سولہواں خط

art

پیاری ساری

شکر ہے مرے گزشتہ خط کے بعد تم نے مجھ سے کم از کم فیس بک کے میسنجر کے زریعے سے رابطہ بحال کرلیا-اور مرے دل کو کچھ آرام آگیا-تم نے بتایا کہ کل تم نے اس پاگل صحافی کی فیس بک پہ اپ لوڈ کی گئی شاہ نورانی درگاہ پہ پھیلے خون اور گوشت ، جوتیوں ، کپڑوں میں بکھرگئی زندگی کی ويڈیو دیکھ لی اور یہ سب ناشتے کے فوری بعد تم نے دیکھا تو تمہیں الٹی ہوگئی –اور تم نے اس مجنون صحافی کو انباکس میں پیغام بھیجا کہ اب کبھی اس کی دیوار گریہ پہ نہیں جاؤ گی کیونکہ وہ بہت ظالم ہے-تمہیں پتا ہے اس رات کے آخری پہر اس نے سکائپ پہ مجھ سے رابطہ کیا-اور مجھے دکھایا کہ وہ بلوچستان کی کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں درگاہ شاہ نورانی سے تھوڑے فاصلے پہ ایک ٹوٹے پھوٹے راستے پہ پہاڑوں کے درمیان ہائی روف میں بیٹھا ہوا ہے-کہنے لگا کہ یار ! اپنی ساری کے نام کوئی خط لکھ ڈالو اور پھر ہمیں بھی اسے پڑھنے کا موقعہ دو-مجھے اس پہ ترس آگیا جو اپنے اردگرد پھیلی سفاک اور خون آشام حقیقت سے زرا دیر کو فرار چاہتا تھا-لیکن یار! تمہیں کیا بتاؤں،جب میں وہ خط لکھنے بیٹھا تو بہت مشکل سے آخر میں رومان پرور ایک جملہ لکھ پایا-باقی سارا خط تو اس پاگل پن کی تشریح کرتے ہوئے بھرگیا جس نے زندگی کو جہنم بنارکھا ہے-

کل مجھے بڑی ہنسی آئی جب تم نے جل کے کہا ” اچھا ہم دیکھ تو رہے ہیں نا کیا آنکھوں میں اسے گھسانا ضروری ہے”-واقعی یہ پاگل سا صحافی کچھ مرے جیسا ہی ہے ،یہ زبردستی سفاک حقیقت کو آنکھوں میں گھسانا چاہتا ہے-لوگوں کوجھنجھوڑنا چاہتا ہے-میں تو تمہیں خط لکھ کر اپنا کتھارسس کرلیتا ہوں یا پھر کوئی کہانی گھڑنے بیٹھ جاتا ہوں-مجھے اچھی طرح سے پتا ہے کہ پاکستان کے اندر کس قدر بے حسی اور لاتعلقی پائی جاتی ہے-یہاں تو لوگ اپنے محبوب کو آخری خط لکھ کر یہ بتاتے ہیں کہ ان کو اور بڑے کام کرنے ہیں ،اس لئے ان کی محبت میں گھلے جانا ان کے لئے ممکن نہیں ہیں-اور اس سب کے لئے وہ زمانے کی تیز رفتاری کا بہانہ کرتے ہیں-لیکن وہ جس سماج میں رہ رہے ہیں اس نے ابھی صنعت کاری کی وہ تیزی تو دیکھی ہی نہیں جس کا سامنا میلان کنڈیرا ، کافکا ، گابو مارکیز ، بورخسیس وغیرہ کو تھا-لیکن وہ پھر بھی فل ٹائم محبت میں غرق تھے اور بڑے شہ پارے تخلیق کررہے تھے-ان کے ہاں آخری خط لکھنے کی نوبت نہیں آئی تھی-اور تم ٹھیک کہتی ہو اس پاگل صحافی نے ایک خودغرضی اور فرار پہ مبنی “محبوب کے نام پہلا اور آخری خط ” کو حیرت انگیز، چارمنگ اور مہبوت کردینے والا قرار دیکر زیادتی کی-میں اسی بے حسی ،لاتعلقی سے خوفزدہ ہوکر بھاگ آیا تھا

