ساری کے نام 23واں خط

11326444_403414899850128_805511605_n

 

 

پیاری ساری

میں کیسے تمہیں بتاؤں کہ سال گزشتہ کی آخری رات کو موبائل ، سکائپ ، ایمو اور وٹس ایپ کے اس جدید ترین دور میں،میں تم سے بات کیوں نہ کرسکا۔یہ شاید پہلا سال ہے کہ میں نے ٹھیک سے باضابطہ طور پہ کسی بھی دوست کو یاد کرنے کا اہتمام نہ کیا۔روشنی آئی تھی، بہت پرجوش تھی اور ایفل ٹاور تک چلنے کو کہہ رہی تھی لیکن میں اٹواٹی کٹھواتی لئے پڑا رہا۔سال نو کی آمد میں پورا پیرس بقعہ نور بن جاتا ہے اور تمہیں پتا ہے کہ تین سال پہلے سکینہ علی زیدی یہاں پیرس آئی ہوئی تھی اور عبداللہ اپنی بیوی کے ساتھ یہاں آیا تھا اور یہ سب ایفل ٹاور کے نیچے کھڑے ہوئے تھے۔اور وہاں پہ انھوں نے شمپئن کھولی اور اپنے جام مرے نام کئے اور میں وہاں استنبول کے ایک سلم ایریا میں اپنے ٹریول ایجنٹ کی جانب سے یورپ جانے کی سبیل نکالے جانے کا منتظر ایک تنگ و تاریک فلیٹ کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا اور وڈکا کی بوتل میں بس چند گھونٹ بچے تھے جس میں سے ایک گھونٹ میں نے بڑی کنجوسی کے ساتھ لیا تھا۔اور ہم سب کے سب اس رات کے آخری پہر ذہنی طور پہ تمہارے گھر آکر تمہیں ساتھ لیکر منوڑا کراچی پہنچ گئے تھے اور تمہیں یاد ہے کہ ہم سب نے کتنا زور لگایا تھا تمہیں اس ٹھرے کے چند گھونٹ لینے کے لئے مگر تم اپنی مسلسل انکار  کررہی تھیں۔اچانک تم نے ایک ایسی بات کی کہ ہم سب کو چپ لگ گئی تھی۔تم نے کہا تھا کہ اگر میں نے ایک گھونٹ بھی بھرا تو ساری زندگی پھر میں “نہج البلاغہ” پہ بات نہ کرسکوں گی۔ہم سب جو نرے مادیت پرست اور ملحد محض تھے یہ فقرہ سنتے ہی جیسے ساکت ہوگئے تھے اور سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔اگرچہ ہم سے کسی نے بھی اس کڑوے سیال کو اپنے اندر انڈیلنا پھر بھی بند نہ کیا تھا۔یہ تو نہج البلاغہ کے اسباق کو قلمبند کرتے ہوئے تھا کہ ميں نے اس سیال کو بالکل ہاتھ نہ لگایا۔کیونکہ مرے اندر سے آواز آئی تھی کہ جب تمہارے فہم کی روشنی میں علی شناسی کو رقم کرنا ہے تو پھر تمہاری خواہش کا احترام بھی کیا جانا بنتا ہے۔ویسے مجھے ایک اعتراف کرنا ہے۔جن سرد ترین راتوں میں، میں علی شناسی پہ لکھ رہا تھا اور تمہاری کہی باتوں کو اکٹھا کررہا تھا تو اس دوران سامنے الماری میں لال پری پڑی ہوتی تھی اور بلا کی سردی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور ایسے میں کپکپاتی انگلیاں اور مری ہڈیوں میں گھسی جاتی سردی کے باوجود مجھے صاحب نہج البلاغہ ، ان کے افکار ، ان کی تنہائی اور اس تنہائی کے سحر میں ڈوبا مرا ریڈنگ روم مجھے کبھی اس کی طلب کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے اور بعد میں بہت حیران ہوا کہ یہ سب کیا تھا۔ہاں جہاں کہیں اٹک جاتا تو تم اچانک سامنے آکے بیٹھ جاتی تھیں اور مجھے لگتا کہ مری مادیت پرستی رگوں میں تم علویت کے معانی کو ایسے رواں کرتیں جیسے خون۔اور مرا رکا ہوا قلم پھر سے چلنے لگتا تھا۔اب میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسی مابعدالطبعیات تھی جس نے تمہارے اندر کہیں بھی وہ غیرانسانی پن پیدا نہیں کیا جو میں ملاؤں،پنڈتوں، پیروں، پادریوں،واعظوں اور محتسبوں کے ہاں اور ان پہ آنکھیں بند کرکے ایمان لانے والوں کے ہاں دیکھتا رہا تھا۔جس سے وحشت زدہ ہوکر میں یہاں پیرس بھاگ آیا تھا۔ابھی کچھ دن پہلے تم نے ہی شاید مجھے فیس بک پہ ٹیگ کیا کہ ایک مولوی نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کی جانب سے کرسچن برادری کو ‘ہیپی کرسمس ‘کہنے اور آسیہ نام کی ایک خاتون کی رہائی کی دعا کرنے پہ اسے نہ صرف گستاخ قرار دیا بلکہ اس کو واجب القتل قرار دے ڈالا ہے۔اور لاہور کے ایک تھانے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس پیغام کو لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگاکر مقدمہ درج کرلیا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم جسے مسلم جمہور کا شعور کہتے ہیں وہ شاید بالکل اس چپ کی طرح ہے جس میں مذہب کے نام پہ ایسے پروگرام کی کوڈنگ ہوگئی ہے جو ہر سیاہ چیز کو سفید کرکے دکھاتا ہے۔مجھے تو اپنے ہاں مسلمانوں میں ملحد، سیکولر ، لیفٹ اور لبرل ہوجانے والی اکثر آوازوں کو سنکر بھی یہی شک ہوتا ہے کہ ان کا شعور بھی غلط پروگرام کی کوڈنگ کی وجہ سے سیاہ تر ہی ہے۔اس کی ایک وجہ تو وہ ہمارے ہاں ایسے ملحدوں، روشن خیالوں، لبرل کی کمی نہیں ہے جو ترقی کے نام پہ آج بھی آدی واسیوں، قبائلیوں، غریبوں، کمزروں کو ان کی زمینوں سے بے دخلی کو بالکل جائز خیال کرتے ہیں اور ایسے لیفٹ بازوں کی کمی نہیں ہے جو ہندوتوا کے لتّے تو بہت لیتے ہیں لیکن جب مسلم بنیاد پرستی کا جائزہ لینے کی بات ہو تو ان کے ہاں ہو کا عالم ہوتا ہے۔یہ غلط پروگرامنگ ہی ہے جو مسلم جمہور کی اکثریت کو محمد بن قاسم جیسے عرب حملہ آور کو ہیرو اور اپنی دھرتی کا دفاع کرنے والے راجہ داہر کو ولن بناتی اور سمجھتی ہے۔اور یہی غلط پروگرامنگ ہے جو اورنگ زیب کو اپنا آئیڈیل جبکہ دارشکوہ، سرمد کو راندہ درگاہ بناکر دکھاتی ہے،غلط پروگرامنگ ہمیں شیوا جی کے مقابلے میں تیمور لنگ اور یہاں تک کہ سکندر مقدونی کو آئیڈیل بناکر دکھاتی ہے،ہمیں جھوک شریف کے شاہ عنائت مغل سامراجیت اور جاگیرداری، پیر پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پہ نہیں بلکہ سلادینے والی نام نہاد روحانیت کی علامت کے طور پہ ہی پسند آتے ہیں۔اس غلط پروگرامنگ نے ہی تو یہ کیا ہے کہ ہم امام حسین کے قتل کا فتوی دینے والے مفتیوں پہ تو لعنت کرتے ہیں لیکن عصرحاضر میں ایسے فتوے دینے والے ہمارے رہبر و رہنماء ٹھہرجاتے ہیں۔ہمیں دارا شکوہ، محب الہ آبادی، سرمد،میاں میر، بھگت کبیر، میراں بائی، سچل سرمست ، بلّھے شاہ ، شاہ حسین، گرونانک ،شاہ لطیف بھٹائی کا صلح کل اور وحدت الوجودی رنگ میں رنگا مذہبی شعور ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے جوکہ شناختوں کے مختلف ہونے پہ سیخ پا نہیں ہوتا،وہ اس بات سے بروفروختہ نہیں ہوتا کہ کوئی زکری کیوں ہے تو کوئی احمدی کیوں ہے اور کوئی شیعہ کیوں ہے تو کوئی اسماعیلی کیوں ہے اور کسی کے ہاں ہندؤمت کیوں ہے تو کوئی کیس، کرپان ، کڑا کیوں عزیز رکھتا ہے؟ہم اس تکثیری شعور کی پروگرامنگ سے ڈرنے والے لوگ ہیں، ہماری تاریخ، ہمارا جغرافیہ، ہماری دینیات ، ہماری اخلاقیات سب سے کثرت سے لزر جاتی ہیں اور ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شواہد کو مٹاتے ہیں جو ہمیں مونولتھک ہونے سے دور رکھتے ہوں۔ہمیں صوفی سرمست نہیں مولوی بدمست درکار ہیں تبھی تو قاتلوں کے مزار بڑے تزک و احتشام سے بنائے جانے لگے ہيں اور ہمیں عاشور کے جلوسوں پہ فائرنگ کرنے والوں ، عورتوں اور بچوں کی مجالس پہ ہینڈ گرینڈ پھینکنے والوں، میلاد کے جلوس پہ بم برسانے والوں اور چرچ میں ، احمدیوں، کرسچن ، ہندؤ ، زکریوں کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنانے والوں کے مرجانے پہ ان کے چہروں پہ مسکان اور ان کی قبروں سے مشک کی لپٹیں آتی محسوس ہوتی ہیں اور ایک بھٹہ مزدور عورت ہمارے دین و مذہب کے لئے سب سے برا خطرہ بن جاتی ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ تھر کے باسی کسی تہذیب، ثقافت، کسی تاریخی قدیمی جغرافیہ کے وارث اور مالک ہے ہی نہیں ، ان کے گھر گھر نہیں ہیں کیونکہ کنکریٹ کے نہیں بنے اور ان کی زمینیں زمینیں نہیں ہیں کیونکہ انڈس وادی کی طرح لہلہاتی نہیں ہیں۔یہ بس خانہ بدوش لگتے ہیں اس لئے ان کو سرمایہ داروں کی منافع کی ہوس کی تسکین کے لئے ان کی دھرتی سے اٹھادیا جائے اور ان کو بڑے شہروں کی کچی اور گندی بستیوں کا باسی بنادیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا؟ہمیں اپنی زمین، وسائل  بچانے اور اپنی ڈیموگرافی کے بدل جانے کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچ انسان ہی نہیں لگتے ،کیٹرے مکوڑے لگتے ہیں اور ان کو غائب کردیا جائےیا ان تشدد کے نشانات سے بھری لاشیں اور ماتھے پہ گندھا ہوا ” پاکستان زندہ باد” نظر آئے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ہمیں 22 ہزار لوگوں کے محض اس لئے مارے جانا کوئی بڑا واقعہ نہیں لگتا کہ وہ شیعہ تھے۔شیعہ ہونے، احمدی ہونے ، کرسچن ہونے اور اسماعیلی ہونے کے ساتھ ہی ہماری ہمدردیاں اور ہماری انسانیت کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔یہ وہ پروگرامنگ ہیں جو گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، مدرسوں، مین سٹریم میڈیا اور اب سوشل میڈیا کے زریعے سے ہمارے دماغوں میں فیڈ کی جاتی ہے۔ہمیں کہیں سے بھی اپنا عمل، ردعمل، سوچ، مظاہرے غیرانسانی نہیں لگتے اور ہم زرا بے چین نہیں ہوتے۔ویسے کچھ روز پہلے روسی طیارہ گرکے تباہ ہوا، ایک روسی سفیر کو پیچھے سے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تو میں نے اس پہ لوگوں کو خوشی مناتے دیکھا اور امریکہ میں ایک بہت بڑی مسلم تنظیم سی اے آئی آر  کے ڈائریکٹر کو اس پہ خوشی مناتے دیکھا تو مجھے ایسے لگا کہ یہ پروگرامنگ تو کہیں بہت بڑے پیمانے پہ اپنے اثرات دکھارہی ہے۔میں یہاں گوشتہ عافیت کی تلاش میں آیا تھا لیکن مجھے عافیت تو کہیں بھی نظر نہیں آتی۔دسمبر کی آخری رات میں مجھے یہی سوچیں گھیرے رہیں۔مرے اندر کا رومان پرور آدمی جو ویسے تو ہر روز ہی باہر آنے کی سعی کرتا ہے لیکن ان دنوں کہیں اندر ہی سہم کر اور ڈر کے دبکا ہوا ہے اور باہر آنے کا نام نہیں لے رہا۔رومان اندر ٹھٹھر رہا ہے اور گٹھن ہے کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہے۔بڑی کوشش کی کہ تمہیں رات ختم ہونے اور یکم جنوری شروع ہونے پہ ہیپی نیو ائر کا پیغام دوں اور یہ بتاؤں کہ تم سے مری محبت اور چاہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور بیٹھے بٹھائے تمہارے عکس مری آنکھوں میں جھلملانے لگتے ہیں۔تمہیں صدر کا وہ ہوٹل یاد ہے جہاں تم مجھ سے ملنے آئی تھیں جب میں اپنے آپ سے بھی ملنا نہیں چاہتا تھا۔جب میں یہ ملک چھوڑ کر جارہا تھا اور اس دوران تم کرسی پہ بیٹھی تھیں اور میں زمین پہ۔اور میں تمہیں چوری چوری دیکھے جارہا تھا، تمہارے چہرے پہ لگی نفیس سے عینک کو دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ تمہاری عینک زیادہ نازک ہے کہ تمہارا چہرہ، تمہاری انگلیاں جنہیں تم بار بار مروڑ رہی تھیں اور وقفے وقفے سے دانتوں سے ناخن چباتی تھیں، ان لمحات میں تم مجھے فلسفے کے عظیم افکار سمجھانے والی ساری کی بجائے ایک الہڑ مٹیار لگ رہی تھیں جو چاہتی تھی کہ مجھے جانے سے روک دے اور کہے ‘مت جاؤنا، یہیں اس گھٹن اور حبس میں دونوں رہتے ہیں ،مرنا ہی تو اکٹھے مریں گے نا’ اور ساری دنیا کا سب سے بڑا تلخ سچ یہ ہے کہ اکٹھے مرنا چند خوش نصیبوں کی قسمت ہوا کرتا ہے اور مری ، تمہاری ڈیسٹنی یہ ہے ہی نہیں۔تمہیں رام مستجاب آسٹن یاد ہے ، اس نے بتایا تھا کہ اسے ایک لڑکی میں اپنی ھ-م-ا دکھائی دی جو بہت بولڈ لگتی تھی اور ایک بار اس نے اسے کہا کہ مرے ساتھ کربلاء تک کا سفر کرونا تو وہ ایک دم سے بولی، بچّو! میں خودمختار نہیں ہوں اور لوگوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہوں نہیں جاسکتی۔ ر-م-ا نے مجھے بڑے تاسف سے کہا کہ یار! اگر وہ جھوٹے سے ہی کہہ دیتی کہ ہاں چلیں گے تو اس کا کیا بگڑجاتا؟میں یہ سچ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ اس لڑکی میں ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے پر ہے نہیں۔ساری! مری بیوقوفی دیکھو ، کہ میں اس پوچھ بیٹھا کہ تمہیں کیسے لگا کہ وہ ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے مگر ہے نہیں تو آسٹن بھی اپنی وضع کا ایک الگ ہی آدمی ہے اس نے بہت ہی شانت لہجے میں کہا “کیونکہ اس کا وزن 50 کلو ہے اور ھ-م-ا 45 کلو کی تھی”۔

