فیصل رضا عابدی : اسٹرٹیجک گہرائی کی پالیسی کا ایک اور شہید

581db3ea21990

سابق سینٹر فیصل رضا عابدی کو  پیٹل پاڑہ کراچی کے قریب ہفتے کو مارے جانے والے دیوبندی تبلیغی جماعت کے دو ارکان کی ٹارگٹ کلنگ کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا-ایس پی جمشید مارٹن کوارٹر کے مطابق سینٹر فیصل رضا عابدی کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹوں کی روشنی میں ہفتے کے روز کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی تین وارداتوں میں چھے افراد کی ہلاکت کے بعد اتوار کی صبح 2 بجکر 30 منٹ پہ ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا-ان کو حراست میں لینے سے پہلے ان کے گھر پہ سندھ رینجرز ، کراچی پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا، ان کا لیپ ٹاپ ، موبائل فون اور دیگر دستاویزات کو قبضہ میں لے لیا گیا اور اس بعد ازاں ان کو حراست میں لے لیا گیا-جبکہ دیگر چھے افراد کو بھی سیکورٹی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا ہے جن کے بارے میں ابھی تک کوئی زیادہ تفصیل موجود نہیں ہے-کراچی پولیس کےزرایع کے مطابق فیصل رضا عابدی کو کالعدم تکفیری دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت کے سربراہ اورنگ زیب فاروقی کے مطالبے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے-اہل سنت والجماعت دیوبندی کے ترجمان کی جانب سے وارننگ دی گئی کہ اگر فیصل رضا عابدی کو رہا کیا گیا تو ان کی تنطیم پورے ملک میں احتجاجی جلسے و جلوس کرے گی

فیصل رضا عابدی جنھوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے ملی سینٹرشپ کو پی پی پی کے دور حکومت میں ہی استعفی دے ڈالا تھا اور ان کی جانب سے شیعہ نسل کشی کے خلاف ایک بھرپور تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا تھا-بعد ازاں سید فیصل رضا عابدی بتدریج ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف موثر کاروائی نہ ہونے کا الزام سیاسی جماعتوں اور عدلیہ کے سر پہ منڈھتے رہے اور انہوں نے پاکستان کی ملٹری لیڈرشپ کی مکمل حمایت کرنے کی روش اپنائی ہوئی تھی-اور یہاں تک کہ ایک موقعہ پہ انہوں نے مارشل لاء لگانے کی حمائت بھی کرڈالی تھی-اور ایک بھرپور کمپئن سوشل میڈیا پہ بھی چلائی تھی

