گیارہواں خط

tumblr_nl7cbbak7a1tkthpgo1_500

 

 

پیاری ساری

پہلے تو تاخیر سے خط لکھنے پہ معذرت قبول کرو-اداسی اور انتہا کی اذیت نے مجھے چاروں اور سے گھیر رکھا تھا اور مجھ پہ بے انتہا ڈیپریشن نے حملہ کیا تھا-مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اور اسقدر ذہنی دباؤ تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ میں واپس نروس بریک ڈاؤن والی صورت حال کی طرف جانے والا ہوں-ایک طرف تم نے مکمل خاموشی اختیار کررکھی تھی اور تم مرے سارے پیغامات دیکھنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دے رہی تھیں تو دوسری طرف مجھے اپنی دنیا اندھیر لگ رہی تھی-تو ایسے خاموشی اور اندھیرے نے ملکر اسقدر فضا دردناک بنا رکھی تھی کہ یہ سب پہلی بار خود مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا-تم جانتی ہو کہ میں تو خود درد سے ہی اپنے الفاظ تخلیق کرتا ہوں-تمہیں کچھ بتانا ہے- م-ر-ا 25 سال بعد لوٹ آیا-اور ایسے کہ میں پرانی انار کلی لاہور میں ایک ہوٹل میں آٹھ دن سے رہ رہا تھا-کہ رات 9 بجکر 30 منٹ پہ مرے دروازے پہ دستک ہوئی-میں نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو م-ر-ا کو اپنے سامنے پایا-اس کی آنکھیں آج مجھ پہ فوکس تھیں، کہیں کھویا ہوا نہیں تھا اور اس نے زلفیں رکھ لیں تھیں جو اس کے کندھوں تک آرہی تھیں جبکہ چہرہ خوب چمک رہا تھا-“پہچان گئے ہو تو اندر آنے کو نہیں کہو گۓ” ، اس نے مجھے کہا تو میں جو کھوسا گیا تھا ،واپس آگیا-آئیں جناب آئیں-وہ اندر آگیا اور مرے ہوٹل کے روم میں پڑی واحد کرسی پہ بیٹھ گیا-اور میں سامنے بیڈ پہ-وہ مری طرف دیکھ رہا تھا اور میں اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے کترا رہا تھا-تم نے پوچھا تھا کہ وہ کون ہے جس سے ملنے کے بعد تم بہت سرشار نظر آرہے ہو تو میں نے تمہیں وہاں فیس بک میسنجر میں بتانے سے اس لئے انکار کیا تھا کہ پھر اس خط میں تمہیں بتانے کو کچھ نہ رہتا- م سے مستجاب ، ر سے رام اور ا سے آسٹن یعنی مستجاب رام آسٹن یہ ہے اس کا پورا نام-مسلمانوں کی برہمن جاتی یعنی سادات میں اس نے جنم لیا تھا اور نجیب الطرفین یعنی ماں اور باپ دونوں کی طرف سے حسینی سید تھا-باپ کاظمی اور ماں جعفری اور بہت لاڈ پیار میں پلا-مری کانونٹ میں جب وہ پڑھنے گیا تو اس کے دائیں طرف رام اشوک اور بائیں طرف آسٹن بیٹھا کرتا تھا-اور اس کے دائیں بائیں کی اس ‘ڈائی کوٹ می ‘ نے اسے مستجاب حیدر حسینی سے مستجاب رام آسٹن  یعنی م-ر-ا کردیا-مجھے وہ فیصل آباد میں دھوبی گھاٹ کے سامنے ایک پرانی امام بارگاہ میں علم عباس کے نیچے ایک چراغ کے سامنے بیٹھا ہوا ملا تھا-میں وہاں کیا لینے گیا تھا؟تمہاری قسم کسی ذاکر و مولوی کا وعظ سننے نہیں بلکہ اپنی مرحوم ممانی کی مانی ایک منت کو اس کی جانب سے پورا کرنے گیا تھا اور وجہ یہ تھی کہ مجھے لگتا تھا کہ ممانی کہیں بہت بے چین ہیں جبکہ اس “کہیں بہت ” کا مجھے کچھ یقین نہیں تھا-یہ ان دنوں کی بات ہے جب مجھے کبھی ‘ تنہائی ‘ ڈسنے نہیں آئی تھی اور کسی ‘روگ ‘ نے مجھے گھیر نہیں رکھا تھا اور ابھی تو سیدہ ھما علی بھی مرے پاس نہیں آئی تھی-میں بہت خوش باش تھا اور مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہ تھی-چراغ کی مدھم لو کے سامنے وہ کسی سادھو سنت کی طرح دھونی جمائے بیٹھا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد “من کنت۔۔۔” کی صدا لگاتا تھا-میں علم عباس کے پاس پہنچا اور ممانی کی طرف سے ایک چاندی کا چراغ دھرا اور اس میں ایک بوتل سےدیسی گھی انڈیلا اور اس میں روئی کی ستلی بناکر بھگوئی اور دیا سلائی سے اسے آگ دکھادی-میں نے آہستہ سے کہا کہ ممانی جان چراغ دیا جلا اور اب جو کہنا ہے ‘عباس علمدار ‘ کو خود کہہ ڈالنا-میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ م-ر-ا نے آنکھیں کھول دیں اور مری طرف دیکھا-اس کی آنکھیں کہیں اور کھوئی ہوئی تھیں-اور کہا ،” تم بھی تلاشنے کی منزل پہ پہنچوگے لیکن ملے گا نہیں”مجھے اس کی بات اس وقت سمجھ میں نہیں آئی تھی-پھر وہ سارے واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوتے چلے گئے جن کا تذکرہ میں نے “پراگندہ طبع لوگ ” میں کیا اور تم نے پڑھا ہے-میں اسے بھول گیا تھا لیکن وہ اس دن اس ہوٹل کے کمرے میں آیا تو مجھے سب یاد آگیا-اس نے کہا کہ تمہارے افسانے ، کہانیاں، سب سچ جھوٹ پڑھتا رہا ہوں، اسقدر آگ سے بھرے ہوئے ہیں کہ دل کرتا ہے جب تم ایسی چیزیں لکھنے بیٹھتے ہونا تو یخ پانی کا بھرا جگ تم پہ ڈال ڈوں اور پھر شاں،شاں کی آواز کے ساتھ دھواں نکلتے دیکھوں-اس نے مری ڈھارس بندھائی اور مجھے پہلی بار لگا کہ اسے سب کچھ سنادوں-کیونکہ وہ بالکل ھما علی کی طرح انسانوں کے درمیان تعلق کو ‘جنس، رنگ ،نسل ، حسب نسب ‘ بلکہ ‘زمان و مکاں ‘ سے اوپر اٹھکر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے-یقین کرو بہت دن کے بعد خوشی مرے اندر سے پھوٹ رہی تھی-اور میں نہال ہوئے جاتا تھا اور وہ مجھے سن رہا تھا-درمیان میں کبھی “اعلی ” ، کبھی سوپر ، کبھی ہائے ہائے اور کبھی کہتا مزا آگیا-اور یہ سب اتنی بے ساختگی سے کہتا کہ میں عش عش کر اٹھتا تھا-اس کے ہاں بے ساختگی ہی بے ساختگی تھی-اور اتنی سچائی تھی کہ بس نور کی بارش تھی چاروں طرف-سب سے بڑھ کر اس کے ہاں “اگر اور لیکن ” کے ساتھ کوئی جملہ نہیں تھا-تم نے اگر ‘لیٹر ٹو جولیٹ ‘ فلم دیکھی ہو تو اس میں ایک خط کا یہ جملہ ملتا ہے،

