adnan-khan-kakar-mukalima-3-150x150

شاید آپ میں سے بہت سے افراد کے لئے یہ بات تحیر خیز ہو کہ سنہ 651 عیسوی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں ایران کی فتح مکمل ہونے سے لے کر سنہ 1510 تک تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا۔ شیعہ موجود تھے مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اور پھر 1487 میں شاہ اسماعیل صفوی پیدا ہو گیا۔

“میں ایک سنّی ہوکر عثمانی ترک کے جرائم کا زمہ دار نہیں ہوں،جیسے شیعہ صفوی بادشاہوں کے جرائم کے ذمہ دار نہیں ہیں”

میں اپنے پڑھنے والوں سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ایک ایسی اصطلاح میں بات شروع کی جو واقعی ایک کمیونسٹ کو زیب نہیں دیتی-لیکن مجبور ہوں کہ اس طرح سے بات شروع کئے بنا معاملہ سمجھ میں آنے والا نہیں ہے- “ہم سب” ایک ویب سائٹ ہے جس پہ عدنان خان کاکڑ نام کے ایک قلم کار کا مضمون شایع ہوا ہے-مضمون کا عنوان (جوکہ ایڈیٹر کی صوابدید ہوا کرتا ہے چاہے اس کا انتخاب خود مضمون نگار نے ہی کیوں نا کیا ہو) ” ایران سنّی اکثریتی ملک سے شیعہ اکثریتی ملک کیسے بنا” ہے- یہ عنوان اگر دیوبندی جہادی اخبار “ضرب مومن ” یا روزنامہ (دیوبندی سعودی) اسلام ” کے ادارتی صفحے پہ شایع کاکڑ کے مضمون کا ہوتا تو مجھے حیرانگی نہیں ہونی تھی لیکن مدیر ہم سب وجاہت مسعود اس مضمون کا یہ عنوان رکھا رہنے دیں گے،اس پہ مجھے تھوڑی سی حیرانی ہوئی ہے-اور یہ مضمون معمول کے دنوں میں شایع ہونے والا کوئی تحقیقی سا بے ضرر مضمون نہیں ہے-بلکہ یہ ایک ایسے وقت میں شایع ہوا ہے جب اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پہ ہے اور کم از کم 12 شیعہ ابتک صرف اکتوبر اور نومبر کے پہلے ہفتے میں مارے جاچکے ہیں اور متعدد عورتوں اور بچوں کو بھی اس دوران نشانہ بنایا گیا جو زخمی ہوئے-جبکہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی ایک ایسی حقیقت بنکر سامنے آئی ہے جس سے اب پاکستان کا مانا تانا لبرل پریس بھی انکاری نہیں ہے اور وہ اس کے پیچھے تکفیری دیوبندی ازم کو دیکھتا ہے جس کی سب سے بڑی علامت اہلسنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان ہے

And when we look at the wreckage left by murderous destruction by terrorism, often we find the existing or former activists of these very groups being responsible for it.Everyone who is anyone in Lashakar-e-Jhangvi,or Lashkar-e-Jhangvi Al-Alami,has at one stagebeen associated with Spiah-e-SahabaPakistan and,by extention,with its reincarnation, Ahl-e-Sunnat Wal Jammat,which was the main participant in the gathering at the capital.(Age Of Apathy –Editorial Herald Nov,2016,p12)

عدنان کاکڑ کا مضمون ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے،

“شاید آپ میں سے بہت سے افراد کے لئے یہ بات تحیر خیز ہو کہ سنہ 651 عیسوی میں حضرت عثمانؓ کے دور میں ایران کی فتح مکمل ہونے سے لے کر سنہ 1510 تک تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال تک ایران ایک سنی اکثریتی ملک تھا۔ شیعہ موجود تھے مگر ان کی تعداد کم تھی۔ اور پھر 1487 میں شاہ اسماعیل صفوی پیدا ہو گیا۔”