تم جو 400 سے 500 لفظوں کے میسج مجھے انباکس کرتی ہو ، خط کیوں نہیں لکھتیں۔میں تمہیں کاغذ پہ خط اس لئے لکھتا ہوں کہ کاغذ اور قلم، ذہن ، انگلیوں کا لمس اور نظروں کی تپش ملکر جو رومان اور محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں وہ برقی مراسلے میں مفقود ہوتا ہے۔بس اب تھک گیا ہوں، اور ہاں،

نیا سال مبارک ہو،

فقط تمہارا

ع۔ح

تھر کول فیلڈ :ایک اور زاویہ نظر

 

 

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ۔تھر بچاؤ تحریک : کوئلے سے بننے والے پاور پلانٹس کا مطلب کیا ہے؟

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ –تھر بچاؤ تحریک کے سامنے آنے سے ایک مرتبہ پھر ڈرٹی فیول کول بارے بات شروع ہوئی ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ اور شہری علاقوں میں رہنے والے کئی ایک نوجوان اس بارے میں خاصے لاعلم ہیں۔تھرپاور پلانٹس کی مخالفت میں جب بات کی جاتی ہے تو وہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کا زکر لے بیٹھتے ہیں اور حیرت اس بات پہ ہے کہ وہ اس پلانٹ بارے تشویش میں مبتلا ہونے کے اس کو سرمایہ دار دوست ترقی کے حق میں ایک طاقتور دلیل خیال کرتے ہیں، ایسے ہی جیسے ہم نے ایٹمی دھماکوں پہ بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو مٹھائیاں بانٹتے دیکھا تھا۔ارون دھتی رائے اسے تخیل کی موت کہتی ہیں تو ٹھیک ہی کہتی ہیں۔انہوں نے انڈیا کے جریدے آؤٹ لک میں ایک مضمون لکھا ” گھوسٹ کیپٹل ازم ” اس میں انہوں نے کیا خوب بات کہی،

کارپوریٹ سرمایہ کا دوسرا بڑا زریعہ زمینوں کے بینکوں ہیں۔دنیا بھر میں کمزور ، بدعنوان مقامی حکومتوں نے وال سٹریٹ کے سٹہ بازوں، زرعی بزنس کی کارپوریشنوں اور چینی ارب پتیوں کو زمین کے بڑے بڑے قطعات کے مالک بننے میں مدد دی ہے۔بہرحال یہی ان کی مدد پانی پہ قبضہ میں بھی کرتے ہیں۔ہندوستان میں دسیوں لاکھ لوگوں کی زمین قومی مفاد کے نام پہ حاصل کرلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ خصوصی اقتصادی زونز ، انفراسٹرکچر پروجیکٹس ، ڈیمز ، ہائی ویز ، کار مینوفیکچرنگ ، کیمکل انڈسٹری اور فارمولا ون ریسنگ کے نام پہ لیکن نجی ملکیت کے تقدس کا قانون کبھی غریبوں کی زمین کے لئے لاگو نہیں ہوتا۔

ارون دھتی رائے اسی مضمون آگے چل کر لکھتی ہے کہ یہ جو جی ڈی پی کی گروتھ اور نوکریوں کے درمیان بڑا لازمی رشتہ بتایا جاتا رہا ہے ،20 سال میں ہندوستانی گروتھ کا جائزہ ہمیں اس کے نرے جھوٹ ہونے کو صاف بتادیتا ہے کہ جہاں ہندوستان کی 60 فیصد ورک فورس آج بھی سیلف ایمپلائی ہے اور90فیصد لیبر آج بھی غیر منظم سیکٹر میں کام کرتی ہے۔پاکستان میں بھی کہانی ہندوستان سے مختلف نہیں ہے۔یہاں بھی پبلک انٹرسٹ کے نام پہ غریبوں سے ان کی زمینیں چھینی جاتی ہیں اور میٹرو بس سے لیکر تھر میں کول فیلڈ کے پروجیکٹس تک سب کی یہی کہانی ہے۔اور نجی ملکیت کے تقدس کی دھجیاں غریبوں کی زمین کے معاملے میں جیسے اڑائی جارہی ہیں اس کا مظاہرہ ہم گوڑانو ڈیم اور بلاک 2 کول پاور فیلڈ میں کام کرنے والی ایس ای سی ایم سی کی جانب سے بخوبی دیکھ رہے ہیں۔

گوڑانو گوٹھ سمیت 12 گوٹھ کی زمینوں پہ سندھ تھر کول مائننگ کمپنی کا قبضہ ہونے جارہا ہے۔اور اس معاملے میں زمین کے اصل مالکوں کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی۔

آزادی کے بعد سے لیکر 80ء تک عوامی تحریکیں زرعی اصلاحات کے لئے جدوجہد پہ مشتمل تھيں یعنی جاگیرداروں سے زمینیں لیکر بے زمین کسانوں کو دی جائیں۔لیکن آج دولت کی تقسیم نو یا لینڈ ریفارم کی بات غیر جمہوری سمجھی جاتی ہے۔اور جو سب سے زیادہ ریڈیکل تحریکیں ہیں وہ بھی  چھوٹی سی ملکیت بچانے کے لئے ہیں۔لاکھوں قبائلی، آدی واسی اور غیریب کسان اپنی زمین سے محروم کرڈالے گئے اور وہ چھوٹے شہروں یا بڑے شہروں کے سلم ایریاز میں رہنے پہ مجبور کردئے گئے ہیں۔تو پاکستان کے اندر یہ سی پیک ، میگا پروجیکٹس کے نام پہ یہی کچھ ہورہا ہے۔اور اتنے بڑے پیمانے پہ بے دخلییاں ہمارے ہاں کسی تحریک کے ڈسکورس میں ایک بڑے ایشو کے طور پہ موجود نہیں ہیں۔

آئیں دیکھیں کہ ڈرٹی فیول یعنی کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹس کا مطلب آلودگی کے تناظر مین کیا بنتا ہے

پوری دنیا میں کوئلے کو ” ڈرٹی فیول ” کہا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے

زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا ایندھن خیال کیا جاتا ہے

اگر 500 میگا واٹ بجلی کوئلے سے پیدا کی جائے تو اس سے سالانہ 6 ملین

کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اور اگر ہم 7572 میگاواٹ بجلی پیدا کریں

تو اس کے لئے جو کوئلہ جلایا جائے گا اس سے تقریبا 90 ملین ٹن کاربن ڈائی

آکسائیڈ پیدا ہوگی ( اس کو اگر رانا محبوب اختر ” ماحولیاتی دھشت گردی

کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہیں ) ساہی وال میں 1320 میگاواٹ بجلی کوئلہ

جلاکر پیدا کرنے کا منصوبہ سالانہ 15 ملین ٹن سالانہ کاربن ڈائی آکسائیڈ

پیدا کرے گا اور اگر رحیم یار خان کا مقام ترنڈہ اور قصور کا مقام بلوکی

اور اسی طرح سے بھکّی وغیرہ میں بھی پاور پلانٹس کوئلے کو چلاکر بنتے ہیں

تو سینکڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سالانہ پیدا ہوگی

کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کاربن مانیٹرنگ فار ایکشن – سی اے آر ایم

اے آرگنائزیشن کے مطابق 60 سے زائد پارٹیکلز اور گیسز خارج کرتے ہیں جن

میں زھریلے دھاتی مادے ، نامیاتی مادے ، تیزابی گیسز ، سلفر ، نائٹروجن

آکسائیڈ ، سلفر آکسائیڈ اور پارٹیکل مادے شامل ہیں

دنیا میں 25 انتہائی بدترین پاور پلانٹس جو کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے

ہیں وہ کول پاور پلانٹس ہیں

کول پاور پلانٹس سلفر آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں –

نائٹروجن آکسائیڈ گرین ہاؤس گیسز میں شامل ہے جو نامیاتی کمپاؤنڈ کے ساتھ

ملکر سموگ بناتی ہے جو کہ نباتاتی حیات کے لئے تباہ کن ہے اور اس سے

موسمیاتی تبدیلیاں جو کہ ناسازگار ماحول نباتاتی زندگی کے لئے بناتی ہیں

بنتا ہے اور نباتاتی حیات کی قوت مدافعت بیماریوں کے خلاف کم ہوجاتی ہے

کول پاور پلانٹس سے نکلنے والی سلفر آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ پانی ،

آکسیجن اور دوسرے کیمائی مادوں سے جو ہوا میں ہوتے ہیں ملکر ری ایکشن میں

تیزابی بارش برسنے کا سبب بنتی ہے اور اس سے ہی سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک

ایسڈ بنتا ہے اور یہ زھریلے مادے جب بارش کے پانی میں ملتے ہیں تو یہ بڑے

علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور دریا ، جھیل ، سمندر ، تالاب ، زمینی پانی

اس سے متاثر ہوتا ہے ، جنگلات ، آبی مخلوق اس سے متاثر ہوتی ہے اور زمین

اس سے متاثر ہونے کے بعد نباتاتی حیات کے لئے انتہائی خطرناک بن جاتی ہے

چین ، امریکہ اور انڈیا جو کہ کوئلے سے بجلی بنانے میں سب ممالک سے آگے

ہیں وہاں پر تیس فیصد شہروں ميں تیزابی بارش ہوتی ہے

2004ء میں 95 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ، 90 فیصد سلفر آکسائیڈ اور

نائٹروآکسائیڈ کوئلے سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس نے پیدا کی

کول پاور پلانٹس ایک اور زھریلا مادہ خارج کرتے ہیں جسے نیوروٹاکسن مرکری

کہا جاتا ہے اور یہ مادہ ایک طرف تو خارج ہوکر دریاؤں ، تالاب ، ندی

نالوں میں جم جاتا ہے تو دوسری طرف یہ زمین کے اندر موجود پانی میں بھی

گھر کرتا ہے اور یہ پانی میں کائی لگاتا ہے اور اس پانی کے استعمال سے

بچے پیدا کرنے والی ماؤں کے رحم اور خون میں یہ نیوروٹاکسن شامل ہوجاتا

ہے اور اس سے رحم مادر میں جینین ، شیر خوار بچے ، کم عمر بچّے سب ہی

متاثر ہوتے ہیں ، ان کا اعصابی سسٹم کمزور ہوتا ہے ، غبّی پن ، گونگا پن

، اندھا پن کی بیماریوں کا شکار لوگ ہوجاتے ہیں

ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال چار لاکھ ، دس ہزار بچے متھائل مرکری کے ماؤں

کے رحم ميں شامل ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہيں ، کول پاور پلانٹس کے گرد

و نواح میں رہنے والی عورتوں کا 8 فیصد ایسا ہے جن کے خون ميں متھائل

مرکری کا لیول خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے

یہ جو نیورو ٹاکسن مرکری ہے اس سے مرکریک کلورائیڈ اور متھائیل مرکری

پیدا ہوتے ہیں اور دونوں انسانی جسم ميں سرطان زا – سرطان پیدا کرنے

والا مادہ کارسائینو جینز پیدا کرتے ہيں

کوئلے کے جلنے سے پاور پلانٹ کے اردگرد کی فضاء میں سلفیٹ ، نائٹریٹ ،

سوڈیم کلورائیڈ ، کاربن اور مائنرل ڈسٹ پر مبنی پارٹیکلز پیدا ہوتے ہیں

اور یہ انسانی بال سے بھی باریک ہوتے ہیں اور یہ پھیپھڑوں مين اندر تک

تہہ میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور جب سانس لیا جاتا ہے تو یہ پھیپھڑوں کی

کارکردگی کو نقصان پہنچادیتے ہیں ، دمہ کا مرض شدت اختیار کرتا ہے ، دل

کی بیماریاں ترقی کرتی ہیں اور پری میچور اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے اور

یہ زرات کول پاور پلانٹس کے صفائی میکنزم سے عمومی طور پر بچ نکلتے ہیں

ہر سال 30 ہزار افراد کول پاور پلانٹس کے باعث پری میچور موت کے قریب

ہوجاتے ہیں ، ہر سال 38 ہزار دل کے دورے ، 12000 مریض ہسپتال ميں اور 5

لاکھ 50 ہزار دمہ کے مریض کول پاور پلانٹس کی دین ہیں

کول پاور پلانٹس میں مشینری کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پانی کی بہت وافر

مقدار درکار ہوتی ہے اور اس کے لئے 28 کلومیٹر کے دائرے میں جس قدر پانی

خرچ کیا جائے گا اس سے خود مظفرگڑھ ہی نہیں بلکہ پورے سرائیکی وسیب میں

پانی کی دستیابی پر بہت منفی اثر پڑے گا

مرے سامنے طاہر جاوید کی ایک رپورٹ پڑی ہے جو انھوں نے بنیادی طور پر

حبکو کی جانب سے 1320 ميگاواٹ بجلی کوئلہ سے پیدا کرنے کے لئے پیش آنے

والی مشکلات بارے ایک پریزنٹشن میں ایک سیمینار کے اندر پیش کی تھی – اس

رپورٹ میں انھوں نے آغاز ہی کول کے ڈرٹی فیول ہونے اور اس کے لئے مغرب سے

فنانسر نہ ملنے کی جانب اشارہ کیا اور دستیاب چینی سرمایہ کاری کی طرف

اشارہ کیا لیکن یہ بھی کہا کہ اگر چین اس پروجیکٹ کو لگابھی دے تو اس کو

چلانے کے لئے درکار سرمایہ پھر مقامی طور پر لینا پڑے گا اور اس طرح سے

ایک نیا سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ کی لہر آئے گی ، پھر پاکستان میں کسی

کے پاس کول پاور پلانٹ کو انسٹال اور پھر آپریٹ کرنے کی مطلوبہ صلاحیت

نہين ہے ، اس نے آگ لگنے اور دھماکہ ہونے کے رسک کا بھی زکر کیا

پاکستان رینول انرجی بورڑ کی ویب سائٹ کہتی ہے کہ 100 میگاواٹ بجلی پیدا

کرنے کے لئے امپورٹڈ کول 26000 ہزار میٹرک ٹن ماہانہ جبکہ سالانہ 3 لاکھ

25 ہزار میٹرک ٹن چاہئیے اور طاہر جاوید کے مطابق 1320 میگا واٹ بجلی

پیدا کرنے کے لئے درکار کوئلہ لانے کے لئے 500 جہاز چاہئیے اور ہر روز

ڈیڑھ بحری جہاز جبکہ ٹرانسپورٹیشن ملک کے اندر اس کوئلے کو لانے کے لئے

1100 ٹرک روزانہ جبکہ اگر ٹرین کے زریعے لایا جائے تو ہر پنتالیس منٹ کے

بعد ایک ٹرین اور اسے کوئی کراکسنگ نہ پڑے جبکہ ریلوے کو اس کے لئے چار

بلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی اور اگر 660 میگاواٹ بجلی کوئلہ سے

پیدا کی جائے تو اس سے ایش یعنی راکھ 250 کے ٹی پی اے پیدا ہوگی تو اس کا

مطلب یہ ہوا کہ 28 کلومیٹر کے دائرے میں 7572 میگاواٹ کے لئے جو کوئلہ

جلے گا اس سے 2950 کے ٹی اے پی ایش پیدا ہوگی ، اس راکھ کو ٹھکانے لگانے

کے لئے جو ٹرانسپورٹیشن ہے اور اس راکھ کو کس جگہ ٹھکانے لگایا جائے گا

یہ سوال بھی بہت اہم ہے ، 7572 میگاواٹ بجلی مظفرگڑھ اور ساہیوال میں

1320 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے مطابق جو نیشنل ٹرانسمیشن لائن ہے اس کو

بڑھانے کی استعداد نیشنل ٹرانسمشن ڈسپیچ کمپنی کے پاس 23 کلومیٹر ماہانہ

ہے یہ رفتار ان منصوبوں کا ساتھ نہیں دے سکتی

اس کالم میں بس اتنا ہی لکھنے کی گنجائش ہے ، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے

واپسی کا سفر یورپ اور سینڈے نیوئن ملکوں نے بہت پہلے کرڈالا تھا اور اب

وہاں تیزابی بارش نام کی چیز معدوم ہوتی نظر آرہی ہے اور وہ اس ڈرٹی فیول

کی تباہ کاریوں سے بہت اچھی حد تک واقف ہیں اور وہاں ” گرین پیس “

تحریکوں نے حکومتوں کو گرین ہاؤس گيسز والے فیول کے استعمال کو کم سے کم

کرنے پر مجبور کیا ہے جبکہ ہمارے ہاں ” کول پاور پلانٹس ” کو ترقی کا بہت

بڑا قدم بناکر پیش کرنے والوں کی کمی نہیں ہے

مظفر گڑھ ، ساہیوال ، قصور ، رحیم یار خان یہ سب گنجان آبادی کے علاقے

اور ان علاقوں کی ماحولیات پہلے ہی کوئی مثالی نہیں ہے ، اس لئے یہاں پر

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے اتنے بڑے منصوبے یہاں کی ہوا ، یہآں کی زمین

، نباتات ، انسان ، حیوانات ، سب کے لئے بہت خظرناک ہیں اور اس سے سالانہ

لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے ، یہ پلانٹس انسٹالیشن ، آپریٹنگ سمیت کئی اور

بڑے تکنیکی امور میں اس علاقے تو کیا پورے پاکستان کے لئے کوئی بڑی

نوکریاں پیدا کرنے کا سبب نہیں بنيں گے ، ان کے جو اثرات ماحول پر ہوں گے

اس سے ریاست پر صحت ، پانی سمیت کئی اور امور ميں مزید فنڈز مختص کرنے

اور صحت ، سینی ٹیشن سمیت کئی اور شعبوں ميں بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی

ضرورت پڑے گی جوکہ پہلے ہی اس خطے میں ریاست بہت کم کررہی ہے اس سے اور

معاملہ گھمبیر ہوجائے گا

کچھ اور سوالات اس ضمن میں مرے ذھن میں ہیں جن کے میں جوابات باوجود کوشش

کے تلاش نہیں کرسکا

پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے ان مقامات پر کول پاور پلانٹس لگانے

کے لئے جو انوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ اسٹڈی کی اور جب اس کی منظوری دی

