کاشف نصیر چودھری : جھوٹے امن کے داعی-گل زھرا رضوی

kashif-ch

 

 

 

نوٹ: گل زھرا رضوی پاکستان کے اندر ان گنی چنی ،اصلی، حقیقی سماجی کارکنوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے اپنے کاز کے لئے کسی ملامت کرنے والے ، کسی الزام تراشی کرنے والے کی کوئی پرواہ نہیں کی-وہ چھوٹی سی عمر میں اپنے سے کئی گنا زیادہ عمر کے کمرشل لبرل بابوں اور بییوں سے کہیں زیادہ واضح خیالات اور گول مول خیالات سے پاک  فکر ونظر کی مالک ہیں-ان کے ایکٹوازم کو دیکھتے ہوئے اور ان کے فکری کارناموں پہ ایک نظر ڈالنے سے ہی ہمارے سامنے سید خرم زکی سابق ایڈیٹر تعمیر پاکستان بلاگ کا چہرہ آجاتا ہے-وہ پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے خلاف اٹھنے والی چند ایک بلند آہنگ آوازوں میں سے ایک ہیں-انھوں نے جس طرح سے تکفیری فاشزم کی سب سے بڑی علمبردار جماعت جعلی اہلسنت والجماعت –سپاہ صحابہ پاکستان تکفیری دیوبندی کے خلاف مستقل اور واضح خیالات سے جدوجہد کی ہے اس نے ان کے مخالفوں کی تعداد میں اضافہ کرڈالا ہے-ان کے برحق موقف کے سبب ان کے خلاف بھی کمرشل لبرل مافیا کا سب سے خطرناک ٹولہ مریدان سلسلہ نجمیہ سیٹھیہ ہی سرگرم ہوا ہے-کاشف نصیر چودھری نامی ایک کمرشل لبرل اسی طرح سے میدان میں اترا ہے جیسے وہ سید خرم زکی کے خلاف اترا ہے-ایسے لوگ پاکستان کے اندر تکفیری فاشزم کے خلاف کوئی بھی منظم کمپئن بننے سے پہلے ہی اسے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں-ان کی حال ہی میں ایک پوسٹ سامنے آئی ہے جسے ہم یہاں اپنے تعارفی نوٹ کے ساتھ ری پروڈیوس کررہے ہیں

کافی پہلے سے شیعہ اور سنّی (بریلوی ) دونوں کو دیوار سے لگانے کے لئے ایک انتہائی بدنام کمپئن انتہائی غیر متوازن  تنقید کے ساتھ چلائی جارہی ہے-مری پوسٹوں میں سے ایک پوسٹ جوکہ احمدی کمیونٹی کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے تھی کا مطلب سیاق و سابق سے ہٹ کر نکالا گیا-اس کے باوجود کے دوسری آئینی ترمیم کی بہت واضح مخالفت اور احمدی مخالف ایس آر اوز کی مخالفت کے باوجود مرے بیان کے ایک حصّے کو غیر متناسب تنقید کا نشانہ بنایا گیا

سب سے پہلے ریکارڈ کی خاطر مجھے بتانے کا موقعہ دیں کہ میں ایسی قانون سازی ، لٹریچر اور نعروں کی مخالفت کرتی ہوں جو کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہو-لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہوا پاکستان میں اور یہ پاکستان کی ریاست کی محدودیت کو نمایاں کرتا ہے کہ جس کی آئیڈیالوجی کا تعین ہی مذہب سے ہوا ہے-اور ابتدائی دستوری گائیڈ لائنز جیسے قرارداد مقاصد ہے بھی اس پہ مسلط کی گئیں

مرے بیان کے ساتھ جڑنے اور دوسری ترمیم کے پس منظر پہ بات کرنے کی بجائے مجھے ناجائز تنقید کا نشانہ بناکر مرے خلاف ایک جھوٹی کمپئن چلائی جارہی ہے-یہ تنقید خاص طور پہ اس وقت مسئلہ پیدا کرتی ہے جب یہ ان جعلی مقدس منافقوں کی جانب سے آتی ہۓ جنھوں نے اپنے اپنے فرقوں کے اندر انتہا پسندی ، جہاد ازم اور تکفیر جیسے بنیادی امراض پہ ابھی بولنا باقی ہے

خاص طور پہ، یہ کاشف نصیر چوہدری جیسے افراد جنھوں نے فرقہ وارانہ بنیادوں پہ دوسرے ایکٹوسٹوں کو شکار بناکر اپنا کیرئر بنایا ہے لیکن وہ احمدی فرقے کے بانیان کی تکفیر اور جہاد ازم کا دیوانہ وار دفاع کرنے والا ہے-مجھے ان شیعہ مولویوں کی مذمت کرنے میں زرا مسئلہ نہیں ہے جو دیوبندی انتہا پسندوں سے بچنے کے لئے احمدیوں کی تکفیر کرتے ہیں-لیکن یہ بھی تو  ایک احمقانہ بات ہے کہ دیوبندی  انتہا پسند گروپوں کی جانب سے احمدیوں کو نشانہ بنانے کا الزام ایسے شیعہ مولویوں پہ دھر دیا جائے-اہلسنت والجماعت –لشکر جھنگوی دہشت گردوں کو دہشت گردی کے لئے شیعہ مولویوں کا محتاج بناکر دکھانا بذات خود ایک مضحکہ خیز بات ہے-

