یوں بھی ہوتا ہے۔افسانہ/عامر حسینی

images-1

 

تمہارے ہاتھ کی انگلیاں تھوڑی سی لمبی ہوتیں تو پورا ہاتھ جمال کا نمونہ ہوتا

اس نے کہا تو میں بے اختیار ہنس پڑی

میں سرجری کرواکے بڑی کرلیتی ہوں

اچھا اس زاویے سے دیکھو

میں نے اسے ایک اور زاویے سے اپنا ہاتھ دکھایا

نہیں انگلیاں مرے جمال کے معیار پہ پورا نہیں اترتیں

اس نے پھر کہا

اچھا اور کیا خرابی ہے مرے ہاتھ میں

نہیں ویسے تو پیارے ہیں تمہارے ہاتھ

ویسے تمہاری آنکھوں کے گرد سیاہ دائرے بھی بڑے ہیں ،لیکن تمہاری آنکھیں مجھے پھر بہت حسین لگتی ہیں اور تمہارے ہاتھوں کی چھوٹی انگلیاں مرے ذہن میں بسے جمال کے معیار پہ بے شک پوری نہ اترتی ہوں لیکن مجھے پھر بھی پیاری ہے اور محبت تمہارے سراپا سے ہے جس میں سب ہی چیزیں شامل ہیں لیکن مجھے اعتراف کرنا ہے کہ تم مرے مثالی نمونہ جمال پہ پورا نہیں اترتی ہو مگر مجھے تمہیں سے شدید محبت ہے۔۔۔۔وہ ایک رو میں بولے جارہا تھا-

یہ کیا بات ہوئی تم مجھے مثالی حسین بھی نہیں مانتے اور مجھے حسین بھی کہتے ہو اور مجھ سے محبت کے دعوے دار بھی ہو۔یہ کیا تضاد ہے۔۔۔ میں نے اس کو زرا جھنجھلا کر کہا تو وہ ایک دم سے ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ تم نہیں سمجھو گی

