بائیسواں خط

lovers-1610286_960_720

 

پیاری ساری

گزشتہ ہفتے میں نے تمہیں آخر میں لکھا تھا کہ ہم اس بحث کو آئیندہ کے لئے اگر اٹھا رکھیں تو بہتر ہوگا جو ہم محبت کے ڈسکورس بارے کرنا چاہتے ہیں۔اور جب ہم محبت کے ڈسکورس کی باب کرتے ہیں تو اس سے تمہاری مراد کیا ہے؟ اور اس سے مری مراد کیا ہے؟یہ جاننا بہت ضروری ہے۔تمہیں وہ چاند رات یاد ہے جو جون کی گرمیوں میں آئی تھی اور ہم صدر کراچی کی ایک سڑک پہ جہانگیر ریسٹورنٹ کے سامنے سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گزر رہے تھے اور تم نے اچانک سے کہا تھا،” لوگ ایسے ہی کہتے ہیں اداسی اور بے گانگی محبت میں بس دسمبر میں حملہ آور ہوتی ہیں لیکن یہ تو جون کی گرم راتوں میں بھی ہمارا شکار کرتی ہیں”۔میں تمہیں یہ اس لئے یاد دلارہا ہوں کہ جب میں نے یہ کہا تھا کہ آج محبت ایک ڈسکورس کی بجائے ڈیٹرجنٹ پاوڈر لگتی ہے جس سے پاس کسی شئے میں مصنوعی سی سفیدی لانا مقصود ہے اور بس وقتی طور پہ تو غلط نہیں کہا تھا۔یہ اکثر کے ہاں سیزنل سی ہے۔موسموں کی طرح بدلتی ہے۔تمہیں یاد ہے ہم نے رولاں بارتھ کی کتاب “لورز ڈسکورس۔فریگمنٹس” اکٹھے اس وقت پڑھی تھی جب اس کا ترجمہ ہوئے محض سات سال ہوئے تھے۔اور اس نے یہ کتاب 1977ء میں لکھی تھی جب پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے ایک انتہائی بدترین دور میں داخل ہوگیا تھا۔اور اس نے 80ء کی دھائی میں لکھا تھا۔” آج عاشق کا جو ڈسکورس ہے وہ انتہائی تنہائی پہ مبنی ہے”تمہیں یاد ہے کہ اس نے اس کتاب میں لورز ڈسکورس میں جب “فگر” کے عنوان سے جس شذرے کو لکھا اس میں ایک سطر قابل غور ہے۔جب وہ کہتا ہے کہ عاشق اپنے آپ کو ایک اتھلیٹ کی طرح خرچ کرتا ہے، وہ ایک خطیب و مقرر کی طرح فریرنگ کرتا ہے اور وہ ایک مجسمے کی طرح کے کردار میں پھنسا ہوتا ہے۔اور مجھے اور تمہیں اس وقت ایسے لگتا تھا جیسے لورز ڈسکورس کے دوران جو “فگر” بنتی ہے عاشق کی وہ اپنے اندر کئی جملے پوشیدہ اور اس جملے میں ہر ایک لفظ  ایک امیج بناتا ہے اور ہر جملہ خود بھی ایک امیج تشکیل دیتا ہے۔اور یہ سارے امیجز سالی ٹیوڈ یعنی تنہائی کو جنم دیتے ہیں۔اور ان دنوں ہمارے کیمپسز میں جو کچھ ہورہا تھا اس سے ہمیں لگتا تھا کہ واقعی اس وقت عاشقوں یا اہل محبت کا ڈسکورس انتہائی تنہائی پہ آکر ختم ہوتا ہے۔اس زمانے میں صالحین کے موت کے ہرکارے تھنڈر اسکواڈ ہرچکہ مل جاتے تھے۔پولیس بھی پارکوں اور پبلک پلیسز پہ اپنے شکار ڈھوںڈ لیتی تھی۔اس زمانے میں تم اور میں لارنس باغ میں بدھا کے درخت کے نیچے رات کو اکیلے بیٹھ نہیں سکتے تھے۔اور سینما گھروں کے تنگ و تاریک ہالوں میں فلم بینی کے بہانے گھنٹوں بیٹھے رہنے کی عیاشی “ٹوٹا کلچر ” نے ختم ہی کردی تھی۔”ٹوٹے”کھڑکی توڑ رش کے لئے بہترین چیز بن گئے تھے اور اسلامائزیشن کے نام پہ یہ ہمیں بہترین شئے دی گئی تھی۔اور تھیڑ بھی اچانک ولگریٹی کا دوسرا نام ہوگئے تھے۔اور اس زمانے میں ہمیں یہ فیصلہ کرنے میں دشواری تھی کہ کہاں جاکر بیٹھیں۔ویسے لورز ڈسکورس میں ہمیشہ نان انٹر وینشسٹ پلیس یعنی مداخلت سے پاک جگہ تلاش کرنا ہمیشہ سے ایک بہت ہی مشکل کام رہا ہے۔ویسے کیا یہ حیرانی والی بات نہیں ہے کہ آج اس سمارٹ فون کی دنیا میں اکثر محبت کرنے والے اپنی پوری محبت کی زندگی کو ایک ترتيب اور ایک آڈر کے تحت گزارنا چاہتے ہیں۔ان کے خیال میں محبت جو بھی فگر یا شکل بنائے وہ ایک ترتیب سے یکے بعد دیگر سامنے آئے۔جبکہ ایسا ہوتا تو نہیں ہے۔بارتھ نے کتنا ٹھیک لکھا تھا کہ خارجی یا داخلی حادثہ ہی ان اشکال ہائے محبت کو اچانک سے آپ پہ منکشف کرتا ہے۔اور ان اشکال سے نبردآزما محبت کرنے والا یا محبت کرنے والی ان کو اپنے ہاں جمع کرتا جاتا ہے۔اور ان میں کوئی بھی ترتیب نہیں ہوتی۔شاید اسی لئے بارتھ نے کہا تھا کہ ہم جتنا چاہیں اسے سمجھنے کی کوشش کریں اس بارے ہم کوئی ایک مساوات نہیں گڑھ سکتے۔میں مجبور ہوں کہ ایک بار پھر رولاں بارتھ کو ہی یہاں بیان کروں، ” محبت کرنے والا/والی فقروں کے بنڈل کے بنڈل بولتا ہے لیکن ان سب کو وہ ایک باقاعدہ ترتیب اور نظم کے ساتھ اونچے لیول پہ باہم مربوط کرنہیں سکتا ۔اور ان فقروں کو ایک باقاعدہ انٹلیکچوئل ورک کی شکل نہیں دے سکتا۔لیکن رولاں کہتا ہے کہ جب آپ اپنی محبت کو ایک کہانی کی شکل دیتے ہیں تو اصل میں بطور محبت کرنے والے/والی کے آپ اس دنیا کے ساتھ ری کنسائل کرنے کے لئے اپنے پیار کو ایک مہم جوئی کے طور پہ پیش کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔گویا آپ کا پیار جس طرح سے وقوع پذیر ہوا ہوتا ہے اسے کہانی میں بیان نہیں کیا جاسکتا ہے وہ بدل سا جاتا ہے۔

