فیصل رضا عابدی کیوں مذہبی شدت پسند نہیں ہے ؟

%d9%81%d8%b1%d9%86%d9%88%d8%af-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85

فیصل رضا عابدی اور تاج حنفی :ایک جانبدار کی غلط غیر جانبداری کا محاکمہ

عامر حسینی

ایک صاحب اسلوب دانشور نے کراچی میں جاری گرفتاریوں اور چھاپوں کے موسم پہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے،

“کراچی میں دو مذہبی شدت پسند گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ ایک کا نام فیصل رضا عابدی ہے دوسرے کا نام مولانا تاج حنفی۔ فیصل رضا عابدی شیعہ مکتب فکر سے ہیں اور مولانا تاج حنفی سنی مکتب فکر سے۔

شیعہ شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ مولانا تاج حنفی کا گرفتار ہونا عین انصاف ہے اور سنی شدت پسندوں کا فرمانا ہے کہ فیصل رضا عابدی کا گرفتار ہونا کامل عدل ہے۔

جبکہ میرا خیال یہ ہے کہ یہ دونوں فریق بالکل درست فرمارہے ہیں۔”

%d9%81%d8%b1%d9%86%d9%88%d8%af-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85

ہمارے جس دوست نے یہ تبصرہ فرمایا ،میں ان سے ذاتی طور پہ واقف نہیں ہوں لیکن ان کے اسلوب تحریر ، سٹائل ، الفاظ و تراکیب کے استعمال و انتخاب کو پسند کرنے والوں میں سے ہوں لیکن ان کے ہاں بین السطور بات کہنے کا فن اکثر وبیشتر کسی سوفسٹری یا سفسطہ کو پھیلانے یا آسان لفظوں میں فکری مغالطے کا سبب بن جاتا ہے

وہ غیر جانبداری کے انتہائی اونچے درجے پہ فائز رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زمان و مکان سے یہ لتھڑا وجود کب کسی کو مثالی یا یوٹوپیائی غیر جانبداری اور معروضیت محض کے مقام پہ فائز ہونے دیتا ہے –یہ دوست دیوبند مکتبہ فکر کے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں دیوبندی طریقے پہ دینی تعلیم کا دور دورہ رہا ہے اور ان کے ہاں مذہبی علم اس کے اصل ماخذ کے ساتھ پایا جاتا ہے-اس لئے یہ “قیاس مع الفارق ” کی اصطلاح سے بخوبی واقف ہوں گے-میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے مولوی تاج حنفی دیوبندی اور فیصل رضا عابدی شیعی کے درمیان مماثلت کے لئے دونوں کے درمیان “مذہبی شدت پسندی ” جیسی مشترک چیز بالکل غلط تلاش کی ہے-یہ صریحی دھوکہ دہی ہے

مذہبی شدت پسند سے مراد ایسا فرد ہوتا ہے جو مذہبی معاملات میں جنونیت کا شکار ہو، انتہا پہ پہنچا ہوا ہو ، انتہا پسند ہو ، متعصب ہو ،اور انگریزی میں ایسے شخص کو

Fanatic, Radical, bigot, extremist religiously

کہا جاتا ہے-

فیصل رضا عابدی مذہبی لحاظ سے شیعہ ہے جیسے فرنود عالم مذہبی اعتبار سے دیوبندی حنفی سنّی ہیں-وہ اپنے نظریات میں راسخ العقیدہ شیعہ مسلمان ہے- اسے قدامت پرستی کہہ لیں ، مذہب پرستی کہہ لیں لیکن اس کے محض شیعہ ہونے کی وجہ سے اسے مذہبی شدت پسند نہیں کہا جاسکتا-فیصل رضا عابدی مذہبی شدت پسند تب ہوتا اور وہ مذہبی جنونی تب کہلاتا جب وہ کہتا کہ شیعہ کے سوا جتنے فرقے ، جتنے مذاہب ہیں ، جتنے مکاتب فکر ہیں سب کافر و مرتد ہیں-یا وہ سنّی بریلوی ، اہلحدیث ، دیوبندی مکاتب فکر کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج کہتا ، ان کو دنیا کے بدترین اور غلیظ کافر قرار دے دیتا-یا اس سے بھی بڑھکر وہ کسی کو محض اس کی مذہبی شناخت کے سبب قتل کرنا جائز خیال کرتا-یا وہ ریاست سے یہ مطالبہ کرتا ہے شیعہ کے سواء جتنے فرقے ہیں ان کو ریاستی سطح پہ کافر قرار دیا جائے-فیصل رضا عابدی نے ایسا کچھ بھی ، کسی موقعہ پہ اور کہیں بھی نہیں کہا – اگر کہا ہے تو اس بارے کوئی ثبوت ، شواہد پیش کئے جائیں-

