ساری کے نام 23واں خط

11326444_403414899850128_805511605_n

 

 

پیاری ساری

میں کیسے تمہیں بتاؤں کہ سال گزشتہ کی آخری رات کو موبائل ، سکائپ ، ایمو اور وٹس ایپ کے اس جدید ترین دور میں،میں تم سے بات کیوں نہ کرسکا۔یہ شاید پہلا سال ہے کہ میں نے ٹھیک سے باضابطہ طور پہ کسی بھی دوست کو یاد کرنے کا اہتمام نہ کیا۔روشنی آئی تھی، بہت پرجوش تھی اور ایفل ٹاور تک چلنے کو کہہ رہی تھی لیکن میں اٹواٹی کٹھواتی لئے پڑا رہا۔سال نو کی آمد میں پورا پیرس بقعہ نور بن جاتا ہے اور تمہیں پتا ہے کہ تین سال پہلے سکینہ علی زیدی یہاں پیرس آئی ہوئی تھی اور عبداللہ اپنی بیوی کے ساتھ یہاں آیا تھا اور یہ سب ایفل ٹاور کے نیچے کھڑے ہوئے تھے۔اور وہاں پہ انھوں نے شمپئن کھولی اور اپنے جام مرے نام کئے اور میں وہاں استنبول کے ایک سلم ایریا میں اپنے ٹریول ایجنٹ کی جانب سے یورپ جانے کی سبیل نکالے جانے کا منتظر ایک تنگ و تاریک فلیٹ کے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا اور وڈکا کی بوتل میں بس چند گھونٹ بچے تھے جس میں سے ایک گھونٹ میں نے بڑی کنجوسی کے ساتھ لیا تھا۔اور ہم سب کے سب اس رات کے آخری پہر ذہنی طور پہ تمہارے گھر آکر تمہیں ساتھ لیکر منوڑا کراچی پہنچ گئے تھے اور تمہیں یاد ہے کہ ہم سب نے کتنا زور لگایا تھا تمہیں اس ٹھرے کے چند گھونٹ لینے کے لئے مگر تم اپنی مسلسل انکار  کررہی تھیں۔اچانک تم نے ایک ایسی بات کی کہ ہم سب کو چپ لگ گئی تھی۔تم نے کہا تھا کہ اگر میں نے ایک گھونٹ بھی بھرا تو ساری زندگی پھر میں “نہج البلاغہ” پہ بات نہ کرسکوں گی۔ہم سب جو نرے مادیت پرست اور ملحد محض تھے یہ فقرہ سنتے ہی جیسے ساکت ہوگئے تھے اور سارا نشہ ہرن ہوگیا تھا۔اگرچہ ہم سے کسی نے بھی اس کڑوے سیال کو اپنے اندر انڈیلنا پھر بھی بند نہ کیا تھا۔یہ تو نہج البلاغہ کے اسباق کو قلمبند کرتے ہوئے تھا کہ ميں نے اس سیال کو بالکل ہاتھ نہ لگایا۔کیونکہ مرے اندر سے آواز آئی تھی کہ جب تمہارے فہم کی روشنی میں علی شناسی کو رقم کرنا ہے تو پھر تمہاری خواہش کا احترام بھی کیا جانا بنتا ہے۔ویسے مجھے ایک اعتراف کرنا ہے۔جن سرد ترین راتوں میں، میں علی شناسی پہ لکھ رہا تھا اور تمہاری کہی باتوں کو اکٹھا کررہا تھا تو اس دوران سامنے الماری میں لال پری پڑی ہوتی تھی اور بلا کی سردی، گیس کی لوڈشیڈنگ اور ایسے میں کپکپاتی انگلیاں اور مری ہڈیوں میں گھسی جاتی سردی کے باوجود مجھے صاحب نہج البلاغہ ، ان کے افکار ، ان کی تنہائی اور اس تنہائی کے سحر میں ڈوبا مرا ریڈنگ روم مجھے کبھی اس کی طلب کا احساس نہیں ہونے دیتے تھے اور بعد میں بہت حیران ہوا کہ یہ سب کیا تھا۔ہاں جہاں کہیں اٹک جاتا تو تم اچانک سامنے آکے بیٹھ جاتی تھیں اور مجھے لگتا کہ مری مادیت پرستی رگوں میں تم علویت کے معانی کو ایسے رواں کرتیں جیسے خون۔اور مرا رکا ہوا قلم پھر سے چلنے لگتا تھا۔