پاکھنڈی۔افسانہ

mimicry-toad-615

 

بہت دھند ہے بھئی اور اوس بھی ہے۔یہ گاڑی کے شیشے کیوں دھندلے ہوتے جارہے ہیں

اس نے یک دم سے ڈرائیور کو مخاطب کیا تو وہ گڑبڑا گیا

ڈرائیور دیکھ رہا تھا کہ رات ہوچلی تھی اور آسمان صاف اور تاروں سے مزین اور چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی

خنکی تھی باہر لیکن اندر تو گاڑی میں ہیٹر آن تھا

پھر یہ ان کی مالکن کیا کہہ رہی تھی

مالکن ابھی کافی شاپ میں ہوئی ایک تقریت سے باہر نکلی تھی اور تب سے کسی سوچ میں گم تھی

خیر جب مالکن نے بھی دوبارہ پلٹ کر نہ پوچھا تو وہ بھی چپ کرگیا

اس دوران وہ پھر اپنے خیالوں میں ڈوب گئی تھی

دھند باہر نہیں تھی اس کے اپنے اندر تھی ،جو کافی شاپ سے باہر آکر اور گہری ہوگئی تھی

وہ بی اے کرنے کے بعد گھر بیٹھنا نہیں چاہتی تھی لیکن گھر والے یونیورسٹی بھیجنے کے حق میں نہیں تھے تو اس نے آگے پڑھنے کا یہ راستہ نکالا کہ اپنے ہی شہر کے ایک مدرسے میں ایم اے اسلامیات میں داخلہ لے لیا۔یہ آقائے منصور کا مدرسہ تھا جو اس کے گھروالوں کے مرجع تقلید تھے۔وہ اپنے گھر سے جو شہر کے آخری نکڑ پہ ایک گاؤں کی سرحد کے ساتھ تھا روز نو کلومیٹر کا سفر بس کے زریعے سے طے کرتی تھی اور اسی بس میں ایک اور آدمی کتابیں بغل میں دبائے اور ایک ہاتھ میں بریف کیس پکڑے روز سوار ہوتا تھا-اس نے کبھی تو تھری پیس سوٹ نکٹائی کے ساتھ پہنا ہوتا اور کبھی صرف جینیز اور شرٹ اور اس پہ کوٹ، اور مفلر-ان دنوں سردیاں تھیں ،پھر گرمیاں آگئیں مگر لباس یہی رہا بس مفلر اور جرسی وغیرہ ترک کردی گئیں۔اس کی آنکھوں پہ ایک نفیس سی عینک ہر وقت دھری رہتی تھی-ہونٹ پتلے تھے اور اور چہرہ کتابی کہ جسے دیکھ کر کسی کا بھی دل ڈول جائے۔اس کا دل بھی دھک دھک کرنے لگتا تھا۔لیکن کبھی اسے اس سے بات کرنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔پھر ایک دن اس نے اخبار میں اس آدمی کی تصویر دیکھی اور ساتھ انٹرویو تھا-پتا چلا کہ وہ انگریزی کا استاد تھا اور ایک کالب میں پڑھارہا تھا جبکہ تنقید بھی لکھتا تھا۔ایک دن اس نے اسے بس سٹاپ پہ کھڑے اپنا تعارف جھجھکتے ہوئے کرادیا-اور یوں بات چل نکلی تھی-اس نے ایم اسلامیات کیا اور پھر ایم فل اور اس کے بعد اسلامیات ہی میں پی ایچ ڈی کے لئے وفاقی دارالحکومت کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور اس کام میں آقائے منصور نے اس کی بڑی مدد کی تھی۔وہ بھی یہیں ایک کالج میں پڑھارہا تھا-یہاں ملنے کے موقعے زیادہ ملے۔وہ جب بھی اسے ملتا تو اسے کہتا کہ تم فلاں کو پڑھو ، فلاں کو پڑھو ، تمہیں یہ نہیں پتا ، تمہیں وہ نہیں پتا۔