تیرہواں خط

myfirstkafka3

 

پیاری ساری

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنی جلدی مرے خط پہ اپنے ردعمل کا اظہار کرو گی-تم نے مجھے کہا کہ ان خطوط کو یکے بعد دیگر آن لائن کرتا رہوں، اگرچہ میں پرانے زمانے کی طرح چاہتا تھا کہ یہ خطوط تمہارے اور مرے درمیان ایک حسین اور خوبصورت راز کی طرح رہیں اور یہ تحفہ ہو مری طرف سے تمہیں اس محبت کی علامت کے طور پہ جس کے سمندر سے یہ سیپ ایک ایک کرکے نکل رہے ہیں-مجھے اب یاد نہیں آرہا کہ کس نے یہ کہا تھا، ” ریلشن شپس شاید ہمارے سیکھنے کے سب سے بڑے تجربات ہوتے ہیں” لیکن میں تمہیں ا‎س آسٹرو شاعر یعنی رلکے کی یاد دلانا چاہتا ہوں جسے تم نے اور میں نے فلاسفی ڈیپارٹمنٹ کی عمارت میں آخری سرے پہ بنے اس کمرے میں پڑھا تھا جو دو بجے کے بعد اکثر ویران ہوتا تھا اور تم اور میں وہاں گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے-رلکے نے جب یہ کہا تھا کہ ” محبت ہمارے سب کاموں میں شاید سب سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایسا کام ہے جس کی تیاری کے لئے ہم دوسرے سب کام کرتے ہیں-جب ہم مبتلائے محبت ہوتے ہیں، ہم سے اس کام کے مطابق بلند تر ہونے کو کہا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا کھنچاؤ جو ہماری نفسیات کو مخالف سمت میں لے جاتا ہے جب ہم سرنڈر ہونے اور برابری کے ساتھ تحفظ کا سوچ رہے ہوتے ہیں” اور میں تمہیں بتاؤں واقعی جس دن سے مجھے یہ پتا چلا کہ میں تمہارے ساتھ مبتلائے محبت ہوگیا ہوں تو اس دن سے میں میں سارے کام محبت کی تکمیل کی خاطر کررہا ہوں اور بالواسطہ یہ سارے کام تم تک پہنچنے کی سبیل ہی ہیں-کل جب تم کینسر کے مریض کی عیادت کے لئے گئی ہوئی تھیں تو میں سولی پہ لٹکا ہوا تھا-اور اس انتظار میں مجھے صبح کے تین بج گئے اور یہاں پیرس میں اس فلیٹ کی بالکونی سے میں نیچے گلی میں جھانکنے کی فضول مشق کرتا ہوا بار بار موبائل پہ ایس ایم ایس باکس ، فیس بک میسنجر  پہ نظر ڈالتا اور میسنجر مجھے بتاتا کہ تم 16 گھنٹے سے وہاں سے غیر حاضر ہو اور ایس ایم ایس باکس خاموش نظر آتا ، صبح کے آٹھ بجے میں نے تمہیں “گڈ مارننگ ” کا میسج بھیجا اور پوچھا کہ ” وہاں سب ٹھیک ہے ” تو تم نے بتایا کہ “گٹار پرفارمنس وڈیو دیکھ رہی ہو ” اور ” وہاں سب ٹھیک ہے ” تو مری جان میں جان آئی –میں تمہاری غیر حاضری سے اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلاء ہوگیا تھا-مجھے اس انتظار سے کوفت نہیں ہوتی اور نہ ہی تمہاری غیرحاضری سے مجھ پہ کوئی منفی اثر پڑتا ہے بلکہ مجھے لگتا ہے کہ میں اور حلاوت محبت کو حاصل کرنے کا اہل ہوتا جارہا ہوں- محبت واقعی سب سے مشکل کام ہے-