Figures happened during Lover’s discourse cannot be classified: Organized, hierarchized, arranged with a view to an end.

ساری! مری اور تمہاری مشکل یہ ہے کہ ہم پیار کو سرے سے ایک ڈسکورس خیال ہی نہ کرنے والوں کو کیسے یہ بات سمجھائيں محبت اسقدر ایک “سیال اور ہمہ وقت رواں دواں رہنے والا عمل ہے” کہ اس کو کہیں بھی روک کر اور اس کی تنطیم سازی کرنے کی کوشش ، اس کو ایک خاص رینکس اور خاص تہوں سٹارٹی فائيڈ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کے آخر تک کو ایک خاص کل کی شکل میں لانا عبث کوشش ہے۔لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ آج کا لورز ڈسکورس یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کو جملوں میں ڈھال لیا جائے اور ہم اسے مکمل طور پہ بیان کرسکیں۔میں اپنی ان دنوں کی ڈائری دیکھ رہا تھا تو مجھے اس میں بارتھ کا کہا ہوا یہ جملہ بہت بھایا:

To let it be understood that there was no question here of a love story (or of the history of a 1ove) , discourage the temptation of meaning, it was necessary to choose an absolutely  insignificant order.

تو یہ معنی کے لوبھ کے ہاتھ جھٹکنے کی جو بات ہے اور ایک مطلق غیر اہم ترتیب کا انتخاب ہے یہ ہمیں اہل عشق کی راہ اور ڈسکورس بارے کافی کچھ بتاسکتی ہے۔ویسے مجھے تو یہ اپنا کہا ہوا جملہ بھی فضول ہی لگ رہا ہے۔وہ ایک شعر ہے نا جس میں شاعر کہتا ہے ناصح روز آجاتا ہے اور مجھے محبت کے بارے میں بتانے لگتا ہے کہ یوں ہے، یوں ہے،وغیرہ وغیرہ اور یہ محبت میں انتہائی فضول سی بات جو لگتی ہے پھر بھی ہم اسے بار بار کہتے ہیں اور بار بار سننے کے متمنی ہوتے ہیں۔ساری!مری اور تمہاری محبت کی سلور جوبلی ہونے والی ہے۔اگرچہ تھوڑی دیر پہلے ہی تو ہم نے محبت کی شروعات اور اینڈ بارے کچھ پتا نہ ہونے کا اشارہ دیا تھا لیکن پھر بھی سلور جوبلی تو ہونے ہی والی ہے نا۔اس دوران کتنی قبریں بنیں اور کتنے لوگ فنا کے گھاٹ اترے اس کا نہ تم نے کوئی حساب رکھا اور نہ ہی میں نے۔خط تھوڑا لمبا ہوگیا ہے اور میں اب اسے بس ان فقروں پہ ہی ختم کرنا چاہتا ہوں:

So It Is Lover Who Speaks and Says,

“ I Am Engulfed And I Succumb “

فقط تمہارا

ع۔ح

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s