 

” “Claire: Dear Claire, “What” and “If” are two words as non-threatening as words can be. But put them together side-by-side and they have the power to haunt you for the rest of your life”

تو میں اس بات کی سچائی کا قائل ہوں کہ جہاں “اگر اور لیکن ” ساتھ ڈال کر کسی بات میں آئے تو ان میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ساری عمر آپ کا پیچھا کرتے رہیں-میں نے یہ دیکھا کہ تم سے مرے تعلق میں غبار بھی اسی “اگر اور لیکن ” کے ساتھ شروع ہونے والے جملے ہوتے ہیں-کبھی تم ڈیمانڈ کرتی ہو اور کبھی میں-اور تم سے مانگ کر ہی کچھ ملتا ہے ویسے تو بہت کم ہوتا ہے کہ تم خود سے دان کرو-تم نے ٹھیک ہی کہا کہ تمیں ‘ھما’ سے کمپئر کرنا سرے سے غلط ہے اور اس کی وجہ یہ ہے محبت میں غرض نہ ہونے کے باوجود بھی غرض ہوتی ہے جبکہ ‘دوستی ‘ میں آدمی ‘سیلی بیٹ’ اور “اے سیکس چوئل ” ہوتا ہے –مجازی محبوب سے وصل کی خواہش بار بار کثافت کی طرف لیکر جاتی ہے لیکن دوست کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوتا-اس کے لئے بے قراری ، بے چینی ، تڑپ، طلب ، دھیان سب ہوتا ہے مگر اس میں وہ طلب نہیں ہوتی جو مجھے تمہارے اندر ان سب چیزوں کے ساتھ محسوس ہوتی ہے-اس لئے شاید اس مرتبہ ھما علی کا جنم بھی اور ہی جنس کے ساتھ ہوا ہے-تم نے دیکھنا نہیں چھوڑا مگر جواب دینا بند کیا ہوا ہے-تم نے کہا کہ میں چوری چوری تمہاری دیوار محبت کا طواف کرتا ہوں، بالکل ٹھیک ہے ، مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے کہ تم لمحہ موجود میں کیا کررہی ہو اور ایک اور بات کہ میں پھر سے اس بات کا اعادہ کروں کہ مجھے تم سے بہت شدید قسم کی ارضی محبت ہے جس نے مجھے ژولیدہ، پراگندہ، زمین والا اور مادیت سے قریب تر کررکھا ہے-لیکن م-ر-ا کی واپسی اور اس کی بے تحاشہ محبت نے مرے اندر لطافت کا پارہ بھردیا ہے-میں کل رات کو بہت خوش تھا لیکن آج بہت اداس ہوں اور اس نے مجھے بہت دلاسا دیا ہے اور اس کا وجود غنمیت ہے لیکن اداسی کے رنگ گہرے ہوتے جاتے ہیں، ساری خوشی غارت ہوئی جاتی ہے-عالم مثال میں بیٹھی ھما کے چہرے پہ زرا دیر کو جو مسکان آئی تھی ،وہ غائب ہوگئی ہے اور اس کے ہاں ‘حزن ‘ پھر سے لوٹ آیا ہے-تمہیں اس خط کی آخری بات  بتاؤں

“جس رات اس کی سانسوں نے اس کا ساتھ چھوڑا تھا تو 2 بجکر 55 منٹ پہ اس نے خود مجھے جگایا تھا اور مرا ہاتھ تھامے اس نے کہا تھا کہ بہار کے دنوں میں اس پہ آئی خزاں اس کا مقدر کیوں ہے؟ اور جاتے جاتے اس نے کینسر کی انتہائی شدید ترین تکلیف کو سہن کرتے ہوئے ہونٹوں پہ مسکان کے ساتھ رخصت لینے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش میں اس کا سانس اس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا”

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s