فیصل رضا عابدی پاکستان کی فوج ، پولیس ، انٹیلی جنس اداروں کا ناقد نہیں ہے ، وہ ان اداروں کی کارکردگی پہ اندھا اعتماد کرتا ہے لیکن اسے پاکستان کی عدلیہ سے ، اس ملک کی سیاسی اشرافیہ سے شدید ترین اختلاف ہے-اور اس کی شدت اگر ریاست کے کسی گوشے پہ سب سے زیادہ نظر آتی ہے تو وہ اس ملک کی سیاسی اشرافیہ ، عدالتی اسٹبلشمنٹ اور صحافت کا ایک سیکشن ہے-وہ ان سب کو پاکستان کے اندر “طالبانائزیشن ” کے جڑ پکڑنے اور پاکستان میں شیعہ ، صوفی سنّی ، کرسچن ، احمدی برادریوں اور فوج ، پولیس وغیرہ پہ ہونے والے حملوں کا بالواسطہ ذمہ دار ٹھہراتا ہے-آپ اس کی شدید تنقید سعودی عرب پہ کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں-وہ اہلسنت والجماعت/سپاہ صحابہ پاکستان اور اس کے جملہ جنگجو دھڑوں کا شدید محالف ہے، اس لئے کہ وہ اس تنظیم کو ایک تکفیری ، متشدد ، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور شیعہ کو کافر قرار دلوانے کی مںطم مہم چلانے میں سب سے آکۓ رہنے والی دیوبندی تنظیم گردانتا ہے-فیصل رضا عابدی کی جنرل راحیل شریف اور فوجی اسٹبلشمنٹ بارے نیک خیالات اور سیاسی اشراف کلاس بارے انتہا پسند خیالات کی بنیاد مذہب نہیں ہے بلکہ اس کے خیال میں اس کی وجوہات سیاسی و سماجی ہیں-فیصل رضا عابدی پاکستان پیپلز پارٹی کا سابق کارکن ہے اور اس نے اپنے سماجی-سیاسی کردار کا آغاز ایک سیکولر لبرل پارٹی سے کی اور اس سے الگ ہونے کے باوجود بھی اس نے کوئی دائیں بازو کی مذہبی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ اس نے پارٹی سیاست ترک کرکے اپنے آپ کو شیعہ نسل کشی کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کا مشن سنبھال لیا-وہ خارجی مذہبی فسطائی نظریات کے خلاف برسر پیکار ہے-آپ عسکری اسٹبلشمنٹ بارے اس کی فکر کو حد اعتدال سے گزری ہوئی بتلاسکتے ہو ، بلوچ سوال پہ اس کی رائے کو کمزور بتاسکتے ہو اور اس نے پاکستان پیپلزپارٹی اور سینٹرشپ سے جو استعفی دیا اس پہ تنقید کرسکتے ہو لیکن فیصل رضا کو مذہبی شدت پسند کہنا غلط ہے اور وہ شیعہ شدت پسندی کی ترجمانی نہیں کرتا-وہ شیعہ شدت پسند تب ہوتا جب وہ دیوبندی تنظیم اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد کی تبلیغ کرتا-یا اس نے سٹیج پہ بیٹھ کر کبھی یہ کہا ہوتا،

” دیوبندی اس ملک میں دنیا کے بدترین ، غلیظ مرتد و کافر ہیں” اور وہ دیوبند مکتبہ فکر کو ہی ختم کرنے کی بات کرتا”

لیکن اس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا-فیصل رضا عابدی اپنے لمبے طالب علمی اور پی پی پی کے جیالے ہوکر لمباعرصہ سیاست میں اس نے کسی فرقے یا مسلک کو ریاستی سطح پہ کافر قرار دلوانے کا نہ تو کوئی مطالبہ کیا اور نہ ہی پی پی پی سے الگ ہوکر ایسا کوئی فرقہ وارانہ مطالبہ کیا

