پندرہواں خط

5030413_6_de85_2016-11-13-aadf65c-19746-66t125-l7zdj9k9_e2d5e14024af658db6ffb0881718ecee

،پیاری ساری

سردی بہت بڑھ گئی ہے، برفباری ہورہی ہے، اور ہاٹ کافی پاس دھری ہے، اور تمہیں یہ خط لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ مرے موبائل کی میسج ٹون بجی اور میں نے مسیج اوپن کیا تو مری اس دیار غیر میں بنی ایک نئی دوست روشنی نے مجھے میر تقی میر کی ایک غزل سینڈ کی ہوئی تھی،سوچا کہ اس سے تمہیں بھی لطف اٹھانے کو کہوں،

جور کیا کیا جفائیں کیا کیا ہیں

عاشقی میں بلائیں کیا کیا ہیں

خوب رو ہی فقط نہیں وہ شوخ

حسن کیا کیا ادائیں کیا کیا ہیں

فکر تعمیر دل کسو کو نہیں

ایسی ویسی بنائیں کیا کیا ہیں

گہ نسیم و صبا ہے گاہ سموم

اس چمن میں ہوائیں کیا کیا ہیں

شور ہے ترک شیخ کا لیکن

چپکے چپکے دعائیں کیا کیا ہیں

منظر دیدہ قصر دل اے میرؔ

شہر تن میں بھی جائیں کیا کیا ہیں

تمہیں پتا ہے کہ آج 13 نومبر ہے ، ٹھیک ایک سال پہلے یعنی 2016ء میں اسی دن نومبر میں داعش نامی ایک تکفیری فاشسٹ تنظیم نے پیرس کے چھے مختلف مقامات پہ ہلّہ بول دیا تھا اور اس میں 130 افراد مارے گئے تھے-آج یہاں پیرس میں رات 12 بجکر 30 منٹ پہ اس المناک دن کی یاد منانے کا سلسلہ شروع ہوا-سب سے پہلے وزیراعظم فرانس اور ان کی کابینہ کے دیگر لوگ اس جگہ پہ گئے جہاں پہ بہت سارے ریسٹورنٹ ، کیفے ہیں اور جہاں پہ پیرس کا تاریخی تھیٹر لی بٹاکلان ہے –یہ والتئئر سٹریٹ میں واقع ہے اور روشنی مجھے 11 بجکر 20 منٹ پہ لینے آگئی تھی-اس نے لی بٹاکلان تھیٹر کی ری اوپننگ پہ ہونے والے میوزک کنسرٹ کے دو ٹکٹ پہلے سے خرید لئے تھے-پیرس میں ایک سال سے ایمرجنسی نافذ ہے اور پیرس سمیت پورے فرانس میں ایسے افراد اور گروپوں کی تلاش جاری ہے جو ریڈیکل نظریات کو پھیلاتے، سنتے اور ریڈیکل ہوجانے کے قریب ہیں- ساری! فرانس والوں نے مسلم آبادی میں سے 13 فیصد ایسے افراد کو نشان زد کیا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ وہابی ازم کے شدت پسند پروپیگنڈے کو سنتے اور اس سے متاثر ہورہے ہیں-یہ کم تعداد نہیں ہے-پیرس کے اندر مسلم کل آبادی کا 15 فیصد جبکہ مجموعی طور پہ فرانس کی کل آبادی کا وہ سات اعشاریہ سات فیصد ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ فرانس میں ہر سو مسلمانوں میں سے 13 مسلمان ایسے ہیں جو سعودی فنڈڈ وہابی ازم سے متاثر ہیں