اب میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسی مابعدالطبعیات تھی جس نے تمہارے اندر کہیں بھی وہ غیرانسانی پن پیدا نہیں کیا جو میں ملاؤں،پنڈتوں، پیروں، پادریوں،واعظوں اور محتسبوں کے ہاں اور ان پہ آنکھیں بند کرکے ایمان لانے والوں کے ہاں دیکھتا رہا تھا۔جس سے وحشت زدہ ہوکر میں یہاں پیرس بھاگ آیا تھا۔ابھی کچھ دن پہلے تم نے ہی شاید مجھے فیس بک پہ ٹیگ کیا کہ ایک مولوی نے سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شان تاثیر کی جانب سے کرسچن برادری کو ‘ہیپی کرسمس ‘کہنے اور آسیہ نام کی ایک خاتون کی رہائی کی دعا کرنے پہ اسے نہ صرف گستاخ قرار دیا بلکہ اس کو واجب القتل قرار دے ڈالا ہے۔اور لاہور کے ایک تھانے میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس پیغام کو لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام لگاکر مقدمہ درج کرلیا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم جسے مسلم جمہور کا شعور کہتے ہیں وہ شاید بالکل اس چپ کی طرح ہے جس میں مذہب کے نام پہ ایسے پروگرام کی کوڈنگ ہوگئی ہے جو ہر سیاہ چیز کو سفید کرکے دکھاتا ہے۔مجھے تو اپنے ہاں مسلمانوں میں ملحد، سیکولر ، لیفٹ اور لبرل ہوجانے والی اکثر آوازوں کو سنکر بھی یہی شک ہوتا ہے کہ ان کا شعور بھی غلط پروگرام کی کوڈنگ کی وجہ سے سیاہ تر ہی ہے۔اس کی ایک وجہ تو وہ ہمارے ہاں ایسے ملحدوں، روشن خیالوں، لبرل کی کمی نہیں ہے جو ترقی کے نام پہ آج بھی آدی واسیوں، قبائلیوں، غریبوں، کمزروں کو ان کی زمینوں سے بے دخلی کو بالکل جائز خیال کرتے ہیں اور ایسے لیفٹ بازوں کی کمی نہیں ہے جو ہندوتوا کے لتّے تو بہت لیتے ہیں لیکن جب مسلم بنیاد پرستی کا جائزہ لینے کی بات ہو تو ان کے ہاں ہو کا عالم ہوتا ہے۔یہ غلط پروگرامنگ ہی ہے جو مسلم جمہور کی اکثریت کو محمد بن قاسم جیسے عرب حملہ آور کو ہیرو اور اپنی دھرتی کا دفاع کرنے والے راجہ داہر کو ولن بناتی اور سمجھتی ہے۔اور یہی غلط پروگرامنگ ہے جو اورنگ زیب کو اپنا آئیڈیل جبکہ دارشکوہ، سرمد کو راندہ درگاہ بناکر دکھاتی ہے،غلط پروگرامنگ ہمیں شیوا جی کے مقابلے میں تیمور لنگ اور یہاں تک کہ سکندر مقدونی کو آئیڈیل بناکر دکھاتی ہے،ہمیں جھوک شریف کے شاہ عنائت مغل سامراجیت اور جاگیرداری، پیر پرستی کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پہ نہیں بلکہ سلادینے والی نام نہاد روحانیت کی علامت کے طور پہ ہی پسند آتے ہیں۔اس غلط پروگرامنگ نے ہی تو یہ کیا ہے کہ ہم امام حسین کے قتل کا فتوی دینے والے مفتیوں پہ تو لعنت کرتے ہیں لیکن عصرحاضر میں ایسے فتوے دینے والے ہمارے رہبر و رہنماء ٹھہرجاتے ہیں۔ہمیں دارا شکوہ، محب الہ آبادی، سرمد،میاں میر، بھگت کبیر، میراں بائی، سچل سرمست ، بلّھے شاہ ، شاہ حسین، گرونانک ،شاہ لطیف بھٹائی کا صلح کل اور وحدت الوجودی رنگ میں رنگا مذہبی شعور ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے جوکہ شناختوں کے مختلف ہونے پہ سیخ پا نہیں ہوتا،وہ اس بات سے بروفروختہ نہیں ہوتا کہ کوئی زکری کیوں ہے تو کوئی احمدی کیوں ہے اور کوئی شیعہ کیوں ہے تو کوئی اسماعیلی کیوں ہے اور کسی کے ہاں ہندؤمت کیوں ہے تو کوئی کیس، کرپان ، کڑا کیوں عزیز رکھتا ہے؟