تھر کول فیلڈ :ایک اور زاویہ نظر

 

 

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ۔تھر بچاؤ تحریک : کوئلے سے بننے والے پاور پلانٹس کا مطلب کیا ہے؟

گوڑانو ڈیم ہٹاؤ –تھر بچاؤ تحریک کے سامنے آنے سے ایک مرتبہ پھر ڈرٹی فیول کول بارے بات شروع ہوئی ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ اور شہری علاقوں میں رہنے والے کئی ایک نوجوان اس بارے میں خاصے لاعلم ہیں۔تھرپاور پلانٹس کی مخالفت میں جب بات کی جاتی ہے تو وہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کا زکر لے بیٹھتے ہیں اور حیرت اس بات پہ ہے کہ وہ اس پلانٹ بارے تشویش میں مبتلا ہونے کے اس کو سرمایہ دار دوست ترقی کے حق میں ایک طاقتور دلیل خیال کرتے ہیں، ایسے ہی جیسے ہم نے ایٹمی دھماکوں پہ بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو مٹھائیاں بانٹتے دیکھا تھا۔ارون دھتی رائے اسے تخیل کی موت کہتی ہیں تو ٹھیک ہی کہتی ہیں۔انہوں نے انڈیا کے جریدے آؤٹ لک میں ایک مضمون لکھا ” گھوسٹ کیپٹل ازم ” اس میں انہوں نے کیا خوب بات کہی،

کارپوریٹ سرمایہ کا دوسرا بڑا زریعہ زمینوں کے بینکوں ہیں۔دنیا بھر میں کمزور ، بدعنوان مقامی حکومتوں نے وال سٹریٹ کے سٹہ بازوں، زرعی بزنس کی کارپوریشنوں اور چینی ارب پتیوں کو زمین کے بڑے بڑے قطعات کے مالک بننے میں مدد دی ہے۔بہرحال یہی ان کی مدد پانی پہ قبضہ میں بھی کرتے ہیں۔ہندوستان میں دسیوں لاکھ لوگوں کی زمین قومی مفاد کے نام پہ حاصل کرلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ خصوصی اقتصادی زونز ، انفراسٹرکچر پروجیکٹس ، ڈیمز ، ہائی ویز ، کار مینوفیکچرنگ ، کیمکل انڈسٹری اور فارمولا ون ریسنگ کے نام پہ لیکن نجی ملکیت کے تقدس کا قانون کبھی غریبوں کی زمین کے لئے لاگو نہیں ہوتا۔

ارون دھتی رائے اسی مضمون آگے چل کر لکھتی ہے کہ یہ جو جی ڈی پی کی گروتھ اور نوکریوں کے درمیان بڑا لازمی رشتہ بتایا جاتا رہا ہے ،20 سال میں ہندوستانی گروتھ کا جائزہ ہمیں اس کے نرے جھوٹ ہونے کو صاف بتادیتا ہے کہ جہاں ہندوستان کی 60 فیصد ورک فورس آج بھی سیلف ایمپلائی ہے اور90فیصد لیبر آج بھی غیر منظم سیکٹر میں کام کرتی ہے۔پاکستان میں بھی کہانی ہندوستان سے مختلف نہیں ہے۔یہاں بھی پبلک انٹرسٹ کے نام پہ غریبوں سے ان کی زمینیں چھینی جاتی ہیں اور میٹرو بس سے لیکر تھر میں کول فیلڈ کے پروجیکٹس تک سب کی یہی کہانی ہے۔اور نجی ملکیت کے تقدس کی دھجیاں غریبوں کی زمین کے معاملے میں جیسے اڑائی جارہی ہیں اس کا مظاہرہ ہم گوڑانو ڈیم اور بلاک 2 کول پاور فیلڈ میں کام کرنے والی ایس ای سی ایم سی کی جانب سے بخوبی دیکھ رہے ہیں۔

گوڑانو گوٹھ سمیت 12 گوٹھ کی زمینوں پہ سندھ تھر کول مائننگ کمپنی کا قبضہ ہونے جارہا ہے۔اور اس معاملے میں زمین کے اصل مالکوں کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی۔

