دسواں خط

desert

پیاری ساری

آج ساری رات جاگتا رہا اور تمہیں خط لکھنے بارے سوچ و بچار کرتا رہا،کی بورڈ پہ انگلیاں چلتی تھیں اور پھر جتنا لکھا ہوتا، سلکیٹ آل کی کمانڈ دیکر ڈیلیٹ کا بند دبادیتا تھا- ایسا کیوں ہورہا تھا؟ میں ایسا جاننے سے قاصر تھا-اور اصل میں ایک سوال مجھے پریشان کررہا تھا اور وہ سوال یہ تھا کہ کیا مرے اندر بسی ایک بڑی دنیا اور خود اپنے آپ کو بغیر تقسیم کئے اور خارج سے لاتعلق ہوئے بغیر آزاد ہوسکتا ہوں اور ایسی آزادی جس میں دوسروں کی آزادی کا راستہ بھی ہموار ہوسکے اور مرے اندر ایک ایسی شانتی جنم لے جس میں جہنم زدگی کا کوئی یگ نہ ہو اور کیا مجھے لوگوں سے بنا کہے بات کرنے اور بن کہے ان کے ساتھ قیام کرتے ہوئے انھیں سمجھ لینے کی خدائی پھر واپس مل سکے گی اور یہ مرے اندر ایک پریشان کن خاموشی نے گھر کیا ہوا ہے کیا یہ ختم ہوسکے گی ؟تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ مرے پاس دوسروں کو کہنے اور بتلانے کے لئے کچھ نہیں رہا ہے اور میں اپنی ذات کو صفات سے خالی دیکھنے کی کیفیت سے دوچار ہوں،زندگی مجھے ایسے ریگ زار میں پھنسی لگتی ہے جس میں کوئی بھی اپنے ساتھ پورے کا پورا ہوکر سانس لے نہیں پارہا اور اسی لئے سرمدی مسرت کے لئے جس ” انتظار ” کی ضرورت ہوتی ،وہ کوئی بھی کرنہیں پارہا اور ہر ایک بجائے چھپا رہنے ، دبا رہنے اور اپنے آپ سے بہت دور نہ جانے کو تیار نہیں ہے اور ایک ری لک ٹینٹ سی حالت ہے اور اسی لئے سب نامراد سے لگتے ہیں،تمہارے پاس لگتا ہے “پنّے ” مک گئے ہیں تبھی تو تم کوئی بھی پیار یا نفرت کا اتہاس لکھنے سے قاصر ہو اور میں تمہارے لکھے ایک پنّے پہ چند لفظ پڑھنے کے لئے مرا جارہا ہوں اور تم نے اب خوابوں میں آنا بھی بند کردیا ہے اور مرے خواب بھی اب بے رنگ، گونگے ہوگئے ہیں اور ان میں کوئی پیغام نہیں ہوتا اور ابن سیرین کی “تعبیر الرویاء ” بھی کوئی مدد کرنے سے قاصر ہوگئی ہے اور مرے پاس فرائڈ سے بھی مدد لینے کی ہمت نہیں رہی ہے-کل رات تمہارا بلاگ پڑھا جس میں تم نے لکھا کہ کوئٹہ پولیس ٹریننگ اسکول میں مارے جانے والے رنگروٹوں کی لاشیں ایک ویگن کی چھت پہ رکھ کر ان کے آبائی قصبے کی طرف روانہ کی گئی ہیں تو مجھے خیال آیا کہ یہاں اعزاز سے دفن ہونے کے لئے بھی آپ کو “یزید ” ہونا پڑتا ہے ، ہوسکتا ہے مرا یہ جملہ تمہیں گراں گزرے، لیکن میں تمہیں اتہاس سے کئی مثالیں دے سکتا ہوں-امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی قبر کو کافی عرصے چھپائے رکھا گیا ، ایسے ہی باقی کئی اہل بیت اطہار کی قبور کو چھپایا گیا ، اور ماضی قریب میں 5 اپریل 1979ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی لاش ایک پرانی سی چارپائی پہ رکھی تھی اور چںد لوگ تھے جنازے میں شریک اور اگست 1988ء میں یزید عصر کے جنازے کا جلوس تو تمہیں یاد ہی ہوگا ، اگرچہ کبھی کبھی عوام جاگ رہے ہوتے ہیں اور ان کا جوش امنڈ رہا ہوتا ہے اور ان کا غم ان کی طاقت بن جاتا ہے اور وہ اپنے محبوب کو پورے اہتمام سے دفناتے ہیں ، ایسا ایک منظر 28 دسمبر کو پوری دنیا نے دیکھا تھا جب وہ معصوم دفنائی گئی تھی اور خلق خدا کا اژدھام تھا اسے رخصت کرنے کے لئے