فیصل رضا عابدی نے اس کے بعد وائس آف شہدائے پاکستان نامی تنطیم بنائی اور انھوں نے سنّی بریلوی تںطیموں کے اتحاد سنّی اتحاد کونسل اور شیعہ سیاسی جماعت مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ ملکر پاکستان کے اندر تکفیری دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف سرگرمیوں کو جاری رکھا اور پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ بھی اشتراک بنایا اور ان کا تکفیری فاشزم کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب مثبت اور امید پرست رویہ نے ان کے بارے میں ” اسٹبلشمنٹ نواز ” رہنماء ہونے کا تاثر بھی پختہ کیا-میں نے ان کی آخری تقریر لاتکفیر کانفرنس کراچی میں ستمبر میں سید خرم زکی کے چہلم کے موقعہ پہ سنی تھی-اور اس موقعہ پہ فیصل رضا عابدی کی ساری تقریر کا فوکس ” فوجی عدالتیں ” ہی تھیں – ان کا کہنا تھا کہ نواز حکومت ان فوجی عدالتوں کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور ایسا ہوا تو پھر حکومت سے کھلی جنگ ہوگی-فیصل رضا عابدی ، ڈاکٹر طاہر القادری ، علامہ امین شہیدی ، راجہ ناصر عباس ، حامد رضا قادری رضوی وغیرہ کا شمار پاکستان میں تکفیری فاشزم کے خلاف جدوجہد کرنے والے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے اگرچہ عوامی سطح پہ دہشت گرد حملوں کے خلاف بہت بڑی سوشل کمپئن چلائی لیکن ان سب نے اس کمپئن کے دوران الزام کا زیادہ فوکس نواز گروپ  اور عدالتی اسٹبلشمنٹ کے اوپر رکھا  جبکہ پاکستان کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کے بارے میں ان کا رویہ نرم ہی نہیں بلکہ انحصار کرنے والا رہا اور جنرل راحیل شریف کے آرمی چیف بننے کے بعد یہ سب رہنماء بڑی امید پرستی کے ساتھ جنرل راحیل شریف کے ساتھ امیدیں باندھے نظر آتے تھے بلکہ فیصل رضا عابدی ، راجہ ناصر عباس اور حامد رضا قادری پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے حکومت گراؤ پروگرام کا بنا سوچے سمجھے ( اگر میں اسے کسی سازشی تھیوری کے آئینے میں نہ دیکھوں اور اسے سیاسی بصیرت کا فقدان ہی قرار دوں تو)حصّہ بن گئے تھے اور اس وجہ سے ان پہ فوج کے بیٹ مین ہونے کا الزام بھی لگا-میں سیدھی اور صاف بات کروں تو فیصل رضا عابدی ان شیعہ آوازوں میں سے ایک بلند آہنگ آواز ہیں جنھوں نے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی موجودہ قیادت سے یہ امید باندھ لی تھی کہ یہ فوجی قیادت  شیعہ نسل کشی کو روکنے کے لئے کالعدم اہلسنت والجماعت سمیت ان سب تکفیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرے گی جو شیعہ نسل کشی میں ملوث ہیں اور یہ سعودی سپانسرڈ فرقہ پرست سعودائزیشن کے عمل کو ریورس گئیر لگادے گی-ان کو ایک وقت میں سعودی عرب کے وائسرائے نواز شریف اینڈ کمپنی کی جبری رخصتی کے خواب بھی دکھائی دینے لگے تھے-ملٹری اسٹبلشمنٹ سے لگائی ہوئی اس انتہائی امید کا نتیجہ ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کے خلاف تیزی سے اٹھنے والی احتجاجی تحریک کا آخری مطالبہ بھی کوئٹہ کو فوج کے ہاتھوں دئے جانے کی صورت نکلا تھا-اس امید پرستی کی لہر میں شیعہ ، صوفی سنّی بریلویوں کی  بڑی رائٹ ونگ تںطیموں نے اور زیادہ اضافہ آرمی پبلک اسکول پشاور سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے سامنے آنے کے بعد اور اصافہ دیکھنے کو ملا تھا-اور ان تنطیموں نے کالعدم اہلسنت والجماعت ، لال مسجد اسلام آباد عزیزی گروپ کے خلاف اپنی علامتی اور روز کی سرگرمیوں میں اضافہ کیا اور ایسے لگتا تھا جیسے وہ یہ سب “خاکی والوں ” کے گرین سگنل ملنے پہ یہ سب کررہے ہيں اور ریاست اب تکفیری بیانیہ کے خلاف تکفیری دہشت گردوں کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہونے کا فیصلہ کرچکی ہے

امید پرستی کا یہ محل بہت جلد گرنا شروع ہوگیا تھا-کراچی میں سندھ رینجرز کے آپریشن کی زد میں کالعدم اہلسنت والجماعت آئی ہی نہیں اور نہ ہی ایکشن پلان کے تحت لال مسجد والوں سمیت تکفیری فاشسٹوں کے سیاسی چہروں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا- اس دوران شیعہ کمیونٹی کی مذہبی آزادیاں مزید سکڑنے کی طرف مائل ہوگئی-اور ریاست نے اگر دہشت گردی کے خلاف کوی اقدامات اٹھائے بھی تو ان میں بیلنسنگ پالیسی کارفرما نظر آئی-اہلسنت والجماعت کی قیادت ، لال مسجد بریگیڈ کا سرغنہ مولوی عبدالعزیز نہ صرف آزاد پھر رہے ہیں بلکہ دوسری طرف کئی شیعہ مذہبی سکالر جن کا فرقہ پرستی سے کوئی تعلق نہیں ہے کو فورتھ شیڈول لسٹ میں ڈال دیا گیا-علامہ محسن اس کی بڑی واضح مثال ہیں-کراچی میں تکفیری فاشزم کا سب سے بڑا مرکز جسے جعلی طور پہ مرکز اہلسنت کہا جاتا ہے بغیر کسی روکاوٹ کے کام کررہا ہے اور آج تک کراچی آپریشن میں رینجرز نے اس مرکز پہ چھاپہ نہیں مارا-جبکہ ایم کیو ایم ، پاکستان سنّی تحریک ، پاکستان سنّی اتحاد کونسل کے دفاتر پہ جھاپے بھی مارے کئے اور طارق محبوب رہنماء سنّی اتحاد کونسل رینجرز کی حراست میں ہی جاں بحق ہوگئے تھے