ساری! تمہیں معلوم ہے کہ کافکا 29 سال کا تھا جب وہ فرالین فیلس کی محبت میں مبتلا ہوا تھا-لیکن میں تمہاری محبت میں اس وقت مبتلا ہوا تھا جب تم اور میں ہم عمر ہی تھے اور کافکا و فرالین فیلس سے کہیں چھوٹے تھے-ساری تم تو مجھے خط لکھنے میں ایک وقت لگادیتی ہو اور فرالین فیلس کافکا کو روز ہی خط لکھا کرتی تھی اور تمہیں بتاؤں کہ فیلس کی اس قدر توجہ سے کافکا گبھرا گیا تھا اور اس نے اپنے ایک خط میں اسے لکھا تھا ” مجھے ہفتے میں بس ایک خط لکھا کرو ، اس کو ایسے پوسٹ کرو کہ مجھے اتوار کو وہ خط ملے ، کیونکہ تم روز اگر خط لکھو گی تو میں ان خطوں کو اس انہماک سے نہیں پڑھ سکتا ،جس انہماک سے میں ان کو پڑھنا چاہتا ہوں، مثال کے طور پہ جب میں تمہارے خط کا جواب لکھتا ہوں تو پھر سکون کے ساتھ بیڈ پہ لیٹ جاتا ہوں لیکن مرا دل دھڑ ،دھڑ کررہا ہوتا ہے اور صرف تمہارا ہی تصور کررہا ہوتا ہے”-کافکا نے فیلس کو ایک اور خط میں لکھا تھا، ” میں صبح پانچ بجے سے تمہارے خط کا منتظر تھا ، اور اب شام ہوچلی ہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے تمہیں یہ بتانا ہے کہ میں تمہارا انتظار کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اور تمہیں اور تمہاری یادوں کو کہیں اور کسی فراموشی کے کونے میں نہیں رکھ سکتا”-ویسے شاید کافکا مجھ سے کہیں زیادہ خوش نصیب تھا کہ اس کی محبت فرالین اس کو روز خط لکھتی اور ہر خط میں اس سے ملنے پہ اصرار کرتی جس سے وہ ہمیشہ ہی بھاگتا رہا-اور میں تم سے ملنے اور تمہارے خط ہر روز ملنے کی شدید خواہش مین مبتلا ہوکر بھی یہاں پیرس کی اجنبی فضا میں سانس لیتا ہوں-تم نے فیس بک میسنجر میں اپنی ایک تصویر مجھے بھیجی ہے جس میں تم ایک ریلنگ پہ ہاتھ رکھے کھڑی ہو اور سامنے ایک عمارت پہ لگی لائٹوں اور سجاوٹ کو دیکھ رہی ہو جبکہ تمہارا یہ سائیڈ پوز ہے، مجھے تمہارا سامنے کے پوز والی تصویر درکار ہے-میں ایفل ٹاور کے سائے میں بیٹھ کر تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں-محبت کرنا واقعی سب سے مشکل کام ہے مگر ہمارا سب سے اہم ترین تجربہ بھی ہے-تمہیں وہ جٹ لڑکی یاد ہے جس نے اپنی لو-میرج کے کچھ عرصے بعد تمہیں کھانے پہ بلایا تھا اور تم سے پوچھا تھا کہ تمہاری زندگی میں کوئی ہے؟ اور اس نے کہا تھا کہ وہ اسے تمہارے حوالے کرنے کے لئے ہر قدم اٹھاسکتی ہے-تم ہنس دی تھیں اور پھر کچھ عرصے بعد تم مجھے اور میں تمہیں مل گیا تھا-مجھے لگتا ہے کہ اسی لمحے کہیں وہ روح شہر خموشاں سے نکلی اور تم میں سموگئی تھی-اور وہ نفخ روح ہی تمہارے اور مرے درمیان اس تعلق کا سبب بنا تھا-محبت رومان پرور فضا میں پروان چڑھتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کی تراش خراش ٹھیک طرح سے اداسی کرتی ہے اور بے گانگی کا احساس بھی اس کی پرورش کرتا ہے-تم اور میں رومانویت سے کہیں زیادہ اداسی اور بے گانگی کی پروڈکٹ ہیں-کل رات مہجوری کا عذاب بہت زیادہ تھا اور میں ساری رات ہی جاگتا رہا اور تم سائے سے کہیں زیادہ مکمل مجسم ہوکر مرے سامنے آکے بیٹھی ہوئی تھیں لیکن میں اپنے سامنے تمہاری تجسیم ہوتے دیکھ کر بھی کس کے آنے کا موبائل میسج باکس میں انتظار کررہا تھا یہ مجھے بھی معلوم نہیں-کیا یہ بہت عجیب نہیں لگتا کہ ایک طرف تو ہمارا مرکز نگاہ ہر وقت ہمارے سامنے ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہم اس کے آنے کے منتظر ہوتے ہیں-تم مجھے سے بہت دور کے زمان اور مکان میں ہوتے ہوئے بھی مرے نزدیک اس زمان و مکان میں موجود ہو جس میں ، میں سانس لے رہا ہوں-ایک بات اور جب سے تم سے میں پیار کرنے لگا ہوں تب سے مجھے ہر اپنے ہر افسانے اور کہانی میں محبوب کا کردار تم لگتی ہو اور محب کا کردار میں خود لگتا ہوں-یہ کیا ہے، اسےے بھی کوئی نام دینے سے میں قاصر ہوں

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s