آزادی کے بعد سے لیکر 80ء تک عوامی تحریکیں زرعی اصلاحات کے لئے جدوجہد پہ مشتمل تھيں یعنی جاگیرداروں سے زمینیں لیکر بے زمین کسانوں کو دی جائیں۔لیکن آج دولت کی تقسیم نو یا لینڈ ریفارم کی بات غیر جمہوری سمجھی جاتی ہے۔اور جو سب سے زیادہ ریڈیکل تحریکیں ہیں وہ بھی  چھوٹی سی ملکیت بچانے کے لئے ہیں۔لاکھوں قبائلی، آدی واسی اور غیریب کسان اپنی زمین سے محروم کرڈالے گئے اور وہ چھوٹے شہروں یا بڑے شہروں کے سلم ایریاز میں رہنے پہ مجبور کردئے گئے ہیں۔تو پاکستان کے اندر یہ سی پیک ، میگا پروجیکٹس کے نام پہ یہی کچھ ہورہا ہے۔اور اتنے بڑے پیمانے پہ بے دخلییاں ہمارے ہاں کسی تحریک کے ڈسکورس میں ایک بڑے ایشو کے طور پہ موجود نہیں ہیں۔

آئیں دیکھیں کہ ڈرٹی فیول یعنی کوئلہ سے چلنے والے پاور پلانٹس کا مطلب آلودگی کے تناظر مین کیا بنتا ہے

پوری دنیا میں کوئلے کو ” ڈرٹی فیول ” کہا جاتا ہے اور یہ دنیا میں سب سے

زیادہ آلودگی پیدا کرنے والا ایندھن خیال کیا جاتا ہے

اگر 500 میگا واٹ بجلی کوئلے سے پیدا کی جائے تو اس سے سالانہ 6 ملین

کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اور اگر ہم 7572 میگاواٹ بجلی پیدا کریں

تو اس کے لئے جو کوئلہ جلایا جائے گا اس سے تقریبا 90 ملین ٹن کاربن ڈائی

آکسائیڈ پیدا ہوگی ( اس کو اگر رانا محبوب اختر ” ماحولیاتی دھشت گردی

کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہیں ) ساہی وال میں 1320 میگاواٹ بجلی کوئلہ

جلاکر پیدا کرنے کا منصوبہ سالانہ 15 ملین ٹن سالانہ کاربن ڈائی آکسائیڈ

پیدا کرے گا اور اگر رحیم یار خان کا مقام ترنڈہ اور قصور کا مقام بلوکی

اور اسی طرح سے بھکّی وغیرہ میں بھی پاور پلانٹس کوئلے کو چلاکر بنتے ہیں

تو سینکڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سالانہ پیدا ہوگی

کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کاربن مانیٹرنگ فار ایکشن – سی اے آر ایم

اے آرگنائزیشن کے مطابق 60 سے زائد پارٹیکلز اور گیسز خارج کرتے ہیں جن

میں زھریلے دھاتی مادے ، نامیاتی مادے ، تیزابی گیسز ، سلفر ، نائٹروجن

آکسائیڈ ، سلفر آکسائیڈ اور پارٹیکل مادے شامل ہیں

دنیا میں 25 انتہائی بدترین پاور پلانٹس جو کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے

ہیں وہ کول پاور پلانٹس ہیں

کول پاور پلانٹس سلفر آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ بھی خارج کرتے ہیں –

نائٹروجن آکسائیڈ گرین ہاؤس گیسز میں شامل ہے جو نامیاتی کمپاؤنڈ کے ساتھ

ملکر سموگ بناتی ہے جو کہ نباتاتی حیات کے لئے تباہ کن ہے اور اس سے

موسمیاتی تبدیلیاں جو کہ ناسازگار ماحول نباتاتی زندگی کے لئے بناتی ہیں

بنتا ہے اور نباتاتی حیات کی قوت مدافعت بیماریوں کے خلاف کم ہوجاتی ہے

کول پاور پلانٹس سے نکلنے والی سلفر آکسائیڈ اور نائٹروجن آکسائیڈ پانی ،

آکسیجن اور دوسرے کیمائی مادوں سے جو ہوا میں ہوتے ہیں ملکر ری ایکشن میں

تیزابی بارش برسنے کا سبب بنتی ہے اور اس سے ہی سلفیورک ایسڈ اور نائٹرک

ایسڈ بنتا ہے اور یہ زھریلے مادے جب بارش کے پانی میں ملتے ہیں تو یہ بڑے

علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور دریا ، جھیل ، سمندر ، تالاب ، زمینی پانی