فیصل رضا عابدی کی گرفتاری دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کے قتل کے چند گھنٹوں بعد اورنگ زیب فاروقی کے مطالبے پہ عمل میں لائی گئی اور یہ گرفتاری خود کئی سوالوں کو پیدا کرگئی ہے- ایک طرف تو سید خرم زکی کے قتل کی ایف آئی آر میں نامزد اورنگ زیب فاروقی اور مولوی عبدالعزیز کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ یہ شامل تفتیش ہوئے اور آج تک یہ آزاد پھر رہے ہیں-جبکہ ان پہ شبہ کل فیص رضا ‏عابدی کے گھر مجلس سے واپس جانے والوں میں کچھ پہ فائرنگ اور ہلاکتوں کے بعد ظاہر کیا گیا اور ایف آئی آر میں بھی اس کا زکر موجود ہے-کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کی تازہ لہر نے سر اٹھایا ہے اور ریاست کو اس پہ کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہے

پاکستان کی غیرمنتخب ہئیت مقتدرہ / ملٹری اسٹبلشمنٹ کی جانب سے کراچی کے اندر شیعہ ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ان وارداتوں میں ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز ملوث ہیں اور ان کا ناطہ راء ، افغان انٹیلی جنس سے جوڑا جاتا رہا ہے اور سندھ رینجرز نے بھی اس کا الزام ایم کیو ایم اور راء پہ ہی رکھا-کراچی میں تکفیری فاشزم کی علمبردار اہلسنت والجماعت اور اس طرح کے اور پاکٹس شیعہ نسل کشی ، صوفی سنّی بریلوی ، کرسچن ، اسماعیلی ، ہندؤ ، بوھرہ کمیونٹی پہ حملوں کے زمہ دار ہیں ؟ پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کے ابتک اٹھائے گئے اقدامات سے یہ تاثر بنتا ہے کہ وہ اس کو ذمہ دار خیال نہیں کرتے ،ورنہ ڈی جی رینجرز جامعہ بنوریہ کے مفتی نعیم ، اہلسنت والجماعت کے اورنگ زیب فاروقی وغیرہ سے ملاقاتیں کرتے اور ان سے نیاز مندی ظاہر کرتے ہوئے سالانہ جلسوں میں تقریر نہ کرتے- اسی طرح سے اسلام آباد ، پنجاب ، اور فاٹا و بلوچستان کے اندر جہاں ملٹری اسٹبلشمنٹ کی اپنی گرفت بہت زیادہ ہے تکفیری فاشسٹ آزادانہ سرکرمیاں نہ کر پارہے ہوتے

ملٹری اسٹبلشمنٹ کیا اہلسنت والجماعت اور لال مسجد فیم مولوی عبدالعزیز کے نیٹ ورک کو لگام ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ؟یہ ایک ایسا سوال ہے اس کا جواب ایم کیو ایم کے کیس کی اسٹڈی کرکے بخوبی جانا جاسکتا ہے-اور حال ہی میں سیرل المیڈا کیس کی پیش رفت کو دیکھ کر بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اگر ملٹری اسٹبلشمنٹ چاہتی اور سنجیدہ ہوتی وہ تکفیری فاشسٹوں کی اماں جان اہلسنت والجماعت کا راستہ ویسے ہی رکواسکتی تھی جیسے اس نے ایم کیو ایم کا رکوایا تھا چاہے نواز اینڈ کمپنی کتنا ہی ان کا تحفظ کررہی ہوتی-ملٹری اسٹبلشمنٹ نے بلوچستان میں بھی اپنے مبینہ حریفوں اور مخالفوں کا راستہ روک کر دکھایا ہے-جبکہ رینجرز ، ایف سی کے ایجنڈوں کی راہ میں آنے والی روکاوٹوں کو چیف آف آرمی سٹاف ، ڈی جی آئی ایس آئی ، کور کمانڈر کوئٹہ و کراچی کی براہ راست مداخلتوں کے زریعے دور کیا جاتا بھی دیکھا گیا ہے

