بیسواں خط

02_1

 

 

پیاری ساری

 

اتنے دن کی غیر حاضری پہ تم سے معافی چاہتا ہوں۔غیر حاضری کیوں تھی؟ اس کا جواب لکھنے میں مجھے خون جگر جلانا پڑے گا اور سوچتا ہوں کہ جلانے کے بعد بھی جواب اگر بن نہ پڑا تو کیا ہوگا۔تمہیں یاد ہے کہ تم نے ایک بار مجھے بہت خاموش دیکھا اور تکلیف کے آثار مرے چہرے پہ دیکھے تو بار بار مجھ سے  پوچھا تھا کہ کیا ہوا ہے؟ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کیسے تمہیں بتاؤں وہ احساس جو مرے اندر کہیں جاگزیں ہے اور میں اس کو بیان نہیں کرپارہا۔تو تم نے مجھے کہا تھا، ” کمرے میں اندھیرا کرو، آنکھیں بند کرو اور اسے سوچو جو تمہیں بہت عزیز ہے” میں بے اختیار ہنس پڑا تھا کیونکہ اب کیسے بتاتا کہ جو بہت عزیز ہے اسے سوچنے سے تو یہ اذیت بھرا احساس دل میں جڑیں بناکر بیٹھا ہے۔لیکن میں خاموش رہا اور تمہیں بتاہی نہ سکا۔اب بھلا کیسے کہتا کہ تم مرے لئے جاں کا عذاب ہوگئی ہو۔ویسے تمہیں بتانا تھا وہ مستجاب رام آسٹن-م ا ر بھی کہیں غائب ہوگیا ہے۔اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔کئی دن سے غائب ہے اور ایسے جیسے کوئی اپنے فیس بک کا اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ کرجائے اچانک اور آپ کے پاس اس سے رابطے کا کا کوئی زریعہ نہ رہے۔تم اتنی دور ہو اور میں یہاں اکیلا پڑا تمہاری رفاقت کو ترستا ہوں۔

ساری! یہ بتاؤ کبھی تم نے خوابوں کی خوشبو کو محسوس کیا؟ اور اگر کبھی یہ خوشبو بخارات بنکر اڑن چھو ہوگئی ہو تو تب تم نے اپنی روح پہ ایک نہ برداشت ہونے والا بوجھ محسوس کیا؟مرے ساتھ کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔آج میں سوکر اٹھا تو سامنے کپ کے پیندے میں تھوڑی سی کافی جم کے رہ گئی تھی۔ساتھ ہی سامنے دیوار کے ساتھ لگے واش بیسن کے نل سے پانی ٹپ ٹپ کرکے گررہا تھا اور بیڈ شیٹ کی چادر پہ سلوٹیں ہی سلوٹیں تھیں۔اور پورے کمرے میں خوابوں کی کوئی خوشبو موجود نہ تھی۔ایک عجیب سی گٹھن تھی جس سے میں دوچار تھا۔میں نے سوچا کہ زندگی کی اس بے کیف یکسانیت جس میں انتہا کی بے حسی ہے کے ساتھ میں زندہ کیسے ہوں؟ اور ساتھ ساتھ ہوش و حواس کیسے باقی رکھے ہوئے ہوں؟پاگل کیوں نہیں ہوجاتا یا مری شریان پھٹ کیوں نہیں جاتی؟یہ سوال ایک بار تم نے مجھ سے بھی کیا تھا؟اور تب مجھے پتا چلا تھا کہ جسے ہم ذات کہتے ہیں وہ مرے ہاں تو سرے سے اب موجود ہی نہیں ہے۔اور اس وجود کے اتنے ریشے ہوئے ہیں کہ میں خود ان کو پہچاننے سے قاصر ہوں۔اتنے حصوں میں بٹا ہوا ہوں کہ ان کو جوڑ کر “میں” اور ‘سیلف’ بنانا اب ناممکن سا لگتا ہے۔