اس سے متاثر ہوتا ہے ، جنگلات ، آبی مخلوق اس سے متاثر ہوتی ہے اور زمین

اس سے متاثر ہونے کے بعد نباتاتی حیات کے لئے انتہائی خطرناک بن جاتی ہے

چین ، امریکہ اور انڈیا جو کہ کوئلے سے بجلی بنانے میں سب ممالک سے آگے

ہیں وہاں پر تیس فیصد شہروں ميں تیزابی بارش ہوتی ہے

2004ء میں 95 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ ، 90 فیصد سلفر آکسائیڈ اور

نائٹروآکسائیڈ کوئلے سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس نے پیدا کی

کول پاور پلانٹس ایک اور زھریلا مادہ خارج کرتے ہیں جسے نیوروٹاکسن مرکری

کہا جاتا ہے اور یہ مادہ ایک طرف تو خارج ہوکر دریاؤں ، تالاب ، ندی

نالوں میں جم جاتا ہے تو دوسری طرف یہ زمین کے اندر موجود پانی میں بھی

گھر کرتا ہے اور یہ پانی میں کائی لگاتا ہے اور اس پانی کے استعمال سے

بچے پیدا کرنے والی ماؤں کے رحم اور خون میں یہ نیوروٹاکسن شامل ہوجاتا

ہے اور اس سے رحم مادر میں جینین ، شیر خوار بچے ، کم عمر بچّے سب ہی

متاثر ہوتے ہیں ، ان کا اعصابی سسٹم کمزور ہوتا ہے ، غبّی پن ، گونگا پن

، اندھا پن کی بیماریوں کا شکار لوگ ہوجاتے ہیں

ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال چار لاکھ ، دس ہزار بچے متھائل مرکری کے ماؤں

کے رحم ميں شامل ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتے ہيں ، کول پاور پلانٹس کے گرد

و نواح میں رہنے والی عورتوں کا 8 فیصد ایسا ہے جن کے خون ميں متھائل

مرکری کا لیول خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے

یہ جو نیورو ٹاکسن مرکری ہے اس سے مرکریک کلورائیڈ اور متھائیل مرکری

پیدا ہوتے ہیں اور دونوں انسانی جسم ميں سرطان زا – سرطان پیدا کرنے

والا مادہ کارسائینو جینز پیدا کرتے ہيں

کوئلے کے جلنے سے پاور پلانٹ کے اردگرد کی فضاء میں سلفیٹ ، نائٹریٹ ،

سوڈیم کلورائیڈ ، کاربن اور مائنرل ڈسٹ پر مبنی پارٹیکلز پیدا ہوتے ہیں

اور یہ انسانی بال سے بھی باریک ہوتے ہیں اور یہ پھیپھڑوں مين اندر تک

تہہ میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں اور جب سانس لیا جاتا ہے تو یہ پھیپھڑوں کی

کارکردگی کو نقصان پہنچادیتے ہیں ، دمہ کا مرض شدت اختیار کرتا ہے ، دل

کی بیماریاں ترقی کرتی ہیں اور پری میچور اموات کی شرح بڑھ جاتی ہے اور

یہ زرات کول پاور پلانٹس کے صفائی میکنزم سے عمومی طور پر بچ نکلتے ہیں

ہر سال 30 ہزار افراد کول پاور پلانٹس کے باعث پری میچور موت کے قریب

ہوجاتے ہیں ، ہر سال 38 ہزار دل کے دورے ، 12000 مریض ہسپتال ميں اور 5

لاکھ 50 ہزار دمہ کے مریض کول پاور پلانٹس کی دین ہیں

کول پاور پلانٹس میں مشینری کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پانی کی بہت وافر

