اکیسواں خط

e44210471b90f7d56b31fb4447c20c31

 

 

پیاری ساری

کل جب میں گھر سے نکل کر اپنے آفس جانے کے لئے دروازے پہ پہنچا ہی تھا تو ڈور بیل بجی،میں دروازے کو کھولا تو باہر کورئیر سروس والا کھڑا تھا اس نے مجھے ایک پارسل دیا اور وصولی رسید پہ دستخط کرواکے چلتا بنا۔میں پارسل کو دیکھا اس پہ سینڈر والی جگہ پہ تمہارا نام اور پتا لکھا ہوا تھا۔ بہت دل کیا کہ پارسل کھولوں اور اسے پڑھ لوں لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ یہاں ورک آف پلیس پہ دیر سے پہنچنا افورڑ ایبل نہیں ہے۔اور اس لئے میں اپنی خواہش کو دبایا اور آفس چلا آيا۔شام پانچ بجے جب میں گھر لوٹا تو اتنا تھکا ہوا تھا کہ جوتے پہنے پہنے بیڈ پہ لیٹ گیا اور سوگیا۔جب میں اٹھا تو رات ہوچکی تھی۔میں نے فریج سے سینڈویچ نکالے اور ان کو اوون میں گرم کرکے جب کھانے کے لئے کرسی پہ بیٹھنے لگا تو سائیڈ ٹیبل پہ پڑے پارسل پہ نظر پڑی تو میں سینڈویچ کھانا بھول سا گیا اور میں نے فوری طور پہ پارسل چاک کیا۔تم نے مجھے نور سجاد ظہیر کی کتاب “ریت پر خون”اور آرتھر ملر کی شارٹ سٹوریز کا مجموعہ ” پریزنس” بھیجا اس کے لئے میں تمہارا شکر گزار ہوں۔اور یہ تم نے جو بنگالی مصنف، پلے رائٹ اور شاعر بالا چند مکھوپادھائے عرف بناپھول کی کہانیوں کا مجموعہ بھیجا ہے یہ تو کمال ہے۔میں حیران تھا  کہ ایک طرف تو تم کہتی ہو کہ وہاں پاکستان میں اب ورکنگ کلاس میں اور غریبوں میں کوئی ان جیسے لکھت کاروں کو پڑھنے والا نہیں رہا ہے اور دوسری طرف یہ کتب پاکستان میں دستیاب بھی ہیں۔تو تم نے اس پارسل کے ساتھ جو نوٹ مجھے لکھ کر بھیجا اس نے مری حیرانی دور کردی ہے۔تم نے ای میل کے زریعے لاہور ، کراچی ، اسلام آباد میں چند بڑے پوش علاقوں میں کھلے جدید ریسٹورنٹ ، کافی شاپس اور ان میں بنے ریڈنگ کارنرز اور چند ایک انتہائی چمکتے بکس سنٹرز کی تصاویر جو مجھے ارسال کی ہیں اس نے مجھے بتادیا ہے کہ اپر مڈل کلاس کے اندر ایک پرت ایسی ہے جو ان کتابوں کو فیشن کے طور پہ پڑھتی ہے۔اور ہمارے فیض صاحب،جون ایلیا،منٹو صاحب،پروین شاکر یہاں تک کہ سارا شگفتہ و امرتا پریتم بھی فیشن کا حصّہ ہوگئے ہیں۔ویسے گزشتہ دنوں ایک آرٹیکل نسیم طالب نقولا کا مری نظر سے گزرا۔جسے اردو میں ڈھالنے والے نے غضب ناک حد تک پاکستانی زدہ کردیا اور پاکستان میں اربن چیڑنگ کمپراڈور لبرل کلاس کو اس نے “چ-پرشاد لبرل دانشور ” قرار دے ڈالا۔اور مجھے لگتا ہے وہاں پاکستان میں اب یہی کچھ ہورہا ہے۔تم نے مجھے بتایا کہ پاکستانی وزیراعظم نے قائداعظم یونیورسٹی کے ایک ونگ کا نام پاکستان کے نوبل انعام یافتہ ماہر طبعیات (احمدی) ڈاکٹر عبدالسلام کے نام کردیا ہے اور تم نے یہ بھی بتایا کہ اس کو انقلابی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔ویسے ساری! یہ درباری لکھت کار جو یہ سب لکھ رہے ہیں کیا انہوں نے کبھی یہ سوچا کہ پاکستان میں کتنی بلڈنگ ہیں ، سڑکیں ہیں، ائر پورٹ ہیں جن کے نام اس ملک کے بانی کے نام پہ ہیں جو مذہب کے لحاظ سے شیعہ تھے اور ایسے لوگوں کے نام بھی ہيں جو یا تو احمدی تھے،یا شیعہ ، یا کرسچن یا ہندؤ  تو کیا محض عمارتوں کے نام رکھے جانے سے اس ملک میں اقلیتوں کی حالت زار میں کوئی بدلاؤ آگیا۔مجھے اب بھی نہیں لگتا کہ کوئی خاص بدلاؤ آئے گا۔یہ کسی رواداری کی طرف جاتی ہوئی ریاست ہے؟ جس میں آج 9 دسمبر کو جب میں یہ خط لکھنے بیٹھا ہوں بلوچستان میں علی خان نامی ویلڈنگ شاپ کا مالک اس لئے مار دیا گیا کہ وہ شیعہ تھا۔جبکہ اس سے پانچ روز قبل بلوچستان سے چار بلوچ فٹ بالر خفیہ ادارے اٹھاکر لے گئے اور آج تک ان کا پتہ نہیں ہے۔جبکہ کراچی سے غائب ہونے والا شاعر واحد بلوچ چار ماہ جبری گمشدہ رہنے کے بعد گھر لوٹ آیا ہے۔لیکن اس کو اٹھانے والے کون تھے۔یہ کہاں گم ہوا اس بارے سوال کسی نے نہیں کرنا۔ساری!جسے تم ملک کہتی ہو مجھے ملک لگتا ہی نہیں ہے۔اور اس ملک کی اکثریت کے لئے نسلی و مذہبی اقلیتوں سے کئے جانے والے سلوک کے کوئی معانی نہیں ہیں۔بس لفظوں کی ایک جگالی ہے جو یہاں لوگ کئے چلے جارہے ہیں۔یہ تو یہ بھی فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے کہ انہوں نے ایک رجعت پسند کی موت پہ اگر خوشی نہیں منانی تو کم از کم اس کی رجعت پسندی سے پہلے دور کو ناسٹیلجا بناکر ماتم داری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں اتنا مایوس کبھی نہیں ہوا جتنا اس مرتبہ تمہارے پارسل کے ساتھ آئے مراسلے کو پڑھ کر ہوا ہوں۔ساری!یہ کیسا ملک ہے جہاں کسی جبری گمشدہ کے لئے آواز اٹھانے سے ایک گروپ اس لئے انکار کردے کہ اس کا تعلق ایک ایسی تںطیم سے ہے جس پہ حکومت نے پابندی لگارکھی ہے یا وہ حق خودارادیت کی بات کرتا ہے؟بی ایس او کا ترجمان شبیر بلوچ اسی لئے اپنے حق میں زیادہ آوازیں نہیں اکٹھی کرپارہا۔ویسے ساری ! تم شبیر بلوچ کی بہن کو ایک سمارٹ فون لیکر دو،اسے فیس بک، ٹوئٹر اکاؤنٹ اور وٹس ایپ پہ