تم نے فلسطین کے شاعر محمود درویش کو پڑھا ہوا ہے۔پڑھا کیا ہوا ہے بلکہ اپنے اندر اتارا ہوا ہے۔تمہیں لاہور میں لارنس باغ کا وہ گوشہ یاد ہے جہاں ہم دسمبر کی ایک سرد رات کو جابیٹھے تھے۔تم مجھے گھسیٹتی ہوئی وہاں لیکر آئی تھیں۔بلیو جینیز،سفید شرٹ اور اس کے اوپر بلیک کلر کی لیدر جیکٹ پہنے اور سر پہ گرم ٹوپ اور گلے کے گرد مفلر لپٹے اور کندھوں تک آئے تمہارے بال اور پیروں میں لانگ شوز اور آنکھوں پہ چشمہ لگائے تم مجھے کسی دیوی سے کم نہیں لگ رہی تھیں۔تم نے اپنے ہینڈ بیگ سے ایک کاغذ نکالا تھا۔وہی ہینڈ بیگ جسے میں عمرو عیار کی زنبیل کہا کرتا تھا۔اور تم نے کاغذ کھولا،اس میں تمہارے ہاتھ سے لکھی کوئی تحریر مجھے نظر آرہی تھی۔تم نے گلا صاف کیا۔اور اس لال پری کا ایک گھونٹ بھرا جسے تم نے فلیٹز کے بار سے خریدا تھا۔اور پھر  لال پری سے بھری بوتل مری طرف کھسکادی۔میں نے برا سا منہ بناتے اس نیٹ سیال کو اپنے معدے میں انڈیلا، ایسے لگا جیسے کسی تیز دھار آلے نے مرا سینہ چیر دیا ہو۔اور مرے چہرے کے تاثر دیکھ کر تم کھلکھلا کر ہنس پڑی تھیں۔ ” مولوی کامریڈ” ۔۔۔۔ تم نے یہ لقب مجھے دے رکھا تھا۔خیر تم نے چند لائنیں پڑھیں جو آج بھی مجھے یاد ہیں،

I am from there. I am from here. I am not there and I am not here. I have two names, which meet and part, and I have two languages. I forget which of them I dream in.

Mahmoud Darwish

غیر حاضری کے دنوں میں، میں کچھ ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھا-بلکہ اب تک اس سے باہر ہی کہاں آیا ہوں۔یہاں،وہاں ہوں بھی اور نہیں بھی ہوں۔دو بلکہ کئی نام ہیں مرے،جو مجھ سے کم از کم محمود درویش کی طرح ملتے تو کبھی نہیں لیکن مجھ سے جدا ہوئے اور ان کی ٹوٹ پھوٹ ہوئے مدت گزر گئی ہے۔میں اس ٹٹ بھج کے سماج میں کئی طرح کی زبانیں بولتا ہوں اور واقعی میں بھول گیا کہ میں ان میں سے کس میں خواب دیکھا کرتا تھا-ویسے کچھ دن پہلے میں لاہور میں ایک دوست کے ہاں رات کو ٹھہرا تھا اور وہاں سویا تو بہت عرصے بعد رات کو نیند میں خواب دیکھا مگر بے بو، بے ذائقہ اور معانی سے عاری خواب۔

ساری! کبھی میں محمود درویش کی طرح یہ سوچا کرتا تھا کہ شاعری ہر چیز کو بدل ڈالے گی،اسی لئے فیض، ناظم حکمت،پابلو نرودا،میر، غالب، شمس تبریز، رومی مرے سرہانے دھرے رہتے تھے اور میں ان کے اشعار شبدوں کی طرح دوھراتا رہتا تھا اور اپنے اندر ایک نئی توانائی محسوس کیا کرتا تھا۔مجھے یقین تھا کہ ہماری تاریخ کے بھدے چہرے کو یہ شاعری خوبصورت بنادےگی۔اور مجھے تو کامیو اور سارتر کی لایعنیت میں بھی معنویت نظر آتی تھی اور میں بیکٹ کو پڑھ کر بھی کبھی بے حسی کے سمندر میں غرق نہیں ہوتا تھا۔اور مجھے جسے