ہوگی تو اس کو علاقے کے لوگوں سے کیوں شئیر نہیں کیا گیا ؟کیا اس حوالے

سے کوئی کھلی سماعت کی گئی تاکہ سول سوسائٹی اپنے اعتراضات داخل کرسکتی

یا لوگوں کو اس قابل ہی خیال نہیں کیا گیا

میں نے برٹش کینالائزیشن ، کالونائزیشن اور برٹش سوشل انجئینرنگ کو پنجاب

کی چھے باروں کے مقامی آبادیوں کے لئے ریڈانڈیائزشن سے تعبیر کیا تھا

اور کئی مرتبہ لکھا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی ریڈانڈینائزیشن ہونے کا

یہ پروسس نہیں رکا بس یہ ہوا کہ رنگدار چمڑی والے سفید ذھنیت کے ساتھ

یہاں پر مسلط ہوگئے ہیں ، پہلے یہ سلسلہ اس خطے کی خام مال کی لوٹ کھسوٹ

، زمینوں کی الاٹمنٹ تک محدود تھا اور ایک اور نئی ریڈانڈینائزیشن شروع

ہورہی ہے اور وہ ہے کہ کارپوریٹ سرمایہ دارانہ ترقی ، انوسمنٹ ، توانائی

کے نام پر ڈرٹی فیول پر مبنی اس خطے کی ماحولیاتی تباہی ، لوگوں کی

زبردستی بے دخلی ، داخلی مہاجرت اور ان کے لئے بیمار زھریلی فضا کو مقدر

کیے جانے کا عمل

پاکستان بھر کی سول سوسائٹی کو ، سیاسی کارکنوں ، سماجی کارکنوں ،

انسانی حقوق کی تںطیموں ، ماحولیات پر کام کرنے والوں کو ڈرٹی فیول پر

بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے خلاف بیدار کیا جانا چاہئیے کیوں ماحولیاتی

آلودگی کا یہ سفر  یہاں تک  رکنے والا نہیں ہے

گوڑانو ڈیم ایشو اور اس کا حل ۔رپورٹ تھر وائس فورم

تھرپارکر ضلع انیس ہزار چھے سو اڑتیس مربع کلومیٹر پہ پھیلا ہوا دنیا کا سب سے برا اور واحد زرخیز اور سرسبز شاداب صحرا پہ مشتمل ہے۔اور یہ سندھ پاکستان کے تمام اضلاع میں سب سے نچلی سطح کا ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس ( انسانی ترقی کا اعشاریہ ) رکھنے والا ضلع بھی ہے۔اور اس ضلع میں 46 فیصد علاقہ صحرا پہ مشتمل ہے۔اور اس ضلع کی 80 فیصد آبادی ہندؤ ہے جبکہ 20 فیصد آبادی مسلم ہے جس میں 95 فیصدی آبادی صوفی سنّی اور شیعہ ہے جبکہ پانچ فیصد دیوبندی اور اہلحدیث ہیں اور یہ دیوبندی اور اہلحدیث گزشتہ 20 سالوں میں ایک فیصد سے 5 فیصد ہوئے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد باہر سے آنے والوں کی ہے۔صحرائی علاقے میں دنیا کے چند بڑے کوئلے کے ذخائر میں سے ایک یہاں موجود ہے جس کا اندازہ 170 بلین ٹن لگایا گیا ہے۔اور ایک واحد علاقے میں یہ شاید دنیا کا واحد اتنا بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے۔

 

tharp

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ تھر میں جہاں پہ کوئلے کے ذخائر موجود ہیں اس کو تھر کول فیلڈ کہا جاتا ہے اور اسے 14 مختلف بلاک میں تقسیم کیا گیا ہے۔اور ان چودہ مختلف بلاکوں سے کوئلے نکالنے کا کام مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس ہے۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی – ایس ای سی ایم سی کو بلاک 2 الاٹ کیا گیا گیا ہے جو کہ 95اعشاریہ 5 مربع کلومیٹر پہ مشتمل ہے۔اور یہ تھر کول فیلڈ کے کل رقبے کا ایک فیصد بنتا ہے۔اور اس الاٹمنٹ کے لئے بظاہر کھلے عام نیلام رکھا گیا تھا۔

جب سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے 2009-10 میں یہ پروجیکٹ شروع کیا تو لوگوں نے مزاحمت نہیں کی تھی بلکہ مزاحمت اس وقت شروع ہوئی جب ایس ای سی ایم سی /حکومت سندھ نے اس پروجیکٹ کے متاثرین کی دوبارہ آبادکاری کے لئے کوئی فریم ورک پالیسی نوٹی فائی کرنے کی بجائے مقامی لوگوں سے زمین خردنے کے لئے 100 سالہ پرانے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کا استعمال کیا۔یہ واضح طور پہ انٹرنیشنل کنونشن برائے اقتصدی ، سماجی اور کلچرل حقوق –آئی سی ای ایس سی آر اور ان بین الاقوامی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے جس پہ پاکستان نے دستخط کئے ہوئے ہیں۔

 

coal-field

ایس ای سی ایم سی اور سندھ حکومت کا مشترکہ وینچر

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی حکومت سندھ اور اینگرو پاور جین لمیٹڈ (ای پی ایل) کے درمیان الترتیب چالیس ،ساٹھ کی شراکت داری کی بنیاد پہ بنائی گئی۔اس جوائنٹ وینجرر انتظامات کے تحت حکومت سندھ نے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیکورٹی کی فراہمی ، سائٹ تک رسائی ، زھریلے پانی کی نکاسی اور اس کا ذخیرہ اور اس حوالے سے جو لوگ بے دخل ہوں گے ان کی دوبارہ آبادکاری کرنا ہے۔جبکہ ایس ای سی ایم سی چینی مشینری انجئیرنگ کارپوریشن کے ساتھ ملکر کوئلے کی کانوں سے کھدائی کرکے کوئلہ نکالے گی۔

ایس ای سی ایم سی اور اس کی شراکت دار چینی کمپنی نے 2009-10ء میں بیس لائن بنانے ، ڈیٹا کلیکشن اور فیزیبلٹی کے لئے درکار اقدامات اٹھانے کا کام شروع کیا۔اس کام بلاک 2 میں مقیم تھر کی آبادی نے بالکل مزاحمت نہیں کی اور وہ اسے اپنی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ خیال کررہے تھے۔لیکن اس سال جون 2016ء کے آتے آتے ایس ای سی ایم سی کی غلط کاریوں اور حکومت سندھ کی غفلت کے سبب مقامی لوگوں کی سب امیدیں دم توڑنے لگیں۔

کان سے پانی نکالنے اور اس کے ذخیرہ کرنے کا ایشو

زیرزمین پانی کی تین تہیں ہیں۔اور کانوں کو کھودنے کی شروعات کرنے کے لئے پہلی تہہ سے پانی کو باہر نکالنا ضروری ہے۔ہیگلر بیلے کی ای ایس آئی اے رپورٹ کے مطابق جو اوپر والی سطح اور نچلی سطح پہ پانی ہے اس کی مقدار کا اندازہ لگایا جاچکا ہے-جو اوپر والی پہلی سطح ہے اس کا پانی سب مرسیبل پمپوں کے زریعے سے نکالا جائے گا۔پانی کے نکالے جانےکی شرح 990 لٹر فی سیکنڈ لگائی گئی ہے اور کھدائی کے دوران کسی خرابی سے بچنے کے لئے گراؤنڈ واٹر جدول کو نیچے لانے کے لئے پانی نکالنے کا مکمل سسٹم بروئے کار لایا جائے گا۔اس مقصد کے لئے 28 ڈی واٹرنگ ویل کھدائی کی جگہ کے اردگرد نصب کئے جائیں گے۔کھدائی کی جگہ کے بدلاؤ پہ ہر دو بعد سال 4 نئے ڈی واٹرنگ ویل کی ضرورت ہوگی اور جبکہ کچھ پہلے سے موجود کنوؤں کو بھی بدلنا پڑے گا۔ان کنوؤں سے پانی پائپ لائنوں کے زریعے سے پانی ذخیرہ کرنے کی جگہ پہ پہنچایا جائے گا۔اور یہ حکومت سندھ کرے گی۔

 

table

ہیگر بیلے جرمن کمپنی کی اسسمنٹ رپورٹ سے صاف پتا چلتا ہے کہ گوڑانو گوٹھ کی سائٹ کو اس مقصد کے لئے انہوں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔نچلے نقشے میں ہمیں سالٹ لیک کا فاصلہ کانوں کی جگہ سے صاف نظر آرہا ہے۔

salt-lakes

ایس ای سی ایم سی نے ایک دعوی یہ بھی کیا کہ کنسلٹنٹ آر ای ڈبلیو اور این ای ڈی یونیورسٹی نے اسسمنٹ کی جس میں ڈکر چھو (جھیل ڈکر شاہ ) اور گوٹھ گوڑانو والی سائٹ بھی شامل تھیں۔آر ای ڈبلیو کی رپورٹ سے تو صرف یہ پتا چلتا ہے کہ اس نے اوورآل فیزبیلٹی کی اسٹڈی کی اور اس نے پانی کی نکاسی اور ذخیرہ میں سوائے سالٹ لیک اور رن کچھ کے اور کسی سائٹ کا زکر نہیں کیا۔اور ایس ای سی ایم سی کے خرچے پہ بلاک 2 سے باہر فیزبیلٹی کی منطق بھی نہیں بنتی جبکہ اوپر زکر کیا  جاچکا کہ یہ زمہ داری حکومت سندھ کی ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی انجئیرنگ ایسوسی ایٹ فرم سے جو فزیبلٹی تیار کرائی گئی وہ ڈکر شاہ جھیل میں زھریلا پانی ڈالنے کی ہے اور اس میں بھی گوڑانو گوٹھ والی سائٹ کا زکر نہیں ہے۔

ned

گوڑانو ڈیم ایشو

اس وقت سندھ اینگرو کول مائننک کمپنی جس جگہ بلاک دو کا ذھریلا پانی ذخیرہ کرنے کے لئے جس جگہ ڈیم تعمیر کررہی ہے وہ تحصیل اسلام کوٹ میں یونین کونسل گرایانچو کا دیہہ مٹھارو چھوٹو میں واقع ہے اور یہ بلاک 2 سے 26 کلومیٹر دور ہے۔اور اس جگہ پہ نہ صرف کوئلے کی کھدائی کے دوران نکلنے والے پانی کو ذخیرہ کیا جائے گا بلکہ یہیں پہ کول پاور پلانٹ سے نکلنے والا ذھریلا پانی بھی جمع کیا جائے گا جیسا کہ فیزبیلٹی رپورٹ سے ظاہر ہے۔اس مقصد کے لئے 1500 ایکٹر زمین لی جارہی ہے۔اور 1500 ایکٹر زمین میں صرف532 ایکٹر زاتی ملکیت ہے جبکہ باقی کی کی زمین کمیونل ہے اور مویشیوں کی چراگاہوں پہ مشتمل ہے۔اس منصوبے سے 12 گوٹھ براہ راست اور بالواسطہ متاثر ہوں گے، 15000 لوگ بے گھر ہوں گے ، 26 میٹھے پانی کے کنويں اور 5 قبرستان متاثر ہوں گے۔

ایشو اس حوالے سے یہ ہے کہ اینگرو کمپنی پہ وفاقی حکومت کا دباؤ ہے کہ کم از کم 2018ء سے پہلے پہلے وہ ایک کول پاور یونٹ کو تیار کردے تاکہ اس کو الکشن سٹنٹ کے طور پہ استعمال کیا جاسکے۔اور اس جلدی جلدی میں حکومت سندھ نے یہ کیا کہ ایس ای سی ایم سی کو کہا کہ وہ اپنے طور پہ پانی کی نکاسی کا منصوبہ بروئے کار لے آئے اور اس پہ جو خرچہ اٹھے گا وہ بعد میں سندھ حکومت ادا کردے گی ۔اب ایس ای سی ایم سی اسے اپنے طور پہ تیار کررہی ہے۔

