یہ صناعت صدیوں سے پدر سری ضابطوں میں گھرا مذہب پیدا کرتا ہے-میں مرا محبت کا رجحان اگر سیدھا ہے تو ہوسکتا ہے یہ بھی صناعت گری کا نتیجہ ہو اور میں سرسوتی معبد میں ہی اگر جاتا ہوں تو اس کی وجہ پھر وہی پدر سری مذہبیت ہی ہوسکتی ہے جس کی مابعدالطبعیات تو ميں عرصہ ہوا چھوڑ چکا لیکن اس کے کئی سماجی ضابطے مجھ سے چھوڑے نہیں جاتے اگرچہ میں کسی مرد کی جانب سے اپنے معبد محبت میں کسی مرد کو بلانے پہ معترض نہیں ہوں اور نہ ہی ایسے لوگوں کے وجود سے یہ دھرتی پاک کرنے کا طالبانی جنون دماغ مین رکھتا ہوں-لیکن یہاں ہمارے سماج کے اندر ایک ایسی عفریت نے جنم لیا ہے کہ وہ فیمنسٹ لو اگر چوری چھپے ہو تو اسے برداشت کرتی ہے بلکہ اس کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہوتی لیکن اگر کوئی عورت شیعہ ہوجائے اور کسی شیعہ مرد سے شادی کرلے تو اس سے انتقام کا بہترن راستہ یہ ہے کہ پہلے اس کا ریپ ہو اور پھر اسے پھانسی دے دی جائے-مذہبی جنونیت کی یہ کونسی شکل ہے جس میں اپنے دشمن قرار دئے گئے فرقہ کی عورتوں کی رانوں کے درمیان پائی جانے والی وجائنا پہ قبضہ کرنے یا اسے خرید و فروخت کی چیز بناڈالنے کو فتح عظیم اور نصر من اللہ خیال کیا جاتا ہے-کیا تمہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ عراق میں شیعہ اور یزیدی، کردش اور کرسچن عرب عورتوں کے ساتھ داعش والوں نے کیا کیا تھا؟ویسے یہ تو دشمن کی عورتیں تھیں جبکہ خود اپنی عورتوں کے ساتھ ان کی وجائنا پہ قبضہ کے لئے “جہاد النکاح ” کا راستہ بھی نکال لیا گیا تھا-تو یہاں عورت کا بدن بار بار زیر بحث آتا ہے اور بار بار اس پہ دسترس کی سبیل بھی نکالی جاتی ہے اور اس میں آزادانہ ریلشن کا قیام پھر کہیں غائب ہوجاتا ہے-اور یہ جو بار بار “وجائنا ” کا زکر آتا ہے تو ایسا نہیں ہے کہ خود عورتوں نے اس ٹرم اور اس شئے کے بارے میں پدرسریت سے ہٹ کر سوچنے کی کوشش نہ کی ہو ، مرے ذہن میں اس وقت دو تین پیراگراف آرہے ہیں جن کو اردو میں ترجمہ کئے بغیر میں یہاں دے رہا ہوں اور پھر اپنے اس خط کو یہیں پہ ختم کرتا ہوں

 

“Ma’am is yet another horrible-sounding word in the lexicon of words that women are stuck with to describe various aspects of their body/life/mental state/hair. Vagina. Moist. Fallopian tubes. Yeast infection. Clitoris. Frizz. These are all terrible words, and yet they are our assigned descriptors. Who made up these words? Women certainly didn’t. If, at the beginning of time, right after making vaginas, God had asked me, ‘What would you like your most intimate and enjoyable part of yourself to be called?’,’ I most certainly wouldn’t have said, ‘Vagina.’ No woman would, because vagina sounds like a First World War term that was invented to describe a trench that has been mostly blown apart but is still in use. Even off the very top of my head I feel like I could have come up with something better, like for instance the word papoose, which actually as I’m typing it feels like an incredibly brilliant word for vagina.”

― Jessi Klein, You’ll Grow Out of It

 

“I had always thought of my vagina as an anatomical vacuum randomly sucking up particles and objects from the surrounding environment.”

― Eve Ensler, The Vagina Monologues

 

“I didn’t hear words that were accurate, much less prideful. For example, I never once heard the word clitoris. It would be years before I learned that females possessed the only organ in the human body with no function than to feel pleasure. (If such an organ were unique to the male body, can you imagine how much we would hear about it—and what it would be used to justify?)”

― Gloria Steinem, The Vagina Monologues

 

“No wonder male religious leaders so often say that humans were born in sin—because we were born to female creatures. Only by obeying the rules of the patriarchy can we be reborn through men. No wonder priests and ministers in skirts sprinkle imitation birth fluid over our heads, give us new names, and promise rebirth into everlasting life.”

― Gloria Steinem, The Vagina Monologues

فقط تمہارا

ع-ح

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s