باپ بیٹے کی سیاست بانجھ کیوں ہے ؟

 

یہ پہلا موقعہ ہے کہ میں نے 27 دسمبر پہ کچھ نہیں لکھا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تاریخ کے اس پرآشوب دور میں مری تحریروں سے کسی کو یہ غلط فہمی ہوجائے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک کی مجبور و مظلوم اقوام ، کچلی ہوئی اور پسی جانے والی مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی ترجمانی کررہی ہے۔اور میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ فریب بھی نہیں دینا چاہتا کہ سندھ جہاں پاکستان پیپلزپارٹی پوری قوت کے ساتھ حکومت کررہی ہے وہاں کے محنت کشوں، کسانوں ، ہاریوں ، طالب علموں، عورتوں اور اقلیتوں میں یہ احساس ہے کہ ان کے ہاں ایک عوامی حکومت کام کررہی ہے اور وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، پیروں، ودردی و بے وردیی نوکر شاہی ، ٹھیکے داروں ، سٹے باز سرمایہ داروں، اور عالمی سرمایہ داروں کے مقابلے میں سندھ کے محنت کشوں، کسانوں، ہاریوں ، تھریوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی پوری قوت سے سندھ میں نیولبرل ازم ، اقربا پرور  سرمایہ داری ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منافع خوری اور میگا پروجیکٹس کے نام پہ بڑے پیمانے پہ تباہی پھیلانے کا کام بالکل ویسے ہی کررہی ہے جیسے یہ کام پاکستان مسلم لیگ نواز وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں کررہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف خیبرپختون خوا میں کررہی ہے۔

 

protest-camp-thar-3

ڈسٹرکٹ تھر میں تحصیل اسلام کوٹ کے 12 گوٹھوں کے تھری باشندے اپنی بے دخلی کے خلاف 70 دن سے اسلام کوٹ پریس کلب کے سامنے احتجاج کے طور پہ بیٹھے ہیں لیکن کوئی ان کی بات نہیں سن رہا

آپ کو بلاول بھٹو زرداری کی بلوچستان جاکر ڈسٹرکٹ ہسپتال کوئٹہ کے سامنے صحافیوں سے کی جانے والی گفتگو اور اس دوران بہائے جانے والے آنسو یاد ہوں گے۔لیکن کل 27 دسمبر 2016ء کو گڑھی خدا بخش میں شہیدوں کے قبرستان میں کھڑے ہوکر نہ تو باپ آصف زرداری اور نہ ہی بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو یہ توفیق ہوئی کہ وہ پاکستانی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کے جوانوں ، ادیبوں، شاعروں، کھلاڑیوں، سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں بند کی جائیں، جبری گمشدہ افراد کو برآمد کیا جائے، جن کا ماورئے عدالت قتل ہوا اور مسخ شدہ لاشیں ملیں ہیں ان کے زمہ داران کا سراغ لگایا جائے۔اور سی پیک کے نام پہ گوادر کے اندر مقامی لوگوں کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کے آگے روک لگائی جائے۔اور سب سے بڑھ کر بلوچستان میں ایف سی ، فوج ، ایجنسیوں کی بھیڑ کم کی جائے۔بلوچستان میں حافظ سعید ، رمضان مینگل سمیت جہادی اور فرقہ پرست تنظیموں کی سرپرستی بند کی جائے اور ان کو بلوچ قوم کے خلاف بطور پراکسی استعمال کرنا بند کیا جائے۔میں آپ کو یہاں یہ بریکنگ نیوز بھی دے رہا ہوں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا ادارہ یعنی سی ای سی کے اندر اجلاس میں بلوچ ایشو ایجنڈے پہ تھا ہی نہیں اور سرے سے اس پہ بات ہی نہیں ہوئی۔یعنی اس ملک کی کسی بڑی سیاسی جماعت کو بلوچ قوم کی مصیبتوں اور عذاب سے کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں اور اس کی صرف و صرف ایک وجہ ہے کہ سی پیک کے نام پہ جو ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کی جو سرمایہ کاری ہے اس میں سب اپنا اپنا حصّہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور اس سی پیک اور چینی مداخلت سے تھر تباہ ہوتا ہے تو ہوجائے، تھری بے دخل ہوں تو ہوں، ٹھٹھہ –سجاول کے غریب ملاح ذوالفقار آباد بننے سے تباہ ہوں تو ہوں، گوادر خود گوادر کے رہنے والوں کے لئے اجنبی بن جائے تو بن جائے اور گلگت و بلتستان کی زمینوں پہ باہر سے لوگ قبضہ کرلیں تو کرلیں اور اس پہ اگر کوئی آواز اٹھائے تو ان کو مار لگائی جائے۔، سپریم کورٹ تک 40 سال تک کی سزا سنادے(جیسے بابا جان کے معاملے میں ہوا) اور ٹارگٹ کلرز لاڑکانہ میں بھرے چوک میں گولیاں مار کر فرار ہوجائیں۔کیا شبیر بلوچ کسی کا بیٹا ، کسی کا بھائی ، کسی کا شوہر نہیں ہے؟ یہ جو چار ہزار سے زائد بلوچ جبری گمشدہ ہیں یہ کسی کے کچھ نہیں لگتے؟اور جن کی لاشيں ملیں وہ کس سے کہیں کہ ان کا انتقام لیا جائے؟

