سترہواں خط

u14916250

 

 

 

پیاری ساری

کل پاکستان سے مجھے بیک وقت دو خط موصول ہوئے، ایک خط تو کسی نے اپنے محبوب کو پہلے اور آخری خط کے طور پہ لکھا تھا اور دوسرا خط کسی نے خود کو جھلی بتلاکر اپنی کسی سہیلی کو لکھا تھا-یہ دونوں خط غلطی سے مجھے کیوں مل گئے اس کا مجھے پتا نہیں چل سکا-کیونکہ دونوں خطوں پہ ایڈریس تو مرا نہیں ہے-اور کل جب میں نے یہاں پوسٹ آفس رابطہ کیا تو انھوں نے مجھے یہ کہہ کر حیران کردیا کہ یہ دونوں خطوط تو ان کے عملے نے آپ کو نہیں بھیجے نہ ہی ان کو یہ موصول ہوئے،اب مرے لئے مشکل یہ ہے کہ ایک تو ان خطوط پہ نہ تو بھیجنے والوں کا پتہ درج ہے اور نہ ہی مکتوب جن کو لکھے گئے ان کا پتا مکمل درج ہے-اب نجانے کتنے ہی وہاں پاکستان میں محبوب ہوں گے،اور کتنی سہلیاں ان کی خط لکھنے والی سہلیاں جھلی ہوں گی-ویسے سرائیکی کے ایک معروف گلوکار عطاء اللہ عیسی خیلوی کو تم جانتی ہی ہوں گی-جن کا گایا ہوا ایک گیت بڑا ہی مشہور ہوا تھا-جاہ جاہ تے کیتا ای رولا،وے ڈھولا سیانا تھیويں ہا ۔۔۔۔۔۔ “جھلی نے اپنی سہیلی کو خط لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک صاحب ہیں جو اپنی “ساری” کے نام خط لکھتے رہتے ہیں” مجھے اس بات سے شبہ ہوا کہ ہمارے خطوط کی نقول کہیں اور بھی جارہی ہیں-میں جانتا ہوں کہ تمہیں اور مجھے اس سے کوئی مسئلہ پیدا ہونے والا نہیں ہے-خیر ان باتوں کو چھوڑو، مری ایک فیس بک فرینڈ ہے ث-ب ،اس نے کل یہ “خط گردی ” کو “آبسیسو کمپلشن ڈس آڈر” قرار دے ڈالا-مجھے اس اختراع نے ہی خاصا محظوظ کیا-تمہیں یاد ہے کہ میں نے جب منوڑا میں اس بلوچ بستی میں تمہیں بتایا اس اداسی کے بارے میں بتایا تھا جو تم سے “تعلق” کے بعد مری ہستی سے چمٹ گئی تھی تو تم نے کہا تھا کہ یہ دانش کی تیسری آنکھ کے کھل جانے کی علامت ہے-فیودر دستوفسکی نے اپنے ناول کراما ‘زوف برادرز ‘میں کہیں ایک جملہ لکھا تھا ” محبت ایک ایسی شئے کہ تم اس کے ساتھ بنا کسی مسرت کے رہ سکتے ہو ” اور اس نے “لارج انٹیلی جنس اور ڈیپ ہارٹ ” یعنی “بڑی دانائی (غالبا دانش کی تیسری آنکھ ) اور ڈونگے دل ” کے ساتھ رہنے والوں کے لئے ” سفرنگ اور پین ” یعنی دکھ اور تکلیف ” کے ہونے کو لازم بتلایا تھا اور اسی لئے اس کے خیال میں اس زمین پہ درد اور اداسی بہت ہے

