اٹھارواں خط

late-style

 

 

پیاری ساری

میں نے کل اپنا موبائل آن کیا تو پتا چلا کہ تمہارے کئی پیغامات میسج انباکس میں پڑے ہوئے تھے اور تم مری غیابت بارے جاننے کے لئے بے چین تھی کہ کس سبب میں اچانک سے “ڈس کنکٹ ” ہوگیا ہوں-“آن لائن کنکٹویٹی ” ایک نئی چیز ہے جو ہماری زندگی کا دبے پاؤں حصّہ بن گئی ہے اور یہ “کنکٹویٹی ” اپنی برکات اور اپنی مصبیتیں ساتھ ساتھ لیکر ہماری زندگی کا حصّہ بن گئی ہیں-اس کی سب سے بڑی برکت مرے نزدیک یہ ہے کہ تم سے رابطہ کرنے میں بڑی آسانی ہے اور ” جب بٹن دبایا،تمہارا پوچھ لیا” یعنی “دل میں ہے تصویر یار ، جب سرجھکایا دیکھ لی ” کی تازہ ترین تشریح-غیبت صغری کے دنوں میں بھی یہ دل تمہارے خیال سے غافل نہیں تھا-آج کل میں نے “مائی پیپل شل لائیو ” لیلی خالد کی آب بیتی پھر سے پڑھنا شروع کی ہوئی ہے-تمہیں لیلی خالد یاد ہے یا بھول گئی ہو؟ ارے وہی  جس کی اس آٹوبآئیوگرافی کا ترجمہ کشور ناہید نے کیا ہے اور کئی جگہ “بعث ” کو ” باتھ ” لکھ رکھا ہے-لیکن سچی بات ہے کہ کشور ناہید کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے مسلم سماج کی چند ایک انتہائی متحرک ، پارہ صفت مجاہد خواتین سے اردو پڑھنے والے طبقے کو متعارف کرانے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے-اس آب بیتی میں لیلی خالد سب سے زیادہ نفرت کا اظہار صہیونیوں کے بعد امریکیوں سے کرتی ہے لیکن کیا ستم ظریفی ہے کہ لیلی خالد سمیت عرب، فارسی اور جنوبی ایشیا کی معروف باغی خواتین کی جائے پناہ آج یورپی اور امریکی معاشرے ہی بنے ہوئے ہیں-حال ہی میں بلوچ باغی خواتین کریمہ، فرزانہ، مس قادری سمیت یورپ کے اندر جاکر خود کو محفوظ خیال کرتی ہیں-شبنم طلوعی ہو کہ لیلی خالد ان سب کی فکری اور فنی صلاحیتوں کو جلا وہیں سے مل رہی ہے،لیلی خالد تمہاری طرح ارض وطن کی آزادی کے ساتھ عورتوں کی حقیقی آزادی کے سوال سے  نبرد آزما رہی ہے اور اس نے اس مقصد کو کبھی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا،اس نے عورت کی آزادی کے سوال کو فلسطین کی آزادی کے سوال سے جوڑے رکھا ہے-قدامت پرست ،تنگ نظر معاشرے اپنے آپ کو اور سٹیٹس کو ، کو چیلنج کرنے والی عورتوں کو معاف نہیں کرتے-حماس کے کسی آزادی پسند سے پوچھ کے دیکھ لو، وہ لیلی خالد کو تو مسترد کرے گا ہی سہی ساتھ میں اس کا ہر موڑ پہ ساتھ دینے والے اس کے بھائی محمد  کے لئے ” بے غیرت ” کا لفظ چسپاں کرے گا-یعنی جو مرد باغی عورتوں کی بغاوت کو استحکام دینے میں مددگار ثابت ہوں یا ان سے ان کا کوئی رشتہ نکل آئے تو ان کے لئے بھی معافی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں-تم نے قرۃ العین طاہرہ بارے تو پڑھ ہی رکھا ہے لیکن کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے خاندان کے جو لوگ تہران میں رہتے ہیں ان کو بھی آج تک ایرانی سماج کے اندر قرۃ العین کی بغاوت کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے-سابق چئیرمین نیوکلئیر کمیشن علی اکبّر صالحی بھی ان کا نشانہ صرف قرۃ العین طاہرہ سے رشتہ داری کی وجہ سے ہے-معاشرہ بار بار “تنگ نظری ” کی طرف پلٹتا ہے اور اس سے دور لیجانے والوں پہ بھونکتا بھی رہتا ہے-سموئیل بیکٹ نے کہا تھا،”ہم سب پاگل پیدا ہوتے ہیں اور بہت کم ہیں جو پاگل ہی رہ پاتے ہیں “-سماج ہمارے پاگل پن کو اپنی معقولیت کے ساتھ بدلنے کی کوشش کرتا ہے اور اکثر کو بدل بھی لیتا ہے-جو بدلے نہیں جاتے اور جو اصرار کرتے ہیں اس پاگل پن پہ جو وقت پیدائش ان کا جوہر ہوتا ہے انھیں ابنارمل قرار دے دیا جاتا ہے-