ہم اس تکثیری شعور کی پروگرامنگ سے ڈرنے والے لوگ ہیں، ہماری تاریخ، ہمارا جغرافیہ، ہماری دینیات ، ہماری اخلاقیات سب سے کثرت سے لزر جاتی ہیں اور ہم ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شواہد کو مٹاتے ہیں جو ہمیں مونولتھک ہونے سے دور رکھتے ہوں۔ہمیں صوفی سرمست نہیں مولوی بدمست درکار ہیں تبھی تو قاتلوں کے مزار بڑے تزک و احتشام سے بنائے جانے لگے ہيں اور ہمیں عاشور کے جلوسوں پہ فائرنگ کرنے والوں ، عورتوں اور بچوں کی مجالس پہ ہینڈ گرینڈ پھینکنے والوں، میلاد کے جلوس پہ بم برسانے والوں اور چرچ میں ، احمدیوں، کرسچن ، ہندؤ ، زکریوں کی عبادت گاہوں میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنانے والوں کے مرجانے پہ ان کے چہروں پہ مسکان اور ان کی قبروں سے مشک کی لپٹیں آتی محسوس ہوتی ہیں اور ایک بھٹہ مزدور عورت ہمارے دین و مذہب کے لئے سب سے برا خطرہ بن جاتی ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ تھر کے باسی کسی تہذیب، ثقافت، کسی تاریخی قدیمی جغرافیہ کے وارث اور مالک ہے ہی نہیں ، ان کے گھر گھر نہیں ہیں کیونکہ کنکریٹ کے نہیں بنے اور ان کی زمینیں زمینیں نہیں ہیں کیونکہ انڈس وادی کی طرح لہلہاتی نہیں ہیں۔یہ بس خانہ بدوش لگتے ہیں اس لئے ان کو سرمایہ داروں کی منافع کی ہوس کی تسکین کے لئے ان کی دھرتی سے اٹھادیا جائے اور ان کو بڑے شہروں کی کچی اور گندی بستیوں کا باسی بنادیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا؟ہمیں اپنی زمین، وسائل  بچانے اور اپنی ڈیموگرافی کے بدل جانے کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچ انسان ہی نہیں لگتے ،کیٹرے مکوڑے لگتے ہیں اور ان کو غائب کردیا جائےیا ان تشدد کے نشانات سے بھری لاشیں اور ماتھے پہ گندھا ہوا ” پاکستان زندہ باد” نظر آئے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ہمیں 22 ہزار لوگوں کے محض اس لئے مارے جانا کوئی بڑا واقعہ نہیں لگتا کہ وہ شیعہ تھے۔شیعہ ہونے، احمدی ہونے ، کرسچن ہونے اور اسماعیلی ہونے کے ساتھ ہی ہماری ہمدردیاں اور ہماری انسانیت کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔یہ وہ پروگرامنگ ہیں جو گھر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، مدرسوں، مین سٹریم میڈیا اور اب سوشل میڈیا کے زریعے سے ہمارے دماغوں میں فیڈ کی جاتی ہے۔ہمیں کہیں سے بھی اپنا عمل، ردعمل، سوچ، مظاہرے غیرانسانی نہیں لگتے اور ہم زرا بے چین نہیں ہوتے۔ویسے کچھ روز پہلے روسی طیارہ گرکے تباہ ہوا، ایک روسی سفیر کو پیچھے سے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا تو میں نے اس پہ لوگوں کو خوشی مناتے دیکھا اور امریکہ میں ایک بہت بڑی مسلم تنظیم سی اے آئی آر  کے ڈائریکٹر کو اس پہ خوشی مناتے دیکھا تو مجھے ایسے لگا کہ یہ پروگرامنگ تو کہیں بہت بڑے پیمانے پہ اپنے اثرات دکھارہی ہے۔