ساری! جب کبھی تم سے چیٹ ہوتی ہے تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ تم ” فول ز پیرڈائز ” مانیا کا شکار ہوگئی ہو اور بار بار مجھے نارمل رہنے کی تلقین کرتی رہتی ہو-اور کہتی ہو کہ میں ” ورسٹ ، اور ان ہیپی ” کیوں رہتا ہوں؟ بلکہ تم ہی کیا، وہاں پاکستان سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ اب حقیقت سے آنکھیں چرانے والے لگتے ہیں-وہ سو دن بھی مستقل ایک خوفناک اور بدترین سچ سے آنکھیں چار کرنا نہیں چاہتے-ایک واقعہ ہوتا ہے، اس پہ خوب روتے، چیختے ، چلاتے اور اپنی پروفائل فوٹو کو بلیک کرتے ہیں لیکن کچھ دیر بعد پھر ” نارمل ” ہونے کی ایکٹنگ شروع کردیتے ہیں-کتنے بھونڈے لگ رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ سب-یاد کرو تم نے ہی مجھے بتایا تھا کہ روس کا سب سے بڑا انقلابی ولادیمر لینن بہت ہی خوش مزاج نوجوان تھا اور وہ ایک وکیل بننے کے خواب دیکھ رہا تھا جب اچانک اس کا بھائی گرفتار ہوا اور پتا یہ چلا کہ وہ روس کی ایک انقلابی تنظیم سوشلسٹ ریولوشنری ڈیموکریٹک پارٹی کا رکن تھا جو کہ انفرادی دہشت گردی کے ہتھیار سے زار شاہی کو گرانا چاہتی تھی اور اس نے زار بادشاہ کو قتل کرنے میں کامیابی بھی حاصل کرلی تھی-لینن کا بھائی پھانسی چڑھ گیا اور لینن بھی اس پھانسی کے بعد خود بھی نردونک خیالات سے متاثر ہوا لیکن پھر اسے سمجھ آگئی کہ انفرادی دہشت گردی سے سماج کے مظلوموں اور محکوموں کو نجات نہیں دلائی جاسکتی-لیکن تم نے یہ بھی تو مجھے بتایا تھا کہ اس کے بعد لینن کبھی نارمل زندگی گزار نہیں پایا، حالانکہ مری طرح اس کی محبتوں کا مرکز بھی ایک ذات تھی “کروپسکایا ” ۔۔۔۔ ساری! مارکس کی محبتوں اور بلکہ اس کی ساری زندگی کا مرکز  ” جینی ” تھی پھر بھی جب وہ ” غم حیات ” سے روشناس ہوا تو ویسی رومانوی نظمیں کبھی لکھی نہ جاسکیں جو اس نے اپنی نوجوانی میں “جینی ” کے نام لکھی تھیں-حال ہی میں روزالکسمبرگ کے نام ایک اس کے کامریڈ ساتھی کے لکھے گئے خط سامنے آئے ہیں جو اس کے اظہارمحبت سے لبریز ہیں لیکن ان خطوں میں بار بار روزلکسمبرگ سے شکوہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے دل کا حال بتانے سے زیادہ اردگرد جو ہورہا ہے اس پہ فوکس رکھتی ہے-ہمارے ہاں فیض صاحب نے بھی تو ” مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نا مانگ ” لکھی تھی-ساری! یہ ساری باتیں تم سے کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں خود کو ان جیسا جیئنس یا ان جیسا بڑا دماغ خیال کرتا ہوں، یا مجھے کسی طرح سے ایک نابغہ ہونے کا آسیب چمٹ چکا ہے-لیکن کیا اداسی ، تنہائی ، محبت ، دکھ اور سفرنگ کی وہ سطحیں جن کا تذکرہ ہمیں بڑے آدمیوں کے ہاں دیکھتے ہیں ایک مجھ سے عام آدمی کے ہاں نہیں ہوسکتیں-تم کہہ سکتی ہو یہ اتنی “آرٹیکولیٹ ” نہیں ہیں ، اتنی ڈونگی نہیں ہیں جتنی ان بڑے نابغہ کے ہاں پائی جاتی ہیں مگر مجھ جیسوں کے ہاں موجود تو ہیں نا-ادیبوں کا ایک مسئلہ تو یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر ان کے پاس ‘کہنے اور لکھنے کو کوئی کہانی نہیں ہے تو پھر جینے کا جواز کیا رہ جاتا ہے ” بال شنکر کا ناول “دوزخ نامہ پڑھتے ہوئے ، منٹو یہ کہتا پایا گیا،” تاریخ لکھنے کے لئے محض “یاد کرنا ” کافی ہوتا ہے لیکن کہانی لکھنے کے لئے تخلیق کرنا لازم ہوتا ہے اور کرداروں کے ساتھ جینا پڑتا ہے “لیکن مجھے لگتا ہے کہ مظلوموں اور مقتولوں کی تاریخ رقم کرنے کے لئے بھی لکھنے والے کا کہانی کار ہونا ضروری ہوتا ہے اور اسی لئے جب کبھی مظلوم خود اپنی تاریخ لکھنے بیٹھتے ہیں تو بار بار وہ خود کو اس کہانی کا ایک کردار کرلیتے ہیں اور تاریخ ایک بڑی متھ اور اسطور کی طرح سامنے آتی ہے اور اس میں بار بار دوھرائے جانے اور کئے جانے کا “کمپلشن ڈس آڈر ” پایا جاتا ہے-آسیب زدگی اور ایک طرح کے پاگل پن کے بغیر یہ سب لکھا جانا ممکن نہیں ہوتا-منٹو نے ایک مرتبہ اپنی بیوی صفیہ بیگم کو کہا، ” میں غالب بنکر غالب کا کردار تخلیق کرنا چاہتا ہوں ” تو اس کی بیگم نے جھٹ کہا، ” تم کبھی منٹو بھی بن جاؤ ، ہمیشہ دوسرے کردار ہی اپنے اوپر طاری رکھتے ہو اور ان کہانیوں اور ان کے کرداروں نے تمہیں دیا ہی کیا ہے، اس سے بہتر ہے کوئی دکان کھول لو”تو منٹو نے اس سے کہا ” اور اس دکان کا کیا، جو مرے دماغ میں سجی ہوئی ہے “-میں جب خانیوال میں رہتا تھا تو مرے پڑوس میں ملتان تھا ، پرانے شجاع آباد روڑ پہ ایک گلی میں ایک سرائیکی شاعر رفعت عباس کا گھر تھا-میں جب کالم کار بنے بغیر ان کو ملا کرتا تھا تو انہوں نے مجھے اپنی نظموں کی ایک کتاب ” بھوندی بھوئیں تے ” یعنی گھومتی زمین پہ ” دی تھی اور پھر  ایک ” ایپک نظم ۔۔۔۔۔ پروبھرے ایک شہر اچوں ” –یہ شاعر دربار میں ” نقلی ” جسے ہم بھانڈ یا جوکر کہتے ہیں یا وقتی باز کے کردار کو ایسے پینٹ کرتا تھا کہ اسی نے قتلام، قبضہ گیری اور لوٹ کھسوٹ میں گم ہوجانے والی نسلوں کو ہماری یادداشت سے محو نہ ہونے دیا اور وہی ہر وقت ہمیں کئی کرداروں میں گم نظر آتا ہے اور اس کی اپنی شخصیت کہیں گم ہوجاتی ہے، حاکموں کے بیانیہ کے مدمقابل اپنا بیانیہ تخلیق کرنے والا،تمہیں معلوم ہے کہ آج کے زور آوروں اور خودکش بھیجنے والوں کو ابو مخنف، قیس ہلالی ، نصر بن مزاحم ، میثم تمار جیسوں پہ سخت غصّہ کیوں آتا ہے؟انہوں نے تاریخ کو ایک سپاٹ بیانیہ رہنے نہیں دیا اور نہ ہی کرداروں کو مرنے دیا-انہوں نے “فاطمہ ،علی ، حسن ،حسین، زینب ” جیسے کرداروں کو “تھا ” کی بجائے ” ہے” کے بیانیہ میں بدلا اور آج بھی یہ “ہے” ہی سب سے زیادہ تکلیف دیتا ہے اور سماجی بغاوت کے غیر مختتم کردار کو ایک مختتم ،جامد، رک جانے والی تعریف میں بند نہیں ہونے دیا-انہوں نے درباری و سرکاری تاریخی بیانیہ کے سٹیٹس کو کو چیلنج کیا اور اسے ایک آرٹ میں بدل ڈالا-اب جو جو اس آرٹ سے آشنا ہوتا ہے بہت اداس رہتا ہے اور بہت تنہا رہتا ہے