مجھے لگتا ہے کہ ہمارے شعور کی ٹھیک زندگی تب شروع ہوتی ہے جب ہم شعوری طور پہ تنہائی کو گلے لگاتے ہیں اور اپنے اندر کو ایک سرمدی وجدان سے آراستہ کرلیتے ہیں اور اسی لمحے ہم چیزوں کو انڈر سٹینڈ کرنے کی صلاحیت پالیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کہیں چپکے سے ہمارے اندر موت سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ بھی آجاتا ہے اور جو بھی ہمیشگی کی تازگی اپنے اندر نہ رکھتا ہو وہ شبد بوریت کے سمندر میں ہمیں غرق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان میں ڈوب جانے والے کا دوبارہ ابھرنا مشکل ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ حکمران طبقات کے نظریات بھی تازگی سے محروم اور بوریت کا سمندر ہوتے ہیں اور یہ ہمیں بتائے بغیر گھیر لیتے ہیں اور ہم بنا مرے ہی ایک ان دیکھی اور محسوس کرنے سے کہیں دور والی موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ ہم میں سے اکثر ایسی تحریر سے بھاگتے ہیں جو ایسے ہمارے دماغ میں گھستی ہے جیسے کوئی خنجر گھونپ رہا ہو یا یہ ایسی سچائی ہوتی ہے جو ہمیں پھر سے پیروں پہ کھڑا ہونے پہ مجبور کرتی ہے اور ہمارے طفیلہ پن کی ضد ہوا کرتی ہے

ساری! اپنی تمام تر کم نصیبی اور ڈیسٹنی کے اپنے ساتھ ہونے والے مذاق کے باوجود نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ میں تم سے اب بھی پیار کرتا ہوں، اگرچہ مجھے لگتا ہے میں اس دریائے محبت میں اب ڈوبتا زیادہ اور ابھرتا کم ہوں اور مری سانس جلدی جلدی اکھڑنے لگتی ہے اور میں یہ جانتا ہوں کہ اس دریا میں بار بار ڈوب جانے نے مجھے ویران کرڈالا ہے لیکن اس کا الزام تمہیں کاہے کو دوں، تشکیک بری بلا ہے اور یہ لفظوں سے پہلے ہی آن ٹپکتی ہے اور اس کا سبب وہ زلزلہ ہے جو اندر آیا ہوتا ہے اور باہر وجود مضبوطی سے قائم کھڑا لگ رہا ہوتا ہے-اور میں بار بار چاہتا ہوں کہ بس ایک پتر اور صرف ایک پتر ایسا لکھ پاؤں جس میں بے شک مجھے ہزاروں بھوتوں اور ہزاروں عفریتوں کے ساتھ سونا پڑے لیکن تمہیں اس ایک پتر میں وہ سب لکھ دوں جو میں کہنا چاہتا ہوں لیکن افسوس ہر بار ایک پتر وہاں آکے ختم ہوتا ہے جہاں یہ احساس اور گہرا ہوجاتا ہے کہ جو بات کہنی تھی وہ کہی نہ جاسکی اور  ایک کامل و اکمل مثالی پتر ابھی لکھا جانا باقی ہے

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s