ااتفاق کی بات ہے کہ میری نظر سے جب یہ جملے گزرے تو اس وقت میں امر حانا فتوحی کی کتاب ” ان ٹولڈ سٹوری آف نیٹو عراقی کلاڈین میسوپوٹومئین: 5300 بی سی-پریذنٹ ( مقامی عراقی کلاڈین میسوپوٹومئین کی ان کہی کہانی -53قبل مسحی سے حال تک )-اور اسے پہلے میں نے دو دستاویزی فلمیں مسلم ادوار میں افریقی سیاہ فام کی تجارت اور ان کی اس سے کہیں بہت خوفناک ٹرانس فارمیشن کی کہانی دیکھی جس کا تذکرہ عدنان کاکڑ نے اپنے اس مضمون میں کیا ہے-جن کو شوق ہو وہ دیکھنے کا وہ اس لنک پہ جاکر دیکھ سکتے ہیں:

Black African Slaves castrated by Muslims – Islam and slavery

https://www.youtube.com/watch?v=AQETbqyKHng&feature=youtu.be

Arab Muslim Slave Trade Of Africans: 140+ million slaves

https://www.youtube.com/watch?v=52qakhOYMwo&feature=youtu.be

تو اگر کوئی آپ کو یہ کہے کہ آپ کو یہ سنکر سخت حیرانی ہوگی کہ 1508ء سے پہلے اس وقت کے میسوپوٹیمیا اور آج کے نارتھ کردستان عراق میں کوئی ایک سنّی کرد نہیں تھا بلکہ وہاں کوئی مسلمان نہیں تھا بلکہ یہ ‏عثمان ترک تھے جنھوں نے کردوں کو وہاں لاکر بسایا تھا اور پرشیا و عراق کے درمیان ایک بفر زون قائم کیا تھا-اور یہاں سے دیکھتے ہی دیکھتے شامی کر‎سچن نہ ہونے کے برابر رہ گئے-شمالی افریقہ کے بہت سے مسلم اکثریت کے ملکوں میں مسلم اکثریت کی تاریخ کو بھی اسی طرح سے شروع کیا جاسکتا ہے-

آپ نے کبھی

Devshrim

کی اصطلاح سنی ہے ؟ اس کا انگلش میں مطلب ” اکٹھا ” کرنا ہے –اور اس کا عثمان ترک سلطنت میں کیا معانی تھے آئیں دیکھتے ہیں،

One of the most exotic Ottoman institutions used slavery to seek out persons of talent, with potential advantages for both the state and the slave. This was the “devshirme” or child-contribution, established in the middle 1300s.

When recruits for the military were needed, Christian boys were confiscated from the population as slaves and converted to Islam. While there were no regular timetables or set quotas, perhaps a thousand boys were taken on average per year. As slaves, these boys became absolute dependents of the sultan. They were not used for the army alone: after growing up and being trained, they took on all kinds of roles in the imperial establishment.