ساری! مری تم سے محبت کوئی ایسی چيز نہیں ہے کہ جس کی میں کوئی ایک مختتم تعریف کردوں، یہ خدوخال پہ بھی منحصر نہیں ہے ، لیکن اس سے باہر بھی نہیں ہے-لیکن یہ محبت اس مرے زمان و مکان کی ٹھوس حقیقتوں پہ پردہ ڈال دینے والی بھی نہیں ہے-پہلے تم صبح آٹھ بجے تیار ہوکر یونیورسٹی جاتی تھیں اور پھر شام کو لوٹ کر آتی تھیں، اس دوران تم سے ملنے کے  کئی بہانے تھے ، اب صبح جاتی ہو، ساڑھے سات واپس لوٹتی ہو، اس دوران کئی بار آن لائن ہوتی ہو، مجھ سے اچھے وہ کولیگ ہیں جو تمہیں روز دیکھتے ہیں، مگر ان کو کیا معلوم وہ کسے دیکھتے ہیں،اور گھر آکر پھر کبھی شاذ و نادر ہی مرا پیغام پڑھتی ہو،تمہیں میر کی طرح آرام طلب کہنے کو من نہیں ہے اور نا تم آرام طلب ہو، سہل پسند بھی نہیں ہو، تمہاری آنکھوں پہ لگے نظر کے چشمے کے اس پار سے جھانکتی تمہاری جھیل جیسی آنکھوں میں سچی بات ہے اتنی وحشت ہے کہ ڈوب جانے کو بھی دل نہیں کرتا-یہاں پیرس میں بیٹھ کر آنکھیں بند کرکے تمہیں جب بھی دیکھتا ہوں تو ایک کمان پہ تیر کھینچے تم مجھے کھڑی دکھائی دیتی ہو-کیا اب بھی کسی تیر کی ضرورت ہے؟

فقط تمہارا

ع-ح

 

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s