ساری! تمہیں یاد ہوگا کہ جب میں اور تم کراچی یونیورسٹی پہنچے تھے تو اس زمانے میں ہمیں ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ وہابی تکفیریت اور جہاد ازم کیا روپ دھارن کرلے گا-ہم ضیاء الحق ، ریگن ،تھیچر کو کوستے تھے اور اپنے ملک میں کلاشنکوف کلچر ، ہیروئن، فرقہ واریت کی بڑھتی ہوئی فضاء بارے بولتے تھے-ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ پیٹرو ڈالر یعنی سعودی اور گلف دولت ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ایک چھوٹے سے ملک کو ہی نہیں بلکہ طاقت کے بڑے مراکز کے اندر شدت پسندی کے ایسے مرکز تعمیر کردے گی کہ جن کو موسیقی ، پینٹنگ ، کلچر ، تھیڑ ، ڈرامہ ، کیفے ، ایکٹنگ  اور ہر نفیس شئے سے نفرت ہوگی، ان کا نشانہ مزار ، عجائب گھر ، آثار قدیمہ سبھی بن جائیں گے-مجھے یقین نہیں ہوتا کہ ابھی کل ہی وہاں پاکستان میں بلوچستان کے اندر ایک انتہائی دور افتادہ علاقے میں حضرت شاہ بلاول نورانی کے مزار پہ خودکش حملے میں 70 افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں-ابھی تو ٹھیک سے یہ پتا نہیں چل سکا کہ کتنے مرد ، کتنی عورتیں اور کتنے بچے اس خودکش میں ماریں گئے ہیں-اور تمہیں بتاؤں کہ مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ اتنا بڑا واقعہ ہوا وہاں بلوچستان میں اور اس پہ بھی وہاں کی فوجی اور سیاسی قیادت دونوں نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر پہ پورٹ پہ چینی سامان کو بھجوانے کے ایک پائلٹ پروجیکٹ کی تقریب منسوخ کرنے یا اسے انتہائی سادگی سے سرانجام دینے بارے نہیں سوچا گیا-بلکہ وہاں تقریب میں رقص و سرود کی محفل کا اہتمام بھی کیا گیا اور قہقہے لگاتے چیف آرمی سٹاف ، وزیر اعظم ، بیوروکریٹس ، اور مولوی بشمول فضل الرحمان نظر آئے-پیرس میں جب 130 افراد ہلاک ہوئے تو فرانس کی حکومت نے اپنے سارے فارن وزٹ منسوخ کئے ۔ ایمرجنسی کا اعلان کیا-اور اسی وقت حکومت کا ایک بڑا اجلاس منعقد کیا گیا- ہالنڈے نے اعلان کیا کہ فرانس حالت جنگ میں ہے-فرانسیسی پرچم سرنگوں کردیا گیا-سوگ کا اعلان ہوا-مگر وہاں بلوچستان میں ہوئے اس واقعہ پہ کیا ہوا؟یہ سوچ کر ہی مجھے بے حد خوف آتا ہے-میں اور روشنی جب والتیئر اسٹریٹ پہنچے تو وہاں ایک بڑی یادگاری پلیٹ چسپاں کردی گئی تھی اور ٹھیک 12 بجکر 30 منٹ پہ اس یادگاری پلیٹ کا افتتاح کیا گیا-130 رنگ برنگ غبارے ہوا میں چھوڑے گئے اور دہشت گردی کا ایک متاثرہ آگے بڑھا اور اس نے کہا،” وہ چاہتے ہیں ہم تقسیم ہوں، یک نوعی ہوجائیں، تکثریت پہ ایمان کھودیں، نہیں ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے” ساری! یہ تکثریت ہی مغرب کی رنگا رنگی کی جان ہے-اور یہ ہماری تہذیب و ثقافت کا جوہر بھی ہے