http://staff.lib.msu.edu/sowards/balkan/lecture3.html

بلقان نوآبادیوں (یونان،البانیہ،مقدونیہ ،بلغاریہ،رومانیہ، سربیا،مانٹیگرو،بوسینیا )سے ہر سال یا دو سے تین سال میں دیہی علاقو‎ں سے کرسچن کسانوں کے ایک سے دو ہزار بچّے سلطان مراد دوم کے دور میں زبردستی غلام بناکر لائے جاتے اور ان کا مذہب تبدیل کرکے ان کو مسلمان کیا جاتا اور پھر اوٹمان/عثمان ترک امپریلزم کی خدمت پہ وہ مامور ہوتے-یہ جو یوروپئین ترکی کہلاتا ہے یعنی بلقان یہاں مسلم اکثریت کا علاقہ بوسینیا ہرزگوینیا کیسے معرض وجود میں آگیا ، یہ کہانی سمجھنے کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے-ویسے ترک عثمانیوں کی سلطنت کے قیام سے میسوپوٹومیا میں بدو عرب قبیلوں، کردوں کی آبادکاری کیوں کی گئی اور اس سے کیسی ٹرانسفارمیشن ہوئی اس کے لئے آپ کو امر حانا فتوحی کی کتاب پڑھنا ہوگی-عثمان ترکوں کی ایک “ولایت( گورنریٹ ) دیار باقر ” تھی-یہاں 1894ء میں 25 ہزار اسارین کرسچن کو تہہ تیغ کردیا گیا تھا-اور آپ کو ” حمادین نسل کشی ” بارے کچھ پتا ہے؟ بس 80 ہزار سے 3 لاکھ اور بعض اندازوں کے مطابق دو لاکھ آرمینائی باشندے قتل ہوئے تھے-2493 گاؤں صفحہ ہستی سے مٹاڈالے گئے تھے-456 خاندان زبردستی مسلمان کرلئے گئے اور ایک لاکھ لوگ بدترین محاصرے کے سبب قحط سے مرگئے تھے-ترک عثمان جب میسوپوٹیمیا اور وسط ایشیا کے علاقوں پہ قابض ہوئے اور اناطولیہ وغیرہ ان کے قبضے میں آئے تو 14 ویں اور 15 ویں صدی عیسوی میں ان علاقوں کے شیعہ بشمول علاویوں پہ کیا گزری اس کا زکر بھی آپ کو حیرت زدہ کردے گا-اور ” حنفی فقہ ” کیسے اکثر علاقوں کی سرکاری فقہ اور پھر لوگوں کی اکثریت کے تعامل کی فقہ بن گئی اس بارے بھی کئی دلچسپ تاریخی اسٹڈیز موجود ہیں-سلجوق ترکوں کے زمانے میں بغداد کے محلہ کرخ اور کاظمین پہ منگولوں کے حملے سے پہلے کیا گزری تھی ؟ اس بارے بھی آپ کو بتاکر آپ کے خون کو کھولانا بہت آسان ہوسکتا ہے-آپ نے “بابک خراسانی ” کا نام سنا ہے؟ یہ ایرانی علاقوں میں ایک بہت بڑے حصّے کو عباسیوں سے آزاد کرانے میں کامیاب رہا تھا اور اس کی بغاوت کو وہاں کی مقامی آبادی کی حمائت حاصل تھی اور بابک خراسانی کی قیادت میں لوگوں نے آرتھوڈوکس سنّی اور شیعہ دونوں اسلام سے ہٹ کر اپنی ہی راہ اختیار کی تھی-یہ عباسیوں کے لئے بڑا سردرد بنا رہا-ویسے اولڈ خراسان کو مسلم بن قتیبہ نے فتح کیا تھا-یہ وہی سپہ سالار ہے جس نے مدینہ و مکّہ پہ چڑھائی کی تھی اور واقعہ حرہ ہوا تھا اور مدینہ کی مہاجر اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اولاد ميں سے 6 ہزار عورتوں کی عصمت دری اموی فوج نے کی تھی-کعبۃ اللہ کو آگ لگائی گئی اور مسجد نبوی کے صحن میں گھوڑے باندھ دئے گئے تھے-مرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میسوپوٹومیا ہو یا خراسان ہو یا اناطولیہ ہو اور اس سے آگے بڑھ کر بلقان ہو یا آج کے شمال افریقہ کے مسلم اکثریتی آبادی کے ملک ہوںےمیں کس کس مذھبی ٹرانسفارمیشن سے گزرے اور کیسے گزرے ؟ اور اس میں امویوں، عباسیوں، سلجوقوں ، آل بویۃ ، صفویوں ، عثمان ترکوں، ترکمانوں ، مںگولوں یا عرب ، ترک ، فارسی نسل کے حکمران خاندانوں کا کیا کردار تھا؟اسے سادہ سی معکوس راست مساوات یعنی سنّی-شیعہ میں بانٹ کر دیکھنے سے سوائے فرقہ وارانہ منافرت اور تقسیم بڑھنے کے اور کچھ بھی نہیں ہوگا-1874ء میں روہیلکھنڈ ریاست پہ انگریز، مرہٹہ ، شجاع الدولہ کی فوج (جوکہ شیعہ تھا ) نے ملکر لشکر کشی کی تھی اور روھیل کھنڈ کے اندر بسنے والے یوسف زئی اور بنگش سنّی پٹھانوں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟یہ کسی سے ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے-سید احمد سرہندی مجدد الف ثانی نے “رد روافض ” رسالہ کن کے کہنے پہ لکھا تھا اور وسط ایشیاء کے سنّی ترکمان کو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی ؟اس بارے بھی معلومات حیران کردینے والی ہیں

