چودھواں خط

herbert-marcuse-quote-if-mass-communications-blend-together

 

 

پیاری ساری

تمہین ایک بات بتاؤں ، میں جب بھی تمہیں خط لکھنے بیٹھتا ہوں تو شروع کیسے کروں سمجھ ہی نہیں آتا پھر یوں کرتا ہوں آنکھیں بند کرتا ہوں اور تمہیں سوچنے لگتا ہوں، ویسے کیا ہے یار تمہیں سوچنے کے لئے مجھے آنکھیں کیوں بند کرنا پڑتی ہیں اور ابتک میں اس ایک فارمیلٹی سے نجات کیوں نہیں پاسکا ؟ میں اس سے آگے جانا چاہتا ہوں ، میں تمہیں وقفے وقفے سے سوچنے کا عمل مجھے محبت میں خام ہونے کا احساس کراتا ہے اور میں اندر سے کہیں ٹوٹ جاتا ہوں،میں خیالات اور احساس کی ایک سٹریم میں سب سوچوں کے ساتھ تمہیں سوچنا اور محسوس کرنا چاہتا ہوں اور اس سٹریم میں کمپیوٹر کی طرح کوئی پارٹیشن نہیں چاہتا-اور میں چاہتا ہوں کہ یہ ڈائمنشنز یعنی جہات و اطراف سے اوپر اٹھنا چاہتا ہوں اور تمہیں تعینات کے ساتھ سوچنا نہیں چاہتا-کیا یہ ضروری ہے کہ صبح اٹھوں اور پہلے تمہیں گڈ مارننگ کا میسج بھیجوں اور پھر تمہارے جواب کی راہ تکوں اور موبائل کی سکرین پہ بار بار نظردوڑاؤں اور ایسے میں کئی اور گڈمارننگ کے مسیجز آئیں اور دل میں کوئی لہر نہ اٹھے،جیسے ہی تمہارا جواب ملے تو دل کا کھل اٹھے، یہ سب چھوٹی چھوٹی سی چیزیں مجھے یہ احساس کراتی ہیں کہ محبت اور دوسرے کاموں جیسی تو ہرگز نہیں ہوتی اور میں کبھی کبھی حیران ہوتا ہوں کہ میر تقی میر صاحب کے ہاں یہ عشق اور زندگی کے کاموں کی طرح ایک معمول کا کام کیسے تھا؟ میں اس سطح پہ پہنچنا چاہتا ہوں لیکن پہنچ نہیں پاتا-لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ میں باقی سب کام چھوڑ چھاڑ بس یہی کام کرتا رہتا ہوں، قاصر مرحوم نے تو کہا تھا کہ ان کو ایک ہی کام آتا ہے اور وہ ہے عشق، لیکن میں یہی ایک کام کرنے کی خواہش رکھتا ہوں مگر یہ جو سرمایہ داری نظام ہے نا اس کا تو کام ہی جمی جمائی چیزوں کی اکھاڑ پچھاڑ کرنا ہے اور یہ جم کر کچھ بھی نہیں کرنے دیتا اور صبح آٹھ بجے یہاں سب وے سے ٹرین پکڑتا ہوں اور دس بجے دفتر پہنچتا ہوں اور اس دوران کریٹو آئیڈیاز کے نام پہ لوگوں کو بے کار پروڈکٹس بیچنے کے لئے لبھانے والے جملوں کی تخلیق ، کسی ایڈ کی تخلیق کے لئے اچھوتے خیالات، جن میں بہت کمینگی سے لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوانے کی ترکیب سب سے بنیادی جزو ہوتا ہے سوچنا کسی اذیت سے کم  کام  نہیں ہے اور میں کسقدر چیپ ہوں کہ جب اپنی توانائیوں کو ختم ہوتا محسوس کرتا ہوں تو اپنی کمینگی سے بھری ایڈ تخلیق کرنے کی انرجی بحال کرنے کے لئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا ہوں اور آنکھیں بند کرکے تمہیں سامنے لاتا ہوں اور پھر تروتازہ ہوکر صارفیت پسندی کے رہنماء اصولوں کے تحت کاموڈیٹی ٹریڈ بڑھانے کا سامان کرنے لگتا ہوں، دیکھا کیسے تمہاری محبت بھی بالواسطہ اس سرمایہ داری کو بڑھاوا دینے کے کام آرہی ہے اور میں اندر سے اس کام سے بیگانگی محسوس کرنے ، اپنے آپ پہ نفرین کرنے کے باوجود یہ کام کرتے چلا جاتا ہوں-ویسے تمہیں ایک کامک بتاؤں، جس ڈیسک پہ میں کام کرتا ہوں، اسی ڈیسک پہ جولیانا اینڈرسن نام کی ایک عرب نژاد لڑکی کام کرتی ہے، میں جب بھی انرجی بحال کرنے کے لئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا تھا اور آنکھیں بند کرتا  اور کچھ دیر کے بعد تیزی سے مری انگلیاں لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پہ چلنے لگتیں اور ایک آئیڈیا تخلیق کرنے کے بعد جب اسے پروف پڑھنے کو دیتا  تو وہ بہت میٹھی تقدیس بنی نگاہوں سے مجھے دیکھتی رہتی ، ایک مرتبہ اس سے میں پوچھ بیٹھا کہ ایسے کیوں دیکھتی ہے تو وہ کہنے لگی، ” تم کوئی دعا پڑھتے ہو نا جو تمہیں کسی نے عطا کی ہے جس سے تم پہ الفاظ اترنے لگتے ہیں ” وہ ایک کیتھولک کرسچن ہے اور بہت کنزرویٹو ہے اور مذہبی ہے ۔۔۔۔ میں اس کی بات سنکر خوب ہنسا-یار ہم سرمایہ داری کی مشین کے کارآمد پرزے بننے اور اپنے زیادہ سے زیادہ استحصال کو ممکن بنانے اور اس کی مشینری میں فٹ بیٹھنے اور بے روزگاری ، کچی نوکری کے عذاب سے بچنے کے لئے محنت کی لوٹ پہ مبنی اجرت کی غلامی کے لئے بھی خدا نامی وجود سے مدد مانگتے ہیں- ایک مرتبہ مرا کزن جو تھا وہ پاکستان سول سروس کے تحریری امتحان میں پاس ہوگیا تھا مری اماں کے پاس آیا اور کہنے لگا، ” خالہ ! آج مرا انٹرویو ہے پنچتن پاک سے عرض کرنا کہ مرے انٹرویو کی کامیابی کے لئے دیا کریں” اور مرا یہ کزن انٹرویو میں پاس ہوگیا اور نہ صرف پاس ہوا بعد میں ترقی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کی پوسٹ پہ فائز ہوا اور اس دوران اسے بلوچستان کے حوالے سے ٹاسک سونپا گیا جس میں اس نے مرکز سے اختلاف کرنے والے نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں اہم کردار ادا کیا اور مرکز سے تعریفی اسناد بھی حاصل کیں اور ترقی پہ ترقی کرتا گیا اور وہ اسے اہل بیت اطہار کی خصوصی نظر کرم کا نتیجہ کہتا ہے-گویا اس کی میٹا فزکس نے اسے ریاست کے کالونیل پروجیکٹ کو آگے بڑھانے اور کچلےہوئے ، پسے ہوئے لوگوں کو اور کچلنے اور پیسنے میں مدد کی جب میں نے ایک بار اس کو اس بات پہ ٹوکا تو کہنے لگا “ہدائیت تو چنے ہوئے لوگوں کو ملتی ہے، تمہارے نصیب میں ازلی بدبختی لکھی ہوئی ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں ” تو کیا کالونائزڈ ہونے والوں کی میٹافزکس ان کے کام نہیں آتی ہے، ان کا خدا ، ان کے پنجتن ، ان کے قطب ، غوث کیا کوئی اور ہوتے ہیں؟ویسے 71ء میں بنگال میں بنگالیوں کی میٹافزکس کیا مغربی پاکستان والوں کی میٹافزکس سے زیادہ طاقتور تھی؟ہماری میٹافزکس سرمایہ داری کے میکنزم سے مطابقت میں کام کرنےپہ کیوں مجبور ہوتی ہے؟ اور ہمیں اپنی محبت تک کو اس کے مطابق کرنا پڑتا ہے-تم نے ایک مرتبہ مجھےبتایا کہ تمہاری چھوٹی سی بھانجی تم سے پوچھ رہی تھی کہ یہ خدا کون ہے ؟ اور کہاں رہتا ہے ؟ اور تم نے اسے کہا “تم بڑی ہوجاؤ اسے ملکر ڈھونڈیں گے، کیا ہے اور کہاں رہتا ہے” تو میں سوچ رہا تھا کہ سرمایہ داری ہمیں اتنا موقعہ فراہم کرتی ہے کہ ہم اس کے سٹرکچر سے اوپر اٹھ کر اس کی مطابقت پذیری سے منحرف ہوکر اس بارے میں سوج سکیں-مجھے اس بات پہ انتہائی شک ہے-تم مجھے کافر اعظم کہتی ہو تو غلط نہیں کہتی اور میں تمہیں جو کافرہ کہتا ہوں تو غلط نہیں کہتا-ویسے تو یہاں کفر بھی سرمایہ داری سے مطابقت پذیر ہوئے بغیر باقی نہیں رہ سکتا ، یہاں تک کہ الحاد بھی نہیں اور میں تو یہ کہتا ہوں کہ “خیال ” مجرد بھی اسی کی مادیت سے تشکیل پاتا ہے-تو مجھے بتاؤ کہ جسے “محبت بالذات ” کہتے ہیں ” لو فار اٹ سیلف ” کہتے ہیں ،اس کا کہیں وجود ہے بھی کہ نہیں؟ مجھے تو اس بارے میں بہت شک ہے-تم اس پہ کوئی روشنی ڈال سکو تو ضرور ڈالنا-بس اب لنچ ٹائم ختم ہوگیا ہے اور واپس مجھے بیٹھ کر نام نہاد کریٹو رائٹنگ کرنی ہے اور کاموڈیٹی سیل بڑھانے کی سبیل کرنی ہے-ویسے اس خط کو لکھنے کے دوران مری انرجی بحال ہوگئی ہے ، ہے نا افادیت پسند مارکیٹ سے مطابقت لئے محبت ، اجازت

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s