مقدار درکار ہوتی ہے اور اس کے لئے 28 کلومیٹر کے دائرے میں جس قدر پانی

خرچ کیا جائے گا اس سے خود مظفرگڑھ ہی نہیں بلکہ پورے سرائیکی وسیب میں

پانی کی دستیابی پر بہت منفی اثر پڑے گا

مرے سامنے طاہر جاوید کی ایک رپورٹ پڑی ہے جو انھوں نے بنیادی طور پر

حبکو کی جانب سے 1320 ميگاواٹ بجلی کوئلہ سے پیدا کرنے کے لئے پیش آنے

والی مشکلات بارے ایک پریزنٹشن میں ایک سیمینار کے اندر پیش کی تھی – اس

رپورٹ میں انھوں نے آغاز ہی کول کے ڈرٹی فیول ہونے اور اس کے لئے مغرب سے

فنانسر نہ ملنے کی جانب اشارہ کیا اور دستیاب چینی سرمایہ کاری کی طرف

اشارہ کیا لیکن یہ بھی کہا کہ اگر چین اس پروجیکٹ کو لگابھی دے تو اس کو

چلانے کے لئے درکار سرمایہ پھر مقامی طور پر لینا پڑے گا اور اس طرح سے

ایک نیا سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ کی لہر آئے گی ، پھر پاکستان میں کسی

کے پاس کول پاور پلانٹ کو انسٹال اور پھر آپریٹ کرنے کی مطلوبہ صلاحیت

نہين ہے ، اس نے آگ لگنے اور دھماکہ ہونے کے رسک کا بھی زکر کیا

پاکستان رینول انرجی بورڑ کی ویب سائٹ کہتی ہے کہ 100 میگاواٹ بجلی پیدا

کرنے کے لئے امپورٹڈ کول 26000 ہزار میٹرک ٹن ماہانہ جبکہ سالانہ 3 لاکھ

25 ہزار میٹرک ٹن چاہئیے اور طاہر جاوید کے مطابق 1320 میگا واٹ بجلی

پیدا کرنے کے لئے درکار کوئلہ لانے کے لئے 500 جہاز چاہئیے اور ہر روز

ڈیڑھ بحری جہاز جبکہ ٹرانسپورٹیشن ملک کے اندر اس کوئلے کو لانے کے لئے

1100 ٹرک روزانہ جبکہ اگر ٹرین کے زریعے لایا جائے تو ہر پنتالیس منٹ کے

بعد ایک ٹرین اور اسے کوئی کراکسنگ نہ پڑے جبکہ ریلوے کو اس کے لئے چار

بلین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی اور اگر 660 میگاواٹ بجلی کوئلہ سے

پیدا کی جائے تو اس سے ایش یعنی راکھ 250 کے ٹی پی اے پیدا ہوگی تو اس کا

مطلب یہ ہوا کہ 28 کلومیٹر کے دائرے میں 7572 میگاواٹ کے لئے جو کوئلہ

جلے گا اس سے 2950 کے ٹی اے پی ایش پیدا ہوگی ، اس راکھ کو ٹھکانے لگانے

کے لئے جو ٹرانسپورٹیشن ہے اور اس راکھ کو کس جگہ ٹھکانے لگایا جائے گا

یہ سوال بھی بہت اہم ہے ، 7572 میگاواٹ بجلی مظفرگڑھ اور ساہیوال میں

1320 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے مطابق جو نیشنل ٹرانسمیشن لائن ہے اس کو

بڑھانے کی استعداد نیشنل ٹرانسمشن ڈسپیچ کمپنی کے پاس 23 کلومیٹر ماہانہ

ہے یہ رفتار ان منصوبوں کا ساتھ نہیں دے سکتی

اس کالم میں بس اتنا ہی لکھنے کی گنجائش ہے ، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے سے