ساری! میں ایک مہاجر خاندان کی اولاد ہوں، جس کے پاس نہ تو شناخت ہے اور نہ ہی کوئی ثقافتی ورثہ ،اور نہ ہی دھرتی سے جڑی کوئی زبان،اور ایسی بے جڑ شناخت اگر اسے کوئی شناخت کہا جاسکے کے ساتھ جو “برہا ” آکر جڑتی ہے ،اس کی پکڑ پاکستان جیسے بے حس معاشروں میں آپ کو نہ جینے دیتی ہے اور مرنے دیتی ہے-اور دوستوں کی منڈلی یہاں اپنے اختلاف کے ساتھ جوڑے رکھنا بہت مشکل ہوتی ہے-یہاں سب اپنے اندر بند ہیں اور اپنے اندر بند ہونے میں عافیت سمجھی جاتی ہے-اور اس پاگل صحافی کا المیہ بھی یہی ہے-اگر کبھی موقعہ ملے تو ایک زندان کا قیدی “حیدر جاوید سید ” ہے جو اس پاگل صحافی کا دوست ہے، اس کی کتاب ہے “دل و جان کی بستیاں ” جو اس نےقید خانے میں بیٹھ کر لکھی تھی-یہ خطوط ہیں اس کی محبوبہ کے نام-کہیں سے مل جائیں تو پڑھنا-اور فیض صاحب کے “صلیبیں مرے دریچے ” میں-تمہیں پتا چلے گا کہ سچ کہنے سے ایک صلیب وہ ہے جو آپ کو مصلوب کرتی ہے ان رشتوں کے ساتھ جن میں آپ کا جی اٹکا ہوتا ہے اور تم کو جب میں نے کہا تھا کہ چلو اگلے سال نجف اشرف چلتے ہیں اور وہاں صحن میں بیٹھ کر نہج البلاغہ کھول کر اس تنہائی کو باہر نکالتے ہیں جو “اجتماعی فقروں ” کے پیچھے چھپی ہوئی ہے اور اس درد کو باہر نکال کر لاتے ہیں جو اس کتاب میں جابجا بکھرا ہوا ہے-میں نے ایک بار شریف رضی کو خواب میں دیکھا کہ اس کی اںگلیوں سے تنہائی سیال ہوکر ٹپک رہی تھی اور آنکھوں میں اداسی کا سمندر پھیلا ہوا تھا جبکہ اس کے گالوں پہ آنسوؤں کی سیاہی جمی ہوئی تھی اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے تو اس نے کہا تھا یہ سب اس کتاب “نہج البلاغہ ” کو لکھنے سے ہوا تھا-تو وہ ویڈیو دیکھ کر تمہیں الٹی ہوگئی اور زرا سوچو اس پاگل صحافی کے ساتھ کیا ہوا ہوگا جو ایسے مناظر کو بار بار دیکھتا ہے-وہ اس درد کو ایک بار ہی “قے ” کی صورت باہر الٹانے سے کہیں بہت دور چلاگیا ہے-اور لکھت کار ایسے ہی ہوتے ہیں-تم فیس بک پہ اس جیسے کئی پاگلوں کی گلیوں کو دیکھ سکتی ہو جنھوں نے اپنی اپنی دیوار ہائے گریہ پہ ایک شور مچا رکھا ہے-ایک کے بعد ایک سٹیٹس اور وہ تمہیں ایسا لگے کا جیسے کسی کو ہاتھ پکڑ کر کسی سکتے جیسی کیفیت سے باہر لانے کی کوشش کررہے ہوں-بلوچ لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھو، کیسے خوبصورت، ملیح چہرے ہیں،بعض چادر میں لپٹی اور پورا چہرہ چھپائے بس ان کی خوبصورت غزال آنکھیں ہی نظر آتی ہیں جن میں ڈوب جانے کو کس کا نہ جی چاہے، مگر ان کی دیوار دیکھو، آنسؤوں، نوحوں، خون آلود چہروں اور لوتھڑوں سے بھری ہیں-وہ کوئی رومان سے بھرے خط نہیں لکھتے ، بلکہ ماتم کرتے اور آہ و فغاں کرتے نظر آتی ہیں،اور تمہیں پتا ہے کہ یہ سب کیا ہے؟ہمیں یہ احساس دلانے کی ایک ناکام سی کوشش ہے کہ یہاں کچھ بھی نارمل نہیں ہے-یہاں ابنارملٹی جنون کی حد کو پہنچ چکی ہے-میں تو یہاں اس آگ میں جلنے سے خود کو بچا نہیں پارہا، سوچو جو وہاں تمہارے اس جہنم میں ہے وہ کیسے جنت کی راحت کا احساس کرسکے گا،اس پاگل صحافی کا ، اس مرشد سید کا یہی المیہ ہے،میں تو تھوڑا سا کٹھور واقع ہوا ہوں کہ یہاں اس کافی ہاؤس میں بیٹھ کر تمہارے رومان سے اپنا دل بہلا رہا ہوں-اور تم سے اظہار محبت کئے جارہا ہوں-اور ایک “ملحد کی نماز ” ہے جسے پڑھے جارہا ہوں