مرے ساتھیوں اور مجھے اکثر کاشف چودھری اور اس کے جیسے اور جنونیوں نے نشانہ بنایا اور غلط طور پہ پیش کیا ہے-اس طرح سے نشانہ بنایا جانا گھسے پٹے طریقے سے ہماری مذہبی شناخت کو اس وقت ملوث کرتا ہے جب پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا بازار گرم ہے-یہ اس بڑے بیانیہ کا حصّہ ہے جہاں مذہبی برادریاں جن کو  نسل کشی پہ مبنی تشدد کا سامنا ہے کو ناممکن اور انتہائی معیارات کے ساتھ کھڑا ہونے کو کہا جارہا ہے جبکہ ضرورت ان کی حمائت کرنے کی ہے

میں اپنے احمدی ساتھیوں کی حمائت کرتی ہوں اور ان کو اسی تکفیری دیوبندی دہشت گرد گروپوں جیسے اہلسنت والجماعت جوکہ شیعہ نسل کشی کا مرتکب بھی ہورہے ہیں کی جانب سے تکالیف اور مشکلات اٹھانا پڑرہی ہیں-ان گروپوں نے 2010ء میں 100 احمدی مارے تھے-اور اسی دورانیہ میں ہزاروں شیعہ مارے گئے

تاہم جب بھی کسی احمدی کو نشانہ بنایا گیا اور اس سے زیادتی ہوئی ،میں سمجھتی ہوں کہ اس موقعہ پہ احمدی بانیان اور ان کے خلفاء کے تکفیری اور منافرت پہ مبنی لٹریچر کو ذلیل مقصد کے ساتھ نمایاں کرنا غیر مناسب بات ہے-وہ لٹریچر جوکہ کسی کو بھی یا ہر ایک کو اسلام سے خارج کرتا ہو اگر کوئی احمدی خلفاء اور ان کے مسیحا کی بیعت اور اس پہ عقیدہ نہ رکھتا ہو-اسی طرح جب دیوبندی نفرت پھیلانے والے مولوی احمدیوں کے خلاف منافرانہ بیان جاری کرتے ہیں ،تو میں محسوس کرتی ہوں کہ شیعہ اور سنّی دونوں کو اکٹھا ہوکر ایسے متعصب مولویوں کی مذمت کرنی چاہئیے-ہم میں بہت سے ہیں جنھوں  کئی بار طاہر اشرفی کی مذمت کی اور ہم ان کے سپورٹرز سے بھی اچھی طرح سے واقف ہیں- ان میں سے کچھ تو اپنے آپ کو احمدی حقوق کے حمائتی گردانتے ہيں-کیا یہ صرف بدقسمتی ہے یا کچھ اور ہے ؟اس بات کا فیصلہ میں پڑھنے والوں پہ چھوڑتی ہوں-تاہم امین شہیدی اور طاہر اشرفی کے لئے الگ الگ معیارات مقرر نہیں کئے جاسکتے —- خاص طور پہ جبکہ طاہر اشرفی کے جعلی اہلسنت والجماعت دیوبندی سے روابط جوکہ احمدیوں پہ حملے کرنے اور ان کو قتل کرنے کی زمہ دار ہے

اپنے آپ کو ازخود اخلاقی طور پہ راستی پہ ہونے کے مستقل راگ الاپنے کی بجائے ،کاشف نصیر چودھری سے یہ سوال کرنا بنتا ہے کہ وہ کیوں مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کے ادوار کو عظیم بناکر پیش کرتا ہے جبکہ خود مسلم ماہرین تاریخ نے اسے ایام الفتنہ –فتنے کے دنوں سے تعبیر کیا تھا-کاشف کو یہ بات بخوبی سمجھنی چاہئیے کہ ایک طرف مسلمانوں کی باہمی خانہ جنگی کو شاندار بناکر دکھانے اور دوسری طرف ہفنگٹن پوسٹ کے لئے لکھے مضامین میں خود کو امن پسند ایکٹوسٹ بناکر پیش کرنے سے مذہبی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا-وہ احمدی الفرقان بریگیڈ سے انکار کرسکتا ہے کیا؟ وہ مسلح لشکر جس نے 1948ء میں پاکستانی ریاست کی جانب سے پہلی جہادی پراکسی وار میں حصّہ لیا تھا-

ایسے وقت میں جب میں اور مرے ہم مذہب اپنے پیاروں، دوستوں کی لاشیں روزانہ کی بنیادوں پہ اٹھارہے ہوں، تو ہمیں کاشف چودھری جیسے متعصب لوگوں  کی سند اپنے ٹھیک ہونے کے بارے میں لینے کی ضرورت نہیں ہے اور مجھے ایسے انتہائی غلط  تندی سے معاف ہی رکھئے

gul-zehra-rizvi

گل زھرا رضوی ایک سماجی ایکٹوسٹ ہیں اور پاکستان میں تکفیری مذہبی فاشزم کے خلاف سرگرم ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s