واپسی کا سفر یورپ اور سینڈے نیوئن ملکوں نے بہت پہلے کرڈالا تھا اور اب

وہاں تیزابی بارش نام کی چیز معدوم ہوتی نظر آرہی ہے اور وہ اس ڈرٹی فیول

کی تباہ کاریوں سے بہت اچھی حد تک واقف ہیں اور وہاں ” گرین پیس “

تحریکوں نے حکومتوں کو گرین ہاؤس گيسز والے فیول کے استعمال کو کم سے کم

کرنے پر مجبور کیا ہے جبکہ ہمارے ہاں ” کول پاور پلانٹس ” کو ترقی کا بہت

بڑا قدم بناکر پیش کرنے والوں کی کمی نہیں ہے

مظفر گڑھ ، ساہیوال ، قصور ، رحیم یار خان یہ سب گنجان آبادی کے علاقے

اور ان علاقوں کی ماحولیات پہلے ہی کوئی مثالی نہیں ہے ، اس لئے یہاں پر

کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے اتنے بڑے منصوبے یہاں کی ہوا ، یہآں کی زمین

، نباتات ، انسان ، حیوانات ، سب کے لئے بہت خظرناک ہیں اور اس سے سالانہ

لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے ، یہ پلانٹس انسٹالیشن ، آپریٹنگ سمیت کئی اور

بڑے تکنیکی امور میں اس علاقے تو کیا پورے پاکستان کے لئے کوئی بڑی

نوکریاں پیدا کرنے کا سبب نہیں بنيں گے ، ان کے جو اثرات ماحول پر ہوں گے

اس سے ریاست پر صحت ، پانی سمیت کئی اور امور ميں مزید فنڈز مختص کرنے

اور صحت ، سینی ٹیشن سمیت کئی اور شعبوں ميں بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی

ضرورت پڑے گی جوکہ پہلے ہی اس خطے میں ریاست بہت کم کررہی ہے اس سے اور

معاملہ گھمبیر ہوجائے گا

کچھ اور سوالات اس ضمن میں مرے ذھن میں ہیں جن کے میں جوابات باوجود کوشش

کے تلاش نہیں کرسکا

پنجاب انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے ان مقامات پر کول پاور پلانٹس لگانے

کے لئے جو انوائرمینٹل امپیکٹ اسسمنٹ اسٹڈی کی اور جب اس کی منظوری دی

ہوگی تو اس کو علاقے کے لوگوں سے کیوں شئیر نہیں کیا گیا ؟کیا اس حوالے

سے کوئی کھلی سماعت کی گئی تاکہ سول سوسائٹی اپنے اعتراضات داخل کرسکتی

یا لوگوں کو اس قابل ہی خیال نہیں کیا گیا

میں نے برٹش کینالائزیشن ، کالونائزیشن اور برٹش سوشل انجئینرنگ کو پنجاب

کی چھے باروں کے مقامی آبادیوں کے لئے ریڈانڈیائزشن سے تعبیر کیا تھا

اور کئی مرتبہ لکھا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی ریڈانڈینائزیشن ہونے کا

یہ پروسس نہیں رکا بس یہ ہوا کہ رنگدار چمڑی والے سفید ذھنیت کے ساتھ

یہاں پر مسلط ہوگئے ہیں ، پہلے یہ سلسلہ اس خطے کی خام مال کی لوٹ کھسوٹ

، زمینوں کی الاٹمنٹ تک محدود تھا اور ایک اور نئی ریڈانڈینائزیشن شروع

ہورہی ہے اور وہ ہے کہ کارپوریٹ سرمایہ دارانہ ترقی ، انوسمنٹ ، توانائی

کے نام پر ڈرٹی فیول پر مبنی اس خطے کی ماحولیاتی تباہی ، لوگوں کی

زبردستی بے دخلی ، داخلی مہاجرت اور ان کے لئے بیمار زھریلی فضا کو مقدر

کیے جانے کا عمل

پاکستان بھر کی سول سوسائٹی کو ، سیاسی کارکنوں ، سماجی کارکنوں ،

انسانی حقوق کی تںطیموں ، ماحولیات پر کام کرنے والوں کو ڈرٹی فیول پر

بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے خلاف بیدار کیا جانا چاہئیے کیوں ماحولیاتی

آلودگی کا یہ سفر  یہاں تک  رکنے والا نہیں ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s