ساری ! سموئیل بیکٹ نے کہا تھا،”موت آنے سے پہلے ہم سے اپائنٹمنٹ نہیں لیتی “اور اس کے آنے کی ہمیں اکثر خبر نہیں ہوتی-لیکن تم کیا اب بھی اس بات کو مانتی ہو کہ نابغہ لوگوں کے ہاں اس کے آنے کی پرچھائیاں از خود دیکھ لی جاتی ہیں اور ان کی تحریروں کا سٹائل بدل جاتا ہے-اور ایسی تحریروں میں موت کے آجانے کا خوف ہونے کی بجائے سٹائل “دیری ” کا اشارہ دے رہا ہوتا ہے-یہ جو کچھ کے ہاں ان کا ازلی پاگل پن برقرار رہتا ہے نا،انہی کے ہاں اس سٹائل کا ظہور بھی ہوتا ہے-ایڈورڈ سعید اسے “لیٹ سٹائل ” کا نام دیتا ہے-اس نے ایڈورنو کا حوالہ دیا تھا اور کہا تھا کہ “لیٹ سٹائل ” کا ظہور ” فریکچرڈ لینڈ اسکیپ ” میں ہوتا ہے-اگر تم اپنے ہاں اس ” فریکچرڈ لینڈ اسکیپ ” کو دیکھنے کی خواہش رکھتی ہو تو انتظار حسین کی آب بیتی ” چراغوں کا دھواں ” ، کشور ناہید کی ” نوٹ بک ” اور منیر نیازی کی شاعری پڑھ لو، اور لیٹ سٹائل کی انتہا یہاں دیکھنے کی متمنی ہو تمہیں امرتا پریتم کی آب بیتی اور ” ایک تھی سارہ ” پڑھ ڈالو-کچھ ایسی ہی فریکچرڈ لینڈ اسکیپ تمہیں سجاد ظہیر ، فیض احمد فیص ، سعادت حسن منٹو ، یہاں تک کہ جاوید صدیقی کے خاکوں اور ساجد رشید کے افسانوں میں مل جائے گی اور ” لیٹ سٹائل ” کی حکمرانی کا اندازہ ہوجائے گا-بیکٹ کہتا تھا کہ ” الفاظ خیالات کا لباس ہوتے ہیں” اور میں کہتا ہوں، ” لیٹ سٹائل میں تخلیق کا اظہار الفاظ کے جس لباس میں ہوتا ہے،وہ لباس مرگ ہوا کرتا ہے”اور ہمیں یہ لیٹ سٹائل گارشیا مارکیز ، بورخسس، حوزے ساراماگو کے ہاں آخری دنوں میں غالب نظر آتا ہے-اور کامیو کے ہاں تو یہ ایک پاگل پن پہ مبنی بیگانگی کے ڈانس کی صورت ناچتا نظر آتا ہے-میں کچھ دوستوں کے ساتھ ایک مرتبہ کسی اور شہر آوارہ گردی کرنے نکلا تو سفر ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ ان دوستوں میں سے ایک ہمارے سب سے زیادہ کم عمر دوست نے کہا کہ ایک شرط پہ آپ ہمارے ساتھ چلیں گے اگر آپ اپنے اندر کے “دانشور ” کو جاگنے نہ دیں-میں نے امید بھری نظروں سے اپنے سب سے زیادہ عمر اور تجربے والے ساتھی کی جانب دیکھا تو اس نے بھی تائید میں سر ہلایا تو میں اندر سے کرچی کرچی ہوگیالیکن میں نے اس ٹوٹ جانے کی آواز باہر نہ آنے دی اور دو دن کی رفاقت میں ،میں نے ان کے قہقہے رکنے نہیں دئے اور وہ سب کہہ رہے تھے کہ “اس ع-ح کو تو وہ جانتے ہی نہیں تھے “-اس ع-ح سے وہ بار بار ملنے کی تمنا کرتے تھے اور اس سے مجھے اندازہ ہوا ” لیٹ سٹائل ” مری تحریروں میں کہیں داخل ہوگیا ہے-تبھی تو یار لوگ مجھے فریکچرڈ لینڈ اسکیپ ساتھ لیکر جانے سے منع کررہے ہیں-‏عذاب