اربعین کربلاء : عطیہ عوفی جسے تاریخ کے پنّوں سے حرف غلط کی طرح مٹانے کی کوشش ہوئی

%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%b1%d8%a8%d9%84%d8%a7%d8%a1

نوٹ : کوفہ سے ” لایعفوی ” کی کالک ہٹاکر اس کے روشن چہروں کو سامنے لانے کی کوشش کے دوران مرے سامنے تاریخ کے کئی بھولے بسرے کردار زندہ و جاوید ہوکر سامنے آئے-اور خاص طور پہ اربعین کربلاء کے ایونٹ کے تناظر میں جب میں یہ دیکھ رہا تھا کہ جابر بن عبداللہ الانصاری نے پیرانہ سالی میں مدینہ سے عراق تک کا مشکل اور مصائب سے بھرا سفر کیوں کیا اور 20 صفرالمظفر کو ہی کیوں وہ کربلاء پہنچے تو اسی دوران عطیہ کوفی متوفی 110ھ کا کردار اور روشن چہرہ مرے سامنے آگیا-میں کربلاء جانے والوں کی روداد سفر اور نوٹ پڑھ پڑھ کر جہاں محظوظ ہورہا تھا وہیں اس بات کا متمنی بھی تھا کہ کوئی تاریخ کے اس ایونٹ کی بنیاد بننے والی روایت کے راوی کے حالات بارے بھی کچھ کہتا ہے یا نہیں، یا اس کی اہمیت سے بھی وہ واقف ہے کہ نہیں-جس نے یہ اشعار کہے تھے

رايت عليا خير من وط‏ى‏ء الحصى       واكرم خلق اللّه من بعد احمد

وصي رسول اللّه وابن عمه              وفارسه المشهور في كل مشهد

تخيره الرحمن من خير اءسرة                 لاطهر مولود واطيب مولد

اذا نحن بايعنا عليا فحسبنا              ببيعته بعد النبي محمد

اور جب میں عطیہ کوفی کے بارے میں اقوال ڈھونڈنے شروع کئے تو ایک بار پھر جمہور کے ہاں میں نے دیکھا کہ وہ سبکے سب اسے صدوق تو کہہ رہے تھے لیکن زور لگا کر اسے زیادہ سے زیادہ ضعیف قرار دینے کی ہمت کرسکے-اس کے ضعیف ہونے کا سبب اس کی تشیع کو بتلایا گیا-یہاں سے کسی صاحب کو یہ وہم نہیں ہونا چاہئیے کہ قدیم اہلسنت کے ماہرین اسماء الرجال جب کسی کو ” متشیع ” کہیں تو اس سے مراد ان کی” روافض ” ہوتی تھی جیسے آج کل تکفیری دیوبندی اور سلفی وہابیوں کا طور طریقہ بن چکا ہے-اس سے مراد کیا تھی الساجی سے علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی نے تہذیب التہذیب میں یہ بات درج کی ہے “كان يقدم عليا على الكل” اور تو اس سے پتا چلا کہ وہ تفضیلی تھے یعنی بعد از رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو سب سے افضل خیال کرتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں متعدد صحابہ کرام رصوان اللہ اجمعین کا یہی خیال مرکوز ہے، خود جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ کا یہی عقیدہ بیان کیا جاتا ہے-عمار یاسر اور سلمان فارسی کا عقیدہ بھی یہی بیان کیا جاتا ہے-تو عطیہ کا متشیع ہونا ان کے ضعف کی علامت ہے اس سے ہم کہانی سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں عطیہ تاریخ کا بھولا بسرا باب بن گئے تھے-ویسے طبقات الکبیر کے مصنف نے ان کے بارے میں یہ لکھ کر ” و كان ثقة ان شاءاللّه، وله احاديث صالحة” آنے والوں کو بڑی مشکل میں ڈال دیا تھا اور اسی لئے انہوں نے عطیہ کو ضعیف کہنے پہ ہی اکتفا کرلیا-اور کوفہ شہر کا ہر وہ عالم ، سکالر، محقق اسماء الرجال کے دربار میں معتوب ٹھہرا جس کا سیاسی موقف اہل بیت اطہار کے ساتھ موافقت میں تھا-عطیہ بھی اسی عتاب کا شکار ہوئے-آج جب کربلاء میں 25 ملین لوگ جمع ہیں تو مجھے لگا کہ عطیہ کوفی کا زکر کیا جائے اور اس کے روشن چہرے بارے اپنے پڑھنے والوں کو بتایا جائے-  