اب آجائیں مولوی تاج حنفی دیوبندی کی طرف-یہ موصوف کالعدم تنظیم “اہلسنت والجماعت ” کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں-وہ جماعت جس کی مذہبی انتہا پسند سرگرمیوں کی وجہ سے اسے 2012ء میں کالعدم قرار دے دیا گیا تھا-دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت ریاستی اداروں کے پاس موجود ہیں-یہ تنظیم جو 80ء کی دھائی میں قائم ہوئی اور اس تنظیم کا سب سے بنیادی مقصد شیعہ مسلمانوں کو ریاستی سطح پہ غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا ہے-اس تنظیم کا بنیادی نعرہ “کافر ، کافر –شیعہ کافر ” ہے-یہ تنظیم پاکستان کو ایک ریڈیکل فرقہ پرست ، اینٹی شیعہ ، ( اینٹی  سنی بریلوی )ریاست میں بدلنے کا نصب العین رکھتی ہے-اس تنطیم کے بانی سربراہ مولوی حق نواز جھنگوی سے لیکر موجودہ مرکزی سربراہ اورنگ زیب فاروقی تک اور اس تنظیم کے سبھی جنرل سیکرٹری بشمول مولوی تاج محمد حنفی اسی شیعہ کی تکفیر ، ان کو شیطان ثابت کرنے کی مہم اور کائنات کا غلیظ ترین کافر قرار دلوانے ، شیعہ اور سنّی مسلمانوں کے درمیان فاصلوں کو زیادہ کرنے ، بلکہ ان کے درمیان جنگ کا سماں پیدا کرنے کا منشور اور نصب العین رکھتی ہے-مولوی تاج حنفی دیوبندی پاکستان اور پاکستان سے باہر  بطور جہادی تنظیموں کے طور پہ موجود عسکری گروپوں کو سپورٹ کرنے والے ہیں-ایک ایسی تنطیم جس کے ہر جلسے میں شیعہ کو کافر کہا جاتا ہو، ہر ایک جلسے میں پاکستانی شیعہ کو سنّی مسلمانوں کی نسل کشی کی سچ جھوٹ داستانوں کا ولن بناکر دکھایا جاتا ہو، اس تنظیم کا جنرل سیکرٹری مذہبی شدت پسند ، مذہبی جنونی ، تکفیری فسطائی ہی ہوگا-مولوی تاج محمد حنفی کئی درجن شیعہ برادری کے قتل ہونے والے لوگوں کی درج ایف آئی آر میں نامزد ہیں-اور کئی مقدمات میں وہ عبوری و پکّی ضمانتوں پہ ہیں-وہ فورتھ شیڈول لسٹ میں موجود ہیں-جبکہ اس کے برعکس فیصل رضا عابدی پہ زندگی میں پہلا فوجداری مقدمہ قائم ہوا ہے ، وہ اس بنا پہ وہ اپنے گھر سے برآمد ہونے والے اسلحے میں موجود ایک سب مشین گن کا لائسنس پیش نہ کرسکے-لیکن نہ تو فیصل رضا فورتھ شیڈول لسٹ میں ہیں اور نہ ہی کراچی میں کسی تکفیری مولوی تک کے قتل کی ایف آئی آر میں ان کو آج تک نامزد کیا گیا-

اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ مذہبی شدت پسند کون ہے فیصل رضا عابدی یا مولوی تاج حنفی دیوبندی ؟

غیر جانبداری اس چیز کا نام نہیں ہوا کرتی کہ آپ سیاہ اور سفید دونوں کو سیاہ قرار دے ڈالیں-غیر جانبداری یہ بھی نہیں ہوا کرتی کہ آپ مذہبی شدت پسندی کی اپنی تعریف گھڑ لیں-یہ گھٹیا قسم کی فیک/ جعلی معروضیت ، جعلی قسم کی غیر جانبداری ہے-آپ اگر یہ کہیں کے فیصل رضا عابدی نے ایک غیر لائسنسی ہتھیار اپنے پاس رکھا ہوا تھا جس بارے ابھی عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ آیا پولیس کا موقف ٹھیک بھی ہے کہ نہیں اور اس بنا پہ اس کی گرفتاری کو ٹھیک اقدام قرار دیں تو مجھے اس رائے سے اختلاف کے باوجود ان صاحب پہ کوئی اعتراض نہیں ہے-لیکن اعتراض اس غلط قسم کی غیر جانبداری ، غلط معروضیت پہ ہے جس نے فیصل رضا عابدی کو مذہبی شدت پسند ٹھہرادیا ہے –اور اس موقف نے پھر وہی گمراہ کن مغالطہ پیش کرنے کی بالواسطہ کوشش کی جو شیعہ نسل کشی کے ایشو کو دو فرقوں کی جنگ بنا کر پیش کرتا ہے اور جو پاکستانی شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی اور ایک تکفیری جماعت کے چند ایک کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کو مماثل اور برابر بناکر پیش کرتا ہے

میں اپنی تمام تر ترقی پسندی ، روشن خیالی ، لبرل ، نان تھیوکریٹک فکر سے ٹکرانے ، اور مری سیکولر سوچ سے ٹکرانے والی مذہبی تھیاکریسی کی علمبردار شیعہ جماعتوں تحریک جعفریہ ، مجلس وحدت المسلمین ، پاکستان شیعہ علماء کونسل ، امامیہ سٹوڈنٹس آرکنائزیشن کو اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان ، جیش محمد ، جیسی جماعتوں کے مماثل اور برابر ٹھہرانے کو علمی، صحافتی ، فکری بدیانتی خیال کرتا ہوں-اور یہاں تک کہ ان کو ” اینٹی سنّی ” جماعتیں قرار دینے والوں کو بھی غلط قرار دیتا ہوں-کیونکہ یہ تنظیمیں اور جماعتیں سنّی اسلام کے ماننے والوں کو سرکاری سطح پہ کافر قرار دلوانے کی کوئی جدوجہد نہیں  کررہی ہیں-ان کا سلوگن ” سنّی یا دیوبندی کافر ” نہیں ہے –ہاں ان کی مذہبی رجعت پسندی ، یا ان کے تھیالوجی نظریات سے مرا سیکولر طرز فکر جس طرح سے متصادم ہے وہ ایک الگ بحث ہے

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s