بارہواں خط

jiriruzek_net_3d_anaglyphs_12-1

پیاری ساری

مجھے کبھی کبھی ایسے لگتا ہے جیسے مری زندگی پہ ایسے واقعات کا حملہ ہوتا رہتا ہے جن کی مجھے سرے سے توقع ہی نہیں ہوتی-اور یہ واقعات مری زندگی میں کیسے رونما ہوجاتے ہیں ، اس کو سمجھنے کی کئی بار کوشش مجھے ناکام ہی نظر آتی ہے اور اب میں ان کی تشریح کی ضرورت ہی نہیں پیش آتی-لیکن کیا یہ بات عجیب نہیں ہے کہ جو واقعات مری زندگی میں بن خواہش کئے ہی بھاگے چلے آتے ہیں، ان کے ہی معنی مری زندگی میں زیادہ اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں-اب ہما علی کی بات لے لو، کراچی یونیورسٹی میں فلسفے کے ڈیپارٹمنٹ میں مرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہاں وہ مجھے ملے گی اور پھر اس کے بغیر زندگی کے معانی بے کار محسوس ہونے لگیں گے-اور پھر جس واقعے کا میں نے اپنی زندگی میں درآنے کا تصور تک نہیں کیا تھا وہ “خزاں ” کی صورت مجھ پہ چھایا رہے گا یہ بھی میں نے کبھی سوچا نہ تھا-اور 25 سال اس خزاں نے مجھے گھیرے رکھا اور تب کہیں جاکر پھر کسی ارادے کے بغیر  میں نے م-ر-ا کو پالیا-تم ٹھیک کہتی ہو کہ تمہارا موازانہ ھما علی سے نہ کیا جائے کیونکہ تمہارے خدوخال کے اندر میں گم رہتا ہوں اور ھماعلی جیسی ہونے کے لئے خد و خال سے آگے جانا پڑتا ہے-تمہاری تو انگلیوں کی پوروں اور ان میں دبے قلم کی نوک کے دباؤ سے پیدا ہونے والے نشان کو میں نظر انداز نہیں کرسکتا-م-ر-ا مجھے کہتا ہے کہ ایسے لوگوں سے محبت کیسے کی جاسکتی ہے جو اپنے آپ سے محبت نہ کرسکتے ہوں اور آپ سے اظہار محبت کرتے ہوں-محبت بارے مرا عجیب و غریب خیال یہ بھی کہ دونوں کو ایک اور بڑے مدار کے گرد گھومتے رہنا چاہئیے ، ویسے کل جب میں م-ر-ا کو فون پہ یہ سب بتارہا تھا تو اچانک فون کال کٹ گئی اور یوں کال کا یہ کٹنا بھی تو غیر چاہے واقعے کی طرح تھا-اور اس کے بعد م-ر-ا کے موبائل کی بیٹری جواب دے گئی لیکن ہم نے دانش کی تیسری آنکھ کھول لی تھی اور اب ہمارا مکالمہ کسی موبائل نیٹ ورک کا محتاج نہیں تھا-مگر تم جب غائب ہوتی ہو تو میں دانش کی تیسری آنکھ کھول نہیں پاتا کیونکہ تمہاری جانب سے بھی اسے کھولے جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی-م-ر-ا سے ملکر مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ میں اس میں ضم ہوتا جارہا ہوں-تم نے بتایا کہ وہاں کراچی میں ایک بڑا ہی دلچسپ ڈرامہ ہورہا ہے اور ڈرامہ بھی بڑا عجیب ہے کہ قاتلوں اور ان کے ہاتھوں مسلسل مقتول بننے والے دونوں کو ایک پلڑے میں رکھنے کی کہانی ہے-ویسے بنانا ریاستیں مظلوموں سے زیادہ ظالموں کی دلجوئی کرنے کی مشتاق ہوا کرتی ہیں اور ہماری ریاست تو بنانا ریپبلک کی نجانے کون سی قسم ہے-ویسے تم نے ٹھیک کہا کہ ایک دم سے کسی سے ہمدردی جتانے کا عمل ٹھیک نہیں ہوا کرتا مگر مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے نیچرل رسپانس کو روک نہیں سکتا اور اگراس کے لئے مجھے تکلیف بھی اٹھانی پڑی تو میں اس کے لئے تیار ہوں-میں جب وہاں پاکستان میں تھا تو بہت زیادہ ایکٹو تھا –میں پاکستان کے حکمران طبقات ، مذہبی فاشسٹوں کے خلاف قلم، زبان اور عمل تینوں سے جدوجہد کرتا رہتا تھا اور مذہبی فاشسٹ اور ان کے حامی مجھے ڈرانے، خائف کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہتے تھے-ایک رات جب میں لاہور میں ایک مقامی ہوٹل میں قیام پذیر تھا تو رات کے دو بجے میں اپنے ہوٹل سے باہر آکر سگریٹ لینے کے لئے نکلا تو میں نے دو افراد موٹرسائیکل پہ پسٹل لئے سامنے سے مری طرف آتے نظر آئے، میں نے دو تین سیکنڈ میں ادھر ادھر دیکھا تو لاہور ہائیکورٹ کی سمت جانے والی اس سڑک پہ کچھ فاصلے پہ ایک اور ہوٹل کا دروازہ تھا میں فوری بھاگ کر اس دروازے کی طرف گیا، موٹر سائیکل سوار اس دوران اتنے قریب آگئے تھے کہ میں ان کی فائرنگ رینج میں تھا، پیچھے بیٹھے نوجوان نے پسٹل سیدھا کیا اور نشانہ اس نے مری ٹانگوں کا لیا اور فائر کیا مگر شائد بیلنس بگڑا اور فائر پاس پڑے ایک لکڑی کے کھوکے میں جا لگا، اور میں بھاگتا ہوا ہوٹل کی لابی میں گھس گیا-موٹر سائیکل سوار رکے نہیں تھے نجانے کہاں غائب ہوگئے-میں لاہور سے واپس آیا تو تین دن بعد مجھے فون پہ ایک انجانے نمبر سے کال آئی کہ امید ہے سبق سیکھ گئے ہوں گے-مجھے پیغام پڑھ کر بڑی ہنسی آئی اور میں اور زیادہ سرگرم ہوگیا-تمہیں میں نے فائر کا نہیں بتایا تھا بلکہ تم سے اس وقت یہ کہا تھا کہ مجھے موٹر سائیکل سواروں نے ٹکر ماری ہے-تم نے مجھے کہا کہ باز آجاؤ لیکن میں کہاں باز آنے والا تھا-مرا ایکٹوازم ، مرا لکھنا ، پڑھنا اور ان سب چیزوں کو کم از کم ایمانداری سے سرانجام دینا، یہ مرے لئے ایسے ہے جیسے سانس لینے کا عمل ہوتا ہے اور میں اس سے کیسے باز آسکتا ہوں-یہاں پیرس میں عجیب صورت حال ہے، ایک طرف اسلامو فوبک فاشسٹ ہیں جو مسلمان ہونے اور چند خاص علامتوں کو دہشت گردی کے مترادف سمجھتے ہیں ، دوسری طرف ایسے مارکسسٹوں اور لیفٹسٹوں کی کمی نہیں ہے جو سلفی ازم اور دیوبندی ازم کے ریڈیکل اظہار اور سعودی فنڈنگ مين لتھڑی آئیڈیالوجی کی آمد اور اس پہ کھڑے ہونے والے ڈھانچوں کو بھی آزادی اظہار کے زمرے میں لے آتا ہے اور ان کو اندازہ ہی نہیں ہے اس آئیڈیالوجی کے ساتھ لتھڑے ریالوں نے کیا لنکا ڈھائی ہے مڈل ایسٹ ، شمالی افریقہ ، جنوبی ایشیا میں-ویسے کمرشل لبرل ، اموی مارکسی اور یزید پرست ترقی پسند ہرجگہ ہی مل جاتے ہیں-تم یہ اصطلاحیں پڑھ کر ہنسنا نہیں، میں نے تو ملحد تکفیری بھی دیکھے ہیں جن کی ترک کردی گئی تھیالوجی اور ترک کردی مابعدالطبعیات انتھرپالوجی میں گھس گھس جاتی ہے اور ان کو میں نے اپنے ماضی کے اندر چھپی شیعہ سے نفرت کو باہر آتا بار بار دیکھا ہے-شیعہ مسلم معاشروں میں اکثر  ایسے ہی رہ رہے ہیں جیسے یہودی ہٹلر و میسولینی کے زمانے میں یورپ کے اندر رہ رہے تھے-ان کی نسل کشی کو فرقہ وارنہ جنگ سمجھنے والوں کی کمی نہیں ہے-اچھا خیر چھوڑو میں بھی کیا باتیں لیکر بیٹھ گیا- اب میں تو اس سب سے دور آکر بیٹھ گیا ہوں اور یہاں اور طرح کے مسائل ہیں-تم ابھی تک خاموش ہو ،کوئی خط تمہارا نہیں آیا-ویسے تمہیں مرے فیس بک پہ آکے تمہارے سٹیٹس کی جاسوسی یک گونہ مسرت بخشتی ہے اور یہ جاسوسی تمہارے لفظوں کے زریعے تمہارا دیدار کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے-ویسے تمہیں ایک دلچسپ بات بتاؤں کہ گزشتہ ہفتے مری کولیگ نادیہ مخائیل  جوکہ خود بھی روسی تارک وطن ہے مجھے سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اشارہ تمہارے نام لکھے خطوط کے بنڈل کی طرف تھا جو مرے ٹیبل پہ پڑے تھے-میں نے بتایا کہ یہ مری دوست ساری کے نام لکھے خط ہیں-اس نے مجھے کہا کہ کوئی ایک خط اسے ترجمہ کرکے سناؤں، اب جب ترجمہ کرکے اسے بتانے کی کوشش کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ ایک اجنبی زبان میں اپنے احساس کو منتقل کرنا کسقدر مشکل کام ہے ، مجھے ٹی ایس ایلیٹ یاد آگیا تھا،خیر میں نے اسے جیسے تیسے کرکے خط کا ترجمہ کرکے سنایا تو میں نے دیکھا کہ وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی اور میں نے اس سے پوچھا، کیا دیکھ رہی ہو؟ کہنے لگی ، تم ایسے لگتے تو نہیں ،جیسے اس خط میں تم سامنے آئے ہو، مرے منہ سے بے ساختہ نکلا، یہ سب ساری کا کمال ہے ۔ اجازت دو

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s