اور کل مستجاب رام آسٹن –م-ر-ا مرے فلیٹ میں آیا تھا-مجھے دیکھ کر مسکرارہا تھا-کہتا تھا کہ آج کل اپنی بھانجیوں کو اسلامیات پڑھانے کا کام کررہا ہے-میں یہ سنکر ہنس پڑا، اس نے ایک قصّہ اسی سے متعلق سنایا ، تم بھی سن لو،

“بچے سوال جواب کر رهے تھے جنرل،  فاطمہ اور زهرا، پوچھ،ماموں! کسی کو پریشان نهیں کرنا چاهئے نا اور نہ هی رلانا چاهئے،

میں نے بولا جی بیٹا بالکل بھی نهیں رلانا چاهئے،

اور گندے کام بهی نهیں کرنے چاهیئے ؟ ورنہ دل پہ بلیک ڈاٹ بن جاتا هے ⚫

“جی بیٹا اور جو لوگ زیادہ گندے کام کرتے هیں ایک دن ان کا سارا دل بلیک هو جاتا هے” 😑

سارا دل بلیک؟ ؟ بالکل خانہ کعبہ جیسا ماموں؟؟

 😱

کہنے لگا ،اب تم ہی بتاؤ! کیسے اسلامیات پڑھاؤں ان بچوں کو

مجھے “ملحد کی نماز ” سے یاد آیا کہ یہاں کسی زمانے میں ایک فرانسیسی ادیب آندرے ژید رہا کرتا تھا-مجھے مرے ایک دوست نے کسی زمانے میں اس کا ایک ناول ” اتھیسٹ ز ماس ” یعنی ملحد کی نماز پڑھنے کو دیا تھا-اور یہ ناول پڑھنے کے بعد میں کبھی چین سے نہیں رہ سکا تھا-کل جب تم فیس بک میسنجر میں یہ کہہ رہی تھیں نا کہ تمہارے پاس کچھ اور نہیں ہے کہنے کو وہاں پیرس میں ایفل ٹاور کی روشنیوں بارے لکھ بھیجو ، یہ لی پین بارے کیوں لکھ رہے ہو اور وہاں بھی تمہیں خون اور بارود ہی کیوں ياد آرہے ہیں تو مجھے یہ آندرے ژید یاد آرہا تھا-دیکھو میں اس زمانے میں زندہ ہوں جس میں کم از کم مرے سماج میں کوئی ایسا لکھت کار نہیں رہا ہے جسے میں ” گریٹ آتھر ،،،، عظیم ادیب ” کہہ سکوں ، اور یقین کرو وہ پاگل صحافی اور یہ اس کی دیوار کی ہمسایہ دیواریں جیسے پیجا مستری ، ریاض ملک ، حیدر جاوید سید ،عبدالقادر ، سید زیدی ، اصغر زیدی ، اسماء اعوان اور دیگر دیواریں یہ سب ” عظیم لکھت کاروں کی پرچھائیوں میں گھری دیواریں ہیں جن پہ دنیا کے بڑے لکھت کاروں کی لکھتوں کا سایہ پڑتا ہے-اور میں ان کو سایہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اس پرآشوب دور میں اپنے آپ کو جانور میں بدلنے سے بچانے کی پوری کوشش کررہے ہیں-اور مجھے لگتا ہے کہ انہوں نے کہیں آندرے ژید کا قول پڑھ لیا ہے

آندرے ژید نے کہا تھا

“Great authors are admirable in this respect: in every generation they make for disagreement. Through them we become aware of our differences.”

ساری یہ چیزوں کو نارمل دکھانے کا وقت نہیں ہے، ہم آہنگی کو مصنوعی طور پہ موجود دکھانے کا وقت نہیں ہے اور بڑے ادیبوں کی پرچھائیاں بنے یہ سب لوگ اور اپنی نسل کے اندر ابنارملٹی کے وجود کا انکار کرنے کی بجائے اسے موجود دکھارہے ہیں تو تمہیں اس پہ غصّے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے-میں تمہیں بتاؤں کہ وہاں قبروں اور سمادھیوں میں پڑے غالب،منٹو ، گاندھی ،امبیدکر ، سبھاش چندر بوس ،بھگت سنگھ کو بھی چیزیں نارمل نہیں لگ رہی ہیں-اور اگر اس کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت ہو تو بنگالی مصنف رابی شنکر بال کا ناول “دوزخ نامہ ” پڑھ لو ،جو آج کل میں پڑھ رہا ہوں جس میں منٹو اور غالب اپنی قبروں میں ایک دوسرے کو اپنی کتھا میں بھی ابنارملٹی کے پائے جانے کا تذکرہ کررہے ہیں جس سے روحیں شانت ہونے کی بجائے اور بے چین ہوتی جارہی ہیں

فقط تمہارا

ع-ح

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s