سٹریٹجک انوائرمینٹل اور سوشل امپیکٹ اسسمنٹ

حقیقت میں حکومت سندھ کو چاہئیے تھا کہ وہ سٹریٹجک انوائرمینٹل اینڈ سوشل امپیکٹ اسسمنٹ تھر کول مائننگ اور اس سے متعلقہ پروجیکٹس کے لئے کرانی تھی۔لیکن اس حوالے سے حکومت سندھ نے آج تک کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کیں۔

حکومت نے 6000 ایکڑ یعنی 24 ربع کلومیٹر رقبہ ری سیٹلمنٹ ایکشن پلان کو سامنے لائے بغیر حاصل کی۔سول سوسائٹی کے کارکنوں اور مقامی لوگوں نے مختلف فورموں کے زریعے سے آواز اٹھائی اور ری سیٹلمنٹ کے حوالے سے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی دیں لیکن ایک بھی نہ مانی گئی۔یہاں تک کہ کسی ایک ممبر پارلیمنٹ نے 9100 مربع کلومیٹر کے اندر رہنے والے مقامی لوگوں کی نوآبادکاری جیسے اہم ایشو پہ اسمبلی میں کوئی ایک بل تک لانے کی تکلیف گوارا نہیں کی۔اتنے اہم اور سنجیدہ ایشو پہ اراکین پارلیمنٹ کا اس قدر برا رویہ ان کی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔اس طرح ری سیٹلمنٹ کا جو ایشو تھا وہ سارا کارپوریشن کے منافع کے مقابلے میں نظر انداز کردیا گیا۔

نوآبادکاری پلان پہ اسقدر زور دینے کی وجہ وہ پوٹنشل رسک ہے جو اس پروجیکٹس کی وجہ سے مقامی آبادی کو درپیش ہوں گے اور ان میں زمینوں سے بے دحلی ، بے روزگاری ، بے گھری ، مارجنلائزیشن ، خوراک کا عدم تحفظ ، اجتماعی پراپرٹی ریسورسز تک رسائی کے نقصانات وغیرہ شامل ہیں

بلاک 2 اور بلاک 5 کے اندر آنے والی زمینوں میں روڈ اور ائرپورٹ کی تعمیر کے دوران ہونے والی زیادتیوں کے باوجود تھر کی عوام نے ایس ای سی ایم سی اور دوسری کمپنیوں کا کشادہ دلی سے سواگت کیا اور ان کو کہا گیا کہ یہ کمپنیاں ان کی زندگیاں بدل دیں گی۔لیکن گزرتے سالوں میں یہ ظاہر ہوگیا کہ یہ جو سارا ترقی کا شور ہے اس کا مقصد تھری عوام کا استحصال کرنا ، ان کو بے دخل کرنے اور ان کو بے عزت کرنے کے ساتھ ساتھ تھری لینڈ کی خصوصی لینڈ اسکیپ کو بے شکل کرنا اور ان کی ایکولوجی اور کلچر کو تباہ کرنا ہے

http://engropowergen.com/wp-content/uploads/2012/PDF/R2M03THP-Final_Report-ESIA_of_Thar_Coal_Block_II_Mining.pdf

http://engropowergen.com/wp-content/uploads/2012/PDF/R2M03THP-The_Appendices-ESIA_of_Thar_Coal_Block_II_Mining_Pr.pdf

جس فرم سے ای ایس ای اسسمنٹ کروائی گئی اس کی دوجلدوں میں  رپورٹ کی پی ڈی ایف فائل اینگروپاور جین کی ویب سائٹ پہ موجود ہے اور اس رپورٹ میں حکومت سندھ کی جانب سے بدین سے لیکر اسلامکوٹ تک رسائی کے لئے روڈ ، واٹر سپلائی چینل کی تعمیر ، پائپ لائن انسٹالیشن ، اس سے جڑا انفراسٹرکچر کانوں سے پانی جو نکلے گا اس کی نکاسی اور پانی کی سپلائی جیسے منصوبوں کی ای ایس آئی اسسمنٹ شامل نہیں تھی

سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی نے کبھی بھی ای ایس ای اے رپورٹ گوڑانو ڈیم پر کبھی شئیر نہیں کیا اور مختلف مواقع پہ جو ڈیٹا کمپنی حکام نے شئیر بھی کیا تو ایک دوسرے سے ٹکراتا ہے اور صاف تصویر پیش نہیں کرتا

حکومت سندھ اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے پاس اس پروجیکٹ سے براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہونے والے گوٹھوں اور آبادی کے لئے کوئی ری سیٹلمنٹ پلان موجود نہیں ہے۔اور یہاں تک ان کی زمین کے استعمال ، فصلوں کے نقصان ، درختوں کے کاٹے جانے جیسے اقدامات پائپ لائن بچھاتے ہوئے اور ڈیم کی تعمیر کے دوران گاڑیوں اور مشینری کی نقل و حرکت سے ہوگا اس کا معاوضہ دینے کا پلان بھی نہیں ہے اور اسلام کوٹ کے 20 گوٹھوں کو باہم ملانے والا اور ان کو اسلام کوٹ سٹی سے ملانے والا واحد روڈ بھی اس ڈیم کی زد میں ہے

متاثرین یہ دیکھ رہے ہیں

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کو اپنے منافع سے غرض ہے اور اس کے لئے اسے مقامی آبادی کا جس طرح سے بھی استحصال کرنے کا موقعہ ملے یہ کررہی ہے۔اور یہ انتہائی قابل مذمت ہے

زھریلا پانی یقینی بات ہے ماحولیاتی تباہی لے کر آئے گا جو یہاں پہ سٹور ہوگا

یہ پانی زیرزمین پانی کو بھی ذھریلا کردے گا اور اس سے زرعی زمینوں کی تباہی ہوگی

اس پروجیکٹ سے یہان کے لوگوں کا کوئی خوشحال مستقبل نہیں ہوگا،وہ بے زمین ہوں اور اپنی آبائی زمین سے محروم ہوجائیں گے

مقامی آبادی کا کلچر ، روائیت اور اقدار سب خطرے سے دوچار ہوں گی

باپ بیٹے کی سیاست بانجھ کیوں ہے ؟

 

یہ پہلا موقعہ ہے کہ میں نے 27 دسمبر پہ کچھ نہیں لکھا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تاریخ کے اس پرآشوب دور میں مری تحریروں سے کسی کو یہ غلط فہمی ہوجائے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک کی مجبور و مظلوم اقوام ، کچلی ہوئی اور پسی جانے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی ترجمانی کررہی ہے۔اور میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ فریب بھی نہیں دینا چاہتا کہ سندھ جہاں پاکستان پیپلزپارٹی پوری قوت کے ساتھ حکومت کررہی ہے وہاں کے محنت کشوں، کسانوں ، ہاریوں ، طالب علموں، عورتوں اور اقلیتوں میں یہ احساس ہے کہ ان کے ہاں ایک عوامی حکومت کام کررہی ہے اور وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، پیروں، ودردی و بے وردیی نوکر شاہی ، ٹھیکے داروں ، سٹے باز سرمایہ داروں، اور عالمی سرمایہ داروں کے مقابلے میں سندھ کے محنت کشوں، کسانوں، ہاریوں ، تھریوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پوری قوت سے سندھ میں نیولبرل ازم ، اقربا پرور  سرمایہ داری ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منافع خوری اور میگا پروجیکٹس کے نام پہ بڑے پیمانے پہ تباہی پھیلانے کا کام بالکل ویسے ہی کررہی ہے جیسے یہ کام پاکستان مسلم لیگ نواز وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں کررہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف خیبرپختون خوا میں کررہی ہے۔

 

protest-camp-thar-3

ڈسٹرکٹ تھر میں تحصیل اسلام کوٹ کے 12 گوٹھوں کے تھری باشندے اپنی بے دخلی کے خلاف 70 دن سے اسلام کوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے طور پہ بیٹھے ہیں لیکن کوئی ان کی بات نہیں سن رہا

آپ کو بلاول بھٹو زرداری کی بلوچستان جاکر ڈسٹرکٹ ہسپتال کوئٹہ کے سامنے صحافیوں سے کی جانے والی گفتگو اور اس دوران بہائے جانے والے آنسو یاد ہوں گے۔لیکن کل 27 دسمبر 2016ء کو گڑھی خدا بخش میں شہیدوں کے قبرستان میں کھڑے ہوکر نہ تو باپ آصف زرداری اور نہ ہی بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ پاکستانی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کے جوانوں ، ادیبوں، شاعروں، کھلاڑیوں، سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں بند کی جائیں، جبری گمشدہ افراد کو برآمد کیا جائے، جن کا ماورئے عدالت قتل ہوا اور مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں ان کے زمہ داران کا سراغ لگایا جائے۔اور سی پیک کے نام پہ گوادر کے اندر مقامی لوگوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کے آگے روک لگائی جائے۔اور سب سے بڑھ کر بلوچستان میں ایف سی ، فوج ، ایجنسیوں کی بھیڑ کم کی جائے۔بلوچستان میں حافظ سعید ، رمضان مینگل سمیت جہادی اور فرقہ پرست تنظیموں کی سرپرستی بند کی جائے اور ان کو بلوچ قوم کے خلاف بطور پراکسی استعمال کرنا بند کیا جائے۔میں آپ کو یہاں یہ بریکنگ نیوز بھی دے رہا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا ادارہ یعنی سی ای سی کے اندر اجلاس میں بلوچ ایشو ایجنڈے پہ تھا ہی نہیں اور سرے سے اس پہ بات ہی نہیں ہوئی۔یعنی اس ملک کی کسی بڑی سیاسی جماعت کو بلوچ قوم کی مصیبتوں اور عذاب سے کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں اور اس کی صرف و صرف ایک وجہ ہے کہ سی پیک کے نام پہ جو ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کی جو سرمایہ کاری ہے اس میں سب اپنا اپنا حصّہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور اس سی پیک اور چینی مداخلت سے تھر تباہ ہوتا ہے تو ہوجائے، تھری بے دخل ہوں تو ہوں، ٹھٹھہ –سجاول کے غریب ملاح ذوالفقار آباد بننے سے تباہ ہوں تو ہوں، گوادر خود گوادر کے رہنے والوں کے لئے اجنبی بن جائے تو بن جائے اور گلگت و بلتستان کی زمینوں پہ باہر سے لوگ قبضہ کرلیں تو کرلیں اور اس پہ اگر کوئی آواز اٹھائے تو ان کو مار لگائی جائے۔، سپریم کورٹ تک 40 سال تک کی سزا سنادے(جیسے بابا جان کے معاملے میں ہوا) اور ٹارگٹ کلرز لاڑکانہ میں بھرے چوک میں گولیاں مار کر فرار ہوجائیں۔کیا شبیر بلوچ کسی کا بیٹا ، کسی کا بھائی ، کسی کا شوہر نہیں ہے؟ یہ جو چار ہزار سے زائد بلوچ جبری گمشدہ ہیں یہ کسی کے کچھ نہیں لگتے؟اور جن کی لاشيں ملیں وہ کس سے کہیں کہ ان کا انتقام لیا جائے؟

 