کمال سے یہ مرا آخری مکالمہ تھا اور اس دن کے بعد وہ مجھے کیا ، کسی کو بھی نہ ملا،سب اس کی گمشدگی پہ حیران تھے۔پہلے پہل اس کے گھر والوں نے سوچا حسب معمول کہیں بنا بتائے نکل گیا ہے،چند روز بعد لوٹ آئے گا۔لیکن ہفتہ گزرا ،دو ہفتے گزرے تو گھر والے پریشان ہونا شروع ہوگئے۔اس کے سبھی جان پہچان اور رابطہ کرنے والوں سے معلوم کیا گیا،کچھ پتا نہ چلا۔موبائل ڈیٹا نکلوایا گیا ، پولیس کو رپورٹ کی ، عدالت سے رجوع کیا گیا ، کہیں اس کا پتا نہ چلا۔اس کا لیپ ٹاپ گھر پہ موجود تھا، اس کو ان لاک کیا گیا۔عجیب بات تھی کمیپوٹر میں عارضی فولڈرز میں بس خطوط ہی خطوط تھے جو اس نے مرے نام لکھے تھے لیکن کبھی مجھے بھی پڑھنے کو نہیں دئے تھے۔میں نے ان کو کاپی کیا اور اپنے لیپ ٹاپ میں پڑھنا شروع کردیا۔مجھ پہ انکشاف ہوا کہ وہ تو مرے اندر کسی اور کو تلاش کررہا تھا۔مجھے ایک سوال کا جواب مل گیا۔وہ مجھ سے دگنی عمر کا بندہ تھا۔اور ار بار پوچھتی تھی کہ مجھ سے کیوں اسے محبت ہے۔جبکہ وہ اسقدر سوشل آدمی ہے،ایک بھرپور نوجوانی کا دور اس نے گزارا ہے تو کیوں پہلے اس کی دنیا میں کوئی لڑکی نہیں آئی۔کہتا تھا بس نہیں ہوئی نا محبت۔ان خطوط میں وہ اعتراف کررہا تھا کہ ایک لڑکی سے اوائل عمری میں محبت کربیٹھا جو ایک حادثے میں مرگئی تو بس اس کی یادوں کے سہارے جیتا رہا۔میں اس کے ساتھ بینک میں جاب کرنے آئی تو اسے لگا کہ جیسے “اس لڑکی ” کا دوبارہ جنم ہوگیا ہے۔اس دن کے بعد وہ بس مرے اندر اسے تلاش کرنے لگا۔ان خطوں میں مجھے پتا چلا کہ وہ جو کہتا تھا کہ مرے ہاتھ کی انگلیوں کی ساخت غیر جمالیاتی ہے تو اس کا سبب “اس لڑکی ” کی لمبی اور پتلی پتلی انگلیاں تھا۔ایک مرتبہ اس نے کہا تھا کہ تمہارا قد تو مرے نمونہ جمال پہ پورا اترتا ہے کیونکہ تم 5 پوائنٹ 6 ہو مگر 60 وزن زیادہ ہے یہ غیر جمالیاتی ہے۔یہ بھی اسی لڑکی کے 45 وزن کے سبب تھا جو 5 پوائنٹ 6 تھی۔اسے نے مجھے موٹی کہا تو میں نجانے کیوں چڑ گئی تھی۔حالانکہ میں فیٹ فوبیا نہیں تھا۔میں بہت ٹچی ہوں، شراکت براداشت نہیں ہے لیکن نجانے کیوں ان خطوں میں اس کا انکشاف اور مجھ سے اس کا جھوٹ بولنا مجھے برا نہیں لگ رہا تھا۔بلکہ اس کا طلب اور شدید ہوگئی تھی۔پہلے پہل میں اسے سر کہتی تھی، بہت پڑھا لکھا تھا وہ، بہت وسیع کینویس کا مالک، آرٹ، تاریخ ، ادب ، مذہب ، مائتھالوجی ، فلم ، میوزک نجانے کیا کیا اس کے پاس تھا، کہنے کو بہت کچھ تھا اس کے پاس، حیرت انگیز طور پہ میں اس کی لمبی لمبی باتیں سنکر بور بھی نہیں ہوتی تھی۔اس کی نثری نظمیں مجھے بری نہ لگتی تھیں، میں پابند شاعری کے علاوہ کچھ نہیں پڑھتی تھی مگر اس کی سپاٹ سی لائنیں ، بے وزن مصرعے اپنے مواد اور سٹائل کے ساتھ مجھے متوجہ کرلیتے تھے۔سگریٹ کے دھویں سے مجھے بہت چڑ تھی لیکن وہ بیٹھے بیٹھے پورا پیکٹ سگریٹ کا ختم کرجاتا ،دھواں اس کی موجودگی میں ناگوار نہ لگتا مجھے، اس کا چہرہ بات کرتے ہوئے خواب زدہ لگنے لگتا، تھوڑا تھوڑا دھندلا دھندلا اور اس کی آواز کسی کنویں سے آتی ہو‏ئی،اس سے ملنے کے بعد پہلی مرتبہ نیوائرنائٹ پہ مجھے پتا چلا کہ وہ ڈرنک بھی کرتا ہے، میں اپنے آپ پہ حیران ہوئی کہ وہاں ہوٹل میں وہ نیسلے کی پانی والی بوٹل میں سے بار بار چسکی لگارہا تھا اور اس کی آواز بھاری ہوگئی تھی، لیکن میں نے دیکھا جیسے جیسے سیال اس کے اندر اترتا جاتا تھا ویسے ویسے وہ اور شانت ہوتا جارہا تھا، اس کے لفظ اور خوبصورت ہوتے جاتے تھے لیکن اس کی محبت ، رومانس عجب اداس اداس ہوتی، ایک عجب سوگوار سا ماحول پیدا ہوجاتا تھا۔مجھے اس کی محبت میں خوشی کا عنصر نظر نہیں آتا تھا اور اگر سرشاری تھی بھی تو اداس اداس سی،اس کا سکون بھی ایسا لگتا جیسے دھیمی دھمی آگ سی سلگ رہی ہو اور جلنے کا احساس ہوتا رہتا تھا اور میں نے اسے دیکھا جب کبھی ہنستا تو ایک بھیانک احساس ہوتا تھا۔وہ ہمیشہ کسی بہت دور ویرانے پہ لیجاتا مجھے، ساحل پہ بھی بھیانک تنہائی والی جگہ پہ ، اس نے ایک فلیٹ لیا ہوا تھا جس میں اس کا کمرہ بہت تاریک تھا،وہاں کوئی بلب نہیں جلتا تھا ،ایک مدھم سی موم بتی جل رہی ہوتی اور اس کی مدھم سی روشنی میں اداسی اور غم جھلمل کرتا تھااور عجب بات تھی مجھے یہ سب برا نہیں لگتا تھا، اس سے وحشت نہیں ہوتی تھی۔ان خطوں کو پڑھتے مجھے ایک اور سوال کا جواب مل گیا۔وہ اکثر ڈارک روم میں جاوید اختر کا گیت ” میں جہاں رہوں ۔۔۔تری یاد ساتھ ہے” کیوں سنتا رہتا تھا اور مجھے بھی سنایا کرتا تھا۔ایک بار میں نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ ڈی ایکٹویٹ کردیا تو وہ جیسے پاگل ہوگیا، ابھی آفس نہیں پہنچی تھی کہ مرے وٹس ایپ پہ اس کے میسج آنے شروع ہوگئے۔موبائل انباکس اس کے پیغامات سے بھر گیا، کیا تم نے مجھے بلاک کردیا؟اس کے سارے میسج بس اسی ایک جملے پہ مشتمل تھے۔میں بینک پہنچی تو دیکھا کہ الجھے بالوں اور سرخ آنکھوں کے ساتھ وہ اپنے کیبن میں اپنی کرسی پہ بیٹھا تھا اور سامنے کمپیوٹر سکرین پہ فیس بک وال پہ سرچ پہ مری آئی ڈی لکھی تھی اور وہ بسے اسے ہی تکے جارہا تھا۔اس وقت مجھے وہ بالکل ایک ٹین ایج لڑکا لگ رہا تھا۔اس نے سوالیہ نظروں سے مری طرف دیکھا۔اور ان نظروں میں اتنا درد تھا کہ میں بے اختیار ہوگئی اور مری آنکھوں میں آنسو آگئے اور اسے بتایا کہ وہ سوات والی اسائنمنٹ کو کرنے کے لئے اور فورا فوکس رکھنے کے لئے اکاؤنٹ ڈی ایکٹو کیا تھا۔کیونکہ توجہ بٹتی۔تمہیں سمپل بلاک کیسے کیا جاسکتا ہے جب بھی کروں گی ایکس بلاک کروں گی۔بہت ہی حساس تھا۔ایک مرتبہ اس کے سوالوں کے میں نے مزاحیہ سے جواب دینے شروع کئے تو ایک دم سے کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے میں کسی اور سے مخاطب ہوں اور سلام کرکے چلا گیا اور پھر پتا چلا لیو لیکر کہیں چلا گیا ہے کہاں؟کچھ پتا نہیں ، ایک ہفتے بعد لوٹا، تو بالکل بکھرا ہوا، ادھر میں جیسے بالکل ہی بکھر گئی تھی، لگتا تھا جیسے بہت ضروری کام نہیں ہوپارہا، آیا تو بہت لئے دئے ہوئے تھا،میں نے جب برداشت سے باہر بات ہوگئی تو اس کو بتادیا کہ “ترے بن گزارا نہیں ہوتا” ایک دم سے حیرت زدہ ہوگیا، واقعی ؟ کہنے لگا، اور پھر وہ مرچی کیوں بنی ہوئی تھیں اس دن ، پاگل ہو تم قسم سے یار ، مذاق کررہی تھی، اس نے ہوں کہا اور ایک دم سے وہ پہلے والا کمال بن گیا۔اور پھر سے وہی روٹین ہوگئی ، آج ان خطوں کو پڑھ رہی ہوں تو اس درد اور تکلیف کا سیاق و سباق واضح ہوتا جارہا تھا۔اور مجھے پتا لگ رہا تھا کہ کیوں اس کی محبت ، رومانس میں اداسی گھلی ملی تھی، مہینوں شیو نہیں کرتا تھا، کہہ کہہ کر دوست احباب تھک جاتے اور پھر اچانک کلین شیو ہوجاتا اور نئے کپڑے خریدتا اور ان کو پہنتا اور اس لمحے بہت خوش ہونے کا ناٹک کرتا لیکن اداسی کی کہر اس کے اردگرد چھائی رہتی تھی چھٹنے کا نام نہیں لیتی تھی۔مجھے کبھی اس کہر میں ٹھٹھرنے کا احساس نہ ہوتا۔بلا کا ذہین تھا۔دانش کی تیسری آنکھ ہر وقت کھلی رہتی اس کی اور مرے اندر تک جھانکتا رہتا تھا اور مجھے اسقدر مصروف رکھتا کہ اس کے اندر جھانکنے کا مجھے وقت ہی نہیں ملتا تھا۔