ایرانی شیعہ ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف ایک انقلابی جدوجہد میں کھڑے ہوئے تو حیرت انگیز طور پہ انہوں نے اسماعیل صفوی کے شیعی ورثے پہ سخت ترین تنقید کی-عدنان کاکڑ شاید ڈاکٹر علی شریعتی کو بھول گئے جن کی کتاب سرخ شیعت و سیاہ شیعت آج بھی لاکھوں شیعہ نوجوانوں کو ہی نہیں خود سنّی نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے-اورشاہ اسماعیل کو تو خود عراقی عرب شیعہ مراجع کے بڑے مرکز نجف اشرف سے بھی مسترد کردیا گیا تھا-اور شریعتی نے تو صفوی شیعی روائت کی واٹ لگادی تھی-میں اس لئے کہتا ہوں کہ تاریخ اتنی سادہ نہیں ہے جتنا اسے فرقہ پرست ذہن بناکر دیکھنا چاہتا ہے اور ٹرانفارمیشن کو جب صدیاں گزرجاتی ہیں تو آپ کسی نسلی ثقافتی گروہ کی شدھی نہیں کرسکتے-کیا ہندوستان میں مسلم راجپوتوں کو ہم ان کا شاندار ہندؤ ماضی یاد دلاکر اور ان کی ٹرانسفارمیشن میں ریاستی کردار کی کہانیاں سناکر واپس ہندؤ ازم کی طرف لیجاسکتے ہیں؟سندھی قوم پرستوں نے راجہ داہر میں اپنا ہیرو ، محمد بن قاسم میں ولن تلاش کیا،پنجابیوں نے پورس کے اندر- تو کیا ان دونوں نے اپنے مسلم نام اور مذہب بدل ڈالے؟ہندوستان میں ہندوتوا کیسی تاریخ پہ زور دیتی ہے؟وہ بھی تو ہندوستانی مسلمانوں اور کرسچن پہ واپس پلٹ آنے پہ زور دیتے ہیں اور ہندوستان کو ویسا بنانا چاہتے ہیں جیسا یہ مسلمانوں کی آمد سے پہلے تھا-

ایک بڑے کینویس میں رکھ کر جب یہ سب چیزیں دیکھی جائیں گی تو “حیرانی ” کے بعد نفرت اور تکفیری فاشزم کا ظہور نہیں ہوگا-لیکن اگر فریم ورک صفویوں کو شیطان اور ترک عثمانوں کو فرشتہ ثابت کرنا اور ان کو شیعہ عوام اور سنّی عوام کا نمائندہ بناکر پیش کیا جائے گا تو پھر آپ بالواسطہ تکفیری فاشسٹوں، مذہبی جنونیوں کا ایجنڈا ہی پورا کرنے میں ممد ومعاون ہوں گے اور تاریخ کی ایک فرقہ وارانہ تعبیر اور تشریح کے مرتکب ٹھہریں گے-اور ہندوستان کے اندر ہربنس مکھیا ، رومیلا تھاپر ، پروفیسر حبیب ، عرفان حبیب سمیت قرون وسطی کی ہندوستان کی تاریخ کو ہندؤ-مسلم فریم ورک سے ہٹ کر دیکھنے اور دکھانے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں اور ان کا کام اس قابل ہے کہ جو تاریخ کی فرقہ وارانہ تعبیرات کے پیچھے چھپی مذہبی جنونیت کو بے نقاب کرنے کے کام آتی ہے-مرے خیال میں عدنان کاکڑ کو اپنی تحقیق کا پیرا ڈائم ایسے بنانا چاہئے جس سے کسی کو پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور شیعہ کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا جواز نہ ملے،چاہے ان کا یہ مضمون لکھنے کا یہ مقصد نہ ہو لیکن آج کے حالات میں یہی مطلب نکالا جائے گا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s