جسے وہابی ازم سے ہم آہنگ ریڈیکل دیوبندی ازم اور سلفی ازم ملکر پورے جنوبی ایشیا سے اسی طرح سے مٹانے کی کوشش کررہا ہے جیسے یہ مغرب کے اندر یہ کوششیں کررہا ہے-مطلب یہ کہ اسے یہ پسند نہیں ہے کہ یہاں عاشور منایا جائے، وہاں کرسمس ہو، اس جگہ میلاد کا جلوس ہو تو وہاں دوسری جگہ بیساکھی ، ہولی ، دیوالی منائی جارہی ہو، ادھر میلہ چراغاں ہو تو وہاں پیر چنن کا میلہ ہو- آپ شیعہ، وہ بریلوی ، یہ کرسچن، وہ ہندؤ، یہ احمدی ، وہ اسماعیلی،وہ بوھری، یہ کچھ بھی نہیں محض لاادری ، وہ ملحد ، پھر وہ پنجابی ، یہ سرائیکی ، وہ ہندکو ، یہ بلوچ ، وہ پشتون، یہ ہزارہ ، وہ بلتی ، یہ گلگتی ، وہ کشمیری سب اپنی شناختوں کے ساتھ ایک جگہ پہ اپنی مرضی سے زندگی گزاریں-یہ تکفیری فاشزم کو ذرا پسند نہیں ہے-ہماری ریاست اور اس کے ادارے بھی تکثریت سے نفرت کرتے ہیں-ان کو نسلی اور مذہبی شناختوں کی کثرت سے نفرت ہے، اسی لئے ان کے سٹریٹجک اثاثے بھی شناختوں کی تکثریت کے ازلی دشمن ہیں-میں اسی لئے وہاں سے بھاگ آیا تھا-اور تمہیں بھی اس لئے کہتا رہتا ہوں کہ چھوڑو اس ملک کو جہاں کے جرنیل اور سیاست دانوں کی اکثریت ریاض سے ہدایات لیتی ہے اور اپنے لوگوں کو مروانے کے لئے ملک اسحاق جیسے عفریت پالتی رہتی ہے-اسے یہ عفریت بھی جیتے جاگتے انسان نہیں لگتے، ربورٹ ہیں یہ ان کے لئے، جس کا چلن خراب ہوا،اسے منٹوں میں توڑ پھوڑ دیتے ہیں مگر اس سے پہلے وہ کئی معصوم لوگوں کی جان لے لیتا ہے- تکفیری فاشزم ایک جنون، پاگل پن ، اور  ہسٹریائی کیفتوں کی پیدائش کا نام ہے-یہ سب سے پہلے انتہائی بدمعاش قسم کی ابنارملٹی کو جنم دیتا ہے-یہ اپنے دشمن تخلیق کرتا ہے-ان کو عفریتوں میں ڈھال لیتا ہے-تمہیں کیا لگتا ہے کہ یہ جو دھمال ڈالتی عورتوں ، گریہ و ماتم کرنے والیوں ، کرسمس کے گیت گانے والیوں اور پارک میں خوش گپیوں میں مصروف عورتوں ، بچوں اور نوجوانوں میں جاکر پھٹتے ہیں تو کیا یہ ان کی صورتیں دیکھ پارہے ہوتے ہیں جیسی وہ ہمیں نظر آرہی ہوتی ہیں-نہیں بلکہ وہ سب کی سب صورتیں ویسی ہوتی ہیں جیسی ان کے مربی ان کو دکھاتےہیں-اورنگ زیب فاروقی نام کا ملّا جب یہ کہتا ہے کہ وہ بچے بچے میں اتنی نفرت بھردے گا کہ کوئی شیعہ سے ہاتھ ملانا پسند نہیں کرے گا تو وہ اسی ہسٹریائی،جنونی کیفیت کو داخل کرنے کی بات کرتا ہے جو معصوم بچوں کو اور عورتوں کو ان کی مذہبی شناخت کے سبب ان کو شیطان کی صورت دکھاتی ہے-ایسے جنونی ، ہسٹریائی  اور شیزوفرینک لوگوں کو تو پاگل خانے کے انتہائی حساس وارڈ میں رکھے جانے کی ضرورت ہے- ساری! یہ حافظ سعید ، لدھیانوی، طارق جمیل ، اورنگ زیب فاروقی ، خادم رضوی  اور ان جیسے اور ملّا ان سب کو تو مہذب معاشروں میں پاگل خانوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کی