 

اربعین یعنی جب شہادت امام حسین اور ان کے جملہ رفقاء کی شہادتوں کو چالیس روز گزر گئے تو اس روز کربلاء میں مرقد امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت جابر بن عبداللہ انصاری صحابی رسول رضی اللہ عنہ پہنچے تھے-یہ عراق پہ عبید اللہ ابن زیاد کی حکومت کا زمانہ تھا-اور عراق میں اہل بیت اطہار کے کیمپ کے حامیوں کے لئے جن کو اس زمانے میں شیعان علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کہا جاتا تھا سخت عتاب اور ظلم و جبر کا زمانہ تھا-عراق میں جس کی زبان پہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور ان کی اولاد کا زکر خیر جاری ہوتا اسے قید و بند سے لیکر قتل ہوجانے تک کا خطرہ لاحق رہتا تھا-اور خاص طور پہ اس زمانے میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے مظلومیت کے ساتھ قتل ہونے اور ان کے قیام کو “طاعت امیر ” کی مخالفت قرار نہ دینے اور ان کو دین کا باغی نہ قرار دینے والوں کے خلاف سخت ترین اقدام اٹھائے جاتے تھے-اگرچہ چالیس روز ہوئے تھے امام حسین اور ان کے رفقاء کی شہادت کو لیکن عراق پہ عبیداللہ ابن زیاد کی افواج نے مارشل لاء جیسی کیفیت کو نرم نہ کیا تھا-پورے عراق میں سخت جاسوسی اور نگرانی کا عمل جاری رکھا گیا تھا-ایسے میں جابر بن عبداللہ انصاری نے اگر مدینہ سے رخت سفر باندھ کر کربلاء تک کا سفر کیا تو یہ سفر کسی مقصد سے خالی نہیں تھا-جابر بن عبداللہ انصاری کے ساتھ اس مرحلے پہ عطیہ بن سعد بن جنادہ کوفی متوفی 111ھ تھے-اور انہوں نے اس روایت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا-اور عطیہ بن سعد بن جنادہ کوفی کے بارے میں مجھے اس موقعہ پہ کچھ باتیں بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے اور وہ اس لیے کہ وہ تابعی ہیں جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ایک بہت گہرے ساتھی اور صحابی رسول کے بیٹے ہیں اور  یہ قبیلہ بنی جدیل سے تعلق رکھتے تھے جو طائف میں مقیم تھا اور ان کے والد اہل طائف میں سے پہلے آدمی تھے جنھوں نے اسلام قبول کیا تھا-اور پھر یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ جنگ جمل،جنگ صفین ،جنگ نھروان میں شریک رہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانہ خلافت کے آخری دنوں میں عطیہ بن سعد بن جنادہ کوفہ میں پیدا ہوئے اور آپ کے والد ان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے پاس لیکر آئے تو آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ ” ہذا عطیۃ اللہ ” اور اسی مناسبت سے آپ کا نام “عطیہ ” رکھا گیا-عطیہ اپنے زمانے کے بہت بڑے فقیہ، مفسر ، محدث اور علم سیرت و مغازی کے ماہر تھے-ان کی تین جلدوں میں تفسیر قرآن کوفہ سے شایع ہوئی ہے-یہ کوفہ میں اہل بیت اطہار کے کیمپ کی سب سے مضبوط اور سب سے بلند آہنگ آواز تھے-یہاں مجھے اپنے پڑھنے والوں یہاں ایک مرتبہ پھر یہ یاد دلانا ہے کہ عطیہ بن سعد بن جنادہ کوفی جن کو “عوفی ” غلطی سے مشہور کردیا گیا تھا ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو اموی اور عباسی درباری ماہرین اسماء الرجال نے ” غیر ثقہ ، ضعیف اور مدلس ” کہہ کر رد کرنے کی کوشش کی اور اس کے پیچھے سبب بھی ان کی اور ان کے والد کریم کی اہل بیت اطہار کے سیاسی کیمپ سے وابستگی تھی-اور خاص طور پہ آل سعود کے کیمپ کے لکھاریوں نے تو عطیہ بن سعد کوفی پہ بہت ہی توجہ کی اور جیسے انہوں نے نصر بن مزاحم کو رد کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ایسے ہی انہوں نے عطیہ کو بھی غیر اہم بنانے کی اپنی سی کوشش کی-دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وہابی کیمپ نے جابر بن عبداللہ کو بھی تاریخ کی گرد میں گم کرنے کی پوری کوشش کی اور عطیہ کے خلاف بھی قلم کو نیزے بنانے کی پوری کوشش کی-اور نظر آتا ہے کہ یہ جو 20 صفر المظفر  61ھ کو جابر بن عبداللہ الانصاری کی کربلاء آمد اور وہاں پہ قبر حسین رصی اللہ عنہ کی وفات کی زیارت والا واقعے کو چھپانے یا اس بارے تردید پہ زور کی جو لہر ہمیں درباری لکھاریوں کے ہاں ملتی ہے تو اس کے پیچھے اس جرم کے حقیقی زمہ داروں کو بچانے اور ان کے جرم کی شدت پہ پردہ ڈالنے کی کوشش نظر آتی ہے-حالات کو نارمل دکھانے اور اس واقعے کے اندراج کو مین سٹریم دھارے سے الگ کرکے دکھانے کا یہ رجحان تکفیری فاشزم کے آج  جلوس ہائے عزا، مجالس اور اربعین پہ حملوں اور ساتھ ساتھ مزارات و میلاد النبی کے جلوسوں پہ حملوں کے پیچھے کارفرما سوچ کی تاریخی جڑوں کو تلاش کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے-یہ مسلم سماج کے اندر رہنے والوں کی ذہنوں کی سلیٹ صاف کرنے کی ایک کوشش ہے-اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش بھی ہے کہ اہل بیت اطہار کا سیاسی کیمپ جسے بجا طور پہ کبّار صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین کے ایک بہت بڑے دھارے کی مدد حاصل تھی اسے ایک اقلیتی ٹولہ بناکر دکھایا جائے اور قیام حسین کے بعد پیدا ہونے والے رد عمل کو بھی ہلکا سا ارتعاش بناکر دکھایا جائے_جابر بن عبداللہ الانصاری کی اہمیت یہ تھی وہ سھل بن سعد الانصاری کی طرح ایسے صحابی تھے جو بیعت عقبہ میں شامل تھے-اور السابقون الاولون من الانصار میں شامل تھے-اور پھر جابر بن عبداللہ الانصاری کے بارے میں کتب ہائے اہل تسنن و اہل تشیع دونوں میں یہ درج ہے کہ وہ مدینہ کے اندر 60 اور 61 ھجری میں مسجد نبوی کے اندر سب سے بڑا درس کا حلقہ رکھتے تھے اور ان کا مرکزی حلقہ ایسا تھا جس سے ہزاروں لوگوں نے فیض حاصل کیا-ان کو مکثر الاحادیث ۔۔۔۔۔ یعنی کثرت سے احادیث بیان کرنے والا قرار دیا گیا اور یہ بنو خزرج سے تعلق رکھتے اور اس قبیلے کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے وابستگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے-سعد بن عبادہ کے بیٹے قیس بن عبادہ کا تذکرہ اس حوالے سے پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے-جابر بن عبداللہ الانصاری کی اہمیت اس لئے بھی بہت زیادہ بن جاتی ہے کہ وہ اس پرآشوب ادوار میں زندہ تھے جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف ایک بھرپور قسم کی کردار کشی کی مہم کا آغاز ہوچکا تھا اور اس مہم کا عروج آپ اور آپ کے خانوداہ پہ منبروں پہ نماز جمعہ اور عیدین کے خطبوں میں لعن طعن کرنے تک آن پہنچا تھا-جابر بن عبداللہ الانصاری ان اصحاب رسول اللہ میں شامل ہیں جنھوں نے اس روش کے خلاف اعلانیہ جدوجہد کی-آپ کا کثرت سے احادیث بیان کرنا اور مسجد نبوی میں حلقہ درس بنانا سمجھ میں آتا ہے-میں جب 20 صفرالمظفر 61ھ کو جابر بن عبداللہ الانصاری کی کربلاء آمد اور زیارت قبر امام حسین کی روايت اور اس کے ماخذ بارے تحقیق کررہا تھا تو مجھے عبداللہ بن جابر الانصاری رضی اللہ عنہ کے تذکروں میں یہ بات مذکور ملی کہ مدینہ کی گلیوں ، مدینہ کے اندر بنے لوگوں کی چوپالوں اور مجالس میں حضرت جابر بن عبداللہ الانصاری جاتے اور عصاء سے ٹیک لگاکر کھڑے ہوجاتے اور کہتے ” اے گروہ انصار علی سب سے بہتر انسان ہیں اور جو اس سے انکار کرتا ہے وہ کتمان نعمت کا مرتکب ہوکر منزل انکار پہ کھڑا ہوتا ہے اور اے گروہ انصار اپنی اولاد کو علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم اور ان کی اولاد کا ادب و محبت سکھاؤ ،کیونکہ اگر اس محبت و ادب سے انکار کیا گیا تو پھر تمہارا امت میں شمار مشکل ہے-ایسے ہی انہوں نے بارہا لوگوں کو اموی دور حکومت کے اندر یہ بتانا شروع کیا،” علی کرم اللہ وجہہ الکریم خیر البشر ہیں اور ہم زمانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں منافقین کی پہچان آپ سے بغض رکھنا رکھتے تھے” اور جابر بن عبداللہ الانصاری نے ایک اور قول پہ ان دنوں بہت زور دیا ” النّاس شجر شتی ،وانا و علی من شجرۃ واحدۃ ” تو علی کرم اللہ وجہہ الکریم و محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شجر واحدہ ہونے پہ اصرار کی معنویت اس پرآشوب دور میں بہت زیادہ تھی-اور ان اقوال کا آپ سے صادر ہونا اس پروپیگنڈے پہ کاری ضرب لگانا تھا جو سرکاری و درباری حلقوں سے بار بار کیا جارہا تھا اور اس زمانے میں کئی بڑے بڑے ناموں نے عزیمت کی بجائے رخصت کا مذہب اختیار کرلیا تھا-یہاں تک کہ بخاری و مسلم کے اندر ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے صحابی رسول جو اگرچہ جان بچانے کے عوض بھی جناب علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف کوئی بری بات زبان سے نکالنے کو تیار نہ تھے اس مسئلے پہ خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے نظر آتے تھے-لیکن جابر بن عبداللہ الانصاری نے اس راستے کو اختیار نہ کیا-آپ نے 61ھ کو عراق کی طرف سفر اختیار کیا اور ایک باقاعدہ اہتمام کے ساتھ یہ سفر کیا-اس سفر کی نیت کی-زیارت قبر امام حسین کی نیت کرکے ایک طرح سے شیخ ابن تیمیہ امام الوہابیہ کے نظریات کے خارجی الاصل ہونے پہ مہر ثبت کی اور اس ایک عمل نے بنوامیہ کے پروپیگنڈے کی ایسی کی تیسی کرکے رکھ دی-عطیہ بن سعد بن جنادہ کوفی متوفی 111ھ سے اموی حاکموں کی دشمنی کی سمجھ آتی ہے-آئیں اس حوالے سے ایک واقعہ جو تاریخ میں درج ہے اسے پڑھ لیں