 

پاکستان پیپلزپارٹی کا تکفیری اور نام جہادی دہشت گرد تنظیموں کے فعال ہونے اور آزادانہ کام کرنے کے بارے میں بھی دوھرا معیار ہے۔سندھ میں تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تکفیری دیوبندی دہشت گرد تنظیم اہلسنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان کھلے عام جلسے جلوس کررہی ہے اور اس کے لوگ بلدیاتی اور قومی و صوبائی الیکشنوں میں حصّہ لیتے ہیں جبکہ حاجی سراج سومرو جیسے سپاہ صحابہ کے لوگ (عمر کوٹ میں اس کا بیٹا خالد سراج سومرو اب مونسپل کمیٹی کا چئیرمین ہے) پی پی پی کی صفوں میں اہم مقام حاصل کرچکے ہیں اور خالد سومرو مرحوم کا رشتہ دار قیوم سومرو سینٹر ہے اور بادشاہ گر ہے۔بلاول بھٹو کو مسلم لیگ نواز کی حکومت کی کابینہ میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے وزیر نظر آتے ہیں لیکن اپنی صفوں میں بیٹھے شمر ان کو نظر نہیں آتے۔بلوچستان میں رمضان مینگل ، اور حافظ سعید کا نیٹ ورک اور تھر میں سپاہ صحابہ اور جماعت دعوہ کا نیٹ ورک ملٹری اسٹبلشمنٹ کی مدد سے کام کررہا ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کو 2018ء کے الیکشن میں چونکہ اقتدار تک پہنچنے کی ہر صورت سبیل کرنی ہے اس لئے وہ نہ تو اپنے سندھ کے اندر کئی “جھنگ ” پیدا ہوجانے پہ تشویش زدہ ہے اور نہ ہی اسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جہادیوں اور فرقہ پرستوں کی یاری بارے کوئی بات کرنی ہے۔شیعہ نسل کشی کا سب سے بڑا سنٹر کراچی بنا رہا ہے ، اس کے بعد بلوجستان ہے ،پھر خیبرپختون خوا رہا ہے۔اور پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے سابقہ پانچ سالہ دور میں سب سے زیادہ گلے سے ان لوگوں کو لگائے رکھا جوکہ تکفیریوں کے ہمدرد تھے یا سہولت کار تھے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی چئیرمین شپ شیرانی کو ، طاہر اشرفی کو رکنیت دی گئی اور سپاہ صحابہ کے سپریم کونسل کے سربراہ ضیاء القاسمی کے بیٹے زاہد القاسمی کو قریب کیا گیا اور سندھ کے اندر اورنگ زیب فاروقی کو وی آئی پی سیکورٹی پروٹوکول دیا جاتا رہا اور اس حوالے سے جب فرح ناز اصفہانی نے سنٹرل ایگزیگٹو کمیٹی میں مری درخواست پہ بات کرنے کی کوشش کی تو سب سے زیادہ اس ایشو پہ مخالفت کا سامنا ان کو شیری رحمان ، سراج درانی ، قیوم سومرو  اور فریال تالپور کی جانب سے کرنا پڑا تھا۔اور مرے پاس وہ ای میل محفوظ ہے جس میں فرح ناز اصفہانی نے کہا تھا کہ اگر وہ اس معاملے پہ اور کھل کر بولیں تو ان کی اور ان کے شوہر کی فیملی جو کراچی میں مقیم ہے کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔لیاری کے اندر عزیر بلوچ تبلیغی جماعت ، سپاہ صحابہ کا سرپرست بنا رہا اور اسے پاکستان پیپلزپارٹی نے پوری طرح سے استعمال کیا اور ان کے زریعے سے لیاری کے اندر جو کھیل کھیلا جارہا تھا پی پی پی کی قیادت اس سے واقف تھی اور یہاں سے بلوچ قومی تحریک کو کچلنے اور بلوچ نوجوان جو فعال تھے ان کو مارديے جانے یا غائب کردئے جانے یا ان کے فرار ہونے کی کہانی سے کون واقف نہیں ہے؟ لیاری کی سڑکیں ، لیاری کی گلیاں سب تباہ و برباد ہیں، پینے کا صاف پانی نایاب ہے اور صحت کی سہولتیں غائب ہیں اور تعلیم کی سہولتیں بھی نہیں ہیں، یہ کراچی کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے اور اسی طرح ملیر میں جہاں پی پی پی بہت محبت کا دعوی کرتی ہے وہاں بھی عام آدمی کے لئے ترقی نام کو نہیں ہے۔اس کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ ان کو عوام کا درد ہے اور دکھ ہے۔