ٹریٹ منٹ ہوتی ہے-ان کی سائیکو تھراپی کی جاتی ہے-لیکن ہماری ریاست ان کو اپنی حفاظت میں لیکر ان کو پورے معاشرے کو پاگل خانے میں بدلنے کی کوشش کررہی ہے-تمہیں حیرت نہیں ہوتی کہ پاکستان آرمی نے سوات اور فاٹا میں اصلاح پسند سنٹر بنائے جو نوجوانوں کو ” کارآمد شہری ” بنانے کا کام کررہے ہیں-لیکن یہ وہ مرکز ہیں جہاں بس یہ کہا جاتا ہے کہ جہاد ، تبلیغ ، اور اعلائے کلمۃ الحق یہ سب فوج پہ نہ آزماؤ باقی سب خیر ہے-اچھے پاگل پن اور اچھے ہسٹریا پہ مبنی تکفیریت لیکر آؤ، یعنی مذہبی جنونیت، پاگل پن، فسطائیت بذات خود برے نہیں ان کی کچھ اشکال ہیں جن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے-یہ پاگل پن اسقدر گہرا ہوتا جاتا ہے کہ یہاں لبرل اور کچھ مارکسسٹ بھی شیعہ اور بریلویوں کے کلچر پہ تکفیری ڈسکورس رکھتے ہیں اور بالواسطہ ان سے نفرت کا جواز فراہم کرتے ہیں-میں پیرس کی اس معروف والٹئیر اسٹریٹ میں روشنی کے ساتھ گھوم رہا تھا اور یہ سب سوچ رہا تھا-فرانس والے اپنے تھیڑ، کھیل کے میدان، میوزک، ڈرامے، کلچر کو بچانے کی سعی کررہے ہیں-وہ اپنے کلچر کے تنوع اور تکثریت کو بہت عزیز رکھتے ہیں لیکن یہاں وہابی ازم، جہاد ازم، تکفیرییت کے مقابل ایک ردعمل سامنے آیا ہے جس کو یہاں ” اسلامو فوبیا ” کہا جاتا ہے-اور لی پین اس کی سب سے بڑی علامت ہے اور تم اسے فاشزم کے مقابلے میں فاشزم کا جنم کہہ سکتی ہو-مغرب کے لبرل نے سعودی عرب اور اس کی وہابیت کو بہت عرصہ پالا پوسا ہے اور اس ہسٹریا کو انہوں نے پوری دنیا میں پھیل جانے کی اجازت دی ہے-اب یہ ہسٹریا ان کے شہروں میں دستک دے رہا ہے تو یہاں ایسے لوگ پیدا ہوگئے ہیں جو تنوع اور تکثریت کی تعریف میں مسلم کو نکال باہر کرنا چاہتے ہیں چاہے وہ مرے جیسا کمیونسٹ کیوں نہ ہو، کوئی صوفی مشرف ہو ، کوئی اپنے دکھوں اور غموں میں گھرا شیعہ کیوں نہ ہو۔ یہ ایک اور طرح کی ہسٹریائی کیفیت ہے جو بہرحال ردعمل اسی تکفیری فاشزم کا ہے-فرانسیسی ادیب آندرے ژید کو یہ دنیا ایک جہنم لگتی تھی تو ٹھیک ہی لگتی تھی-ویسے یہان جہنم آتش فشاں نہیں بلکہ انتہائی سرد ہوتا ہے ، ایسی سردی جو ہڈیوں سے ہوتی ہوئی روح میں سرایت کرتی ہے اور اسی لئے یہاں الکوحل جان بچانے والی لگتی ہے-اور روشنی بھی بھاگ کر اپنے لئے ایک جھوٹی بوتل سکاچ کی لائی ہے اور مرے لئے ہاٹ بلیک کافی کیونکہ جانتی ہے کہ ان دنوں میں تمہارے تصور کی مئے سے سرور لیتا ہوں اور مست رہتا ہوں

فقط تمہارا

ع-ح

 

 

Advertisements

One thought on “پندرہواں خط

  1. اب عامر صاحب اس پہ آپ کو کیا داد دی جائے کہ داد کے الفاظ چھوٹے ہوں گے اور آپ کی سچائی اور تخئیل اُس سے کہیں بُلند ،،،

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s