 خرج عطيّة مع ابن الأشعث على الحجّاج، فلمّا انهزم جيش بن الأشعث هرب عطيّة إلى فارس. فكتب الحجّاج إلى محمّد ابن القاسم الثقفي أن ادْعُ عطيّة فإن لعن عليّ بن أبي طالب وإلا فاضْرِبْه أربعمائة سوط واحْلق رأسه ولحيته. فدعاه فأقرأه كتابَ الحجّاج فأبَى عطيّة أن يفعل، فضربه أربعمائة وحلق رأسه ولحيته. فلمّا ولي قُتيبة خُراسان خرج عطيّة إليه فلم يزل بخراسان حتى ولي عمر بن هُبيرة العراق، فكتب إليه عطيّة يسأله الإذن له في القدوم فأذن له، فقدم الكوفة فلم يزل بها إلى أن توفّي سنة إحدى عشرة ومائة.

عطیہ نے اشعث کے ساتھ حجاج بن یوسف کے خلاف خروج کیا اور جب اشعث کے لشکر کو شکست ہوگئی تو عطیہ فارس کی جانب چلے گئے-جحاج بن یوسف نے محمد بن قاسم الثقفی (جی ہاں ہندوستان میں وہابیوں،دیوبندیوں اور جماعت اسلامی والوں کا ہیرو )کو خط لکھا اگر عطیہ تمہارے قابو میں آئے تو اس کے لئے نجات صرف اسی راستے سے ہے کہ وہ حضرت علی ابن ابی طالب پہ لعن کرے اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کو سو لاٹھیاں مارنا ،اس کا سر اور داڑھی مونڈھ دینا تو محمد بن قاسم نے عطیہ کو بلوایا اور اس کے سامنے حجاج کا خط پڑھا تو عطیہ نے انکار کیا تو محمد بن قاسم نے عطیہ کو سو کوڑے مارے اور سرو داڑھی مونڈھ ڈالی ، جب قتیبہ خراسان کا گورنر مقرر ہوا تو عطیہ خراسان سے نکل گئے اور جب تک عمر بن ہبیرۃ عراق کا گورنر نہ بنا وہ عراق نہ ائے ،تو ہبیرہ جب عراق کا گورنر بنا تو اس نے عطیہ کو خط لکھکر عراق آنے کی اجاوت دے دی تو وہ کوفہ آئے اور پھر 111ھ تک اپنی وفات تک وہیں پہ مقیم رہے-یہ واقعہ محمد بن سعد ذھری قریشی متوفی 230ھ نے اپنی معروف کتاب ” طبقات الکبیر ” میں درج کیا ہے-یہ بنو ہاشم یا بنو ذھرہ کے مولا تھے اور اہل مدینہ میں ایک کبیر تابعی تھے اور یہ اہل سنت کے بہت بڑے ماہر اسماء الرجال میں شمار ہوتے ہیں-اور طبقات الکبیر کے بارے میں یہ جاننا کافی ہے کہ اس کتاب پہ ہی اہل سنت کے ہاں علم جرح و التعدیل کی بنیاد قائم ہے (وتظهر أهمية كتاب الطبقات في كونه حوى كثيراً من الفنون العلمية في شتى الميادين المتخصصة، مما أهّله ليكون مرجعاً أساسياً لدى العلماء والباحثين، فهو مرجع أساسي في سيرة المصطفى وغزواته، ومعرفة دلائل نبوّته وشمائله، وهو مرجع أساسي في معرفة السنن والآثار لاشتماله على كمّ هائل من أقوال الصحابة والتابعين- بالإضافة إلى الأحاديث-، وهو مرجع أساسي في معرفة تراجم الرواة وأحوالهم وأنسابهم، ومنزلتهم في ميزان الجرح والتعديل، هذا فضلاً عن كونه مرجعاً أصلياً في علم الطبقات. فهو كتاب ينهل منه المحدّث والفقيه والمفسّر والمؤرخ والنسّابة والواعظ والداعية، وغيرهم. ولأجل هذا وغيره فقد اهتم العلماء بكتاب الطبقات اهتماماً كبيراً)تو عطیہ کوفی نے جابر بن عبداللہ الانصاری کی جانب سے 20 صفر المظفر کو جابر بن عبداللہ کے قبر امام حسین پہ حاضری کی روایت کو درج کرکے اور اس حوالے سے سفر کی روداد بیان کرکے ایک بہت بڑے سیاسی تنازعے میں حق کو بیان کرنے کی بنیاد رکھ دی-عطیہ نے لکھا جابر نے فرات پہ پہنچ کر اچھی طرح سے غسل کیا ، پھر بازار سے جاکر نئے کپڑے خریدے اور قبر امام حسین کا رخ کیا اور اس دوران آپ نے زکر حسین جاری رکھا اور جب یہ قبر امام حسین پہ پہنچے تو انہوں نے اپنے آپ کو قبر امام پہ گرادیا-قبر کو اپنے گالوں سے مس کیا اور اتنا روئے کہ غش کھاگئے-جب اٹھے تو انہوں نے قبر پہ کھڑے ہوکر کچھ یوں کہا