پاکستان پیپلزپارٹی کا تکفیری اور نام جہادی دہشت گرد تنظیموں کے فعال ہونے اور آزادانہ کام کرنے کے بارے میں بھی دوھرا معیار ہے۔سندھ میں تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم اہلسنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہے اور اس کے لوگ بلدیاتی اور قومی و صوبائی الیکشنوں میں حصّہ لیتے ہیں جبکہ حاجی سراج سومرو جیسے سپاہ صحابہ کے لوگ (عمر کوٹ میں اس کا بیٹا خالد سراج سومرو اب مونسپل کمیٹی کا چئیرمین ہے) پی پی پی کی صفوں میں اہم مقام حاصل کرچکے ہیں اور خالد سومرو مرحوم کا رشتہ دار قیوم سومرو سینٹر ہے اور بادشاہ گر ہے۔بلاول بھٹو کو مسلم لیگ نواز کی حکومت کی کابینہ میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے وزیر نظر آتے ہیں لیکن اپنی صفوں میں بیٹھے شمر ان کو نظر نہیں آتے۔بلوچستان میں رمضان مینگل ، اور حافظ سعید کا نیٹ ورک اور تھر میں سپاہ صحابہ اور جماعت دعوہ کا نیٹ ورک ملٹری اسٹبلشمنٹ کی مدد سے کام کررہا ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کو 2018ء کے الیکشن میں چونکہ اقتدار تک پہنچنے کی ہر صورت سبیل کرنی ہے اس لئے وہ نہ تو اپنے سندھ کے اندر کئی “جھنگ ” پیدا ہوجانے پہ تشویش زدہ ہے اور نہ ہی اسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جہادیوں اور فرقہ پرستوں کی یاری بارے کوئی بات کرنی ہے۔شیعہ نسل کشی کا سب سے بڑا سنٹر کراچی بنا رہا ہے ، اس کے بعد بلوجستان ہے ،پھر خیبرپختون خوا رہا ہے۔اور پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے سابقہ پانچ سالہ دور میں سب سے زیادہ گلے سے ان لوگوں کو لگائے رکھا جوکہ تکفیریوں کے ہمدرد تھے یا سہولت کار تھے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی چئیرمین شپ شیرانی کو ، طاہر اشرفی کو رکنیت دی گئی اور سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سربراہ ضیاء القاسمی کے بیٹے زاہد القاسمی کو قریب کیا گیا اور سندھ کے اندر اورنگ زیب فاروقی کو وی آئی پی سیکورٹی پروٹوکول دیا جاتا رہا اور اس حوالے سے جب فرح ناز اصفہانی نے سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی میں مری درخواست پہ بات کرنے کی کوشش کی تو سب سے زیادہ اس ایشو پہ مخالفت کا سامنا ان کو شیری رحمان ، سراج درانی ، قیوم سومرو  اور فریال تالپور کی جانب سے کرنا پڑا تھا۔اور مرے پاس وہ ای میل محفوظ ہے جس میں فرح ناز اصفہانی نے کہا تھا کہ اگر وہ اس معاملے پہ اور کھل کر بولیں تو ان کی اور ان کے شوہر کی فیملی جو کراچی میں مقیم ہے کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔لیاری کے اندر عزیر بلوچ تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ کا سرپرست بنا رہا اور اسے پاکستان پیپلزپارٹی نے پوری طرح سے استعمال کیا اور ان کے زریعے سے لیاری کے اندر جو کھیل کھیلا جارہا تھا پی پی پی کی قیادت اس سے واقف تھی اور یہاں سے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے اور بلوچ نوجوان جو فعال تھے ان کو مارديے جانے یا غائب کردئے جانے یا ان کے فرار ہونے کی کہانی سے کون واقف نہیں ہے؟ لیاری کی سڑکیں ، لیاری کی گلیاں سب تباہ و برباد ہیں، پینے کا صاف پانی نایاب ہے اور صحت کی سہولتیں غائب ہیں اور تعلیم کی سہولتیں بھی نہیں ہیں، یہ کراچی کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور اسی طرح ملیر میں جہاں پی پی پی بہت محبت کا دعوی کرتی ہے وہاں بھی عام آدمی کے لئے ترقی نام کو نہیں ہے۔اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ان کو عوام کا درد ہے اور دکھ ہے۔

 

پنجاب میں سرائیکی خطے کی قیادت انہوں نے سرائیکی خطے کے مفادات ، حقوق ، اس کی قومی شناخت کو حکمران طبقات کے آگے گروی رکھنے والے خاندان کے فرزند کے ہاتھ گروی رکھ دی ہے۔ مخدوم زادہ حسن محمود کا بیٹا مخدوم احمد محمود پی پی پی جنوبی پنجاب کا صدر ہے اور جنرل سیکرٹری ایک اور پی پی پی دشمن خاندان کی جاگیردارنی نتاشا دولتانہ کے ہاتھ ہے۔اور اس پارٹی کی اکثریت جو اپنے آپ کو کارکن کہتی ہے دیہاڑی باز ، نظریات سے عاری اور ہر وقت بس داؤ لگانے کے چکر میں رہتی ہے اور اس کے ہاں ” لیفٹ کے نظریات ” کی کوئی وقعت سرے سے ہے ہی نہیں۔مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پی پی پی کی بنیادی تاسیسی دستاویز ایک ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسے تو خود ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیکر دفن کیا ، پھر 74ء میں اسلامی بنیاد پرستوں کے دباؤ میں آکر مذہبی رجعت پرست اصلاحات متعارف کراکے دفن کردیا تھا۔اور آخری دنوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے جو کچھ بلوچ ، پشتون ، سندھی قوم پرستوں ، کمیونسٹوں ، بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف کیا اور جس طرح سے فوج کو ایرانی شاہ کو خوش کرنے کے لئے بلوچستان میں استعمال کیا وہ اپنی جگہ ایک الگ المناک داستان ہے۔کم از کم بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے المناک انجام سے سبق حاصل کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہونے سے گریز کیا۔اور اب بھی بے نظیر بھٹو وطن واپسی پہ شرباز مزاری، معراج محمد خان ، نواب خیربخش مری سے ملی تھیں اور اس سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کم از کم اسٹبلشمنٹ کے بلوچستان بارے ڈیزائن سے اتفاق نہیں رکھتی تھیں اور ان کو اپنا کندھا نہیں دینا چاہتی تھیں۔

   اور پاکستان پیپلزپارٹی کی باپ بیٹے پہ مشتمل یہ نئی قیادت اس قدر بے ضمیر اور بزدل ہے کہ یہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سراغ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ایوانوں تک جاتا دیکھ کر ڈر گئی اور اب یہ اس قتل کو صرف نواز شریف کے گلے ڈالنا چاہتی ہے اور اس نے تو سلمان تاثیر کے قتل پہ چپ سادھ لی تھی اور لطیف کھوسہ نے جب گورنر کا حلف لیا تو سامنے سلمان تاثیر کی تصویر تک نہ رکھ سکا اور اس وقت کسی نے سلمان تاثیر کا نعرہ تک بلند نہ کیا اور اس گورنر ہاؤس میں اسے کبھی سلمان تاثیر کے لئے تعزیتی ریفرنس تک منعقد نہ کی اور شہباز بھٹی کے لئے دعائیہ تقریب تک نہ کی گئی تھی۔آصف زرداری اور بلاول بھٹو اوکھلی میں سر دینا نہیں چاہتے ، نہ ہی وہ سر پہ موصلے برستے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس لئے میں کہتا ہوں آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت اور ان کے اردگرد جمع لوگ نہ صرف کردار کے حوالے سے دیوالیہ پن کا شکار ہیں بلکہ وہ نظریاتی طور پہ بھی بالکل ہی بانجھ ہیں اور ان کو گلوریفائی کرنا پاکستان کے محنت کشوں، کسانوں ، مظلوم و مجبور اقوام ، مذہبی فرقوں کے مصائب کے زمہ داران کے ساتھ کھڑا ہونے کے مترادف ہے

پاکھنڈی۔افسانہ

mimicry-toad-615

 

بہت دھند ہے بھئی اور اوس بھی ہے۔یہ گاڑی کے شیشے کیوں دھندلے ہوتے جارہے ہیں

اس نے یک دم سے ڈرائیور کو مخاطب کیا تو وہ گڑبڑا گیا

ڈرائیور دیکھ رہا تھا کہ رات ہوچلی تھی اور آسمان صاف اور تاروں سے مزین اور چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی

خنکی تھی باہر لیکن اندر تو گاڑی میں ہیٹر آن تھا

پھر یہ ان کی مالکن کیا کہہ رہی تھی

مالکن ابھی کافی شاپ میں ہوئی ایک تقریت سے باہر نکلی تھی اور تب سے کسی سوچ میں گم تھی

خیر جب مالکن نے بھی دوبارہ پلٹ کر نہ پوچھا تو وہ بھی چپ کرگیا

اس دوران وہ پھر اپنے خیالوں میں ڈوب گئی تھی

دھند باہر نہیں تھی اس کے اپنے اندر تھی ،جو کافی شاپ سے باہر آکر اور گہری ہوگئی تھی