Illusion

کہتے ہیں، اور فنتاسی ، سراب بھی آگے کی جانب لیجانے والے لگتے تھے۔ویسے دسمبر کی اس سرد ترین رات کو محمود درویش کی جو شاعری تم نے مجھ سے شئیر کی تھی اس میں بھی کچھ ایسی ہی بات تھی۔مگر یہ کیا کہ مرنے سے پہلے محمود درویش کو بھی یہ وہم ہوگیا تھا بلکہ یقین ہوگیا تھا کہ شاعری کچھ نہیں بدلتی بلکہ یہ صرف شاعر کو یا اس شاعری سے عشق کرنے والے کو بدلتی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ شاعری ایک آسیب ہے جو کرنے والے یا اسے شبد یا منتر مان لینے والے کو مجنون کرڈالتی ہے۔

اور یہ شاعری اصل میں شاعری ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی مقبوضہ کیفیت کا نام ہوتی ہے جس میں ہم گر‌فتار ہوتے ہیں۔ہم جسے پیار کہتے ہیں وہ ہمارے مقبوضہ ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔اور ہم اسی مقبوضہ حالت میں گرفتار رہنے کی خواہش اور آرزو سے ساری زندگی باہر نکل نہیں پاتے۔اور اسی سے وہ جلاوطنی جنم لیتی ہے جو کسی وطن سے بے وطنی اور بے دری کا نام نہیں ہوتی۔ہم اپنے وطن میں ،اپنے گھر میں اور اس گھر کے اپنے پسندیدہ کمرے میں بھی جلاوطن ہوسکتے ہیں۔اور مجھے لگتا ہے میں ایسی ہی جلاوطنی کا شکار ہوں۔شاعر اور اس کی شاعری کو منتر سمجھ بیٹھنے والا/والی اس کے مداح کتنے پاگل ہوتے ہیں کہ وہ نظموں کو ہی مزاحمت خیال کرنے لگتے ہیں اور تنہائی و بے گانگی کے روگ اپنے اندر پالتے رہتے ہیں اور ان کو بہت دیر میں سمجھ آتی ہے کہ وہ کیا کربیٹھے ہيں-اور ساری!یہ کسی فرد کی صرف ذاتی کیفیت نہیں ہوتی بلکہ ظلم، بربریت ، خون آشامی اور لوٹ کھسوٹ کی زد میں آئی ہوئی مذہبی و نسلی برادریاں بھی اس کیفیت سے دوچار ہوجاتے ہیں۔تم دیکھونا،یہ جو سوشل میڈیا پہ تمہیں کراہتے، چیختے، چلاتے، ردعمل دیتے کرد،کشمیری،بلوچ ، یزیدی،شیعہ، شامی،عراقی،فلسطینی،آرمینی نظر آتے ہیں نا یہ سب کے سب ایسی ہی کیفت سے دوچار ہیں جس کو میں تمہیں خون جگر کے زریعے سے سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔بلکہ تمہارا نام لیکر میں خود کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔تم اپنے زمان اور مکان کے ساتھ اور میں اپنے زمان اور مکان کے ساتھ یہ سب سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔جتنا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ،سمجھ اور تفہیم اتنی ہی دور ہوتی جاتی ہیں۔ساری! ایسا نہیں ہے کہ میں مایوسی کا شکار ہوں۔ہوپ اور امید کے بغیر تو ایک لمحہ بھی زندہ نہیں رہا جاسکتا لیکن ناامیدی سے مبرا بھی نہیں ہوں۔کیا تضاد ہے؟نجیب محفوظ نے کہیں لکھا تھا،’سب سے تکلیف دہ صورت حال دل کا سینٹی مینٹل ہونا اور مائنڈ کا سکیپٹکل ہونا ہوتا ہے۔ اور میں اسی تشکیک اور جذباتیت کی ڈائی کوٹ می کا شکار ہوں۔اور نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ یہاں ہر ایک مظلوم اور ہر ایک مجبور و محکوم قوم کا دانشور اسی تضاد کا سامنا کررہا ہے جس نے وجود کو ریشہ ریشہ کررکھا ہے۔یہ خط لکھتے ہوئے میں نے ابتک سگریٹ کے تین پیکٹ پھونک ڈالے ہیں اور کافی کا بھرا فلاسک خالی کردیا ہے۔اور اب فی الحال کچھ اور لکھنے کو ہے نہیں۔اس لئے تم سے اجازت لیتا ہوں۔

فقط تمہارا

ع۔ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s