#SaveShabirBaloch

کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سوشل میڈیا ہینڈلنگ سکھادونا۔اور اسے بھی کہو کہ سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پہ آگے رونا شروع کرے ہوسکتا ہے ہانی کی طرح اس پہ بھی لوگوں کو رحم آئے اور کچھ لوگ باہر نکل آئیں۔میں یہاں انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنطیموں کو سینسی ٹائز کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

تم نے اس مراسلے میں “عکس” کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تذبذب کا شکار ہے۔خود سے ہی سوال کرتی رہتی ہے،”کیا میں گرفتار محبت ہوں؟ اور پھر کہتی ہے ۔۔۔۔ ہاں، کس سے ؟ یہ سوال اس پہ واضح نہیں ہے۔کہتی ہے،’انتظار کررہی ہے۔” لیکن مجھے لگتا ہے کہ دوسری طرف جو گرفتار محبت ہے وہ رولینڈ بارتھ کی طرح تو نہیں ہے شاید کہ یہ کہنے لگے کہ وہ اس انتظار کا متحمل نہیں ہے۔اور “عکس” کے معاملے میں شاید ” انتظار ” ہی اس کی ڈیسٹنی ہے۔ساری! یہ آج کل محبت کرنے والوں کی کونسی قسم متعارف ہوئی ہے کہ جنھیں اپنے پیار کے مصداق بارے سب سے زیادہ ابہام لاحق ہوتا ہے۔اور جن کے پاس نری جذباتیت ہی ہے اور وہ بھی بہت وقتی سی ہے۔مرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کوئی بھی ابہام لمحے لاحق نہیں ہوا تھا۔اور اب تو پیار بارے گھنٹی بجنے کا انتظار کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔مجھے تو یہ جیسے گوتھگ داستانوں کی جگہ ڈیٹرجنٹ پاوڈر لے لے ایسی صورت حال لگ رہی ہے۔لیکن اگر میں نے اس معاملے کو یہاں یونہی چھوڑ دیا تو تم کہو گئی کہ میں راہ فرار اختیار کررہا ہوں۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ میں اس معاملے کو کسی ایسے وقت کے لئے اٹھا رکھیں جب دماغ کی بتی گل نہ ہوئی ہو؟ تم مجھے فیس بک انباکس میں مطلع کردینا۔

فقط تمہارا

ع-ح  

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s