وہ بی اے کرنے کے بعد گھر بیٹھنا نہیں چاہتی تھی لیکن گھر والے یونیورسٹی بھیجنے کے حق میں نہیں تھے تو اس نے آگے پڑھنے کا یہ راستہ نکالا کہ اپنے ہی شہر کے ایک مدرسے میں ایم اے اسلامیات میں داخلہ لے لیا۔یہ آقائے منصور کا مدرسہ تھا جو اس کے گھروالوں کے مرجع تقلید تھے۔وہ اپنے گھر سے جو شہر کے آخری نکڑ پہ ایک گاؤں کی سرحد کے ساتھ تھا روز نو کلومیٹر کا سفر بس کے زریعے سے طے کرتی تھی اور اسی بس میں ایک اور آدمی کتابیں بغل میں دبائے اور ایک ہاتھ میں بریف کیس پکڑے روز سوار ہوتا تھا-اس نے کبھی تو تھری پیس سوٹ نکٹائی کے ساتھ پہنا ہوتا اور کبھی صرف جینیز اور شرٹ اور اس پہ کوٹ، اور مفلر-ان دنوں سردیاں تھیں ،پھر گرمیاں آگئیں مگر لباس یہی رہا بس مفلر اور جرسی وغیرہ ترک کردی گئیں۔اس کی آنکھوں پہ ایک نفیس سی عینک ہر وقت دھری رہتی تھی-ہونٹ پتلے تھے اور اور چہرہ کتابی کہ جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل ڈول جائے۔اس کا دل بھی دھک دھک کرنے لگتا تھا۔لیکن کبھی اسے اس سے بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔پھر ایک دن اس نے اخبار میں اس آدمی کی تصویر دیکھی اور ساتھ انٹرویو تھا-پتا چلا کہ وہ انگریزی کا استاد تھا اور ایک کالب میں پڑھارہا تھا جبکہ تنقید بھی لکھتا تھا۔ایک دن اس نے اسے بس سٹاپ پہ کھڑے اپنا تعارف جھجھکتے ہوئے کرادیا-اور یوں بات چل نکلی تھی-اس نے ایم اسلامیات کیا اور پھر ایم فل اور اس کے بعد اسلامیات ہی میں پی ایچ ڈی کے لئے وفاقی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور اس کام میں آقائے منصور نے اس کی بڑی مدد کی تھی۔وہ بھی یہیں ایک کالج میں پڑھارہا تھا-یہاں ملنے کے موقعے زیادہ ملے۔وہ جب بھی اسے ملتا تو اسے کہتا کہ تم فلاں کو پڑھو ، فلاں کو پڑھو ، تمہیں یہ نہیں پتا ، تمہیں وہ نہیں پتا۔اور اس کے پاس اتنے سارے نام اور اقوال تھے دوھرانے کو کہ وہ اس کے سامنے بہت دبی دبی رہتی،اور اسے اپنی کم علمی کا احساس ستانے لگتا۔اور اسی دوران وہ کب اس کے قریب تر ہوتی چلی گئی اسے پتا ہی نہ چلا۔اور وہ بار بار اپنی بیگانگی ، تشنگی ، اور پیاس کی بات کرتا جسے وہ وہ بس ایک طرح سے ہی کم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتی اور یہ اسے کہتا کہ رہتا کہ جس احساس بے گانگی کا وہ شکار ہے تم اس سے ابھی واقف ہی نہیں اور یہ اپنی کوتاہی اور کمزوری کو الزام دیتی رہتی۔پھر کئی دن گزرگئے اس کا کوئی فون نہ آیا۔یہ دو ہفتوں کے انتظار کے بعد اس کے گھر پہنچی جہاں وہ رہ رہا تھا تو وہاں تالا پڑا ہوا تھا۔اس نے اگلے دن کالج پتا کیا تو پتا چلا کہ یہاں سے استعفی دیکر وہ امریکہ چلا گیا۔اسے بڑا دھچکہ لگا۔لیکن پھر اسے خیال آیا کہ شاید وہی اس کی سطح پہ جاکر سوچنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے میں ناکام رہی تھی۔اس نے پی ایچ ڈی تو اسلامیات میں کی تھی لیکن ادب سے اس کی دلچسپی اتنی بڑھی کہ عربی ، انگريزی ، جرمن ، فرنچ ، ہندی زبانیں اس نے ادب پڑھنے کے لئے سیکھ لیں اور اس دوران کب خود کہانی لکھنا شروع کا یاد نہیں مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ صف اول کی لکھت کار بن گئی۔ایسے ہی میں اسے امریکہ ایک کانفرنس کا بلاوہ آگیا۔وہ وہآن جب پیپر پڑھنے پہنچی تو وہ بھی وہاں اپنا مقالہ پڑھنے آیا تھا۔وقت نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔اسے دیکھ کر وہ ایسا بن گیا جیسے واقف نہ ہو، لیکن اس نے بھی کوئی خاص پرواہ نہیں کی۔لیکن جب وہ مقالہ پڑھنے کھڑا ہوا تو ابھی چند سطریں پڑھ پایا تھا کہ ہال سے ایک تیز آواز بلند ہوئی اور وہ یہ تھی کہ ” تمہارے پاس ان بیس سالوں میں یہی ہے کہنے کو ، اور یہی ہر بال اقوال کا اور ناموں  کا ایک سا رٹا، مجھے لگتا ہے کہ تم نے ان میں سے ایک کو بھی نہیں پڑھا” ویسے جب اس نے پڑھنا شروع ہی کیا تھا تو اسے حیرت ہوئی تھی کہ یہ وہی کچھ تھا جو اس نے 20 سال پہلے سنا تھا۔اس نے پڑھنا بند نہ کیا ، اگلی سطر پڑھ رہا تھا کہ پورا ہال کھڑا ہوگیا اور پاکھنڈی ،پاکھنڈی کا کورس میں گیت گایا جانے لگا۔اور اس نے اسے آہستہ سے ڈائس چھوڑ کر سٹیج کے عقب میں بنی انٹرنس سے کھسکتا ہوا دیکھا تو اسے یک دم احساس ہوا کہ اس نے اس جعلی لکھت کار کے اوپر اپنا آپ نچھاور کرکے کس قدر غلط کام کیا تھا-اور جب سے امریکہ سے وہ واپس آئی تھی اسے ہر طرف دھند ہی دھند چھائی نظر آتی تھی۔

عامر حسینی

بائیسواں خط

lovers-1610286_960_720

 

پیاری ساری

گزشتہ ہفتے میں نے تمہیں آخر میں لکھا تھا کہ ہم اس بحث کو آئیندہ کے لئے اگر اٹھا رکھیں تو بہتر ہوگا جو ہم محبت کے ڈسکورس بارے کرنا چاہتے ہیں۔اور جب ہم محبت کے ڈسکورس کی باب کرتے ہیں تو اس سے تمہاری مراد کیا ہے؟ اور اس سے مری مراد کیا ہے؟یہ جاننا بہت ضروری ہے۔تمہیں وہ چاند رات یاد ہے جو جون کی گرمیوں میں آئی تھی اور ہم صدر کراچی کی ایک سڑک پہ جہانگیر ریسٹورنٹ کے سامنے سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گزر رہے تھے اور تم نے اچانک سے کہا تھا،” لوگ ایسے ہی کہتے ہیں اداسی اور بے گانگی محبت میں بس دسمبر میں حملہ آور ہوتی ہیں لیکن یہ تو جون کی گرم راتوں میں بھی ہمارا شکار کرتی ہیں”۔میں تمہیں یہ اس لئے یاد دلارہا ہوں کہ جب میں نے یہ کہا تھا کہ آج محبت ایک ڈسکورس کی بجائے ڈیٹرجنٹ پاوڈر لگتی ہے جس سے پاس کسی شئے میں مصنوعی سی سفیدی لانا مقصود ہے اور بس وقتی طور پہ تو غلط نہیں کہا تھا۔یہ اکثر کے ہاں سیزنل سی ہے۔موسموں کی طرح بدلتی ہے۔تمہیں یاد ہے ہم نے رولاں بارتھ کی کتاب “لورز ڈسکورس۔فریگمنٹس” اکٹھے اس وقت پڑھی تھی جب اس کا ترجمہ ہوئے محض سات سال ہوئے تھے۔اور اس نے یہ کتاب 1977ء میں لکھی تھی جب پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے ایک انتہائی بدترین دور میں داخل ہوگیا تھا۔اور اس نے 80ء کی دھائی میں لکھا تھا۔” آج عاشق کا جو ڈسکورس ہے وہ انتہائی تنہائی پہ مبنی ہے”تمہیں یاد ہے کہ اس نے اس کتاب میں لورز ڈسکورس میں جب “فگر” کے عنوان سے جس شذرے کو لکھا اس میں ایک سطر قابل غور ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ عاشق اپنے آپ کو ایک اتھلیٹ کی طرح خرچ کرتا ہے، وہ ایک خطیب و مقرر کی طرح فریرنگ کرتا ہے اور وہ ایک مجسمے کی طرح کے کردار میں پھنسا ہوتا ہے۔اور مجھے اور تمہیں اس وقت ایسے لگتا تھا جیسے لورز ڈسکورس کے دوران جو “فگر” بنتی ہے عاشق کی وہ اپنے اندر کئی جملے پوشیدہ اور اس جملے میں ہر ایک لفظ  ایک امیج بناتا ہے اور ہر جملہ خود بھی ایک امیج تشکیل دیتا ہے۔اور یہ سارے امیجز سالی ٹیوڈ یعنی تنہائی کو جنم دیتے ہیں۔اور ان دنوں ہمارے کیمپسز میں جو کچھ ہورہا تھا اس سے ہمیں لگتا تھا کہ واقعی اس وقت عاشقوں یا اہل محبت کا ڈسکورس انتہائی تنہائی پہ آکر ختم ہوتا ہے۔اس زمانے میں صالحین کے موت کے ہرکارے تھنڈر اسکواڈ ہرچکہ مل جاتے تھے۔پولیس بھی پارکوں اور پبلک پلیسز پہ اپنے شکار ڈھوںڈ لیتی تھی۔اس زمانے میں تم اور میں لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے نیچے رات کو اکیلے بیٹھ نہیں سکتے تھے۔اور سینما گھروں کے تنگ و تاریک ہالوں میں فلم بینی کے بہانے گھنٹوں بیٹھے رہنے کی عیاشی “ٹوٹا کلچر ” نے ختم ہی کردی تھی۔”ٹوٹے”کھڑکی توڑ رش کے لئے بہترین چیز بن گئے تھے اور اسلامائزیشن کے نام پہ یہ ہمیں بہترین شئے دی گئی تھی۔اور تھیڑ بھی اچانک ولگریٹی کا دوسرا نام ہوگئے تھے۔اور اس زمانے میں ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں دشواری تھی کہ کہاں جاکر بیٹھیں۔ویسے لورز ڈسکورس میں ہمیشہ نان انٹر وینشسٹ پلیس یعنی مداخلت سے پاک جگہ تلاش کرنا ہمیشہ سے ایک بہت ہی مشکل کام رہا ہے۔ویسے کیا یہ حیرانی والی بات نہیں ہے کہ آج اس سمارٹ فون کی دنیا میں اکثر محبت کرنے والے اپنی پوری محبت کی زندگی کو ایک ترتيب اور ایک آڈر کے تحت گزارنا چاہتے ہیں۔ان کے خیال میں محبت جو بھی فگر یا شکل بنائے وہ ایک ترتیب سے یکے بعد دیگر سامنے آئے۔جبکہ ایسا ہوتا تو نہیں ہے۔بارتھ نے کتنا ٹھیک لکھا تھا کہ خارجی یا داخلی حادثہ ہی ان اشکال ہائے محبت کو اچانک سے آپ پہ منکشف کرتا ہے۔اور ان اشکال سے نبردآزما محبت کرنے والا یا محبت کرنے والی ان کو اپنے ہاں جمع کرتا جاتا ہے۔اور ان میں کوئی بھی ترتیب نہیں ہوتی۔شاید اسی لئے بارتھ نے کہا تھا کہ ہم جتنا چاہیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں اس بارے ہم کوئی ایک مساوات نہیں گڑھ سکتے۔میں مجبور ہوں کہ ایک بار پھر رولاں بارتھ کو ہی یہاں بیان کروں، ” محبت کرنے والا/والی فقروں کے بنڈل کے بنڈل بولتا ہے لیکن ان سب کو وہ ایک باقاعدہ ترتیب اور نظم کے ساتھ اونچے لیول پہ باہم مربوط کرنہیں سکتا ۔اور ان فقروں کو ایک باقاعدہ انٹلیکچوئل ورک کی شکل نہیں دے سکتا۔لیکن رولاں کہتا ہے کہ جب آپ اپنی محبت کو ایک کہانی کی شکل دیتے ہیں تو اصل میں بطور محبت کرنے والے/والی کے آپ اس دنیا کے ساتھ ری کنسائل کرنے کے لئے اپنے پیار کو ایک مہم جوئی کے طور پہ پیش کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔گویا آپ کا پیار جس طرح سے وقوع پذیر ہوا ہوتا ہے اسے کہانی میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے وہ بدل سا جاتا ہے۔

Figures happened during Lover’s discourse cannot be classified: Organized, hierarchized, arranged with a view to an end.

ساری! مری اور تمہاری مشکل یہ ہے کہ ہم پیار کو سرے سے ایک ڈسکورس خیال ہی نہ کرنے والوں کو کیسے یہ بات سمجھائيں محبت اسقدر ایک “سیال اور ہمہ وقت رواں دواں رہنے والا عمل ہے” کہ اس کو کہیں بھی روک کر اور اس کی تنطیم سازی کرنے کی کوشش ، اس کو ایک خاص رینکس اور خاص تہوں سٹارٹی فائيڈ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کے آخر تک کو ایک خاص کل کی شکل میں لانا عبث کوشش ہے۔لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ آج کا لورز ڈسکورس یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کو جملوں میں ڈھال لیا جائے اور ہم اسے مکمل طور پہ بیان کرسکیں۔میں اپنی ان دنوں کی ڈائری دیکھ رہا تھا تو مجھے اس میں بارتھ کا کہا ہوا یہ جملہ بہت بھایا:

To let it be understood that there was no question here of a love story (or of the history of a 1ove) , discourage the temptation of meaning, it was necessary to choose an absolutely  insignificant order.