میں یہاں گوشتہ عافیت کی تلاش میں آیا تھا لیکن مجھے عافیت تو کہیں بھی نظر نہیں آتی۔دسمبر کی آخری رات میں مجھے یہی سوچیں گھیرے رہیں۔مرے اندر کا رومان پرور آدمی جو ویسے تو ہر روز ہی باہر آنے کی سعی کرتا ہے لیکن ان دنوں کہیں اندر ہی سہم کر اور ڈر کے دبکا ہوا ہے اور باہر آنے کا نام نہیں لے رہا۔رومان اندر ٹھٹھر رہا ہے اور گٹھن ہے کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جارہی ہے۔بڑی کوشش کی کہ تمہیں رات ختم ہونے اور یکم جنوری شروع ہونے پہ ہیپی نیو ائر کا پیغام دوں اور یہ بتاؤں کہ تم سے مری محبت اور چاہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور بیٹھے بٹھائے تمہارے عکس مری آنکھوں میں جھلملانے لگتے ہیں۔تمہیں صدر کا وہ ہوٹل یاد ہے جہاں تم مجھ سے ملنے آئی تھیں جب میں اپنے آپ سے بھی ملنا نہیں چاہتا تھا۔جب میں یہ ملک چھوڑ کر جارہا تھا اور اس دوران تم کرسی پہ بیٹھی تھیں اور میں زمین پہ۔اور میں تمہیں چوری چوری دیکھے جارہا تھا، تمہارے چہرے پہ لگی نفیس سے عینک کو دیکھ کر میں سوچتا تھا کہ تمہاری عینک زیادہ نازک ہے کہ تمہارا چہرہ، تمہاری انگلیاں جنہیں تم بار بار مروڑ رہی تھیں اور وقفے وقفے سے دانتوں سے ناخن چباتی تھیں، ان لمحات میں تم مجھے فلسفے کے عظیم افکار سمجھانے والی ساری کی بجائے ایک الہڑ مٹیار لگ رہی تھیں جو چاہتی تھی کہ مجھے جانے سے روک دے اور کہے ‘مت جاؤنا، یہیں اس گھٹن اور حبس میں دونوں رہتے ہیں ،مرنا ہی تو اکٹھے مریں گے نا’ اور ساری دنیا کا سب سے بڑا تلخ سچ یہ ہے کہ اکٹھے مرنا چند خوش نصیبوں کی قسمت ہوا کرتا ہے اور مری ، تمہاری ڈیسٹنی یہ ہے ہی نہیں۔تمہیں رام مستجاب آسٹن یاد ہے ، اس نے بتایا تھا کہ اسے ایک لڑکی میں اپنی ھ-م-ا دکھائی دی جو بہت بولڈ لگتی تھی اور ایک بار اس نے اسے کہا کہ مرے ساتھ کربلاء تک کا سفر کرونا تو وہ ایک دم سے بولی، بچّو! میں خودمختار نہیں ہوں اور لوگوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہوں نہیں جاسکتی۔ ر-م-ا نے مجھے بڑے تاسف سے کہا کہ یار! اگر وہ جھوٹے سے ہی کہہ دیتی کہ ہاں چلیں گے تو اس کا کیا بگڑجاتا؟میں یہ سچ تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ اس لڑکی میں ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے پر ہے نہیں۔ساری! مری بیوقوفی دیکھو ، کہ میں اس پوچھ بیٹھا کہ تمہیں کیسے لگا کہ وہ ھ-م-ا دکھائی دیتی ہے مگر ہے نہیں تو آسٹن بھی اپنی وضع کا ایک الگ ہی آدمی ہے اس نے بہت ہی شانت لہجے میں کہا “کیونکہ اس کا وزن 50 کلو ہے اور ھ-م-ا 45 کلو کی تھی”۔

تم جو 400 سے 500 لفظوں کے میسج مجھے انباکس کرتی ہو ، خط کیوں نہیں لکھتیں۔میں تمہیں کاغذ پہ خط اس لئے لکھتا ہوں کہ کاغذ اور قلم، ذہن ، انگلیوں کا لمس اور نظروں کی تپش ملکر جو رومان اور محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں وہ برقی مراسلے میں مفقود ہوتا ہے۔بس اب تھک گیا ہوں، اور ہاں،

نیا سال مبارک ہو،

فقط تمہارا

ع۔ح

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s