اور اس کے پاس اتنے سارے نام اور اقوال تھے دوھرانے کو کہ وہ اس کے سامنے بہت دبی دبی رہتی،اور اسے اپنی کم علمی کا احساس ستانے لگتا۔اور اسی دوران وہ کب اس کے قریب تر ہوتی چلی گئی اسے پتا ہی نہ چلا۔اور وہ بار بار اپنی بیگانگی ، تشنگی ، اور پیاس کی بات کرتا جسے وہ وہ بس ایک طرح سے ہی کم کرنے کی اپنی سی کوشش کرتی اور یہ اسے کہتا کہ رہتا کہ جس احساس بے گانگی کا وہ شکار ہے تم اس سے ابھی واقف ہی نہیں اور یہ اپنی کوتاہی اور کمزوری کو الزام دیتی رہتی۔پھر کئی دن گزرگئے اس کا کوئی فون نہ آیا۔یہ دو ہفتوں کے انتظار کے بعد اس کے گھر پہنچی جہاں وہ رہ رہا تھا تو وہاں تالا پڑا ہوا تھا۔اس نے اگلے دن کالج پتا کیا تو پتا چلا کہ یہاں سے استعفی دیکر وہ امریکہ چلا گیا۔اسے بڑا دھچکہ لگا۔لیکن پھر اسے خیال آیا کہ شاید وہی اس کی سطح پہ جاکر سوچنے ، سمجھنے اور محسوس کرنے میں ناکام رہی تھی۔اس نے پی ایچ ڈی تو اسلامیات میں کی تھی لیکن ادب سے اس کی دلچسپی اتنی بڑھی کہ عربی ، انگريزی ، جرمن ، فرنچ ، ہندی زبانیں اس نے ادب پڑھنے کے لئے سیکھ لیں اور اس دوران کب خود کہانی لکھنا شروع کا یاد نہیں مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ صف اول کی لکھت کار بن گئی۔ایسے ہی میں اسے امریکہ ایک کانفرنس کا بلاوہ آگیا۔وہ وہآن جب پیپر پڑھنے پہنچی تو وہ بھی وہاں اپنا مقالہ پڑھنے آیا تھا۔وقت نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔اسے دیکھ کر وہ ایسا بن گیا جیسے واقف نہ ہو، لیکن اس نے بھی کوئی خاص پرواہ نہیں کی۔لیکن جب وہ مقالہ پڑھنے کھڑا ہوا تو ابھی چند سطریں پڑھ پایا تھا کہ ہال سے ایک تیز آواز بلند ہوئی اور وہ یہ تھی کہ ” تمہارے پاس ان بیس سالوں میں یہی ہے کہنے کو ، اور یہی ہر بال اقوال کا اور ناموں  کا ایک سا رٹا، مجھے لگتا ہے کہ تم نے ان میں سے ایک کو بھی نہیں پڑھا” ویسے جب اس نے پڑھنا شروع ہی کیا تھا تو اسے حیرت ہوئی تھی کہ یہ وہی کچھ تھا جو اس نے 20 سال پہلے سنا تھا۔اس نے پڑھنا بند نہ کیا ، اگلی سطر پڑھ رہا تھا کہ پورا ہال کھڑا ہوگیا اور پاکھنڈی ،پاکھنڈی کا کورس میں گیت گایا جانے لگا۔اور اس نے اسے آہستہ سے ڈائس چھوڑ کر سٹیج کے عقب میں بنی انٹرنس سے کھسکتا ہوا دیکھا تو اسے یک دم احساس ہوا کہ اس نے اس جعلی لکھت کار کے اوپر اپنا آپ نچھاور کرکے کس قدر غلط کام کیا تھا-اور جب سے امریکہ سے وہ واپس آئی تھی اسے ہر طرف دھند ہی دھند چھائی نظر آتی تھی۔

عامر حسینی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s