کچھ اور شواہد بھی ہیں جن کی بنا پہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب ، کومبنگ آپریشنز ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور نیشنل ایکشن پلان جیسے اقدامات کی بنیاد پہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کی 80ء کی دھائی میں جہادیوں اور تکفیریوں کے ساتھ بنے اتحاد کے ٹوٹ جانے کی پیشن گوئی کرنے والے غلط ثابت ہوئے-کیا دفاع پاکستان کونسل ملٹری اسٹبلشمنٹ کی منشاء کے برخلاف نواز اینڈ کمپنی کی حمائت سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے ؟ کیا پاکستان راہ حق پارٹی ، اہلسنت والجماعت کی قیادت نے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی منشاء و مرضی کے برخلاف انتخابی دنگل لڑے اور لڑ رہی ہے ؟یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب بہت واضح ہیں اور یہ جوابات ہمیں یہ بتلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ تکفیری فاشزم ، جہاد ازم ، اسلام ازم اس ملک کے اندر سیاسی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ فوجی اسٹبلشمنٹ کی منشاء و مرضی کے ساتھ فروغ پارہے ہیں

یہاں ایک لمحے کے لئے تکفیری فاشزم کے خلاف لڑنے والوں اور اس حوالے سے تحریک پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو یہ سوال بھی اٹھانا چاہئیے کہ کیا شیعہ ، سنّی بریلوی جو کے اس ملک کی اکثریت ہیں ان کی وہ قیادت اور وہ تنظیميں جنھوں نے کسی بھی تحریک میں گیند آخرکار فوجی اسٹبلشمنٹ کی کورٹ میں ڈال دی ،کیا اس بے مثال تعاون اور اپنے اوپر بوٹ پالش کی پھبتی کسے جانے کو برداشت کرکے بدلے میں حاصل کیا کیا ؟ اس تابعدار پالیسی کا کیا وہی نتیجہ نہیں نکلا جو ان دو کمیونٹیز کی مذہبی قیادت کے نواز شریف کی چاپلوسی سے نکلا

یعنی تکفیری فاشزم ملٹری اسٹبلشمنٹ اور منتحب ہئیت مقتدرہ دونوں کا قیمتی اثاثہ رہے ہیں اور شیعہ ، کرسچن ، احمدی ، ہندؤ، صوفی تکفیری فاشزم کے ہاتھوں مسلسل نشانہ بن رہے ہیں-اور پاکستانی سیاست اور سماج کے افق پہ تکفیری فاشزم کے خلاف مطلع صاف ہونے کی بجائے اور دھندلاگیا ہے-ملٹری اسٹبلشمنٹ کی قربت کے الزام سے سرفراز ہونے والے ڈاکٹر طاہر القادری ملک سے باہر رہنے پہ مجبور، اور فیصل رضا عابدی جیل میں ، حامد رضا ، ناصر عباس ، امین شہیدی خاموش ہیں- ان کا تحفظ بوٹ والے ویسے نہیں کرتے جیسے حافظ سعید اور مسعود اظہر کا کیا جاتا ہے-جبکہ پریشر ٹیٹکس میں وفاق المدارس ، جے یو آئی کی کامیابی بھی بہت واضح نظر آتی ہے-اور دفاع پاکستان کونسل ایک طفیلہ اتحاد ہونے کے باوجود اپنا ایجنڈا ریاست اور معاشرے پہ مسلط کرنے میں کامیاب ہے-فیصل رضا ‏عابدی کو ملٹری اسٹبلشمنٹ نے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور آج وہ بھی تزویراتی گہرائی کی کند تلوار سے شہید ہونے والوں میں شمار ہونے لگے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s