 

پنجاب میں سرائیکی خطے کی قیادت انہوں نے سرائیکی خطے کے مفادات ، حقوق ، اس کی قومی شناخت کو حکمران طبقات کے آگے گروی رکھنے والے خاندان کے فرزند کے ہاتھ گروی رکھ دی ہے۔ مخدوم زادہ حسن محمود کا بیٹا مخدوم احمد محمود پی پی پی جنوبی پنجاب کا صدر ہے اور جنرل سیکرٹری ایک اور پی پی پی دشمن خاندان کی جاگیردارنی نتاشا دولتانہ کے ہاتھ ہے۔اور اس پارٹی کی اکثریت جو اپنے آپ کو کارکن کہتی ہے دیہاڑی باز ، نظریات سے عاری اور ہر وقت بس داؤ لگانے کے چکر میں رہتی ہے اور اس کے ہاں ” لیفٹ کے نظریات ” کی کوئی وقعت سرے سے ہے ہی نہیں۔مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پی پی پی کی بنیادی تاسیسی دستاویز ایک ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسے تو خود ذوالفقار علی بھٹو نے پہلے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیکر دفن کیا ، پھر 74ء میں اسلامی بنیاد پرستوں کے دباؤ میں آکر مذہبی رجعت پرست اصلاحات متعارف کراکے دفن کردیا تھا۔اور آخری دنوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے جو کچھ بلوچ ، پشتون ، سندھی قوم پرستوں ، کمیونسٹوں ، بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف کیا اور جس طرح سے فوج کو ایرانی شاہ کو خوش کرنے کے لئے بلوچستان میں استعمال کیا وہ اپنی جگہ ایک الگ المناک داستان ہے۔کم از کم بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کے المناک انجام سے سبق حاصل کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہونے سے گریز کیا۔اور اب بھی بے نظیر بھٹو وطن واپسی پہ شرباز مزاری، معراج محمد خان ، نواب خیربخش مری سے ملی تھیں اور اس سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کم از کم اسٹبلشمنٹ کے بلوچستان بارے ڈیزائن سے اتفاق نہیں رکھتی تھیں اور ان کو اپنا کندھا نہیں دینا چاہتی تھیں۔

   اور پاکستان پیپلزپارٹی کی باپ بیٹے پہ مشتمل یہ نئی قیادت اس قدر بے ضمیر اور بزدل ہے کہ یہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سراغ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ایوانوں تک جاتا دیکھ کر ڈر گئی اور اب یہ اس قتل کو صرف نواز شریف کے گلے ڈالنا چاہتی ہے اور اس نے تو سلمان تاثیر کے قتل پہ چپ سادھ لی تھی اور لطیف کھوسہ نے جب گورنر کا حلف لیا تو سامنے سلمان تاثیر کی تصویر تک نہ رکھ سکا اور اس وقت کسی نے سلمان تاثیر کا نعرہ تک بلند نہ کیا اور اس گورنر ہاؤس میں اسے کبھی سلمان تاثیر کے لئے تعزیتی ریفرنس تک منعقد نہ کی اور شہباز بھٹی کے لئے دعائیہ تقریب تک نہ کی گئی تھی۔آصف زرداری اور بلاول بھٹو اوکھلی میں سر دینا نہیں چاہتے ، نہ ہی وہ سر پہ موصلے برستے دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس لئے میں کہتا ہوں آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت اور ان کے اردگرد جمع لوگ نہ صرف کردار کے حوالے سے دیوالیہ پن کا شکار ہیں بلکہ وہ نظریاتی طور پہ بھی بالکل ہی بانجھ ہیں اور ان کو گلوریفائی کرنا پاکستان کے محنت کشوں، کسانوں ، مظلوم و مجبور اقوام ، مذہبی فرقوں کے مصائب کے زمہ داران کے ساتھ کھڑا ہونے کے مترادف ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s