تو یہ معنی کے لوبھ کے ہاتھ جھٹکنے کی جو بات ہے اور ایک مطلق غیر اہم ترتیب کا انتخاب ہے یہ ہمیں اہل عشق کی راہ اور ڈسکورس بارے کافی کچھ بتاسکتی ہے۔ویسے مجھے تو یہ اپنا کہا ہوا جملہ بھی فضول ہی لگ رہا ہے۔وہ ایک شعر ہے نا جس میں شاعر کہتا ہے ناصح روز آجاتا ہے اور مجھے محبت کے بارے میں بتانے لگتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے،وغیرہ وغیرہ اور یہ محبت میں انتہائی فضول سی بات جو لگتی ہے پھر بھی ہم اسے بار بار کہتے ہیں اور بار بار سننے کے متمنی ہوتے ہیں۔ساری!مری اور تمہاری محبت کی سلور جوبلی ہونے والی ہے۔اگرچہ تھوڑی دیر پہلے ہی تو ہم نے محبت کی شروعات اور اینڈ بارے کچھ پتا نہ ہونے کا اشارہ دیا تھا لیکن پھر بھی سلور جوبلی تو ہونے ہی والی ہے نا۔اس دوران کتنی قبریں بنیں اور کتنے لوگ فنا کے گھاٹ اترے اس کا نہ تم نے کوئی حساب رکھا اور نہ ہی میں نے۔خط تھوڑا لمبا ہوگیا ہے اور میں اب اسے بس ان فقروں پہ ہی ختم کرنا چاہتا ہوں:

So It Is Lover Who Speaks and Says,

“ I Am Engulfed And I Succumb “

فقط تمہارا

ع۔ح

 

اکیسواں خط

e44210471b90f7d56b31fb4447c20c31

 

 

پیاری ساری

کل جب میں گھر سے نکل کر اپنے آفس جانے کے لئے دروازے پہ پہنچا ہی تھا تو ڈور بیل بجی،میں دروازے کو کھولا تو باہر کورئیر سروس والا کھڑا تھا اس نے مجھے ایک پارسل دیا اور وصولی رسید پہ دستخط کرواکے چلتا بنا۔میں پارسل کو دیکھا اس پہ سینڈر والی جگہ پہ تمہارا نام اور پتا لکھا ہوا تھا۔ بہت دل کیا کہ پارسل کھولوں اور اسے پڑھ لوں لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ یہاں ورک آف پلیس پہ دیر سے پہنچنا افورڑ ایبل نہیں ہے۔اور اس لئے میں اپنی خواہش کو دبایا اور آفس چلا آيا۔شام پانچ بجے جب میں گھر لوٹا تو اتنا تھکا ہوا تھا کہ جوتے پہنے پہنے بیڈ پہ لیٹ گیا اور سوگیا۔جب میں اٹھا تو رات ہوچکی تھی۔میں نے فریج سے سینڈویچ نکالے اور ان کو اوون میں گرم کرکے جب کھانے کے لئے کرسی پہ بیٹھنے لگا تو سائیڈ ٹیبل پہ پڑے پارسل پہ نظر پڑی تو میں سینڈویچ کھانا بھول سا گیا اور میں نے فوری طور پہ پارسل چاک کیا۔تم نے مجھے نور سجاد ظہیر کی کتاب “ریت پر خون”اور آرتھر ملر کی شارٹ سٹوریز کا مجموعہ ” پریزنس” بھیجا اس کے لئے میں تمہارا شکر گزار ہوں۔اور یہ تم نے جو بنگالی مصنف، پلے رائٹ اور شاعر بالا چند مکھوپادھائے عرف بناپھول کی کہانیوں کا مجموعہ بھیجا ہے یہ تو کمال ہے۔میں حیران تھا  کہ ایک طرف تو تم کہتی ہو کہ وہاں پاکستان میں اب ورکنگ کلاس میں اور غریبوں میں کوئی ان جیسے لکھت کاروں کو پڑھنے والا نہیں رہا ہے اور دوسری طرف یہ کتب پاکستان میں دستیاب بھی ہیں۔تو تم نے اس پارسل کے ساتھ جو نوٹ مجھے لکھ کر بھیجا اس نے مری حیرانی دور کردی ہے۔تم نے ای میل کے زریعے لاہور ، کراچی ، اسلام آباد میں چند بڑے پوش علاقوں میں کھلے جدید ریسٹورنٹ ، کافی شاپس اور ان میں بنے ریڈنگ کارنرز اور چند ایک انتہائی چمکتے بکس سنٹرز کی تصاویر جو مجھے ارسال کی ہیں اس نے مجھے بتادیا ہے کہ اپر مڈل کلاس کے اندر ایک پرت ایسی ہے جو ان کتابوں کو فیشن کے طور پہ پڑھتی ہے۔اور ہمارے فیض صاحب،جون ایلیا،منٹو صاحب،پروین شاکر یہاں تک کہ سارا شگفتہ و امرتا پریتم بھی فیشن کا حصّہ ہوگئے ہیں۔ویسے گزشتہ دنوں ایک آرٹیکل نسیم طالب نقولا کا مری نظر سے گزرا۔جسے اردو میں ڈھالنے والے نے غضب ناک حد تک پاکستانی زدہ کردیا اور پاکستان میں اربن چیڑنگ کمپراڈور لبرل کلاس کو اس نے “چ-پرشاد لبرل دانشور ” قرار دے ڈالا۔اور مجھے لگتا ہے وہاں پاکستان میں اب یہی کچھ ہورہا ہے۔تم نے مجھے بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم نے قائداعظم یونیورسٹی کے ایک ونگ کا نام پاکستان کے نوبل انعام یافتہ ماہر طبعیات (احمدی) ڈاکٹر عبدالسلام کے نام کردیا ہے اور تم نے یہ بھی بتایا کہ اس کو انقلابی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔ویسے ساری! یہ درباری لکھت کار جو یہ سب لکھ رہے ہیں کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ پاکستان میں کتنی بلڈنگ ہیں ، سڑکیں ہیں، ائر پورٹ ہیں جن کے نام اس ملک کے بانی کے نام پہ ہیں جو مذہب کے لحاظ سے شیعہ تھے اور ایسے لوگوں کے نام بھی ہيں جو یا تو احمدی تھے،یا شیعہ ، یا کرسچن یا ہندؤ  تو کیا محض عمارتوں کے نام رکھے جانے سے اس ملک میں اقلیتوں کی حالت زار میں کوئی بدلاؤ آگیا۔مجھے اب بھی نہیں لگتا کہ کوئی خاص بدلاؤ آئے گا۔یہ کسی رواداری کی طرف جاتی ہوئی ریاست ہے؟ جس میں آج 9 دسمبر کو جب میں یہ خط لکھنے بیٹھا ہوں بلوچستان میں علی خان نامی ویلڈنگ شاپ کا مالک اس لئے مار دیا گیا کہ وہ شیعہ تھا۔جبکہ اس سے پانچ روز قبل بلوچستان سے چار بلوچ فٹ بالر خفیہ ادارے اٹھاکر لے گئے اور آج تک ان کا پتہ نہیں ہے۔جبکہ کراچی سے غائب ہونے والا شاعر واحد بلوچ چار ماہ جبری گمشدہ رہنے کے بعد گھر لوٹ آیا ہے۔لیکن اس کو اٹھانے والے کون تھے۔یہ کہاں گم ہوا اس بارے سوال کسی نے نہیں کرنا۔ساری!جسے تم ملک کہتی ہو مجھے ملک لگتا ہی نہیں ہے۔اور اس ملک کی اکثریت کے لئے نسلی و مذہبی اقلیتوں سے کئے جانے والے سلوک کے کوئی معانی نہیں ہیں۔بس لفظوں کی ایک جگالی ہے جو یہاں لوگ کئے چلے جارہے ہیں۔یہ تو یہ بھی فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے کہ انہوں نے ایک رجعت پسند کی موت پہ اگر خوشی نہیں منانی تو کم از کم اس کی رجعت پسندی سے پہلے دور کو ناسٹیلجا بناکر ماتم داری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں اتنا مایوس کبھی نہیں ہوا جتنا اس مرتبہ تمہارے پارسل کے ساتھ آئے مراسلے کو پڑھ کر ہوا ہوں۔ساری!یہ کیسا ملک ہے جہاں کسی جبری گمشدہ کے لئے آواز اٹھانے سے ایک گروپ اس لئے انکار کردے کہ اس کا تعلق ایک ایسی تںطیم سے ہے جس پہ حکومت نے پابندی لگارکھی ہے یا وہ حق خودارادیت کی بات کرتا ہے؟بی ایس او کا ترجمان شبیر بلوچ اسی لئے اپنے حق میں زیادہ آوازیں نہیں اکٹھی کرپارہا۔ویسے ساری ! تم شبیر بلوچ کی بہن کو ایک سمارٹ فون لیکر دو،اسے فیس بک، ٹوئٹر اکاؤنٹ اور وٹس ایپ پہ

#SaveShabirBaloch

کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا ہینڈلنگ سکھادونا۔اور اسے بھی کہو کہ سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پہ آگے رونا شروع کرے ہوسکتا ہے ہانی کی طرح اس پہ بھی لوگوں کو رحم آئے اور کچھ لوگ باہر نکل آئیں۔میں یہاں انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنطیموں کو سینسی ٹائز کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تم نے اس مراسلے میں “عکس” کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تذبذب کا شکار ہے۔خود سے ہی سوال کرتی رہتی ہے،”کیا میں گرفتار محبت ہوں؟ اور پھر کہتی ہے ۔۔۔۔ ہاں، کس سے ؟ یہ سوال اس پہ واضح نہیں ہے۔کہتی ہے،’انتظار کررہی ہے۔” لیکن مجھے لگتا ہے کہ دوسری طرف جو گرفتار محبت ہے وہ رولینڈ بارتھ کی طرح تو نہیں ہے شاید کہ یہ کہنے لگے کہ وہ اس انتظار کا متحمل نہیں ہے۔اور “عکس” کے معاملے میں شاید ” انتظار ” ہی اس کی ڈیسٹنی ہے۔ساری! یہ آج کل محبت کرنے والوں کی کونسی قسم متعارف ہوئی ہے کہ جنھیں اپنے پیار کے مصداق بارے سب سے زیادہ ابہام لاحق ہوتا ہے۔اور جن کے پاس نری جذباتیت ہی ہے اور وہ بھی بہت وقتی سی ہے۔مرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کوئی بھی ابہام لمحے لاحق نہیں ہوا تھا۔اور اب تو پیار بارے گھنٹی بجنے کا انتظار کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔مجھے تو یہ جیسے گوتھگ داستانوں کی جگہ ڈیٹرجنٹ پاوڈر لے لے ایسی صورت حال لگ رہی ہے۔لیکن اگر میں نے اس معاملے کو یہاں یونہی چھوڑ دیا تو تم کہو گئی کہ میں راہ فرار اختیار کررہا ہوں۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں اس معاملے کو کسی ایسے وقت کے لئے اٹھا رکھیں جب دماغ کی بتی گل نہ ہوئی ہو؟ تم مجھے فیس بک انباکس میں مطلع کردینا۔

فقط تمہارا

ع-ح