وہ بہت خوفناک دن تھا جب میں بینک میں تھی جب اس کی والدہ کی کال آئی ، بیٹا فوری آ۔خ ہسپتال آجاؤ ، ان کی آواز کانپ رہی تھی، مجھے کسی انہونی کے ہونے کا احساس ہوا،دل اسقدر شدید دھڑک رہا تھا کہ ابھی سینے سے باہر آجائے گا ،میں باہر آئی آٹو کرایا اور ہسپتال پہنچی تو وہاں اس کی والدہ، بہنیں اور بھائی ، اس کی دونوں بھابیاں تھیں سب کے چہرے سوجے ہوئے صاف لگ رہا تھا کہ روتے رہیں ہیں، اس کی بہن نے مرا ہاتھ پکڑا اور سردخانے کی اور بڑھی تو مری ٹانگوں میں جیسے جان ہی نہ رہی ہو، میں پیروں کو گھسیٹتی ہوئی مفلوج سی سرد خانے کی جانب بڑھی اور اندر داخل ہوکر ایک آدمی کو دیکھا ،اس نے ایک باکس سے تابوت نکالا اندر کوئی پلاسٹک بیگ میں لیٹا ہوا تھا۔اس نے اس کی زپ کھولی ،،،، کئی ماہ کی شیو بڑھی ہوئی ، لبوں پہ درد بھری مسکان لئے وہی تھا، پڑا سو رہا تھا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s