یہ ہے ساری! مرے ہاں لیٹ سٹائل تو تھا لیکن الفاظ کا لباس کوئی شاندار نہیں تھا اور اسی لئے میں یہاں پیرس بھاگ آیا تھا-اور اسی سفر کے دوران ایک اور حادثہ بھی ہوا،ہمارا وہی کم عمر ساتھی کسی کے ہاں مدعو تھا-وہ جب اسے لینے آیا تو اس کی آنکھوں میں مرے لئے اسقدر بے گانگی تھی کہ میں ایک لمحے کے لئے ہر شئے سے ہی متنفر ہوگیا تھا-اور ساری!مجھے لوگوں کی ” لاتعلقی ” ایک اور طرح کی کمینگی سے جڑی نظر آئی جس میں آپ کو زمین پہ گرا ہوا دیکھنے کی خواہش شدید ہوا کرتی ہے-اور تمہیں بتاؤں کہ میں بھی وہاں سے اسقدر لاتعلقی سے گزرا کہ جیسے مری ان سے زرا شناسائی نہ ہو اور میں نے ان کی آنکھوں میں اس لمحے جو حیرت دیکھی وہ مجھے خوش کرگئی تھی-یعنی دوسروں کی کمینگی سے متاثر شحض کے اندر بھی جھٹ سے کہیں کمینگی آکر بیٹھ گئی تھی اور اس نے اسے اپنے اندر سے بھگا ڈالنے کی کوشش نہیں کی-یہاں ان دنوں عجیب تماشا لگا ہوا ہے-دوست بتارہے ہیں کہ انھوں نے کربلاء جانے والوں سے “خاک کربلاء ” ‘ تسبیح فاطمہ ” اور “نیلا پکھراج ” نجانے کیا کیا منگوا رکھا ہے-تم بھی وہاں پہنچی ہوئی ہو، اور تمہارا میسج ہے کہ وہاں سے کیا لاؤں ۔۔۔۔۔ سنو ! کچھ بھی لانے کی ضرورت نہیں ہے، بس ان سے یہ کہنا کہ “مجھے لیٹ سٹائل ” سے نجات دلادیں اور مرے اندر جم گئی بے گانگی کو مجھ سے الگ کردیں-کیونکہ جتنی بھی یونٹی،وحدت ، ارتباط میں اس لیٹ سٹائل کے زریعے سے لانے کی کوشش کرتا ہوں،اتنا ہی انتشار ظہور میں آتا ہے اور اتنی ہی زمین ٹکڑے ٹکڑے لگتی ہے اور تکلیف بھی اسی حساب سے بڑھ جاتی ہے-کیا اس تکلیف سے نجات دلانے والی “خاک ” وہاں سے مل جائے گی؟تم کہوگی بھئی ایسی خاک تو میسر نہیں ہے تو بتاؤ بھلا میں اور کیا چیز تمہیں لانے کو کہوں

ساری! یہ مرا خط سب سے زیادہ فریکچرڈ لینڈ اسکیپ میں لکھا گیا خط ہے-خیالات کی جو دکان مرے دماغ میں سجی ہے اس نے مری مدد کرنے سے انکار کردیا ہے-اور دکان وہاں سجی سجائی بھی بدصورت لگنے لگی ہے، ساری! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تم جس سے محبت کرتے ہو اس سے کہیں گوشے میں شدید نفرت بھی بیٹھی ہوئی اور تم اپنی محبت پہ اس نفرت کو غالب آتا دیکھنے لگو، ایسا اگر ہے تو کیوں ہے؟مرے اندر کی لینڈ اسکیپ اسقدر فریکچرڈ کیوں ہے ؟یہ سوال تم سے اس لئے کیا  ایک تم ہی تو وہ جو مرے اندر جھانک لینے کی صلاحیت رکھتی ہو، ورنہ یہاں سب اندر جھانک لینے کی صلاحیت سے ویسے ہی محروم جیسے وہ لوگ جن کے سپرم تولید کی صلاحیت سے ازلی محروم ہوا کرتے ہیں

فقط تمہارا

ع-ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s