“بے شک میں گواہی دیتا ہوں آپ خاتم النبین کے بیٹے ہیں اور دو وصیت والے کے بیٹے ہیں-آپ سلیل ہدائیت ہیں اور جن کو کساء میں چھپایا ان میں آپ کا نمبر پانچواں ہے آپ سید النقباء کے بیٹے ہیں ، اور عورتوں کی سردار فاطمۃ الذھرا کے بیٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی حیات طیب ، آپ کی موت طیب ، ۔۔۔۔۔۔۔ اور میں گواہی دیتا ہوں آپ پہ جو گزرا وہ ویسے ہی ہے جیسے آپ کے بھائی ابن زکریا پہ گزرا تھا

جابر بن عبداللہ الانصاری کی 20 صفرالمظفر 61ھ کو قبر امام حسین رضی اللہ عنہ حاضری کے بعد سے مسلم سماج کے اندر سے ہر 20 صفرالمظفر کو کربلاء حاضری کی ایک روایت شروع ہوئی اور آج تک یہ جاری و ساری ہے اور اسے قریب قریب سبھی مذاہب کے ماننے والوں نے اس روایت کو شرف قبولیت بخشا ہے اور یہ ایک “عالمی فیسٹویل ” بن گیا ہے اور یہ انسانیت سے محبت اور ظلم کے خلاف تجدید عہد کرنے والا ایونٹ بن گیا ہے-بے شک اہل سنت اور اہل تشیع کے نزدیک 20 صفر المظفر یعنی اربعین کی ایک مذہبی حثیت اور تعبیر ہے لیکن عالمی سطح پہ اس کی ایک عمومی اور مطلق اہمیت بن گئی ہے-اور یہ امام حسین کے عالمی استعارہ بن جانے سے جڑی ہے- 30 ہزار کی لشکر یزید کی فوج کے سامنے 72 افراد کی امام حسین رضی اللہ عنھم کے ساتھ مزاحمت کی یاد بن جانے والا یہ ایونٹ ان سب شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے والا واقعہ بن چکا ہے-اور اس دن کو زندہ کرنے کا کریڈٹ جابر بن عبداللہ الانصاری اور عطیہ بن سعد بن جنادہ کوفی کو جاتا ہے-عطیہ نے جبر وظلم کے خلاف تاریخی مزاحمت کو اتہاس کے پنّوں پہ محفوظ رکھنے کی بہت بڑی قیمت ادا کی-اسے کوفہ سے جلاوطن ہونا پڑا ، پھر اس نے فارس میں محمد بن قاسم ثقفی کے ہاتھوں بڑا تشدد سہا اور سو کوڑے کھائے ، خراسان میں جلاوطنی کاٹی اور پھر وہاں سے بھی روپوشی کی زندگی گزاری اور 61ھ کے بعد سے مسلسل اس نے بنوامیہ کے خلاف زیر زمین لڑائی کی ، وہ بیک وقت ایک مجاہد آزادی بھی تھے اور ساتھ ساتھ وہ مظلوموں کی تاریخ کے شاہد اور گواہ بھی تھے،ملوکیت،آمریت اور ظلم و بربریت کے خلاف انھوں نے اپنے حواس برقرار رکھے-دربار اور سرکار نے ان کی شخصیت کو مسخ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن مظلوموں نے ان کو پھر سے دریافت کرلیا اور میں سمجھتا ہوں کہ علی شناس مکتب فکر کے طالب علموں کے لئے جابر بن عبداللہ الانصاری کے ساتھ ساتھ عطیہ بن سعد بن جنادہ کی شخصیت ، ان کے کردار سے آگہی بھی بہت ضروری ہے

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s